رضاعتِ کبیر پر مستشرقین کے اعتراضات کا مدلل رد

فونٹ سائز:

وضاحتِ شبہ

مضمون کے اہم نکات

حدیث میں آتا ہے حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: سہلہ بنت سہیل ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں سالم ؓ کے گھر آنے کی بنا پر (اپنے شوہر) ابو حذیفہ ؓ کے چہرے میں (تبدیلی) دیکھتی ہوں ۔ حالانکہ وہ ان کا حلیف بھی ہے ۔۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: "اسے دودھ پلا دو۔” انہوں نے عرض کی: میں اسے کیسے دودھ پلاؤں؟ جبکہ وہ بڑا (آدمی) ہے۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: "میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ بڑا آدمی ہے۔ (صحیح مسلم : 1453)

کیا یہ معقول ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ ایک بڑے آدمی کے لئے اس طرح ایک عورت کو دودھ پلانے کا حکم دیں!

جوابِ شبہ

پہلی بات

پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ رضاعت کیا ہے؟ اور اس کے احکام و مسائل کیا ہیں؟ رضاعت دودھ پلانے کو کہتے ہیں۔ قدیم عربی لغت کے ایک شاہکار ’’تاج العروس‘‘ میں اس لفظ کو کچھ یوں استعمال کیا گیا ہے:

رَضَعَ ثَدْيَ أُمّه

ترجمہ: اُس نے اپنی ماں کی چھاتیوں سے دودھ پیا۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے رضاع کا مطلب ’’چُوسنا‘‘ نہیں ہے بلکہ یہ پلانے کے زُمرے میں آتا ہے کیونکہ اگر اس لفظ کا مطلب صرف چھاتیوں سے چُوسنا ہوتا تو اس جملے میں صرف یہی لفظ استعمال کیا جاتا دوبارہ چھاتیوں کا ذکر ایک ہی جُملے میں نہ آتا۔ يعنى يوں كہا جاتا: (رَضَعَ أُمَّه) يا (رَضَعَ مِن أُمّه)۔

ابنِ قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
"امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں: اور ناك كے ذريعے دودھ پلانا اور پستان كو منہ لگائے بغير بچے كے حلق ميں دودھ ڈال دينا بھى رضاعت كى طرح ہى ہے”. المغنى (11/313)

رضاعت كے احكام كے تعلق سے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ (سورة البقرۃ : 233)

ترجمہ: مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو۔

تو اس آیتِ مبارکہ سے پتہ چلا کہ مدتِ رضاعت دو سال ہے۔

ابنِ كثير رحمہ اللہ اس كى تفسير ميں رقمطراز ہيں: "ماؤں كے ليے اللہ سبحانہ و تعالى كى جانب سے راہنمائى ہے كہ وہ اپنى اولاد كى رضاعت مكمل كريں اور دو برس تك دودھ پلائيں”۔ ديكھيں: تفسير ابن كثير (1/633ـ 634)۔

اسى طرح حدیث میں آتا ہے نبی ﷺ نے فرمایا :

إنَّ الرَّضاعةَ يَحْرُمُ منها ما يحرُمُ من الوَلادة (صحیح بخاری : 2646)

ترجمہ: دودھ سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔

تو اس حدیث سے پتہ چلا کہ رضاعت سے بھی محرم رشتہ دار ثابت ہو جاتے ہیں ۔

دوسری بات

اگرچہ اس حدیث کا مضمون غیر معمولی ہے لیکن کیونکہ یہ ایک خاص حکم تھا جو حالات کے پیشِ نظر نبی علیہ الصلاۃ و السلام نے اللہ کے حکم سےجاری فرمایا اور وہ اس کیس(حالت) کے ساتھ خاص تھا جیسا کے اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سمجھے اور یہی بات حدیث کے سیاق و سباق سے بھی واضح ہے :

حدیث ملاحظہ ہو : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ (جنہیں انہوں نے اولاد کی طرح پالا تھا) ابو حذیفہ اور ان کی بیوی کے ساتھ گھر میں رہتے تھے۔ حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کرنے لگیں: سالم دوسرے مردوں کی طرح جوان ہو گیا اور وہ ان باتوں کو سمجھنے لگا ہے جن کو مرد سمجھتے ہیں۔ اور وہ ہمارے پاس آتا ہے اور میں محسوس کرتی ہوں کہ ابو حذیفہ کو یہ ناگوار لگتا ہے۔ نبی ﷺ نے ان کو فرمایا: تم اس کو (بعض روایات میں پانچ بار) دودھ پلاؤ تاکہ تم اس پر حرام ہو جاؤ۔ سہلہ نے کہا: وہ تو داڑھی والے ہیں۔ نبی ﷺ مسکرائے اور فرمایا میں جانتا ہوں۔ پھر ابو حذیفہ کے دل میں ناگواری بھی جاتی رہے گی۔ وہ پھر دوبارہ آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اس کو دودھ پلا دیا اور ابو حذیفہ کے دل سے ناگواری بھی ختم ہو رہی ہے۔ (تمام روایات کا احاطہ کرنے کے لیے مفہومی ترجمہ کیا گیا ہے)

دیکھیے: (صحیح مسلم 3601، موطا امام مالک 229/2، مسند احمد 601/6، مستدرک 226/3، مصنف عبد الرزاق برقم: 1334، الطبرانی الکبیر 69/7)

تیسری بات

اعتراض کا اصل منشا یہ سمجھنا ہے کہ اس واقعے میں رضاعت کا عمل براہِ راست انجام دیا گیا۔ اول تو یہ بات غیر متصور ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو بلا واسطہ دودھ پلانے کا حکم دیا ہو!

دوسرا یہ بات واقع کے بھی بر خلاف ہے کیونکہ جیسے ائمہ کرام نے صراحت کی ہے کہ انہیں رضاعت برتن سے کروائی گئی ہے۔

امام ابن سعد (متوفی 230) اس بارے میں روایت ذکر کرتے ہیں کہ روز ایک برتن میں دودھ نکالا جاتا اور پانچ روز تک سالم رضی اللہ عنہ اس میں سے پیتے۔ دیکھیے: الطبقات الکبریٰ (8/ 271)۔

اور جیسا کہ پہلی بات میں واضح کر دیا گیا ہے کہ رضاعت کا معنی صرف چھاتی سے دودھ پلانے کے لئے نہیں ہے بلکہ دودھ پلانے کی تمام صورتیں رضاعت میں شامل ہیں ۔

شارحينِ حديث نے اس رخصت كا یہ ہی معنى و مفہوم ذكر كيا ہے:

◄ امام ابنِ عبد البر فرماتے ہیں: (اس كى رضاعت ايسے كى گئی کہ اس كو دودھ دیا جاتا ہے۔ جہاں تک عورت اسے اپنی چھاتی سے بلا واسطہ دودھ پلائے ہے جیسا کہ وہ بچے کے ساتھ کرتی ہے تو ايسا اہلِ علم کے نزدیک ہرگز مناسب نہیں). ديكھیں: الاستذكار (6/255)، والتمهيد (8/257)۔

◄ قاضى عياض فرماتے ہیں: (شاید سالم نے سہلہ کا دودھ چھاتی کو چھوئے بغیر پی لیا تھا كيونکہ چھاتی کو دیکھنا یا بعض حصوں کو چھونا جائز نہیں)۔ شرح النووى (10/31)، و شرح الزرقانى على موطأ (3/371)۔

چوتھی بات

تعجب کی بات یہ ہے کہ جنہوں نے اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے اس حدیث کا یہ مفہوم سمجھا کہ اس واقعہ میں رضاعت براہِ راست ہوئی وہ یہ کیسے بھول گئے کہ متبنی ( منہ بولا بيٹا) کا حکم بدل جانے کے بعد جس شخص کو اپنے منہ بولے بیٹے کا گھر میں یوں آنا جانا جو کہ جائز بھی تھا ناگوار گزرتا تھا اسے بزعمِ معترض ’’براہِ راست رضاعت ‘‘پر کوئی اعتراض نہ ہوا بلکہ اس کے بر خلاف اس عمل سے ان کی ناگواری جاتی رہی۔ يہ بات اس كا واضح ثبوت ہے كہ رضاعت كا طريقہ جو اپنايا گيا تھا وه كسى كے ليے معيوب نہیں تھا.!۔