قبروں کی زیارت کے سفر میں نماز قصر کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

سفر زیارت قبور اور نماز قصر :

جو لوگ عدم حرمت کے قائل ہیں ان میں بھی اس بات پر اختلاف ہے کہ جو شخص صرف کسی نبی یا ولی کی قبر کی زیارت کے لیے رخت سفر باندھے آیا وہ نماز قصر کرے یا پوری پڑھے؟ اس مسئلے میں دو قول مشہور ہیں جن کو ہم نے ایک سوال کے جواب میں الگ اور مستقلاً نقل کیا ہے۔
بعض لوگوں نے انبیاء اور عام لوگوں کی قبور میں فرق کیا ہے اور کہا ہے کہ صرف زیارت قبور کی نیت سے سفر کرنا حرام ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب نیز امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کے متقدمین اصحاب کا یہی مسلک ہے ان کا کہنا یہ ہے کہ جس کا سفر ہی مبنی بر گناہ ہو وہ نماز میں قصر کیسے کر سکتا ہے پس ایسا شخص قصر نہ کرے۔
رہے وہ لوگ جن کو ایسے سفر کی حرمت کا علم نہیں ہے اگر ایسے لوگ قصر کر لیں تو ان کی نماز جائز ہو گی اور علم کے بعد نماز کو لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ کوئی طالب علم سماع حدیث کے لیے سفر کرتا ہے اور منزل مقصود پر پہنچ کر اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ جس کے پاس آیا ہے وہ تو کذاب یا جاہل ہے تو ایسے سفر میں قصر جائز ہے اور جس شخص کو علم ہے کہ ایسا سفر حرام ہے تو وہ سفر ہی نہیں کرے گا۔ کیونکہ ایک سچا مسلمان فعل حرام سے تقرب الی اللہ کی کوشش ہی نہیں کرتا۔
انبیاء اور صالحین کی قبروں کی زیارت کے سفر میں نماز قصر کے متعلق امام احمد رحمہ اللہ کے اصحاب میں چار اقوال مشہور ہیں:
1: مطلقاً قصر نہیں۔
2: مطلقاً قصر ہے۔
3: صرف قبر مکرم کی زیارت والے سفر میں قصر کر سکتا ہے۔
4: قبر مکرم اور دیگر انبیاء کی قبور کی زیارت کے سفر میں قصر کو جائز کہا ہے۔ انہوں نے اس کی دو وجوہ نقل کی ہیں۔
اس کی پہلی وجہ یہ ہے اور یہ صحیح ہے کہ زیارت قبر مکرم کے لیے سفر درحقیقت مسجد نبوی کی طرف سفر ہے اور مسجد نبوی کے سفر میں قصر باجماع امت جائز ہے۔ ان علماء نے مطلق سفر کو پیش نظر رکھا ہے۔ زیارت قبر مکرم اور زیارت مسجد نبوی کی نیت میں فرق نہیں کیا۔ کیونکہ جو مسلمان قبر مکرم کی زیارت کے لیے مدینہ منورہ کے لیے سفر کرے گا تو وہ مسجد نبوی میں نماز ضرور پڑھے گا۔ پس جس شخص نے قبر مکرم کی زیارت کے لیے سفر کیا اس نے گویا مسجد نبوی میں ادائے نماز کے لیے بھی سفر کیا۔ اسی لیے بعض شافعی علماء کا قول ہے کہ جو شخص زیارت قبر مکرم کی نذر مانے اسے اپنی نذر پوری کرنی چاہئے اور جو شخص کسی اور قبر کی زیارت کی نذر مانے تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ اکثر علماء نے قبر مکرم کی طرف سفر کو مطلق خیال کیا ہے۔ ان کے نزدیک قبر مکرم کی طرف سفر کی نیت میں مسجد نبوی کی طرف سفر کی نیت بھی شامل ہے کیونکہ جو مسلمان حجرہ مبارک کے پاس آئے گا تو وہ مسجد نبوی میں نماز ضرور ادا کرے گا۔ پس یہ دونوں باتیں لازم و ملزوم ہیں۔
پھر ان علماء میں سے جو یہ کہتے ہیں کہ مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ابتدائے سفر ہی سے مسجد نبوی میں ادائے نماز کی نیت رکھے، ان کے نزدیک اس سفر کا پورا کرنا لازم ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی صرف قبر مکرم کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا جائز قرار نہیں دیا۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ صرف قبر مکرم کی زیارت کی نیت کرنا بھی جائز ہے۔ ان کے خیال میں قبر مکرم کو جو استثنائی خصوصیت حاصل ہے وہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ہونے کے باعث ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک تمام قبور انبیاء کی زیارت کے سفر میں نماز قصر جائز ہے۔ لیکن صلحاء کی قبروں کی طرف سفر میں قصر جائز نہیں۔
در حقیقت زیارت قبر مکرم کے سفر میں یہ بات لازمی ہے کہ انسان مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی نیت کرے۔ پس جو شخص قبر مکرم کی زیارت کے لیے سفر کرتا ہے وہ لازماً مسجد نبوی میں نماز پڑھے گا اس طرح اسے لازماً اطاعت، عبادت اور قربت الہی کا ثواب حاصل ہو گا۔ اور جہاں تک نفس سفر کا تعلق ہے تو حدیث کا علم رکھنے والے تو مسجد نبوی ہی کی طرف سفر کی نیت کرتے ہیں۔ اگر کبھی کسی نے صرف قبر مکرم کی زیارت کی نیت کی ہے جو ممنوع ہے، تو ایسا صرف اس لیے ہوا کہ اسے علم نہ تھا۔ اور جو شخص لاعلمی کی وجہ سے قبر مکرم کی زیارت کی نیت سے سفر کرے وہ بھی مسجد نبوی میں نماز ضرور پڑھے گا جس کا اسے اجر ملے گا لیکن اس کی لاعلمی کی وجہ سے اسے سزا نہیں ملے گی۔
رہا وہ شخص جو قبر مکرم کے علاوہ کسی دوسری قبر کی زیارت کی نیت سے سفر کرتا ہے حالانکہ شریعت میں اس کی قطعاً اجازت نہیں ہے تو ایسے شخص کو لاعلمی کی وجہ سے اجر بھی ملے گا اور جہالت کی وجہ سے معاف بھی کر دیا جائے گا۔