ابدال کی حقیقت: روایات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری کی کتاب تبرکات کی شرعی حیثیت سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

ابدال کی حقیقت

اللہ کے رسول ﷺ سے ابدال کے بارے میں کچھ ثابت نہیں۔

حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:

[ليس في هٰذه الأحاديث شيء صحيح]
ان احادیث میں سے کوئی بھی ثابت نہیں۔
[الموضوعات: 152/3]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[تكلم به بعض السلف، ويروى فيه عن النبي صلى الله عليه وسلم حديث ضعيف]
اس بارے میں بعض سلف نے کلام کیا ہے۔ اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے ایک غیر ثابت حدیث مروی ہے۔ (مجموع الفتاویٰ: 394/4)

نیز فرماتے ہیں:

[الأشبه أنه ليس من كلام النبي صلى الله عليه وسلم]
درست بات یہی ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا کلام نہیں ہے۔
[مجموع الفتاویٰ: 441/11]

نیز فرماتے ہیں:

[كل حديث يروى عن النبي صلى الله عليه وسلم في عدة الأولياء والأبدال والنقباء والنجباء والأوتاد والأقطاب، مثل أربعة أو سبعة أو اثني عشر أو أربعين أو سبعين أو ثلاثمائة وثلاثة عشر أو القطب الواحد، فليس في ذٰلك شيء صحيح عن النبي صلى الله عليه وسلم، ولم ينطق السلف بشيء من هٰذه الألفاظ إلا بلفظ الأبدال]
ہر وہ روایت جو نبی کریم ﷺ سے اولیاء، ابدال، نقباء، نجباء، اوتاد اور اقطاب کی تعداد مثلاً چار، سات، بارہ، چالیس، ستر، تین سو، تیرہ یا ایک قطب کے بارے میں بیان کی گئی ہے، ان میں سے کوئی بھی نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں، نہ سلف نے ایسا کوئی لفظ استعمال کیا ہے، سوائے ابدال کے۔
[الفرقان بين أولياء الرحمٰن وأولياء الشيطان، ص 101]

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

[أحاديث الأبدال والأقطاب والأغواث والنقباء والنجباء والأوتاد كلها باطلة علىٰ رسول الله صلى الله عليه وسلم]
ابدال، اقطاب، اغواث، نقباء، نجباء اور اوتاد کے بارے میں تمام کی تمام احادیث خود گھڑ کر رسول اللہ ﷺ کے ذمے لگائی گئی ہیں۔
[المنار المنيف، ص 136]

اتنی وضاحت کے بعد ابدال کے متعلق مروی احادیث پر مختصر تبصرہ پیشِ خدمت ہے:

حدیث نمبر ①

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[خيار أمتي في كل قرن خمسمائة، والأبدال أربعون، فلا الخمسمائة ينقصون ولا الأربعون، كلما مات رجل أبدل الله عز وجل من الخمسمائة مكانه، وأدخل من الأربعين مكانهم]
میری امت میں ہر زمانہ میں پانچ سو خیار (پسندیدہ لوگ) ہوں گے اور چالیس ابدال۔ ان دونوں میں کمی نہ ہو گی۔ ان میں سے جو فوت ہو گا، ان پانچ سو میں سے اللہ اس کی جگہ دوسرے شخص کو ان چالیس میں داخل کر دے گا۔
[حلية الأولياء لأبي نعيم: 8/1، تاريخ ابن عساكر: 302/1]
روایت باطل ہے۔
① عبد اللہ بن ہارون صوری کی توثیق نہیں مل سکی۔
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[عن الأوزاعي، لا يعرف، والخبر كذب في أخلاق الأبدال]
یہ اوزاعی سے بیان کرتا ہے اور غیر معروف راوی ہے۔ اس کی طرف سے ابدال کے اوصاف میں بیان کی گئی روایت جھوٹ ہے۔
[ميزان الاعتدال: 516/2]
② زہری مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
اس حدیث کے بارے میں حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
[موضوع، وفيه مجاهيل]
یہ من گھڑت روایت ہے۔ اس میں کئی مجہول راوی ہیں۔
[الموضوعات: 151/3]

حدیث نمبر ②

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[الأبدال في هٰذه الأمة ثلاثون مثل إبراهيم خليل الرحمٰن كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلا]
اس امت میں تیس ابدال ہوں گے، جو ابراہیم علیہ السلام کی طرح ہوں گے۔ ان میں سے جو فوت ہو گا، اللہ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا۔
[مسند الإمام أحمد: 322/5، أخبار أصبهان لأبي نعيم: 180/1]
سند ضعیف ہے۔
① عبد الواحد بن قیس شامی سے حسن بن ذکوان نے منکر روایات بیان کی ہیں۔
◈ امام یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
[كان الحسن بن ذكوان يحدث عنه بعجائب]
حسن بن ذکوان، عبد الواحد بن قیس شامی سے عجیب و غریب (منکر) روایات بیان کرتا تھا۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 23/6، وسنده صحيح]
② حسن بن ذکوان ضعیف و مدلس ہے۔
③ عبد الواحد بن قیس کا سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔
اس حدیث کو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ’’منکر‘‘ کہا ہے۔
[مسند الإمام أحمد: 322/5]

حدیث نمبر ③

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[الأبدال في أمتي ثلاثون، بهم تقوم الأرض، وبهم تمطرون وبهم تنصرون]
میری امت میں تیس ابدال ہوں گے۔ ان کی وجہ سے ہی زمین قائم رہے گی اور ان کی وجہ سے ہی آپ پر بارش کی جائے گی اور آپ کی مدد کی جائے گی۔
[تفسير ابن كثير: 304/1، مجمع الزوائد: 63/10]
سند ضعیف ہے۔
①،② عمرو بن واقد اور عنبسہ خواص کے متعلق حافظ ہیتمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
[كلاهما لم أعرفه] ان دونوں کو میں نہیں جانتا۔
[مجمع الزوائد: 63/10]
③ قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔

حدیث نمبر ④

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[إن الأبدال بالشام يكونون، وهم أربعون رجلا، بهم تسقون الغيث، وبهم تنصرون على أعدائكم، ويصرف عن أهل الأرض البلاء والغرق]
ابدال شام میں ہوں گے اور وہ چالیس مرد ہوں گے۔ ان کی وجہ سے آپ کو بارش دی جائے گی اور انہی کی وجہ سے آپ کو دشمنوں پر فتح دی جائے گی اور ان کی وجہ سے ہی اہل زمین کو تکالیف اور پانی میں غرق ہونے سے نجات ملے گی۔
[تاريخ ابن عساكر: 289/1]
سند ضعیف ہے۔ شریح بن عبید کا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔
◈ حافظ ابن عساكر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هذا منقطع بين شريح وعلي، فإنه لم يلقه]
یہ روایت شریح اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے، کیونکہ شریح نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔

حدیث نمبر ⑤

سیدنا مالک بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل شام کے بارے میں فرمایا:
[فيهم الأبدال، وبهم تنصرون، وبهم ترزقون]
ان میں ابدال ہوں گے۔ انہی کی وجہ سے آپ کی مدد کی جائے گی اور انہی کی وجہ سے آپ کو رزق دیا جائے گا۔
[المُعجم الكبير للطبراني: 65/18، تاريخ ابن عساكر: 290/1]
سند سخت ضعیف ہے۔
① عمرو بن واقد ضعیف و متروک ہے۔
[تقريب التهذيب لابن حجر: 5132]
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[قد ضعفه جمهور الأئمة]
اسے جمہور ائمہ کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔
[مجمع الزوائد: 63/10]
② محمد بن مبارک صوری اور اس کے متابع ہشام بن عمار کی عمرو بن واقد سے ملاقات نہیں۔ عمرو بن واقد کی وفات 130ھ میں ہوئی، جبکہ ان دونوں کی ولادت 153ھ میں ہوئی تھی۔

حدیث نمبر ⑥

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[الأبدال يكونون بالشام، وهم أربعون رجلا، كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلا، يسقىٰ بهم الغيث، وينتصر بهم على الأعداء، ويصرف عن أهل الشام بهم العذاب]
ابدال شام میں ہیں۔ وہ چالیس مرد ہیں۔ جو ان میں سے فوت ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا بدل دیتا ہے۔ ان کی وجہ سے آپ کو بارش دی جاتی ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں امداد دی جاتی ہے، نیز اہل شام سے انہی کے سبب عذاب دور کیا جاتا ہے۔
[مسند الإمام أحمد: 112/1]
سند ضعیف ہے۔ شریح بن عبید کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع و لقا نہیں۔
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هو حديث منقطع، ليس بثابت]
یہ حدیث منقطع ہے، ثابت نہیں۔
[الفرقان، ص 101]
◈ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لا يصح أيضا، فإنه منقطع]
یہ روایت بھی ثابت نہیں، کیونکہ یہ منقطع ہے۔
[المنار المنيف، ص 136]
منقطع حدیث ضعیف ہوتی ہے۔ سند کا متصل ہونا صحتِ حدیث کے لیے ضروری اور بنیادی شرط ہے۔

حدیث نمبر ⑦

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[الأبدال أربعون رجلا وأربعون امرأة كلما مات رجل بدل الله مكانه رجلا وكلما ماتت امرأة بدل الله مكانها امرأة]
ابدال چالیس مرد اور چالیس عورتیں ہیں۔ جب ان میں سے کوئی مرد فوت ہو جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا بدل دیتا ہے اور جب کوئی عورت فوت ہو جاتی ہے، تو اللہ اس کی جگہ دوسری عورت بدل دیتا ہے۔
[مسند الدیلمي: 119/1، ح: 405، القول المسدد لابن حجر: 83، من طريق الخلال]
سند ضعیف ہے۔
◈ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[فيه مجاهيل] اس میں کئی مجہول راوی ہیں۔
[الموضوعات: 125/3]
نیز عطاء خراسانی کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں، لہذا یہ سند منقطع بھی ہے۔

حدیث نمبر ⑧

عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[الأبدال من الموالي] ابدال موالی میں سے ہوں گے۔
[ميزان الاعتدال للذَّهبي: 47/2]
روایت باطل ہے۔
① عطاء بن ابی رباح تابعی براہِ راست نبی کریم ﷺ سے بیان کر رہے ہیں، لہذا سند مرسل ہے۔
② ابو عبید آجری نامعلوم ہے۔
③ رجال بن سالم مجہول ہے۔
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لا يدرى من هو، والخبر منكر]
اس کا کوئی پتہ نہیں اور اس کی (یہ) روایت منکر ہے۔
[ميزان الاعتدال: 47/2]

حدیث نمبر ⑨

بكر بن خنیس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[علامة أبدال أمتي أنهم لا يلعنون شيئا أبدا]
میری امت کے ابدال کی نشانی یہ ہے کہ وہ کسی بھی چیز پر لعنت نہیں کرتے۔
[كتاب الأولياء لابن أبي الدنيا: 59]
سند باطل ہے۔
① بكر بن خنیس کوفی ضعیف و متروک ہے۔
② یہ تبع تابعی ہے، بھلا یہ مرفوع کیسے بیان کر سکتا ہے؟ لہذا یہ سند معضل (پے در پے منقطع) ہے۔
③ عبد الرحمن بن محمد محاربی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔

حدیث نمبر ⑩

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[لن تخلو الأرض مثل إبراهيم خليل الرحمٰن، بهم تغاثون، وبهم ترزقون، وبهم تمطرون]
زمین ایسے لوگوں سے کبھی خالی نہ رہے گی، جو ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کی طرح کے ہوں گے۔ ان کی وجہ سے آپ کی مدد کی جائے گی، رزق دیا جائے گا اور بارش برسائی جائے گی۔
[کتاب المجروحین لابنِ حِبّان: 61/2، ت: 605]
من گھڑت ہے۔ اسے عبد الرحمن بن مرزوق بن عوف نے گھڑا ہے۔
◈ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[يضع الحديث، لا يحل ذكره إلا علىٰ سبيل القدح فيه]
یہ حدیثیں گھڑتا تھا، جرح کے بغیر اس کا ذکر جائز نہیں۔

حدیث نمبر ⑪

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[إن أبدال أمتي لم يدخلوا الجنة بالأعمال، ولٰكن إنما دخلوها برحمة الله، وسخاوة الأنفس، وسلامة الصدور، ورحمة لجميع المسلمين]
میری امت کے ابدال اپنے اعمال کے سبب سے جنت میں داخل نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کی رحمت، نفوس کی سخاوت، سینوں کی سلامتی اور تمام مسلمانوں کے لیے رحمت ہونے کی وجہ سے داخل ہوں گے۔
[شعب الإيمان للبيہقي: 10394]
سند سخت ضعیف ہے۔
① صالح بن بشیر مری ابو بشر بصری ضعیف ہے۔
[تقریب التہذیب لابن حجر: 2844]
② حسن بصری رحمہ اللہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔

حدیث نمبر ⑫

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[البدلاء أربعون، اثنان وعشرون بالشام وثمانية عشر بالعراق كلما مات منهم واحد بدل الله مكانه آخر فإذا جاء الأمر قبضوا كلهم فعند ذٰلك تقوم الساعة]
ابدال چالیس ہیں، بائیس شام میں ہوتے ہیں اور اٹھارہ عراق میں۔ ان میں سے جو فوت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا بدل دیتا ہے اور جب اللہ کا حکم آئے گا، تو سب فوت ہو جائیں گے۔ اسی وقت قیامت قائم ہو گی۔
[الکامل لابن عدي: 220/5]
روایت من گھڑت ہے۔ علاء بن زید ثقفی وضاع (حدیثیں گھڑنے والا) ہے۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے ’’منکر الحدیث‘‘ قرار دیا ہے۔ کبار محدثین نے ’’متروک‘‘ کہا ہے۔

حدیث نمبر ⑬

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[لن تخلو الأرض من أربعين رجلا مثل إبراهيم خليل الرحمٰن، فبهم يسقون وبهم ينصرون، ما مات منهم أحد إلا أبدل الله مكانه آخر]
چالیس مرد جو مثلِ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے ہیں، ان سے زمین کبھی خالی نہ ہو گی۔ ان کی وجہ سے آپ پر بارش برسائی جائے گی اور آپ کی مدد کی جائے گی۔ جب ان میں سے کوئی فوت ہو گا، تو اللہ اس کی جگہ دوسرا بدل دے گا۔
[المُعجم الأوسط للطبراني: 247/4، ح: 4101]
سند ضعیف ہے۔
①، ②، ③ عبد الوہاب بن عطاء خفاف، سعید بن ابی عروبہ اور قتادہ تینوں مدلس ہیں، سماع کی تصریح ثابت نہیں۔
④ اسحاق بن زریق مجہول الحال ہے۔

حدیث نمبر ⑭

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[لا يزال أربعون رجلا من أمتي قلوبهم علىٰ قلب إبراهيم، يدفع الله بهم عن أهل الأرض، يقال لهم الأبدال]
میری امت میں چالیس مرد ہمیشہ ایسے رہیں گے، جن کے دل ابراہیم علیہ السلام کے دل کی کی مانند ہوں گے۔ ان کی وجہ سے اہل زمین سے تکالیف دور کی جائیں گی۔ ان کو ’ابدال‘ کہا جاتا ہے۔
[المعجم الكبير للطبراني: 181/10، حلية الأولياء لأبي نعيم: 172/4]
سند ضعیف ہے۔
① اعمش مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
② ثابت بن عیاش احدب غیر معروف ہے۔

حدیث نمبر ⑮

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[إن للٰه عز وجل في الخلق ثلاثمائة قلوبهم علىٰ قلب آدم عليه السلام، وللٰه تعالىٰ في الخلق أربعون قلوبهم علىٰ قلب موسىٰ عليه السلام، وللٰه تعالىٰ في الخلق سبعة قلوبهم علىٰ قلب إبراهيم عليه السلام، وللٰه تعالىٰ في الخلق خمسة قلوبهم علىٰ قلب جبريل عليه السلام، وللٰه تعالىٰ في الخلق ثلاثة قلوبهم علىٰ قلب ميكائيل عليه السلام، وللٰه تعالىٰ في الخلق واحد قلبه علىٰ قلب إسرافيل عليه السلام]
مخلوق میں اللہ کے تین سو بندے ایسے ہیں، جن کے دل آدم علیہ السلام کے دل کی مانند ہیں، چالیس ایسے ہیں، جن کے دل موسیٰ علیہ السلام کے دل کی مانند ہیں، سات ایسے ہیں جن کے دل ابراہیم علیہ السلام کے دل کی مانند ہیں، پانچ ایسے ہیں، جن کے دل جبرائیل علیہ السلام کے دل پر ہیں، تین ایسے ہیں، جن کے دل میکائیل کے قلب پر ہیں اور ایک ایسا بندہ ہے، جس کا دل اسرافیل علیہ السلام کے دل پر ہے۔
[حلية الأولیاء لأبي نعيم: 8/1]
جھوٹی روایت ہے۔
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هو كذب، فقاتل الله من وضع هٰذا الإفك]
یہ جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ جھوٹ اختراع کرنے والے کو تباہ و برباد کرے۔
[ميزان الاعتدال: 50/3]
◈ نیز فرماتے ہیں:
[أتهمه به أو عثمان]
میں اس جھوٹ کا ملزم عبد الرحیم بن یحییٰ یا عثمان بن عمارہ کو سمجھتا ہوں۔
[ميزان الاعتدال: 608/2]
اس حدیث کو عبد الرحیم بن یحییٰ نے گھڑا ہے یا عثمان بن عمارہ نے۔ یہ دونوں حضرات نامعلوم و مجہول ہیں، نیز ابراہیم نخعی مدلس ہیں، انہوں نے سماع کی صراحت نہیں کی۔

حدیث نمبر ⑯

محمد بن علی بن جعفر ابو بکر کتانی صوفی سے مروی ہے:
[النقباء ثلاث مائة، والنجباء سبعون، والبدلاء أربعون، والأخيار سبعة، والعمد أربعة، والغوث واحد]
نقباء تین سو ہیں، نجباء ستر ہیں، ابدال چالیس ہیں، اخیار سات، قطب چار اور غوث ایک ہے۔
(تاریخ بغداد للخطیب: 75/3)
جھوٹ ہے، جسے علی بن عبد اللہ بن الحسن بن جہضم ہمدانی نے گھڑا ہے۔
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[متهم بوضع الحديث] یہ حدیث گھڑنے کے ساتھ متہم ہے۔
[ميزان الاعتدال: 142/3]
◈ نیز فرماتے ہیں:
[ليس بثقة، بل متهم، يأتي بمصائب]
یہ ثقہ نہیں، بلکہ متہم ہے۔ جھوٹ طوفان بیان کرتا ہے۔
[سير أعلام النبلاء: 376/17]

اس باطل و ضعیف قول کے اگلے الفاظ یہ ہیں:

[مسكن النقباء المغرب، ومسكن النجباء مصر، ومسكن الأبدال الشام، والأخيار سياحون في الأرض، والعمد في زوايا الأرض، ومسكن الغوث مكة، فإذا عرضت الحاجة من أمر العامة ابتهل فيها النقباء، ثم النجباء، ثم الأبدال، ثم الأخيار، ثم العمد، ثم أجيبوا، وإلا ابتهل الغوث، فلا يتم مسألته حتىٰ تجاب دعوته]
نقباء کا مسکن مغرب، نجباء کا مصر، ابدال کا شام ہے۔ اخیار سیاح (گھومنے پھرنے والے) ہوتے ہیں۔ قطب زمین کے گوشوں میں ہوتے ہیں اور غوث کا مسکن مکہ ہے۔ جب مخلوق کو عمومی مصیبت آ جائے، تو دعا کے لیے نقباء ہاتھ پھیلاتے ہیں، پھر نجباء، پھر اخیار، پھر قطب، اگر قبول نہ ہو، تو غوث دُعا کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے حتیٰ کہ دعا مکمل ہونے سے پہلے ہی قبول ہو جاتی ہے۔
[تاریخ بغداد للخطیب: 75/3]

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

[ستكون فتنة يحصل الناس منها كما يحصل الذهب في المعدن، فلا تسبوا أهل الشام، وسبوا ظلمتهم، فإن فيهم الأبدال، وسيرسل الله إليهم سيبا من السماء فيغرقهم حتىٰ لو قاتلتهم الثعالب غلبتهم، ثم يبعث الله عند ذٰلك رجلا من عترة الرسول صلى الله عليه وسلم في اثني عشر ألفا إن قلوا، وخمسة عشر ألفا إن كثروا، أمارتهم أو علامتهم أمت أمت علىٰ ثلاث رايات يقاتلهم أهل سبع رايات ليس من صاحب راية إلا وهو يطمع بالملك، فيقتتلون ويهزمون، ثم يظهر الهاشمي فيرد الله إلى الناس إلفتهم ونعمتهم، فيكونون علىٰ ذٰلك حتىٰ يخرج الدجال]
عنقریب ایک فتنہ نمودار ہو گا۔ لوگ اس سے ایسے کندن بن کر نکلیں گے، جیسے سونا بھٹی میں کندن بنتا ہے۔ تمام اہل شام کو بُرا بھلا نہ کہیں، بلکہ ان میں سے ظلم کرنے والوں کو بُرا بھلا کہیں، کیونکہ اہل شام میں ابدال (نیک لوگ) بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل شام پر آسمان سے بارش نازل کرے گا اور ان کو غرق کر دے گا۔ اگر لومڑیوں جیسے مکار لوگ بھی ان سے لڑیں گے، تو وہ ان پر غالب آ جائیں گے۔ پھر اللہ رسول اللہ ﷺ کے خاندان میں سے ایک شخص (مہدی) کو کم از کم بارہ ہزار اور زیادہ سے زیادہ پندرہ ہزار لوگوں میں بھیجے گا۔ ان کی علامت «أَمِتْ أَمِتْ» ہو گی۔ وہ تین جھنڈوں پر ہوں گے۔ ان سے سات جھنڈوں والے لڑائی کریں گے۔ ہر جھنڈے والا بادشاہت کا طمع کرتا ہو گا۔ وہ لڑیں گے اور شکست کھائیں گے، پھر ہاشمی (مہدی) غالب آ جائے گا اور اللہ تعالیٰ لوگوں کی طرف ان کی الفت اور محبت و مودّت لوٹا دے گا۔ وہ دجال کے نکلنے تک یونہی رہیں گے۔
[المستدرک للحاکم: 596/4، ح: 8658، وسندہٗ صحیح]
اسے امام حاکم رحمہ اللہ نے ’’صحیح الاسناد‘‘ اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔

ابدال کی تعریف و تفسیر میں علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[فسروه بمعان: منها أنهم أبدال الأنبياء ومنها أنه كلما مات منهم رجل أبدل الله تعالى مكانه رجلا ومنها أنهم أبدلوا السيئات من أخلاقهم وأعمالهم وعقائدهم بحسنات، وهٰذه الصفات كلها لا تختص بأربعين ولا بأقل ولا بأکثر ولا تحصر بأهل بقعة من الأرض]
اہل علم نے اس کے کئی معانی بیان کیے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ وہ انبیا کے بدل ہیں۔ ایک یہ کہ ان میں سے جب کوئی فوت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے شخص کو کھڑا کر دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے اپنے اخلاق، اعمال اور عقائد سے برائیوں کو نکال کر ان کی جگہ نیکیوں کو دے دی ہے۔ یہ صفات چالیس یا کم و بیش کے ساتھ خاص نہیں، نہ ہی (شام کے علاوہ) کسی اور علاقے میں ابدال کا ہونا ممنوع ہے۔ (مجموع الفتاویٰ: 442/11)

لمحہ فکریہ:

حاجی کفایت اللہ صاحب بیان کرتے ہیں: اعلیٰ حضرت (احمد رضا خان بریلوی) بنارس تشریف لے گئے۔ ایک دن دوپہر کو ایک جگہ دعوت تھی۔ میں ہمراہ تھا، واپسی میں تانگے والے سے فرمایا: اس طرف فلاں مندر کے سامنے سے ہوتے ہوئے چل۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اعلیٰ حضرت بنارس کب تشریف لائے اور کیسے یہاں کی گلیوں سے واقف ہوئے اور اس مندر کا نام کب سنا؟ اسی حیرت میں تھا کہ تانگہ مندر کے سامنے پہنچا، دیکھا کہ ایک سادھو مندر سے نکلا اور تانگے کی طرف دوڑا۔ آپ نے تانگہ رُکوا دیا۔ اس نے اعلیٰ حضرت کو ادب سے سلام کیا اور کان میں کچھ باتیں ہوئیں، جو میری سمجھ سے باہر تھیں، پھر وہ سادھو مندر میں چلا گیا، ادھر تانگہ بھی چل پڑا، تب میں نے عرض کی: حضور! یہ کون تھا؟ فرمایا: ابدالِ وقت۔ عرض کی: مندر میں؟ فرمایا: آم کھائیے، پتے نہ گنیے۔
[اعلیٰ حضرت، اعلیٰ سیرت از محمد رضا الحسن قادری بریلوی، ص 134]