مسجد نبوی کی زیارت کے ساتھ قبر مبارک کی زیارت :
تمام علمائے اسلام نے اپنی کتب مناسک میں مسجد نبوی کی طرف سفر کرنے کو مستحب لکھا ہے۔ اور یہ بھی لکھا ہے کہ جس شخص کو مسجد نبوی میں حاضری دینے کا موقع ملے اسے قبر مکرم کی زیارت کرنی چاہئے۔ ان میں ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آتا جس نے یہ لکھا ہو کہ محض زیارت قبر مکرم کی نیت سے سفر کرنا مستحب ہے۔ لہذا اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ انہوں نے کسی اور بزرگ کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کو مستحب ٹھہرایا ہو بلاشبہ گزشتہ زمانے میں بعض لوگ ایسے موجود رہے ہیں اور اب بھی ہیں، جو صرف زیارت قبر مکرم کی نیت سے مدینے آتے ہیں۔ لیکن وہ ایسے افراد ہیں جن کو شریعت مطہرہ کے علم کی ہوا تک نہیں گئی، یہاں تک کہ انہیں اوامر و نواہی کا بھی پتہ نہیں۔ ہم ایسے افراد کو جہالت کی وجہ سے معذور سمجھتے ہیں، شاید اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے لیکن جو لوگ شریعت کا علم رکھتے ہیں، حدود اللہ اور اوامر و نواہی پر ان کی نگاہ ہے ایسے علماء میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے یہ لکھا ہو کہ محض زیارت قبر مکرم یا کسی اور قبر کے لیے رخت سفر باندھنا جائز ہے۔ بلکہ علماء کرام نے ایسے سفر کو حرام قرار دیا ہے۔ ان میں امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے اصحاب قابل ذکر ہیں۔ البتہ بعض متاخرین اصحاب شافعی و احمد رحمہم اللہ نے ایسے سفر کے متعلق صرف یہ لکھا ہے کہ یہ حرام نہیں ہے۔