قبروں پر مساجد کی تعمیر کی حرمت: ائمہ و اہلِ علم کا متفقہ موقف

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری کی کتاب تبرکات کی شرعی حیثیت سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

قبروں پر مسجد بنانا اہل علم کی نظر میں:

قبروں پر مسجدیں بنانا بالاجماع حرام اور ممنوع ہیں، اہل علم کی تصریحات ملاحظہ ہوں:

[1] امام شافعی رحمہ اللہ (204ھ)

قبر پر مسجد بنانے، اس پر یا اس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ (الأم: 278/1)

[2] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[قال علماؤنا : لا يجوز بناء المساجد على القبور، وقالوا: إنه لا يجوز أن ينذر لقبر، ولا للمجاورين عند القبر شيئا من الأشياء، لا من درهم، ولا من زيت، ولا من شمع، ولا من حيوان، ولا غير ذٰلك، كله نذر معصية]
علمائے اسلام کا کہنا ہے کہ قبروں پر مساجد بنانا جائز نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی قبر اور وہاں بیٹھے مجاورین کیلئے کسی قسم کی چیز، مثلاً درہم و دینار، تیل، موم بتی، جانور وغیرہ بغرضِ نذر لانا جائز نہیں، کیونکہ یہ تمام نذریں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مبنی ہیں۔
(مجموع الفتاویٰ: 77/27)

[3] حافظ سیوطی رحمہ اللہ (وفات 911ھ) فرماتے ہیں:

[أما بناء المساجد عليها، وإشعال القناديل والشموع أو السرج عندها؛ فقد لعن فاعله ……، وصرح عامة علماء الطوائف بالنهي عن ذٰلك متابعة للأحاديث الواردة في النهي عن ذٰلك، ولا ريب في القطع بتحريمه]
قبروں پر مساجد بنانے، وہاں لالٹینیں و شمعیں جلانے والے پر لعنت کی گئی ہے۔…… مختلف مکاتبِ فکر کے اکثر علمائے کرام نے اس کی ممانعت پر مبنی احادیث کی پیروی میں واضح طور پر اس سے منع کیا ہے۔ اس کام کو قطعی طور پر حرام کہنے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
(الأمر بالاتباع، ص 59-60)

نیز فرماتے ہیں:

[هٰذه المساجد المبنية على القبور يتعين إزالتها، هٰذا مما لا خلاف فيه بين العلماء المعروفين، وتكره الصلاة فيها من غير خلاف]
معروف علما کا اس پر اتفاق ہے کہ قبروں پر تعمیر شدہ مسجدیں منہدم کرنا ضروری ہے، نیز وہاں نماز پڑھنا بھی بالاتفاق مکروہ ہے۔
[الأمر بالاتباع، ص 115، وفي نسخة، ص 61]

[4] حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:

[اتفقت نصوص الشافعي والأصحاب على كراهة بناء مسجد على القبر، سواء كان الميت مشهورا بالصلاح، أو غيره، لعموم الأحاديث]
امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کے فتاویٰ قبر پر مسجد بنانے کے مکروہ ہونے پر متفق ہیں۔ حدیث کے عموم کے پیش نظر میت نیک ہو یا بد، اس معاملے میں برابر ہے۔
(المجموع شرح المهذّب: 316/5)

حافظ نووی رحمہ اللہ سے ایک سوال ہوا، اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

[مسألة: مقبرة مسبلة للمسلمين، بنى إنسان فيها مسجدا، وجعل فيها محرابا، هل يجوز ذٰلك؟ وهل يجب هدمه؟
الجواب: لا يجوز له ذٰلك، ويجب هدمه]
سوال: اگر کوئی شخص مسلمانوں کے لیے وقف شدہ عام قبرستان میں مسجد اور محراب بناتا ہے، تو کیا یہ جائز ہے؟ نیز کیا اسے گرا دینا فرض ہے؟
جواب: ایسا کرنا جائز نہیں، نیز اسے گرا دینا فرض ہے۔ (فتاویٰ النووي، ص 65)

مزید فرماتے ہیں:

[قال الشافعي في الأم: ورأيت الأئمة بمكة يأمرون بهدم ما يبنى، ويؤيد الهدم قوله: ولا قبرا مشرفا؛ إلا سويته]
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام میں کہا ہے: میں نے مکہ میں ائمہ کو دیکھا کہ وہ (قبروں پر بنائی گئی عمارات وغیرہ کو) منہدم کرنے کا حکم دیتے تھے، نیز انہدام کی تائید آپ ﷺ کے اس فرمان سے ہوتی ہے کہ ہر اونچی قبر کو برابر کر دو۔
[شرح مسلم: 27/7]

[5] علامہ برکوی حنفی رحمہ اللہ (981ھ) فرماتے ہیں:

[قد صرح عامة الطوائف بالنهي عن بناء المساجد عليها، والصلاة إليها]
اکثر اسلامی مکاتبِ فکر نے قبروں پر مساجد بنانے اور ان کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھنے کی واضح طور پر ممانعت کی ہے۔ (زيارة القبور، ص 4)

[6] علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ (1252ھ) فرماتے ہیں:

[أما البناء عليه؛ فلم أر من اختار جوازه]
قبر پر عمارت بنانے کو جائز قرار دینے والے کسی اہل علم کو میں نہیں جانتا۔
[حاشية ابن عابدين: 601/1]

[7] حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ)

حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا سے استدلال کرتے ہیں:
[هٰذا يحرم على المسلمين أن يتخذوا قبور الأنبياء والعلماء والصالحين مساجد]
یہ حدیث انبیاۓ کرام، علما اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانا مسلمانوں پر حرام قرار دیتی ہے۔ (التمهيد: 186/1)

[8] علامہ ابو عبد اللہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) سورت کہف کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

[اتخاذ المساجد على القبور، والصلاة فيها، والبناء عليها، إلى غير ذٰلك، مما تضمنته السنة من النهي عنه؛ ممنوع لا يجوز]
قبروں پر مساجد، ان میں نماز، ان پر عمارت بنانا اور دیگر وہ امور جن سے سنت نے منع فرمایا ہے، وہ ممنوع اور حرام ہیں۔ (تفسير القرطبي: 379/1)

نیز فرماتے ہیں:

[أما تعلية البناء الكثير علىٰ نحو ما كانت الجاهلية تفعله تفخيما وتعظيما؛ فذٰلك يهدم ويزال، فإن فيه استعمال زينة الدنيا في أول منازل الآخرة، وتشبها بمن كان يعظم القبور ويعبدها، وباعتبار هٰذه المعاني وظاهر النهي أن ينبغي أن يقال: هو حرام]
رہا قبروں پر اہل جاہلیت کی طرح تکریم و تعظیم کے لیے عمارتیں بلند کرنا، تو اسے منہدم کر کے ختم کر دیا جائے گا، کیونکہ اس طرح دنیا کی زینت کو آخرت کی سب سے پہلی منزل میں استعمال کیا جاتا ہے، نیز اس سے ان لوگوں کی مشابہت لازم آتی ہے جو قبروں کی تعظیم و عبادت کرتے ہیں۔ ان معانی کے اعتبار سے اور ظاہرِ ممانعت کو دیکھتے ہوئے اسے حرام قرار دینا ضروری ہے۔
[تفسير القُرْطُبِي: 381/10]

نیز فرماتے ہیں:

[قال علماؤنا: وهٰذا يحرم على المسلمين أن يتخذوا قبور الأنبياء والعلماء مساجد]
علمائے اسلام نے کہا ہے کہ یہ دلائل مسلمانوں پر انبیا اور علما کی قبروں پر مساجد بنانے کو حرام قرار دیتے ہیں۔ (تفسير القُرْطُبِي: 380/1)

[9] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[هٰذه المساجد المبنية علىٰ قبور الأنبياء، والصالحين، والملوك وغيرهم، يتعين إزالتها بهدم أو بغيره، هٰذا مما لا أعلم فيه خلافا بين العلماء المعروفين، وتكره الصلاة فيها من غير خلاف أعلمه، ولا تصح عندنا في ظاهر المذهب لأجل النهي واللعن الوارد في ذٰلك، ولأحاديث أخر]
انبیاۓ کرام، صالحین اور بادشاہوں وغیرہ کی قبروں پر بنائی گئی ان مساجد کو منہدم کرنا یا کسی دوسرے طریقے سے ختم کرنا ضروری ہے۔ میرے علم کے مطابق اس بارے میں مشہور علما کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ بلا اختلاف ان مسجدوں میں نماز بھی مکروہ ہے۔ اس حدیث اور دیگر احادیث میں مذکور ممانعت اور لعنت کی بنا پر ہمارا ظاہرِ مذہب یہی ہے کہ ایسا کرنا ناجائز ہے۔
[اقتضاء الصراط المستقيم : 287/2]

نیز فرماتے ہیں:

[اتفق الأئمة أنه لا يبنىٰ مسجد علىٰ قبر، لأن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن من كان قبلكم كانوا يتخذون القبور مساجد، ألا فلا تتخذوا القبور مساجد، فإني أنهاكم عن ذٰلك»، وأنه لا يجوز دفن ميت في مسجد، فإن كان المسجد قبل الدفن غير، إما بتسوية القبر، وإما بنبشه إن كان جديدا، وإن كان المسجد بني بعد القبر، فإما أن يزال المسجد، وإما أن تزال صورة القبر، فالمسجد الذي على القبر؛ لا يصلىٰ فيه فرض ولا نفل، فإنه منهي عنه]
ائمہ کرام کا اتفاق ہے کہ قبر پر مسجد نہ بنائی جائے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگ قبروں پر مسجدیں بناتے تھے، خبردار، تم قبروں کو سجدہ گاہ مت بناؤ، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔ اسی طرح مسجد میں میت کو دفن کرنا بھی جائز نہیں، اگر مسجد دفن کرنے سے پہلے بنی ہو، تو قبر کو برابر کر دیا جائے یا اگر قبر نئی ہے تو اسے اکھاڑ دیا جائے۔ اگر مسجد بعد میں بنائی گئی ہو، تو ایسی صورت میں یا تو مسجد کو ختم کر دیا جائے، یا قبر کی صورت ختم کر دی جائے۔ قبر پر بنائی گئی مسجد میں فرض یا نفل کوئی بھی نماز پڑھنا ممنوع ہے۔
[مجموع الفتاویٰ: 194/22-195]

نیز فرماتے ہیں:

[المقصود هاهنا أن الصحابة والتابعين لهم بإحسان لم يبنوا قط علىٰ قبر نبي ولا رجل صالح مسجدا، ولا جعلوه مشهدا ومزارا، ولا علىٰ شيء من آثار الأنبياء، مثل مكان نزل فيه أو صلىٰ فيه، أو فعل فيه شيئا من ذٰلك، لم يكونوا يقصدون بناء مسجد لأجل آثار الأنبياء والصالحين]
غرضیکہ صحابہ و تابعین نے کبھی بھی کسی نبی یا کسی نیک شخص کی قبر پر مسجد نہیں بنائی، نہ کسی کی قبر کو مزار اور دربار بنایا۔ انہوں نے تو انبیاۓ کرام کے آثار میں سے کسی اثر، مثلاً جس جگہ نبی کریم ﷺ نے پڑاؤ کیا یا نماز ادا کی یا کوئی اور کام کیا، وہاں پر انبیا و صالحین کے آثار کی بنا پر مسجد بنانے کا قصد نہیں کیا۔
[مَجْموع الفتاویٰ: 466/17]

نیز فرماتے ہیں:

[هٰذه المساجد المبنية علىٰ قبور الأنبياء، والصالحين، والملوك وغيرهم، يتعين إزالتها بهدم أو بغيره، هٰذا مما لا أعلم فيه خلافا بين العلماء المعروفين، وتكره الصلاة فيها من غير خلاف أعلمه]
انبیا وصالحین اور بادشاہوں وغیرہ کی قبروں پر بنی ہوئی مسجدوں کو گرا کر یا کسی اور طریقے سے ختم کرنا ضروری ہے۔ اس مسئلے میں معروف اہل علم میں کوئی اختلاف مجھے معلوم نہیں، نیز ایسی مساجد میں نماز کی ادائیگی بھی بالاتفاق مکروہ ہے۔
[اقتضاء الصراط المستقيم: 187/2]

ایک مقام پر فرماتے ہیں:

[والنصارى كثيرا ما يعظمون آثار القديسين منهم. فلا يستبعد أنهم ألقوا إلى بعض جهال المسلمين أن هذا قبر بعض من يعظمه المسلمون ليوافقوهم على تعظيمه. كيف لا؟ وهم قد أضلوا كثيرا من جهال المسلمين حتى صاروا يعمدون أولادهم ويزعمون أن ذلك يوجب طول العمر للولد وحتى جعلوهم يزورون ما يعظمونه من الكنائس والبيع وصار كثير من جهال المسلمين ينذرون للمواضع التي يعظمها النصارى كما قد صار كثير من جهالهم يزورون كنائس النصارى ويلتمسون البركة من قسيسيهم ورهابينهم ونحوهم. والذين يعظمون القبور والمشاهد: لهم شبه شديد بالنصارى حتى إني لما قدمت القاهرة اجتمع بي بعض معظميهم من الرهبان وناظرني في المسيح ودين النصارى حتى بينت له فساد ذلك وأجبته عما يدعيه من الحجة وبلغني بعد ذلك أنه صنف كتابا في الرد على المسلمين وإبطال نبوة محمد صلى الله عليه وسلم وأحضره إلي بعض المسلمين وجعل يقرؤه علي لأجيب عن حجج النصارى وأبين فسادها. وكان من أواخر ما خاطبت به النصراني: أن قلت له: أنتم مشركون وبينت من شركهم ما هم عليه من العكوف على التماثيل والقبور وعبادتها والاستغاثة بها. قال لي: نحن ما نشرك بهم ولا نعبدهم وإنما نتوسل بهم كما يفعل المسلمون إذا جاءوا إلى قبر الرجل الصالح فيتعلقون بالشباك الذي عليه ونحو ذلك. فقلت له: وهذا أيضا من الشرك ليس هذا من دين المسلمين وإن فعله الجهال فأقر أنه شرك حتى إن قسيسا كان حاضرا في هذه المسألة. فلما سمعها قال: نعم على هذا التقدير نحن مشركون. وكان بعض النصارى يقول لبعض المسلمين: لنا سيد وسيدة ولكم سيد وسيدة لنا السيد المسيح والسيدة مريم ولكم السيد الحسين والسيدة نفيسة. فالنصارى يفرحون بما يفعله أهل البدع والجهل من المسلمين مما يوافق دينهم ويشابهونهم فيه ويحبون أن يقوى ذلك ويكثر ويحبون أن يجعلوا رهبانهم مثل عباد المسلمين وقسيسيهم مثل علماء المسلمين. ويضاهئون المسلمين فإن عقلاءهم لا ينكرون صحة دين الإسلام. بل يقولون: هذا طريق إلى الله وهذا طريق إلى الله. ولهذا يسهل إظهار الإسلام على كثير من المنافقين الذين أسلموا منهم. فإن عندهم أن المسلمين والنصارى كأهل المذاهب من المسلمين بل يسمون الملل مذاهب.]
نصاریٰ اکثر اپنے ولیوں اور خدا رسیدہ بزرگوں کی قبروں کی حد درجہ تعظیم کرتے ہیں۔ بعید نہیں کہ انہوں نے ہی بعض جاہل مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی ہو کہ یہ قبر کسی ایسے بزرگ کی ہے، جس کی مسلمان بہت تعظیم کرتے تھے، تاکہ قبروں کی تعظیم میں مسلمان بھی عیسائیوں کے ہم خیال ہو جائیں۔ یہ بات بعید ہو بھی کیونکر سکتی ہے؟ نصاریٰ نے مسلمانوں میں سے بہت سے جاہلوں کو گمراہ کر دیا ہے، حتیٰ کہ جاہل مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح اپنی اولادوں کو اس غرض سے ’بپتسمہ‘ (عیسائیوں کے ہاں مقدس پانی کے چھینٹے) لگاتے ہیں کہ یہ عمل بچے کی عمر میں طوالت کا موجب ہے۔ یہاں تک کہ عیسائیوں نے مسلمانوں کو اس حد تک گمراہ کر دیا کہ جاہل مسلمان بھی یہود و نصاریٰ کے عبادت خانوں کی زیارت اور تعظیم کرنے لگے ہیں۔ بہت سے جاہل مسلمان بھی ان مقامات پر نذر و نیاز چڑھانے لگے، جن مقامات کی نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں۔ نوبت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ بعض جاہل مسلمان نصاریٰ کے گرجاوں کی زیارت کر کے ان کے پادریوں اور صوفیوں وغیرہ سے تبرک حاصل کرنے لگے ہیں۔ جو لوگ قبروں اور خانقاہوں کی تعظیم کرتے ہیں، ان کی نصاریٰ کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت ہے، چنانچہ جب میں قاہرہ آیا تو نصاریٰ کا ایک بڑا راہب میرے پاس آیا اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور دینِ نصاریٰ کے متعلق میرے ساتھ مناظرہ کرنے لگا، یہاں تک کہ میں نے مروجہ عیسائیت کی خرابیوں کو واضح کر دیا اور اس کے تمام دلائل کا جواب دے دیا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے مسلمانوں اور نبی کریم ﷺ کی نبوت کے رد میں ایک کتاب لکھی ہے۔ ایک مسلمان میرے پاس وہ کتاب لے آیا اور اسے میرے سامنے پڑھنے لگا، تاکہ میں نصاریٰ کے دلائل کا جواب دوں اور ان کی خرابیوں کو واضح کروں۔ اس عیسائی راہب کے ساتھ آخری مناظرے میں میں نے کہا: تم مشرک لوگ ہو۔ ان کے مشرک ہونے کی وجہ یہ بیان کی کہ تم قبروں کے مجاور، بت پرست، قبروں کے پجاری اور ان سے مدد مانگنے والے ہو۔ یہ سن کر اس نے کہا: نہ ہم ان بزرگوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، نہ ہی ان کی عبادت کرتے ہیں، بلکہ ہم تو انہیں وسیلہ بناتے ہیں، جس طرح مسلمان فوت شدگان کو وسیلہ بناتے ہیں، نیز مسلمان کسی نیک آدمی کی قبر پر جاتے ہیں، اس کی کھڑکیوں سے جا چمٹتے ہیں اور اسی طرح کے دیگر کام کرتے ہیں۔ میں نے اسے کہا: یہ سب کچھ شرک ہے، دینِ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اگرچہ کچھ جاہل لوگ یہ کام کرتے ہیں۔ اس پر اس نے اقرار کر لیا کہ یہ شرک ہے، یہاں تک کہ ایک عیسائی پادری بھی وہاں موجود تھا، جب اس نے یہ بات سنی، تو اس نے کہا: جی ہاں! اس بنا پر تو ہم مشرک ہی ٹھہرے۔ کچھ عیسائی مسلمانوں سے کہتے ہیں: ہمارا بھی ایک سید اور ایک سیدہ ہیں، آپ کا بھی ایک سید اور ایک سیدہ ہیں۔ ہمارے سید مسیح علیہ السلام اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا ہیں، جبکہ آپ کے لیے سید حسین رضی اللہ عنہ اور سیدہ نفیسہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ جاہل اور بدعتی مسلمانوں کے شرک و بدعت والے کاموں سے عیسائی بڑے خوش ہوتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے دین سے موافقت و مشابہت رکھتے ہیں۔ وہ یہی چاہتے ہیں کہ یہ کام مسلمانوں میں مزید مضبوط اور زیادہ ہو جائیں۔ ان کی تو خواہش ہے کہ ان کے راہب مسلمانوں کے درباریوں کی طرح بن جائیں اور ان کے پادری مسلمان علما کی مانند ہو جائیں۔ یوں وہ مسلمانوں سے مشابہت اختیار کر لیں۔ نصاریٰ کے دانش ور لوگ دینِ اسلام کی صداقت کے انکاری نہیں، بلکہ وہ کہتے ہیں کہ نصرانیت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف ایک راستہ ہے اور اسلام بھی ایک راستہ۔ اسی لیے ان میں سے اکثر منافقین کیلئے اظہارِ اسلام آسان ہو گیا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک اسلام اور عیسائیت ایسے ہی ہے جیسے مسلمانوں کے باہمی مذاہب ہیں، یعنی انہوں نے ملتوں کو مسلک کہنا شروع کر دیا ہے۔
[مَجْموع الفتاویٰ: 460/27-462]

[10] علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

[من الأنصاب ما قد نصبه الشيطان للمشركين؛ من شجرة، أو عمود، أو وثن، أو قبر، أو خشبة، أو غير ذٰلك، والواجب هدم ذٰلك كله، ومحو أثره، كما أمر النبي صلى الله تعالىٰ عليه وآله وسلم عليا رضي الله عنه بهدم القبور المشرفة، وتسويتها بالأرض]
شیطان نے مشرکین کے لیے درختوں، ستونوں، تھانوں، قبروں یا لکڑیوں وغیرہ کی صورت میں جو بت قائم کیے ہیں، ان سب کو منہدم کرنا اور ان کے آثار ختم کرنا ضروری ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلند قبروں کو گرانے اور زمین کے ساتھ برابر کرنے کا حکم فرمایا۔
[إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان: 209/1]

[11] علامہ ابن الحاج رحمہ اللہ (737ھ) فرماتے ہیں:

[هٰذا إجماع من هٰؤلاء العلماء المتأخرين، فكيف يجوز البناء فيها؟ فعلىٰ هٰذا؛ فكل من فعل ذٰلك، فقد خالفهم]
یہ متاخرین علما کی طرف سے پختہ اور بلند قبروں کو گرانے پر اجماع ہے۔ اس صورت میں قبروں پر قبے وغیرہ بنانا کیسے جائز ہو گا؟ اس لیے جو بھی ایسا کرے گا، وہ ان اہل علم کا مخالف ہو گا۔ (المدخل: 182/1، وفي نسخة: 253/1)

[12] احناف کی معتبر کتاب میں لکھا ہے:

[يكره أن يبنىٰ على القبر مسجد أو غيره، كذا في السراج الوهاج، ويكره عند القبر ما لم يعهد من السنة، والمعهود منها ليس إلا زيارته والدعاء عنده قائما، كذا في البحر الرائق]
قبر پر مسجد یا کوئی اور عمارت بنانا مکروہ ہے۔ السراج الوہاج میں اسی طرح ہے۔ نیز قبر کے پاس وہ کام کرنا بھی مکروہ ہیں، جو سنت سے ثابت نہیں۔ سنت سے صرف یہی ثابت ہے کہ قبر کی زیارت کی جائے اور اس کے پاس کھڑے ہو کر (صاحبِ قبر کے لیے) دُعا کی جائے۔ البحر الرائق میں یہی لکھا ہے۔
[فتاویٰ عالمگیری: 166/1]

[13] علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ (974ھ) سے نقل کیا ہے:

[قد أفتىٰ جمع بهدم كل ما بقرافة مصر من الأبنية، حتىٰ قبة الإمام الشافعي عليه الرحمة، التي بناها بعض الملوك، وينبغي لكل أحد هدم ذٰلك ما لم يخش منه مفسدة، فيتعين الرفع للإمام أخذا من كلام ابن الرفعة في الصلح]
مصر کے قبرستان میں جتنی بھی قبروں پر عمارتیں ہیں، حتیٰ کہ امام شافعی کی قبر پر بعض بادشاہوں کا بنایا ہوا قبہ بھی، ان سب کے منہدم کرنے کا علماء کرام کے جمِ غفیر نے فتویٰ دیا ہے۔ اگر فتنہ و فساد کا خدشہ نہ ہو، تو ہر ایک کے لیے انہیں منہدم کرنا فرض ہے۔ حاکم کے سامنے یہ معاملہ اٹھانا ضروری ہے، جیسا کہ صلح کے باب میں ابن رفعہ کی کلام سے معلوم ہوتا ہے۔
[روح المعاني: 226/8]