استقامت کے متعلق احکامات
① سیدنا سفیان بن عبداللہ الثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ میں اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے سوال نہ کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قل آمنت بالله ثم استقم
”کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ڈٹ جاؤ“۔
مسلم ، الأيمان ، حديث (38/62) ،ترمذی، کتاب الزهد، حديث (2410)
② سیدنا سفیان رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کوئی حکم دیں تاکہ میں اسے لازم پکڑوں۔ ارشاد فرمایا: تو کہہ اے اللہ! میں تجھ پر ایمان لایا اور پھر اس پر ڈٹ جا۔
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے متعلق کس چیز کے بارے میں زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی پھر فرمایا: هذا ”اس سے“۔
اللہ کے لیے بغض رکھنا
① سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أحب لله، وأبغض لله، وأعطى لله، ومنع لله، فقد استكمل الإيمان
”جو شخص اللہ کے لیے محبت کرتا ہے، اللہ کے لیے بغض رکھتا ہے، اللہ کے لیے عطا کرتا ہے اور اللہ کے لیے منع کرتا (روک لیتا) ہے تو اس نے ایمان مکمل کر لیا“۔
ابوداؤد، كتاب السنة، باب الدليل على زيادة الايمان و نقصانه (4681). یہ روایت حسن ہے۔
پراگندگی اور شکستہ حالی ایمان میں سے ہے
① سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا تسمعون؟ ألا تسمعون؟ إن البذاذة من الإيمان
”کیا تم نے سنا نہیں؟ کیا تم نے سنا نہیں کہ شکستہ حالی ایمان کا حصہ ہے“۔
ابوداؤد، كتاب الترجل (4161). ابن ماجه، كتاب الزهد (4118). یہ روایت صحیح ہے۔