سینگوں والے جانور کی قربانی کا حکم اور فضیلت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

سینگوں والے جانور کی قربانی

سینگوں والے جانور کی قربانی بغیر سینگوں والے جانور سے افضل ہے، دلائل درج ذیل ہیں:
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يضحي بكبشين أملحين أقرنين، ويضع رجله على صفحتهما ويذبحهما بيده
”بالیقین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کرتے اور (ذبح کرتے وقت) اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھتے اور انھیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے۔“
صحيح بخاري، كتاب الأضاحي، باب وضع القدم على صفحة الذبيحة : 5564۔ سنن نسائی، کتاب الضحايا، باب تسمية الله عز وجل على اضحية : 4421۔ سنن ابن ماجه ابواب الأضاحي، باب أضاحي رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : 3128
② سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم بكبش أقرن فحيل
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والا مینڈھا قربانی کیا۔“
حسن: سنن أبی داود، کتاب الضحایا، باب ما یستحب من الضحایا: 2792۔ جامع ترمذی، أبواب الأضاحی، باب ما جاء یستحب من الأضاحی: 1496۔ سنن نسائی، کتاب الضحایا، باب المسنة والجذعة: 4395۔ سنن ابن ماجه، باب ما یستحب من الأضاحی: 3128

فوائد:

①علماء بیان کرتے ہیں کہ سینگوں والے جانور کی قربانی مستحب ہے اور ایک انسان متعدد جانور قربانی کر سکتا ہے نیز علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ ایسا جانور جس کے سینگ نہ ہوں، کی قربانی جائز ہے۔
شرح النووی: 12/13
② حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”سینگوں والے جانور کی قربانی مستحب اور بغیر سینگوں والے جانور کی قربانی سے افضل ہے البتہ بغیر سینگوں والے جانور کی قربانی بالاتفاق جائز ہے۔“
فتح الباری: 15/10