پانسوں کے ذریعہ قسمت معلوم کرنا
پانسوں کے ذریعہ قسمت معلوم کرنا ، جس مصلحت سے حرام کر دیا گیا ہے اس کو ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں۔ پانسے یعنی قسمت کے تیر جن کو عرب زمانہ جاہلیت میں قسمت کا حال معلوم کرنے کی غرض سے استعمال کرتے تھے کہ ایک تیر پر یہ عبارت کندہ ہوتی میرے رب نے مجھے دیا ہے۔ اور دوسرے پر ہوتی میرے رب نے مجھے منع کیا۔ اور تیسرا تیر سادہ ہوتا۔ جب سفر یا شادی وغیرہ کا ارادہ کر لیتے تو بتوں کے پاس جا کر پانسوں کے ذریعہ قسمت کا لکھا معلوم کرنا چاہتے۔ اگر حکم دینے والا تیر نکل آتا تو اس کام کے لیے قدم اٹھاتے اور اگر ممانعت والا تیر نکل آتا تو رک جاتے اور اگر سادہ تیر نکل آتا تو پھر سے قرعہ اندازی کرتے یہاں تک کہ امر یا نہی والا تیر نکل آتا۔
ہماری سوسائٹی میں اس سے ملتی جلتی چیزیں یہ ہیں : رمل، کوڑیاں کتاب کھول کر فال نکالنا تاش کے پتے اور فنجان پیالی پڑھنا اس قسم کی تمام چیزیں اسلام میں حرام اور منکر ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ
”اور یہ کہ تم پانسوں کے ذریعہ قسمت معلوم کرو کہ یہ فسق ہے۔“
سورہ المائدة : 3
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
لن ينال الدرجات العلى من تكهن أو استقسم أو رجع من سفر تطيرا
”وہ شخص بلند درجات کو نہیں پہنچ سکتا، جو کہانت کرے یا پانسوں کے ذریعہ قسمت کا حال معلوم کرے یا بدشگونی کی وجہ سے سفر سے واپس لوٹ آئے۔“
طبراني في الأوسط ح : 2684 بيهقى فى شعب الایمان : 10739
جادو
اسلام جادو کا بھی سخت مخالف ہے۔ جو لوگ جادو سیکھتے ہیں ان کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے :
وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ
”مگر وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو ان کے حق میں مفید نہیں بلکہ مضر تھی۔“
سورہ البقرة : 102
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جادو کا شمار مہلک اور کبیرہ گناہوں میں کیا ہے۔
بخاری کتاب الطب باب الشرك والسحر من الموبقات ح : 5764 ـ مسلم كتاب الايمان : باب الكبائر واكبرها ح : 89
جو افراد ہی کو نہیں بلکہ قوموں کو بھی ہلاک کر دیتا ہے اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں تباہی کا سبب بنتا ہے۔ بعض فقہاء نے سحر کو کفر یا موجب کفر قرار دیا ہے۔ اور بعض فقہاء کے نزدیک جادوگر کا قتل واجب ہے تاکہ سماج کو اس کے شر سے پاک کیا جا سکے۔
قرآن کریم نے جادوگروں کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے :
وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ
”اور پناہ مانگتا ہوں میں گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے۔“
سورہ الفلق : 4
گرہوں میں پھونکنا، جادو کے طریقوں اور اس کی علامات میں سے ہے۔ حدیث میں ہے :
من نفث فى عقدة فقد سحر ومن سحر فقد أشرك
”جس نے گرہ میں پھونکا اس نے جادو کیا اور جس نے جادو کیا وہ شرک کا مرتکب ہوا۔“
نسائي کتاب تحریم الدم باب الحكم فى السحرة ح : 4084 – واسناده ضعیف
اسلام نے جس طرح نجومی کے پاس غیب اور راز کی باتیں معلوم کرنے کی غرض سے جانا حرام ٹھہرایا ہے اسی طرح جادو سیکھنے یا جادوگروں کے پاس کسی مرض کے علاج یا کسی مشکل کو حل کرنے کے لیے، جانا بھی حرام قرار دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنی مکمل برات ظاہر کرتے ہوئے فرمایا :
ليس منا من تطير أو تطير له أو تكهن أو تكهن له أو سحر أو سحر له
”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو برا شگون لے یا جس کے لیے برا شگون لیا جائے یا جو کہانت کرے یا جس کے لیے کہانت کی جائے یا جو جادو کرے یا جو جادو کرائے۔“
مسند البزار : 3578
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جس شخص نے جوتشی، ساحر یا کاہن کے پاس جا کر سوالات کیے اور اس کی باتوں کو سچ مانا، اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ ہدایت سے کفر کیا۔
طبراني في الكبير : 10 / 76 ح / 10005 و في الاوسط : 1476 مسند البزار : 2067 مسند ابی یعلی : 5408
لا يدخل الجنة مدمن خمر ولا مؤمن بسحر ولا قاطع رحم
”جنت میں عادی شرابی داخل نہ ہوگا اور نہ جادو پر اعتقاد رکھنے والا اور نہ ہی قطع رحمی کرنے والا۔“
صحيح ابن حبان موارد : 1381 الاحسان : 7/648 مسند احمد : 399/4 مستدرك حاكم : 146/4
یہ حرمت صرف جادو گر ہی کی حد تک نہیں ہے بلکہ اس میں جادو پر اعتقاد رکھنے والے اس کی حوصلہ افزائی کرنے والے اور جادو گر کی باتوں کو صحیح سمجھنے والے بھی شامل ہیں۔ اور یہ حرمت اس صورت میں مزید بڑھ جاتی ہے جبکہ جادو کا استعمال ایسے اغراض کے لیے ہو جو فی نفسہ حرام ہیں مثلاً میاں بیوی کے درمیان تفریق پیدا کرنے یا کسی کو جسمانی نقصان پہنچانے وغیرہ کے لیے ہو۔
تعویذ باندھنا
اسی قسم کی ایک چیز تعویذ اور منکے وغیرہ بھی ہیں جو بیماری سے شفاء یابی یا تحفظ کے اعتقاد سے باندھے جاتے ہیں۔ بیسویں صدی میں بھی ایسے لوگ ہیں جو اپنے دروازہ پر گھوڑے کا نعل لگاتے ہیں۔ اور آج دنیا کے مختلف گوشوں میں گمراہ کرنے والوں کی بھی کمی نہیں جو عوام کی جہالت اور بدعقیدگی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں تعویذ لکھ لکھ کر دیتے ہیں۔ ان تعویذوں میں لکیریں اور طلسم ہوتے ہیں اور گنڈوں پر قسمیں کھا کر اور منتر پڑھ کر پھونکتے ہیں اور اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ تعویذ گنڈا باندھنے والوں پر کبھی جنوں کا اثر نہیں ہوگا اور وہ آسیب نظر بد اور حسد وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔
جہاں تک انسانی تحفظ اور علاج کا تعلق ہے تو اس کے کچھ معروف طریقے ہیں جن کو اسلام نے جائز ٹھہرایا ہے لیکن ان معروف طریقوں کو چھوڑ کر گمراہ دجالوں کے طریقوں کو اختیار کرنا، اسلام کے نزدیک سخت منکر گناہ ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
نیز فرمایا :
تداووا فإن الذى خلق الداء خلق الدواء
”علاج کرو کیونکہ جس نے بیماری پیدا کی ہے اس نے دوا بھی پیدا کی ہے۔“
مسند احمد : 3/156
إن كان فى شيء من أدويتكم خير ففي هذه الثلاثة: شربة عسل أو شرطة محجم أو كية بنار
”تمہاری ان دواؤں میں مفید تین چیزیں ہیں، شہد پینا، پچھنے لگوانا اور آگ سے داغ دینا۔“
بخاری کتاب الطب باب الدواء بالعسل ح : 5683 – مسلم کتاب السلام باب لكل داء دواء ح : 2205
ان تین چیزوں کی اسپرٹ کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور ان پر قیاس کرتے ہوئے موجودہ دور کے علاج کے یہ طریقے جائز قرار پاتے ہیں :
دوا پینا۔ آپریشن کے ذریعہ علاج۔ داغ کے ذریعہ علاج جس میں الیکٹرک شاک کے ذریعہ علاج کرنا بھی شامل ہے۔
رہا علاج یا تحفظ کے لیے تعویذ اور منکے وغیرہ باندھنا یا طلسمی منتر پڑھنا، تو یہ جہالت اور گمراہی ہے جو سنن الہی کے خلاف اور توحید کے منافی ہے۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دس افراد پر مشتمل ایک قافلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے نو افراد سے بیعت کی لیکن ایک شخص سے بیعت نہیں کی۔ اُن کے دریافت کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن فى عضده تميمة، فقطع الرجل التميمة فبايعه رسول الله ثم قال من علق فقد أشرك
”اس کے بازو میں تعویذ بندھا ہے۔ جب اس شخص نے تعویذ کاٹ ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کی اور فرمایا: جس نے تعویذ باندھا اس نے شرک کیا۔“
مسند احمد : 4 / 156 – مستدرك حاكم : 4/219 – طبراني في الكبير : 17/ 885
دوسری حدیث میں ہے :
من علق تميمة فلا أتم الله له ومن علق ودعة فلا أودع الله له
”جس نے تعویذ باندھا اللہ اس کو کامیاب نہ کرے اور جس نے منکے باندھے اللہ اسے سکون نصیب نہ کرے۔“
مسند احمد : 4/154 مستدرك حاكم : 4/216 – مسند ابی یعلی : 2/ 98 و اسناده ضعیف
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بازو میں پیتل کا کڑا دیکھا تو فرمایا : افسوس تم پر یہ کیا ہے؟ اس نے کہا : یہ کمزوری کو دور کرنے کے لیے پہنا ہے۔ فرمایا : یہ تمہاری کمزوری میں مزید اضافہ کرے گا۔ اسے نکال کر پھینک دو ورنہ اگر تمہاری موت اسی حالت میں ہوگئی تو تم ہرگز فلاح نہ پاسکو گے۔
مسند احمد : 4 / 445 صحيح ابن حبان الاحسان : 7/628 – ابن ماجه، کتاب الطب باب تعليق التمائم ح : 3431 و اسناده ضعیف
ان واضح تعلیمات نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر گہرا اثر ڈالا تھا کہ وہ اس قسم کی گمراہیوں سے بہت دور رہے اور ان بے حقیقت چیزوں کو انہوں نے کوئی اہمیت نہیں دی۔ عیسیٰ بن حمزہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہاں حمزہ موجود تھے۔ میں نے کہا : آپ تعویذ نہیں باندھتے ؟ انہوں نے کہا : اس سے اللہ کی پناہ ! اور ایک دوسری روایت میں ہے موت اس سے قریب تر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
من علق شيئا وكل إليه
”جو شخص اپنے گلے میں کوئی چیز لٹکائے اس کو اسی کے حوالہ کر دیا جائے گا۔“
ترمذی کتاب الطب باب ماجاء في كراهية التعليق ح : 2072
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کے گلے میں گنڈا بندھا ہوا دیکھا تو اسے کھینچ کر کاٹ ڈالا اور فرمایا : آل عبد اللہ شرک سے بے پرواہ ہو گئے ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے :
إن الرقى والثمائم والتولة شرك
”منتر، تعویذ اور تولہ سب شرک ہیں۔“
صحيح ابن حبان الاحسان : 7/630 مستدرك حاكم : 4 217، 417 – 418 وهو عند ابي داود و ابن ماجه في سننهما، وانظر الحديث الآتي
”تولہ“ ایک قسم کا جادو ہی ہے۔ اور اس طریقہ کو عورتیں اپنے شوہروں کی نظروں میں محبوب بننے کے لیے اختیار کرتی ہیں۔ علماء کہتے ہیں : ممنوع منتر وہ ہیں جو عربی میں نہ ہوں بلکہ کسی اور زبان میں ہوں اور زبان کی مغائرت اختلاف کی وجہ سے ان کے معنی معلوم نہ ہوں۔ ایسے منتروں میں اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ جادو یا کفر کے قسم کی کوئی بات ہو۔ لیکن اگر اس کے معنی سمجھ میں آجائیں اور اس میں اللہ کا ذکر ہو تو وہ مستحب ہے۔ ایسے منتر اللہ سے دعا اور اس سے امید کے مترادف ہوتے ہیں، ان کی حیثیت علاج یا دواء کی نہیں ہوتی۔ البتہ اہل جاہلیت کے منتر جادو شرک اور طلسم سے مرکب ہوتے تھے اور معنی مفہوم سے یکسر خالی ہوتے تھے۔
روایت میں ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ انھوں نے اپنی اہلیہ کو ان جاہلی منتروں سے منع کیا تو اس نے یہ واقعہ سنایا : ایک روز میں باہر نکلی تو مجھے فلاں شخص نے دیکھ لیا اور میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ جب میں منتر پڑھتی ہوں تو آنسو رک جاتے ہیں اور جب منتر پڑھنا ترک کرتی ہوں تو آنسوؤں کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ شیطان ہے جب تم اس کی بات مانتی ہو تو وہ تمہیں چھوڑ دیتا ہے اور جب اس کی بات نہیں مانتی ہو تو وہ اپنی انگلی تمہاری آنکھوں میں چھوتا ہے لیکن اگر تم وہی کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا تو تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور امید ہے کہ تمہیں شفاء حاصل ہوگی۔ اپنی آنکھوں میں پانی چھڑکو اور یہ کلمات کہو :
أذهب البأس رب الناس، اشف أنت الشافي، لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما
”اے تمام انسانوں کے رب ! تکلیف کو دور فرما ! اور شفا یاب کر ! کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، کوئی شفاء نہیں بجز تیری شفاء کے ایسی شفا عطا فرما کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے۔“
ابو داود كتاب الطب باب في تعليق التمائم ح : 3883 ، ابن ماجه كتاب الطب باب تعليق التمائم ح : 3530
بدشگونی
بدشگونی کسی جگہ وقت یا اشخاص وغیرہ سے لی جاتی ہے۔ یہ ان اوہام میں سے ہے جن کا رواج قدیم جاہلی زمانہ سے چلا آرہا ہے۔ سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم نے اُن سے کہا تھا :
قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَعَكَ
”ہمارے خیال میں تو تم اور تمہارے ساتھی شگون بد ہیں۔“
سورہ النمل : 47
اور فرعون اور اس کی قوم پر جب کوئی مصیبت آتی تو بدشگونی لیتے چنانچہ فرمایا :
يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَنْ مَعَهُ
”وہ موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے۔“
سورہ الاعراف: 7/131
اکثر کفار جو گمراہی میں مبتلا رہے ہیں کسی مصیبت کے نازل ہو جانے پر یہی کہتے رہے ہیں :
إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ
”ہم تمہیں اپنے لیے شگون بد سمجھتے ہیں۔“
سورہ یس : 18
اور ہمیشہ اس کا جواب انبیاء علیہ السلام دیتے رہے :
طَائِرُكُمْ مَعَكُمْ
”تمہاری بدشگونی تمہارے ساتھ لگی ہوئی ہے۔“
سورہ یس : 19
یعنی تمہاری مصیبت کا سبب تمہارے ساتھ لگا ہوا ہے اور وہ تمہارا کفر و عناد اور تمہاری سرکشی ہے۔ بدشگونی کے بارے میں قدیم زمانہ جاہلیت میں عربوں کے عقائد مختلف تھے لیکن اسلام نے ان کو باطل قرار دے کر لوگوں کو عقلیت کی راہ پر لگایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ليس منا من تطير أو تطير له أو تكهن أو تكهن له أو سحر أو سحر له
”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو برا شگون لے یا جس کے لیے برا شگون لیا جائے یا جس کے لیے کہانت کی جائے یا جو جادو کرے یا جو جادو کرائے۔“
مسند البزار : 3578 طبراني في الكبير : 162/18
نیز فرمایا :
العيافة والطيرة والطرق من الجبت
”ریل، پرندہ سے برا شگون لینا اور کنکریاں مار کر برا شگون لینا جبت (وہم پرستی) کے قبیل سے ہے۔“
ابو داود كتاب الطب الكهانة باب فى الخط وزجر الطير ح : 3907
یہ بدشگونی، نہ علم کی بنیاد پر ہوتی ہے اور نہ ہی واقعات کی بنیاد پر بلکہ محض ضعف اعتقاد اور وہم پرستی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ورنہ اس کے کیا معنی کہ ایک عقلمند آدمی سچ مچ یہ خیال کرنے لگے کہ فلاں شخص یا فلاں جگہ منحوس ہے؟ یا وہ کسی پرندے کی آواز سن کر یا آنکھوں کی حرکت دیکھ کر یا کوئی کلمہ سن کر گھبراہٹ محسوس کرنے لگے؟
اصل بات یہ ہے کہ اگر انسان کے عقیدہ توحید میں کمزوری ہو تو وہ اسے بدشگونی پر آمادہ کرتی ہے۔ لہذا انسان کو اس کمزوری کے آگے سپر نہیں ڈالنا چاہیے۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے :
تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان سے کسی کا بچنا مشکل ہے : بدگمانی، بدشگونی اور حسد لہذا جب بدگمانی پیدا ہو جائے تو اس پر یقین نہ کرو۔ اور جب بدشگونی تو ڈر پیدا کرے تو راستہ سے واپس نہ لوٹو۔ اور جب حسد کا احساس ہونے لگے تو ویسا نہ چاہو۔
فتح البارى : 10/ 213 بالفاظ متقاربة وقال الحافظ اخرجه عبد الرزاق مرسلاً ـ وعند عبد الرزاق : 403/10 ، ح : 19504 بلفظ مختلف واخرجه البيهقي في الشعب : 2 / 63 ح 1172 من رواية عبد الرزاق به وقال هذا منقطع – وله شاهد من حديث أبي هريرة عند البيهقى : 1173 واخرجه الطبراني : 2583 عن حارثة بن نعمان
اس احتیاط پر عمل کرنے کی صورت میں ان تینوں باتوں کی حقیقت دل میں گزرنے والے خیالات اور وسوسے سے زیادہ کچھ حقیقت نہ ہوگی اور ان باتوں کا کوئی اثر عمل پر مرتب نہ ہوگا۔ ایسی باتوں سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
بدشگونی شرک ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں : ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جس کے دل میں بدشگونی کے خیالات نہ پیدا ہوتے ہوں لیکن اللہ پر توکل کرنے سے اس قسم کے خیالات کا ازالہ ہو جاتا ہے۔
ابو داؤد کتاب الطب باب فى الطيرة ح : 3910 ۔ ترمذی کتاب السير باب ماجاء في الطيرة ح : 1614 – ابن ماجه كتاب الطب باب من كان يعجبه الفال ويكره الطيرة ح : 3538