مضمون کے اہم نکات
اولیا وصالحین کی قبور پر مساجد
اولیا وصالحین کی قبروں پر تبرک کے حصول کے لئے یا کسی اور مقصد کے لیے مساجد بنانا ممنوع و حرام ہے۔ یہ منکر عمل شرک کا ذریعہ اور وسیلہ ہے، نیز یہ کافر قوموں کے ساتھ مشابہت بھی ہے اور قبروں کی خلافِ شرع حد درجہ تعظیم بھی۔ اس سے بدعات و خرافات کے چور دروازے کھلتے ہیں۔ اس حوالہ سے صحیح احادیث پیشِ خدمت ہیں:
[1] حدیث جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ:
سیدنا جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پانچ دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا:
[إني أبرأ إلى الله أن يكون لي منكم خليل، فإن الله تعالى قد اتخذني خليلا، كما اتخذ إبراهيم خليلا، ولو كنت متخذا من أمتي خليلا، لاتخذت أبا بكر خليلا، ألا وإن من كان قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم وصالحيهم مساجد، ألا فلا تتخذوا القبور مساجد، إني أنهاكم عن ذٰلك]
اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے اس بات سے بری کر دیا گیا ہے کہ آپ میں سے کوئی میرا خلیل ہو۔ میرے رب نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے، جس طرح ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا، تو ابوبکر صدیق کو خلیل بناتا۔ خبردار! بے شک آپ سے پہلے لوگوں نے اپنے انبیائے کرام اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ خبردار! آپ قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں آپ کو اس سے منع کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم: 532)
[2] حدیث عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ:
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
[إن من شرار الناس من تدركه الساعة وهم أحياء، ومن يتخذ القبور مساجد]
بلا شبہ سب سے برے لوگ وہ ہیں، جن کی زندگی میں قیامت قائم ہو گی اور وہ لوگ، جنہوں نے قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
[مسند الإمام أحمد:3844-4143، المُعجم الکبیر للطبرانی: 10413، وسنده حسن]
اسے امام ابن خزیمہ (789) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2325) نے "صحیح” کہا ہے۔ حافظ ہیتمی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو "حسن” کہا ہے۔
[مجمع الزوائد: 2/27]
[3] حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
[لما اشتكى النبي صلى الله عليه وسلم؛ ذكرت بعض نسائه كنيسة رأينها بأرض الحبشة، يقال لها: مارية، وكانت أم سلمة، وأم حبيبة رضي الله عنهما أتتا أرض الحبشة، فذكرتا من حسنها وتصاوير فيها، فرفع رأسه، فقال: أولٰئك إذا مات منهم الرجل الصالح بنوا علىٰ قبره مسجدا، ثم صوروا فيه تلك الصورة، أولٰئك شرار الخلق عند الله]
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے کنیسہ کا تذکرہ کیا، جسے انہوں نے سرزمین حبشہ میں دیکھا تھا۔ اس بت کو ماریہ کہا جاتا تھا۔ سیدہ ام سلمہ اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہما سرزمین حبشہ گئی تھیں۔ انہوں نے اس کی خوبصورتی اور اس میں رکھی ہوئی تصویروں کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور ارشاد فرمایا: یہی وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا، تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے۔ پھر اس مسجد میں ان کی تصویریں بناتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔
[صحیح البخاري: 1341، صحیح مسلم: 528]
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
[قال شيخنا: وهذه العلة التى لأجلها نهى الشارع عن اتخاذ المساجد على القبور هى التى أوقعت كثيراً من الأمم إما فى الشرك الأكبر، أو فيما دونه من الشرك. فإن النفوس قد أشركت بتماثيل القوم الصالحين، وتماثيل يزعمون أنه طلاسم للكواكب ونحو ذلك. فإن الشرك بقبر الرجل الذى يعتقد صلاحه أقرب إلى النفوس من الشرك بخشبة أو حجر. ولهذا نجد أهل الشرك كثيراً يتضرعون عندها، ويخشعون ويخضعون، ويعبدونهم بقلوبهم عبادة لا يفعلونها فى بيوت الله، ولا وقت السحر. منهم من يسجد لها. وأكثرهم يرجون من بركة الصلاة عندها والدعاء ما لا يرجونه فى المساجد. فلأجل هذه المفسدة حسم النبى صلى الله تعالى عليه وآله وسلم مادتها حتى نهى عن الصلاة فى المقبرة مطلقا، وإن لم يقصد المصلى بركة البقعة بصلاته، كما يقصد بصلاته بركة المساجد، كما نهى عن الصلاة وقت طلوع الشمس وغروبها، لأنها أوقات يقصد المشركون الصلاة فيها للشمس. فنهى أمته عن الصلاة حينئذ، وإن لم يقصد المصلى ما قصده المشركون، سدا للذريعة. قال: وأما إذا قصد الرجل الصلاة عند القبور متبركاً بالصلاة فى تلك البقعة، فهذا عين المخادعة لله ولرسوله، والمخالفة لدينه، وابتداع دين لم يأذن به الله تعالى. فإن المسلمين قد أجمعوا على ما علموه بالاضطرار من دين رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله وسلم أن الصلاة عند القبور منهى عنها، وأنه لعن من اتخذها مساجد. فمن أعظم المحدثات وأسباب الشرك الصلاة عندها واتخاذها مساجد، وبناء المساجد عليها. وقد تواترت النصوص عن النبى عليه الصلاة والسلام بالنهى عن ذلك والتغليظ فيه. فقد صرح عامة الطوائف بالنهى عن بناء المساجد عليها، متابعة منهم للسنة الصحيحة الصريحة. وصرح أصحاب أحمد وغيرهم من أصحاب مالك والشافعى بتحريم ذلك. وطائفة أطلقت الكراهة. والذى ينبغى أن يحمل على كراهة التحريم إحسانا للظن بالعلماء، وأن لا يظن بهم أن يجوزوا فعل ما تواتر عن رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله وسلم لعن فاعله والنهى عنه]
ہمارے شیخ (ابن تیمیہ رحمہ اللہ) نے فرمایا: شارع صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وجہ سے قبروں پر مسجدیں بنانے سے روکا ہے، وہ یہ ہے کہ اسی عمل نے کئی امتوں کو شرکِ اکبر اور اصغر میں مبتلا کیا ہے، کیونکہ لوگ صالحین کی مورتیاں اور کچھ ایسی مورتیوں کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہوئے، جنہیں وہ ستاروں کی طلاسم وغیرہ خیال کرتے تھے۔ جب کسی آدمی کے بارے میں نیک ہونے کا عقیدہ ہو جائے، تو ایسے شخص کی قبر کے پاس شرک کا ہونا یقینی طور پر لکڑی اور پتھروں کے پاس ہونے والے شرک سے زیادہ ممکن ہے۔ اسی لیے اکثر مشرکوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قبروں کے پاس خشوع و خضوع، عاجزی و انکساری اور دل سے ایسی عبادت کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ جو اللہ کے گھروں اور بوقت سحر بھی نہیں کر پاتے، حتیٰ کہ بعض لوگ تو ان قبروں کے پاس سجدے تک کر ڈالتے ہیں۔ ان میں سے اکثر وہاں نماز اور دعا کے ذریعے برکت کی امیدیں رکھتے ہیں، حالانکہ مسجدوں سے یہ امیدیں نہیں لگاتے۔ اس خرابی کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کو جڑ سے ختم کر دیا، یہاں تک کہ قبرستان میں مطلق طور پر نماز پڑھنے سے روک دیا، اسی طرح طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت نماز سے بھی منع کر دیا گیا، کیونکہ اس وقت مشرکین سورج کی عبادت کرتے ہیں، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت امت کو نماز سے روک دیا، اگرچہ نمازی کا ارادہ مشرکین والا نہ بھی ہو۔ اگر کسی انسان کا قبر کے پاس نماز پڑھنے کا مقصد تبرک حاصل کرنا ہو، تو یقیناً یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو دھوکہ دینا اور ان کے دین کی مخالفت کرنا ہے، نیز دین میں ایسے نئے کام کو گھڑ لینا ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا۔ مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے یقینی طور پر ثابت ہے کہ قبروں کے پاس نماز پڑھنا ممنوع ہے اور ان پر مسجدیں بنانے والا ملعون ہے۔ قبروں کے پاس نماز پڑھنا اور ان پر مسجدیں بنانا شرک کے بڑے ذرائع اور اسباب میں سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ متواترہ میں بڑی شدت کے ساتھ اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے اکثر مکاتبِ فکر نے قبروں کے پاس مسجدیں بنانے کی حرمت کی تصریح کی ہے۔ امام احمد، امام مالک اور امام شافعی رحمہ اللہ کے اصحاب نے بھی اس کی حرمت کی تصریح کی ہے۔ بعض علماء کرام نے اسے مکروہ گردانا ہے، مگر ان علما کے متعلق حسنِ ظن کا تقاضا یہی ہے کہ اس کراہت کو تحریم پر محمول کیا جائے، کیونکہ ان کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ کسی ایسے عمل کے لیے سندِ جواز پیش کریں گے، جس کے متعلق ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث میں بیان ہوئی ہے اور ایسے کام کرنے والے پر لعنت کی گئی ہے۔
[إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان: 1/ 184-185]
[4] حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[قاتل الله يهود، اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد]
اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو تباہ و برباد کرے، انہوں نے اپنے انبیائے کرام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ (صحیح البخاري: 437، صحیح مسلم: 530)
صحیح مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں:
[لعن الله اليهود والنصارىٰ، اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد]
اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو اپنی رحمت سے دور کرے، جنہوں نے اپنے انبیائے کرام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
[قد نهىٰ عن اتخاذ القبور مساجد في آخر حياته، ثم إنه لعن، وهو في السياق، من فعل ذٰلك من أهل الكتاب، ليحذر أمته أن يفعلوا ذٰلك]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ کے آخری ایام میں قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے منع فرما دیا تھا، جیسا کہ سیاقِ حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اہل کتاب پر لعنت فرمائی، جنہوں نے ایسا کیا تھا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت
کو یہ کام کرنے سے بچائیں۔ (إغاثة اللهفان: 1/186)
علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:
[ثم انظر كيف يصح استثناء أهل الفضل برفع القباب على قبورهم وقد صح عن النبي صلى الله عليه وسلم، كما قدمنا أنه قال: "أولئك قوم إذا مات فيهم العبد الصالح أو الرجل الصالح بنوا على قبره مسجدا”، ثم لعنهم بهذا السبب. فكيف يسوغ من مسلم أن يستثني أهل الفضل بفعل هذا المحرم الشديد على قبورهم، مع أن أهل الكتاب الذين لعنهم الرسول صلى الله عليه وسلم وحذر الناس ما صنعوا لم يعمروا المساجد إلا على قبور صلحائهم. ثم هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم سيد البشر وخير الخليقة وخاتم الرسل، وصفوة الله من خلقه، ينهى أمته أن يجعلوا قبره مسجدا أو وثنا أو عيدا، وهو القدوة لأمته. ولأهل الفضل من القدوة به والتأسي بأفعاله وأقواله الحظ الأوفر. وهم أحق الأمة بذلك وأولاهم به. وكيف يكون فعل بعض الأمة وصلاحه مسوغا لفعل هذا المنكر على قبره؟وأصل الفضل ومرجعه هو رسول الله صلى الله عليه وسلم وأي فضل ينسب إلى فضله أدنى نسبة. أو يكون له بجنبه أقل اعتبار؟ فإن كان هذا محرما منهيا عنه ملعونا فاعله في قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فما ظنك بقبر غيره من أمته؟.وكيف يستقيم أن يكون للفضل مدخل في تحليل المحرمات وفعل المنكرات؟]
علاوہ ازیں! صالحین کی قبروں پر قبے بنانے کا استثنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بسندِ صحیح ہم ذکر کر چکے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں سے کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا، تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس حرکت کے سبب ان پر لعنت بھی فرمائی ہے، لہذا کسی مسلمان کے لیے یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ اس حرمت و ممانعت سے صالحین کی قبروں کو مستثنیٰ قرار دے؟ جبکہ صورتِ حال یہ ہے کہ اہل کتاب، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملعون قرار دیا اور ان کے اس فعل سے لوگوں کو ڈرایا، وہ صالحین کی قبروں ہی پر مسجدیں بناتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو نوعِ انسانی کے سردار، باکمال صورت کے مالک، خاتم الرسل اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں، نے اپنی امت کو اپنے بعد اپنی قبر کو بھی مسجد، پوجا پاٹ اور میلے ٹھیلے کی جگہ بنانے سے منع فرمایا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی امت کے رہنما ہیں، صالحین امت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ہی میں اسوہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے اقوال و افعال کا اتباع مشعلِ راہ ہے۔ (اگر یہ کام جائز ہوتا، تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھ کر اس کے مستحق تھے، چنانچہ امت میں سے کسی کا فعل اور کسی کی نیکی کیسے اس منکر کام کو اس کی قبر پر جائز قرار دے سکتی ہے؟ فضیلت کا منبع و مرجع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات ہے۔ کسی بھی فضیلت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت سے کوئی ادنیٰ سی نسبت بھی نہیں ہوسکتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں اس کا کوئی بھی اعتبار نہیں ہوسکتا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک قبر پر بھی یہ کام ممنوع و حرام ہیں اور ایسا کرنے والا ملعون ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی امتی کی قبر کے بارے میں کیا رائے رکھی جاسکتی ہے؟ اور حرام و منکر کاموں کے جواز میں کسی فضیلت کا کیسے کوئی دخل ہوسکتا ہے؟
[شرح الصدور بتحريم رفع القبور، ص 23-24]
شیخ عبدالرحمن بن حسن رحمہ اللہ (1285ھ) فرماتے ہیں:
[قوله: "والذين يتخذون القبور مساجد” معطوف على خبر إن في محل نصب على نية تكرار العامل، أي وإن من شرار الناس الذين يتخذون القبور مساجد أي بالصلاة عندها وإليها، وبناء المساجد عليها، وتقدم في الأحاديث الصحيحة أن هذا من عمل اليهود والنصارى، وأن النبي صلي الله عليه وسلم لعنهم على ذلك، تحذيرا للأمة أن يفعلوا مع نبيهم وصالحيهم مثل اليهود والنصارى. فما رفع أكثرهم بذلك رأسا، بل اعتقدوا أن هذا الأمر قربة لله تعالى، وهو مما يبعدهم عن الله ويطردهم عن رحمته ومغفرته. والعجب أن أكثر من يدعي العلم ممن هو من هذه الأمة لا ينكرون ذلك، بل ربما استحسنوه ورغّبوا في فعله، فلقد اشتدت غربة الإسلام وعاد المعروف منكرا والمنكر معروفا، والسنة بدعة والبدعة سنة، نشأ على هذا الصغير وهرم عليه الكبير.]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: «وَالَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ» إِنَّ کی خبر پر معطوف ہے، جو کہ تکرارِ عامل کی نیت پر محلّاً منصوب ہے، مطلب اس کا یہ ہے کہ بدترین لوگ وہ ہیں، جو قبر کے پاس نماز پڑھتے اور ان پر مسجدیں بناتے ہیں، جیسا کہ اس بارے میں صحیح احادیث پہلے گزر چکی ہیں کہ یہ یہود و نصاریٰ کا وطیرہ ہے، اسی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود اپنی امت کو اپنی اور دیگر صالحین کی قبروں پر یہود و نصاریٰ جیسا عمل کرنے سے ڈرانا تھا۔ مگر زیادہ امتیوں نے اس بات کی طرف دھیان نہیں دیا، بلکہ انہوں نے اس (قبر پرستی) کو قربتِ خداوندی کا ذریعہ سمجھ لیا، حالانکہ یہ کام تو انہیں اللہ تعالیٰ، رحمتِ الہی اور بخششِ باری تعالیٰ سے دور کرتا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ امت میں اکثر علم کے دعوے دار بھی ان کاموں کا رد نہیں کرتے، بلکہ انہیں اچھا خیال کرتے ہیں اور ایسے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات اس قدر اجنبی ہو گئی ہیں کہ نیکی نے برائی، برائی نے نیکی، سنت نے بدعت اور بدعت نے سنت کا روپ دھار لیا ہے اور انہی حالات پر چھوٹے پروان چڑھ رہے ہیں اور نوجوان بوڑھے ہو رہے ہیں۔ (فتح المجيد شرح كتاب التوحيد: ص 240)
[5] حدیث ابی عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ:
سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات یہ تھی:
إ[علموا أن شرار الناس الذين اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد]
جان لیں! بلا شبہ سب سے برے لوگ وہ ہیں، جنہوں نے اپنے انبیائے کرام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ (مسند الإمام أحمد:1691، وسنده حسن)
[6] حدیث عائشہ اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم:
سیدہ عائشہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں :
[لما نزل برسول الله صلى الله عليه وسلم طفق يطرح خميصة له علىٰ وجهه، فإذا اغتم بها كشفها عن وجهه، فقال وهو كذٰلك: لعنة الله على اليهود والنصارىٰ، اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد، يحذر ما صنعوا]
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرضِ وفات میں مبتلا ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو بار بار رخِ زیبا پر ڈالتے۔ جب گھبراہٹ ہوتی، تو اپنے چہرہ مبارک سے چادر ہٹا دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اضطراب و پریشانی میں فرمایا: یہود و نصاریٰ کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دور کرے، جنہوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما کر اپنی امت کو ایسے کاموں سے منع فرما رہے تھے۔
[صحیح البخاري: 435، صحیح مسلم: 531]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
[قوله:«لأبرز قبره»، أي لكشف قبر النبي صلى الله عليه وسلم ولم يتخذ عليه الحائل، والمراد الدفن خارج بيته، وهٰذا قالته عائشة قبل أن يوسع المسجد النبوي، ولهٰذا لما وسع المسجد جعلت حجرتها مثلثة الشكل محددة، حتىٰ لا يتأتىٰ لأحد أن يصلي إلىٰ جهة القبر مع استقبال القبلة]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کہ (اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو سجدہ گاہ اور میلہ گاہ بنا لیا جائے گا)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مبارک کو ظاہر کر دیا جاتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک قبر کو کھلا چھوڑا جاتا اور اس پر کوئی پردہ حائل نہ ہوتا۔ نیز گھر سے باہر دفن کرنے سے مراد یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات مسجدِ نبوی کی توسیع سے قبل کہی تھی، لہذا جب مسجدِ نبوی کی توسیع کی گئی، تو حجرہ کو مثلث نما بنا کر بند کر دیا گیا، یہاں تک کہ وہاں آنے والا کوئی نمازی بھی قبر کی جانب اور قبلہ رخ ایک ساتھ نہیں ہوسکتا۔ (یعنی جب قبلہ رخ ہوکر نماز پڑھے گا، تو قبر کی جانب منہ نہیں ہوسکتا، اسی طرح اگر کوئی قبر کی جانب منہ کرکے نماز ادا کرے گا، تو قبلہ کی طرف منہ نہیں ہوگا)۔
[فتح الباري:3/200]
علامہ ابو العباس قرطبی رحمہ اللہ (656ھ) فرماتے ہیں:
[لهٰذا بالغ المسلمون في سد الذريعة في قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فأعلوا حيطان تربته، وسدوا المداخل إليها، وجعلوها محدقة بقبره صلى الله عليه وسلم، ثم خافوا أن يتخذ موضع قبره قبلة، إذ كان مستقبل المصلين، فتتصور الصلاة إليه بصورة العبادة، فبنوا جدارين من ركني القبر الشماليين، وحرفوهما حتى التقيا على زاوية مثلث من ناحية الشمال، حتى لا يتمكن أحد من استقبال قبره، ولهٰذا الذي ذكرناه كله، قالت عائشة: ولولا ذٰلك أبرز قبره]
مسلمانوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مبارک کے متعلق سختی سے سدِ ذرائع اختیار کرتے ہوئے دیواروں کو اونچا کر دیا، داخلی راستوں کو بند کر دیا، اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ نیز جب انہیں قبرِ نبوی کے متعلق قبلہ رخ ہونے کا خدشہ ظاہر ہوا، کیونکہ قبر نمازیوں کے سامنے آ رہی تھی اور بوقتِ عبادت، قبر کے لیے نماز کا تصور ہو سکتا تھا، تو انہوں نے قبر کی شمالی سمت دو دیواریں بنا دیں، دونوں دیواروں کو شمالی سمت سے تھوڑا سا موڑ کر مثلث کی شکل دے دی، تاکہ کسی کے لیے قبر کا قبلہ ہونا ممکن نہ رہے۔ اوپر ذکر کردہ اسباب کی بنا پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات کہی تھی: اگر یہ خدشہ نہ ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مبارک کو ظاہر کر دیا جاتا۔
[المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم: 2/ 932]
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہو گیا کہ آپ عنقریب فوت ہو جائیں گے، تو وفات سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افرادِ امت کو قبر پر مسجد بنانے سے ڈرایا، اسی خدشہ کے پیشِ نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرۂ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں دفن کیا گیا، ورنہ بقیع الغرقد میں دفن کیا جاتا۔
فائدہ:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[ما قبض نبي؛ إلا دفن حيث يقبض]
جب بھی کسی نبی کی وفات ہوئی، تو اسے وہیں دفن کیا گیا، جہاں اس کی روح قبض ہوئی۔
(سنن ابن ماجہ: 1628)
روایت ضعیف ہے۔ حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہاشمی ضعیف ہے۔
◈ علامہ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ضعفه أكثر أصحاب الحديث]
اسے اکثر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (السنن الکبریٰ: 10/ 346)
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هو متروك، وضعفه الجمهور]
یہ متروک ہے، اسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
[مجمع الزوائد: 5/60، 7/281]
اسے امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین، امام علی بن مدینی، امام ابو حاتم، امام ابو زرعہ، امام نسائی اور امام ابن حبان رحمہ اللہ وغیرہما نے ضعیف و مجروح قرار دیا ہے۔
❀ سنن ترمذی (1018) کی سند بھی ضعیف ہے، عبد الرحمن بن ابی بکر ملیکی ضعیف ہے۔
❀ مصنف عبدالرزاق (6534) اور مسند احمد (7/1) کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
علامہ عبدالرحمن بن حسن رحمہ اللہ (1285ھ) فرماتے ہیں:
[قوله:«يحذر ما صنعوا»، الظاهر أن هٰذا من كلام عائشة رضي الله عنها، لأنها فهمت من قول النبي صلى الله عليه وسلم ذٰلك تحذير أمته من هٰذا الصنيع الذي كانت تفعله اليهود والنصارىٰ في قبور أنبيائهم، فإنه من الغلو في الأنبياء، ومن أعظم الوسائل إلى الشرك، ومن غربة الإسلام أن هٰذا الذي لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعليه، تحذيرا لأمته أن يفعلوه معه صلى الله عليه وسلم ومع الصالحين من أمته، قد فعله الخلق الكثير من متأخري هٰذه الأمة، واعتقدوه قربة من القربات، وهو من أعظم السيئات والمنكرات، وما شعروا أن ذٰلك محادة لله ورسوله، قال القرطبي في معنى الحديث: وكل ذٰلك لقطع الذريعة المؤدية إلىٰ عبادة من فيها كما كان السبب في عبادة الأصنام، انتهىٰ، إذ لا فرق بين عبادة القبر ومن فيه وعبادة الصنم]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو یہود و نصاریٰ کے فعلِ شنیع سے دور رکھنا چاہتے تھے۔ ظاہری طور پر یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے، کیونکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے یہ فہم لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ان کاموں سے ڈرانا چاہتے تھے، جو کام یہود و نصاریٰ نے اپنے انبیا کی قبروں کے ساتھ کیے، کیونکہ یہ کام انبیا کی شان میں غلو ہے اور شرک کے بڑے اسباب میں سے ہے۔ اسلام کی اجنبیت کا یہ عالم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کام کے کرنے والوں پر لعنت کی اور امت کو منتبہ فرمایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صالحین کی قبروں کے ساتھ یہ کام نہ کریں، بہت سے متاخرین امت نے اسی کام کو اپنایا اور اسے قربِ الٰہی کا ذریعہ بھی سمجھ لیا، حالانکہ یہ بہت بڑا گناہ اور سخت منکر کام ہے۔ ان لوگوں کو اس بات کا شعور تک نہیں کہ یہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت ہے۔ علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے: یہ سب کچھ صاحبِ قبر کی عبادت سے بچانے کے لیے کیا گیا کہ بت پرستی کا سبب بھی یہی تھا، کیونکہ قبر اور صاحبِ قبر کی عبادت اور بتوں کی پوجا میں کوئی فرق نہیں۔
[فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، ص 234]
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
[وبالجملة فمن له معرفة بالشرك وأسبابه وذرائعه، وفهم عن الرسول صلى الله تعالى عليه وآله وسلم مقاصده، جزم جزماً لا يحتمل النقيض أن هذه المبالغة منه باللعن والنهى بصيغتيه: صيغة "لا تفعلوا” وصيغة "إنى أنهاكم” ليس لأجل النجاسة، بل هو لأجل نجاسة الشرك اللاحقة بمن عصاه، وارتكب ما عنه نهاه، واتبع هواه، ولم يخش ربه ومولاه، وقل نصيبه أو عدم فى تحقيق شهادة أن لا إله إلا الله. فإن هذا وأمثاله من النبى صلى الله تعالى عليه وآله وسلم صيانة لحمى التوحيد أن يلحقه الشرك ويغشاه، وتجريد له وغضب لربه أن يعدل به سواه. فأبى المشركون إلا معصية لأمره وارتكاباً لنهيه وغرهم الشيطان. فقال: بل هذا تعظيم لقبور المشايخ والصالحين. وكلما كنتم أشد لها تعظيما، وأشد فيهم غلوا، كنتم بقربهم أسعد، ومن أعدائهم أبعد. ولعمر الله، من هذا الباب بعينه دخل على عبَّاد يغوث ويعوق ونسر، ومنه دخل على عباد الأصنام منذ كانوا إلى يوم القيامة. فجمع المشركون بين الغلو فيهم، والطعن فى طريقتهم وهدى الله أهل التوحيد لسلوك طريقتهم، وإنزالهم التى أنزلهم الله إياها: من العبودية وسلب خصائص الإلهية عنهم. وهذا غاية تعظيمهم وطاعتهم.]
الغرض جو شخص شرک کے اسباب وذرائع کی معرفت رکھتا ہے اور مقاصدِ رسول کو سمجھتا ہے، اسے پختہ یقین ہے کہ اس کام (قبر پرستی) کے متعلق لعنت اور ممانعت میں ’نہ کرو‘، اور ’میں تمہیں منع کرتا ہوں‘ کے الفاظ سے جو مبالغہ کیا گیا ہے، یہ اس لیے نہیں کہ اس میں ظاہری نجاست ہے، بلکہ اس لیے کہ اس میں شرک کی نجاست ہے، جو ہر اس شخص کو لاحق ہو جائے گی، جو اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کردہ کام کا ارتکاب کرے گا، نفس پرستی کا شکار ہوگا، اپنے رب اور مولا سے نہ ڈرے گا اور اس کا کلمہ شہادت پر یقین بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہو جائے گا۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے اقدام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی حفاظت کے لیے فرمائے، تاکہ شرک اس کے ساتھ خلط ملط نہ ہو جائے، توحید پر شرک غالب نہ آ جائے اور توحید نکھر کر سامنے آئے۔ نیز اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے پر غصے کا اظہار ہے، مگر مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک کی نافرمانی اور منع کردہ کاموں کے ارتکاب کی ٹھان لی۔ شیطان نے انہیں دھوکا دیتے ہوئے کہا کہ یہ کام تو مشائخ اور صالحین کی قبروں کی تعظیم ہے، تم ان قبروں کی جتنی زیادہ تعظیم کرو گے اور غلو سے کام لو گے، تمہیں ان قبروں والوں کی اتنی ہی قربت حاصل ہوگی اور ان کے دشمنوں سے تم اتنے ہی دور ہو جاؤ گے۔ اللہ کی قسم ! یغوث، یعوق اور نسر کے پجاریوں کے ہاں شیطان اسی دروازے سے داخل ہوا تھا، شروع دن سے بت پرستوں کے پاس بھی وہ اسی دروازے سے آیا اور قیامت تک ایسا ہی ہوگا۔ مشرکین نے ایک طرف انبیا و صالحین کے متعلق غلو سے کام لیا، تو دوسری طرف ان کی تعلیمات پر طعن و تشنیع کی۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ توحید کو انبیائے کرام کے راستے پر چلنے کی ہدایت دی، جنہوں نے انبیائے کرام سے الوہیت کے خصائص کی نفی کر کے انہیں وہی مقامِ عبدیت دیا، جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں فائز کیا تھا اور یہی ان کی حد درجہ تعظیم و اطاعت ہے۔
(إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان: 189/1)
نیز فرماتے ہیں:
[ومن أعظم كيد الشيطان: أنه ينصب لأهل الشرك قبر معظم يعظمه الناس، ثم يجعله وثنا يعبد من دون الله، ثم يوحى إلى أوليائه: أن من نهى عن عبادته، واتخاذه عيدا، وجعله وثنا فقد تنقصه وهضم حقه. فيسعى الجاهلون المشركون فى قتله وعقوبته ويكفرونه. وذنبه عند أهل الإشراك: أمره بما أمر الله به ورسوله، ونهيه عما نهى الله عنه ورسوله: من جعله وثنا وعيدا، وإيقاد السرج عليه، وبناء المساجد والقباب عليه وتجصيصه، وإشادته وتقبيله، واستلامه، ودعائه، والدعاء به أو السفر إليه أو الاستغاثة به من دون الله، مما قد علم بالاضطرار من دين الإسلام أنه مضاد لما بعث الله به رسوله: من تجريد التوحيد لله وأن لا يعبد إلا الله. فإذا نهى الموحد عن ذلك غضب المشركون، واشمأزت قلوبهم، وقالوا: قد تنقص أهل الرتب العالية. وزعم أنهم لا حرمة لهم ولا قدر. ويسرى ذلك فى نفوس الجهال والطغام، وكثير ممن ينسب إلى العلم والدين حتى عادوا أهل التوحيد، ورموهم بالعظائم، ونفروا الناس عنهم. ووالوا أهل الشرك وعظموهم، وزعموا أنهم هم أولياء الله وأنصار دينه ورسوله، ويأبى الله ذلك. فما كانوا أولياءه، وإن أولياؤه إلا المتبعون له الموافقون له، العارفون بما جاء به، الداعون إليه، لا المتشبعون بما لم يعطوا، لابسو ثياب الزور، الذين يصدون الناس عن سنة نبيهم، ويبغونها عوجاً، وهم يحسبون أنهم يحسنون صنعاً.
فصل: ولا تحسب أيها المنعم عليه باتباع صراط الله المستقيم، صراط أهل نعمته ورحمته وكرامته أن النهى عن اتخاذ القبور أوثانا وأعياداً وأنصابا، والنهى عن اتخاذها مساجد، أو بناء المساجد عليها، وإيقاد السرج عليها، والسفر إليها، والنذر لها، واستلامها، وتقبيلها، وتعفير الجباه في عرصاتها: غض من أصحابها، ولا تنقيص لهم، ولا تنقص كما يحسبه أهل الإشراك والضلال. بل ذلك من إكرامهم وتعظيمهم واحترامهم، ومتابعتهم فيما يحبونه وتجنب ما يكرهونه. فأنت والله وليهم ومحبهم، وناصر طريقهم وسنتهم، وعلى هديهم ومنهاجهم. وهؤلاء المشركون أعصى الناس لهم، وأبعدهم من هديهم ومتابعتهم. كالنصارى مع المسيح، واليهود مع موسى عليهما السلام، والرافضة مع على رضى الله عنه. فأهل الحق أولى بأهل الحق من أهل الباطل، فالمؤمنون والمؤمنات بعضهم أولياء بعض. والمنافقون والمنافقات بعضهم من بعض.
فاعلم أن القلوب إذا اشتغلت بالبدع أعرضت عن السنن، فتجد أكثر هؤلاء العاكفين على القبور معرضين عن طريقة من فيها وهديه وسنته، مشتغلين بقبره عما أمر به ودعا إليه. وتعظيم الأنبياء والصالحين ومحبتهم إنما هى باتباع ما دعو إليه من العلم النافع والعمل الصالح، واقتفاء آثارهم، وسلوك طريقتهم دون عبادة قبورهم والعكوف عليها واتخاذها أعياداً. فإن من اقتفى آثارهم كان متسببا إلى تكثير أجورهم باتباعه لهم، ودعوته الناس إلى اتباعهم، فإذا أعرض عما دعوا إليه، واشتغل بضده حرم نفسه وحرمهم ذلك الأجر. فأى تعظيم لهم واحترام فى هذا؟. وإنما اشتغل كثير من الناس بأنواع من العبادات المبتدعة التى يكرهها الله ورسوله لإعراضهم عن المشروع أو بعضه، وإن قاموا بصورته الظاهرة فقد هجروا حقيقته المقصودة منه، وإلا فمن أقبل على الصلوات الخمس بوجهه وقلبه، عارفاً بما اشتملت عليه من الكلام الطيب والعمل الصالح، مهتما بها كل الاهتمام، أغنته عن الشرك، وكل من قصر فيها أو فى بعضها تجد فيه من الشرك بحسب ذلك. ومن أصغى إلى كلام الله بقلبه، وتدبره وتفهمه أغناه عن السماع الشيطانى الذى يصد عن ذكر الله وعن الصلاة، وينبت النفاق فى القلب. وكذلك من أصغى إليه وإلى حديث الرسول صلى الله تعالى عليه وآله وسلم بكليته، وحدث نفسه باقتباس الهدى والعلم منه، لا من غيره أغناه عن البدع والآراء والتخرصات والشطحات والخيالات، التى هى وساوس النفوس وتخيلاتها. ومن بعد عن ذلك فلا بد له أن يتعوض عنه بما لا ينفعه، كما أن من عمر قلبه بمحبة الله تعالى وذكره، وخشيته، والتوكل عليه، والإنابة إليه: أغناه ذلك عن محبة غيره وخشيته والتوكل عليه، وأغناه أيضاً عن عشق الصور. وإذا خلا من ذلك صار عبد هواه، أى شئ استحسنه ملكه واستعبده. فالمعرض عن التوحيد مشرك، شاء أم أبى، والمعرض عن السنة مبتدع ضال، شاء أم أبى، والمعرض عن محبة الله وذكره عبدُ الصُّورَ، شاء أم أبى، والله المستعان، وعليه التكلان، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلى العظيم.]
شیطان کی ایک بڑی فریب کاری یہ بھی ہے کہ وہ مشرکوں کے لیے کسی بڑے نیک آدمی کی قبر کھڑی کرتا ہے، پھر اسے بت بنا کر ان سے غیر اللہ کی عبادت کراتا ہے، بعد میں اپنے دوستوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالتا ہے کہ جو شخص اس صاحبِ قبر کی عبادت، اسے میلہ گاہ اور بت بنانے سے روکتا ہے، وہ شخص اس (ولی) کی تنقیص اور حق تلفی کرتا ہے۔ جاہل مشرک ایسے شخص کو قتل کرنے، اسے سزا دینے اور اس کی تکفیر کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں، حالانکہ مشرکوں کے نزدیک بھی اس کا جرم صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اس کام کا حکم دیتا ہے، جس کا حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے دیا اور اس بات سے روکتا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے روکا ہے، جیسا کہ قبروں کو بت، میلہ گاہ بنانے، وہاں چراغ جلانے، ان پر مسجد اور قبے بنانے، انہیں پختہ و بلند کرنے، بوسہ و استلام کرنے، ان کی طرف سفر کرنے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان سے فریاد رسی کرنے سے روکا گیا ہے۔ دینِ اسلام میں یقینی طور پر یہ بات معلوم ہے کہ یہ سب کام ان تعلیمات سے متصادم ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر مبعوث فرمایا ہے، یعنی توحید کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر دیا جائے اور اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ جب کوئی موحد ان (قبروں پر ہونے والے بدعی) کاموں سے روکے، تو مشرکین اظہارِ برہمی اور دلوں میں تنگی محسوس کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس نے عالی مقام لوگوں کی تنقیص کی ہے، یہ سمجھتا ہے کہ ان کی کوئی عزت اور قدر و منزلت ہی نہیں ہے۔ یہ بات جاہل، کمینے اور دین و علم کی طرف منسوب ملاؤں کے دلوں میں سرایت کرتی رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ توحید والوں سے دشمنی رکھنے لگتے ہیں، ان پر بڑے بڑے الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہیں، لوگوں کو ان سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مشرکوں سے دوستی اور ان کی تعظیم کرتے ہیں، یوں وہ جاہل اپنے تئیں خیال کرتے ہیں کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے ولی، نیز اس کے دین اور رسول کے مددگار ہیں، مگر اللہ تعالیٰ ان کے ولی ہونے کا انکار کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ولی تو صرف انبیائے کرام کی لائی ہوئی دعوت کی پیروی و موافقت اور اس کی معرفت رکھنے والے ہیں، نہ کہ وہ لوگ جو خود کو ایسا ظاہر کرتے ہیں، جیسے وہ نہیں ہیں، یہ بہروپیے لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے روک کر اور دین کو تروڑ مروڑ کر سمجھتے ہیں کہ بہت نیک کام کر رہے ہیں۔ ارے وہ صاحب، جسے اللہ تعالیٰ نے صراطِ مستقیم کی پیروی جیسی نعمت سے نواز رکھا ہے، جو راستہ انعام یافتہ اور اہل رحمت و کرامت کا ہے، یقیناً قبروں کو معبد خانہ، میلہ گاہ، بت خانہ اور سجدہ گاہ بنانے، نیز ان پر مساجد تعمیر کرنے، چراغ جلانے، ان کے نام کی نذریں ماننے، استلام و بوسے دینے اور ان کے میدانوں میں اپنے ماتھوں کو خاک آلود کرنے، ان سب کاموں سے روکنا ان (نیک لوگوں) کی بے حرمتی نہیں، جیسا کہ مشرک اور گمراہ لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں، بلکہ یہ (قبروں پر ان امور کو روا رکھنا) دراصل ان کی تنقیص ہے۔ ایسے کاموں سے روکنا ہی صحیح معنوں میں ان کی عزت، تعظیم اور احترام ہے، کیونکہ ان کی عزت ان کی محبوب چیزوں کی پیروی اور ناپسندیدہ چیزوں سے اجتناب کرنے میں ہے۔ اللہ کی قسم! حقیقت میں تم (موحد) ہی ان نیک لوگوں کے دوست اور محبت کرنے والے ہو، ان کے طور وطریقے کے حامی اور ان کے منہج پر کاربند ہو، دوسری طرف یہ مشرکین سب ان کے نافرمان اور اور ان کی ہدایات و پیروی سے دور ہیں، جیسا کہ عیسائیوں کا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، یہودیوں کا سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور رافضیوں کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ معاملہ ہے۔ اہل باطل کی بہ نسبت حق والے اہل حق کے زیادہ قریب ہوتے ہیں، مؤمن مرد و عورت ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور منافق مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ پس جان لو! جب دل بدعات میں مشغول ہو جائیں، تو سنت سے اعراض کرتے ہیں۔ اس لیے تم دیکھو گے کہ قبروں کے مجاور اکثر نیک بزرگوں کی تعلیمات سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں، صالحین نے جس بات کا حکم دیا اور جس کی طرف دعوت دی، اسے چھوڑ کر صرف قبروں سے چمٹے ہوئے ہیں، انبیاء کرام اور صالحین عظام کی تعظیم دراصل ان کی دعوت، وراثت میں چھوڑا ہوا علم نافع اور اعمال صالحہ کی پیروی کرنے میں ہے، نیز ان کے نقش قدم اور طور طریقے کے اتباع میں ہے، نہ کہ ان کی قبروں کی عبادت، ان کی مجاوری اور انہیں میلہ گاہ بنانے میں۔ جو شخص ان صالحین کے نقش قدم کی پیروی کرے اور لوگوں کو ان کے اتباع کی دعوت دے، وہ (شخص) ان (صالحین) کے لیے اجر میں اضافے کا باعث بنے گا، مگر جو شخص ان کی دعوت سے اعراض برتے، بلکہ ان کے برعکس کام کرے، تو وہ خود اور انہیں بھی اجر و ثواب سے محروم کرے گا۔ اب بتائیں کہ اس میں تعظیم و احترام کہاں؟ کئی لوگ طرح طرح کی من گھڑت عبادات میں تو مشغول رہتے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ناپسند کرتے ہیں، مگر اکثر یا بعض مشروع عبادات سے منہ موڑتے ہیں، اگرچہ یہ ظاہری طور پر ان کا التزام بھی کرتے ہوں، کیونکہ انہوں نے ان عبادات کی حقیقت مقصودہ کو ترک کر دیا ہے۔ ورنہ اگر کوئی خشوع و خضوع سے پانچ نمازوں کا پابند ہو، نماز کے پاکیزہ کلمات اور اعمال صالحہ سے مکمل آگاہ ہو اور پوری طرح ان کا اہتمام کرے، تو ایسا شخص شرک سے مستغنی ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہر وہ شخص جو پانچ نمازوں میں یا بعض میں کوتاہی کا شکار ہو جائے، تو اس کی صورت حال کے مطابق آپ کو اس میں شرک نظر آئے گا۔ جو شخص کلام اللہ کو تفکر و تدبر سے سنتا ہے، وہ اس شیطانی سماع سے مستغنی ہو جاتا ہے، جو ذکر الٰہی اور نماز سے روکتا ہے اور دل میں نفاق کا بیج کاشت کرتا ہے۔ اسی طرح جو شخص حدیثِ رسول کی طرف مکمل طور پر دھیان دیتا ہے اور اپنے دماغ میں یہ بات ڈال لیتا ہے کہ یہ دونوں (قرآن و حدیث) ہدایت اور علم کا سرچشمہ ہیں، تو ایسا شخص وساوسِ نفسانی اور تخیلات پر مشتمل بدعات، (باطل) آرا، تخمینہ آرائی، شطحیات اور خیالات سے مستغنی ہو جاتا ہے۔ جو شخص ان (قرآن و حدیث) سے دوری اختیار کرتا ہے، ضروری طور پر اسے اس کے عوض غیر مفید چیزیں ملیں گی۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے دل کو اللہ کے ذکر، خشیت، توکل اور رجوع الی اللہ سے معمور رکھتا ہے، تو یہ روش اسے غیر کی محبت و خشیت اور اس پر بھروسہ کرنے سے بے پرواہ کر دیتی ہے، نیز اسے صورتوں کے عشق سے بھی مستغنی کر دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص ان صفات سے خالی ہو تو وہ اپنی خواہش کا بندہ بنے گا، اپنی پسند کا پجاری ہو گا، توحید سے اعراض کرنے والا چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی مشرک ہی ہو گا اور سنت سے منہ موڑنے والا، چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی بدعتی اور گمراہ کہلائے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی محبت اور ذکر الٰہی سے اعراض برتنے والا، چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی صورتوں کا پجاری ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہی مددگار ہے اور اسی پر توکل ہے، ساری طاقت و قوت صرف اللہ عظیم و برتر کی ذات ہی سے ہے۔
(إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان:1/ 212تا214)
علامہ برکوی حنفی رحمہ اللہ (981ھ) فرماتے ہیں:
[أعظم الفتنة بهٰذه الأنصاب فتنة أصحاب القبور، وهي أصل فتنة عباد الأصنام، كما قال السلف من الصحابة والتابعين، فإن الشيطان ينصب لهم قبر رجل معظم يعظمه الناس، ثم يجعله وثنا يعبد من دون الله، ثم يوحى إلى أوليائه أن من نهى عن عبادته واتخاذه عيدا وجعله وثنا؛ فقد تنقصه وهضم حقه، فيسعى الجاهلون في قتله وعقوبته، ويكفرونه، وما ذنبه إلا أنه أمر بما أمر به الله تعالى ورسوله صلى الله عليه وسلم، ونهى عما نهى الله ورسوله صلى الله عليه وسلم]
بت پرستی میں سب سے بڑا فتنہ قبر پرستوں کا ہے اور یہی بت پرستی کی بنیاد بنا، جیسا کہ سلف صالحین میں سے صحابہ کرام اور تابعین عظام نے فرمایا ہے۔ شیطان ایک ایسے آدمی کی قبر ان کے سامنے کرتا ہے، جس کی وہ تعظیم کرتے ہیں، پھر اسے معبد خانہ بنا دیتا ہے، بعد ازاں شیطان اپنے دوستوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالتا ہے کہ جو لوگ ان کی عبادت کرنے، ان کی قبر کو میلہ، عرس گاہ اور معبد خانہ بنانے سے روکتے ہیں، وہ ان کی گستاخی اور حق تلفی کرتے ہیں۔ اس پر جاہل لوگ ایسے (حق گو) لوگوں کو قتل کرنے، انہیں پریشان کرنے اور ان کو کافر قرار دینے کے درپے ہو جاتے ہیں، حالانکہ ان کا جرم صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا حکم دیتے ہیں، جس کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اور وہ اس بات سے منع کرتے ہیں، جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
[زیارة القبور، ص 39]
[7] حدیثِ ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ:
سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
[لا تصلوا إلى القبور، ولا تجلسوا عليها]
قبروں کی طرف منہ کر کے نماز نہ پڑھو، نہ ہی ان کے اوپر بیٹھو۔
[صحیح مسلم: 972]
علامہ برکوی حنفی رحمہ اللہ (981ھ) فرماتے ہیں:
[من جمع بين سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم في القبور، وما أمر به ونهى عنه، وما كان عليه الصحابة والتابعون لهم بإحسان، وبين ما عليه أكثر الناس اليوم؛ رأى أحدهما مضادا للآخر، مناقضا له، بحيث لا يجتمعان أبدا، فإنه عليه السلام نهى عن الصلاة إلى القبور، وهم يخالفونه ويصلون عندها، ونهى عن اتخاذ المساجد عليها، وهم يخالفونه ويبنون عليها المساجد ويسمونها مشاهد، ونهى عن إيقاد السرج عليها، وهم يخالفونه ويوقدون عليها القناديل والشموع، بل يوقفون لذٰلك أوقافا، وأمر بتسويتها وهم يخالفونه ويرفعونها من الأرض كالبيت، ونهى عن تجصيصها والبناء عليها، وهم يخالفونه ويجصصونها، ويعقدون عليها القباب، ونهى عن الكتابة عليها، وهم يخالفونه ويتخذون عليها الألواح، ويكتبون عليها القرآن وغيره، ونهى عن الزيادة عليها غير ترابها، وهم يخالفونه ويزيدون عليها سوى التراب الآجر والأحجار والجص، ونهى عن اتخاذها عيدا، وهم يخالفونه ويتخذونها عيدا، ويجتمعون لها كاجتماعهم للعيد وأكثر، والحاصل أنهم مناقضون لما أمر به الرسول عليه السلام ونهى عنه، ومحادون لما جاء به]
جو شخص زیارتِ قبور سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی سنت، آپ ﷺ کے اوامر و نواہی اور صحابہ و تابعین کے عمل کا موازنہ آج کل کے اکثر لوگوں کے عمل سے کرے گا، وہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے اس قدر مخالف پائے گا کہ یہ دونوں کبھی اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی طرف نماز پڑھنے سے منع کیا ہے، جبکہ یہ لوگ آپ ﷺ کی مخالفت میں ان کے پاس نماز پڑھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے منع کیا، جبکہ یہ لوگ آپ ﷺ کی مخالفت میں قبروں پر مسجدیں بنا کر انہیں مزاروں کا نام دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے قبروں پر چراغ جلانے سے منع کیا ہے، جبکہ یہ لوگ مخالفت میں چراغ اور موم بتیاں جلاتے ہیں اور اس سلسلے میں رقم جمع کرنے کے لیے اوقاف قائم کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ یہ لوگ آپ ﷺ کی مخالفت میں انہیں گھروں کی طرح بلند و بالا بناتے ہیں۔ آپ ﷺ نے قبروں کو پختہ کرنے اور ان پر عمارت بنانے سے منع فرمایا، جبکہ یہ لوگ آپ ﷺ کی مخالفت میں انہیں پکا کرتے اور ان پر قبے بناتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے قبروں پر لکھنے سے منع فرمایا، جبکہ یہ لوگ نبی ﷺ کی مخالفت میں ان پر قرآن وغیرہ کی لکھی ہوئی تختیاں لگاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے قبروں پر اضافی مٹی ڈالنے سے منع فرمایا، جبکہ یہ لوگ آپ ﷺ کی مخالفت میں اضافی مٹی کے ساتھ ساتھ پکی اینٹیں، پتھر اور سیمنٹ بھی لگاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے قبروں کو میلہ گاہ اور مزار بنانے سے روکا، جبکہ یہ لوگ آپ ﷺ کی مخالفت کرتے ہوئے میلہ گاہ بناتے ہیں اور ان پر عید وغیرہ سے بڑھ کر اجتماعات کرتے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یہ ہر اس بات میں آپ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں، جس کا نبی کریم ﷺ نے حکم فرمایا یا جس سے روکا۔ یوں یہ لوگ نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت سے دشمنی کماتے ہیں۔
[زیارة القبور، ص 15]
علامہ ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ (1014ھ) فرماتے ہیں:
[أي مستقبلين (إليها)، لما فيه من التعظيم البالغ، لأنه من مرتبة المعبود، فجمع بين الاستحقاق العظيم والتعظيم البليغ، قاله الطيبي، ولو كان هٰذا التعظيم حقيقة للقبر أو لصاحبه؛ لكفر المعظم]
اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز پڑھتے وقت ان (قبروں) کی طرف رخ نہ کرو، کیونکہ یہ تعظیم میں مبالغہ آرائی ہے اور یہ حق صرف معبود کا ہے۔ ایسا شخص (غیر اللہ کے لیے) عظیم استحقاق اور حد درجہ تعظیم کو ایک ساتھ جمع کر دیتا ہے۔ یہ بات علامہ طیبی رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ اگر یہ تعظیم واقعی قبر اور صاحبِ قبر کے لیے کی جائے، تو ایسا کرنے والا کافر ہو جاتا ہے۔
[مرقاة المفاتيح: 372/2]
[8] حدیثِ ابن عمر رضی اللہ عنہما:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
[اجعلوا في بيوتكم من صلاتكم، ولا تتخذوها قبورا]
اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان کو قبرستان مت بناؤ۔
[صحیح البخاری: 432، صحیح مسلم: 777]
[9] حدیثِ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[لا تجعلوا بيوتكم مقابر]
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ۔
[صحیح مسلم: 780]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
[وجه الدلالة أن قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم أفضل قبر على وجه الأرض، وقد نهى عن اتخاذه عيدا، فقبر غيره أولى بالنهي كائنا من كان، ثم إنه قرن ذٰلك بقوله صلى الله عليه وسلم: «ولا تتخذوا بيوتكم قبورا»، أي لا تعطلوها عن الصلاة فيها والدعاء والقراءة، فتكون بمنزلة القبور، فأمر بتحري العبادة في البيوت، ونهى عن تحريها عند القبور، عكس ما يفعله المشركون من النصارى ومن تشبه بهم]
وجہ دلالت یہ ہے کہ روئے زمین پر سب سے افضل قبر، نبی کریم ﷺ کی مبارک قبر ہے۔ اس کے باوجود نبی کریم ﷺ نے اپنی قبر کو میلہ گاہ بنانے سے منع فرمایا ہے، تو پھر کسی بھی دوسری قبر کے ساتھ یہ معاملہ کرنا بطریقِ اولیٰ ممنوع ہے۔ اس کے ساتھ آپ ﷺ نے ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ گھروں کو نماز، دعا اور تلاوتِ قرآن سے خالی مت کرو، کیونکہ ایسے تو وہ قبرستان کی طرح ہو جائیں گے۔ گھروں میں عبادت کا حکم دیا گیا اور قبروں کے پاس عبادت سے روکا گیا ہے، مگر نصاریٰ اور ان جیسے مشرک اس کے برعکس چلتے ہیں۔ [اقتضاء الصراط المستقيم: 172/2]
علامہ امیر صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ) فرماتے ہیں:
[التحقيق أن قبره صلى الله عليه وسلم لم يعمر عليه المسجد، لأنه موضع مستقل قبل بناء المسجد بدفنه صلى الله عليه وسلم، فلم يصدق عليه أنه جعل قبره مسجدا أو وثنا يعبد، بل قد أجاب الله دعائه، فدفن في بيته وفي منزله الذي يملكه، أو تملكه زوجته عائشة، وكان المسجد أقرب شيء إليه، ثم لما وسع المسجد لم يخرج صلى الله عليه وسلم عن بيته، ولا جعل بيته مسجدا، بل غايته أنه اتصل المسجد به اتصالا أشد مما كان، فالذي يصدق عليه أنه اتخذ مسجدا؛ إنما هو أن يدفن الميت في مسجد مسبل أو في مباح، ثم يعمر عليه مسجد]
تحقیقی بات یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک پر مسجد نہیں بنائی گئی، کیونکہ یہ مقام مسجد تعمیر کیے جانے سے پہلے نبی کریم ﷺ کا مستقل مدفن تھا۔ چنانچہ یہ بات لازم نہیں آتی کہ آپ ﷺ کی قبر کو مسجد اور معبد خانہ بنایا گیا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی دعا کو شرفِ قبولیت بخشا اور آپ ﷺ کو اپنے یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ملکیت والے گھر میں دفنایا گیا۔ مسجد اس کے بہت قریب تھی، جب مسجد کی توسیع ہوئی، تو اس وقت نہ ہی آپ ﷺ اپنے گھر سے خارج ہوئے اور نہ ہی اس گھر کو مسجد بنایا گیا۔ ہاں! البتہ مسجد بالکل متصل ہو گئی۔ قبر کو مسجد بنائے جانے والی بات تو تب لازم آتی ہے، جب کسی میت کو مباح و عام قبرستان میں دفنایا جائے، پھر اس پر مسجد بنائی جائے۔
[العدة على إحكام الأحكام: 261/3]
علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:
قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کے متعلق وارد شدہ احادیث کے بارے میں علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:
[أحاديث النهي المتواترة كما قال ذٰلك الإمام، لا تقصر عن الدلالة على التحريم الذي هو المعنى الحقيقي له، وقد تقرر في الأصول أن النهي يدل على فساد المنهي عنه، فيكون الحق التحريم والبطلان]
اس ممانعت والی احادیث متواتر ہیں، جیسا کہ امام نے فرمایا ہے۔ ان کی دلالت، حرمت سے کم نہیں، جو اس کا حقیقی معنی ہے۔ اصول سے یہ بات واضح ہے کہ کسی چیز سے ممانعت اس کے فاسد ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔ چنانچہ اس کا صحیح مطلب یہ ہوا کہ یہ کام حرام اور باطل ہے۔
(نیل الأوطار: 137/2)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
[أما إذا قصد الرجل الصلاة عند بعض قبور الأنبياء والصالحين، متبركا بالصلاة في تلك البقعة؛ فهٰذا عين المحادة للٰه ورسوله، والمخالفة لدينه، وابتداع دين لم يأذن به الله، فإن المسلمين قد أجمعوا على ما علموه بالإضطرار من دين رسول الله صلى الله عليه وسلم، من أن الصلاة عند القبر، أي قبر كان، لا فضل فيها لذٰلك، ولا للصلاة في تلك البقعة مزية خير أصلا، بل مزية شر]
جب کوئی انسان انبیا اور نیک لوگوں کی قبروں کی طرف نماز کا قصد کرتا ہے، تاکہ اس جگہ سے برکت حاصل کرے، تو اس کا یہ کام اللہ اور اس کے رسول کی عین دشمنی، دینِ اسلام کی عین مخالفت اور ایسے دین کی ایجاد ہے، جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا۔ مسلمانوں کا اتفاق ہے اور یقینی طور پر یہ بات دینِ رسول ﷺ سے واضح طور پر ثابت ہے کہ کسی بھی قبر کے پاس نماز پڑھنے میں کوئی فضیلت نہیں، نہ ہی اس جگہ نماز پڑھنے میں کوئی خاص بھلائی ہے، بلکہ خاص شر کا عنصر
ضرور پایا جاتا ہے۔ (اقتضاء الصراط المستقيم: 193/2)
فائدہ نمبر ①
علامہ آلوسی حنفی رحمہ اللہ (1270ھ) سورۃ الکہف (21) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
[هٰذا واستدل بالآية على جواز البناء على قبور الصلحاء، واتخاذ مسجد عليها، وجواز الصلاة في ذٰلك، وممن ذكر ذٰلك الشهاب الخفاجي في حواشيه على البيضاوي، وهو قول باطل، عاطل، فاسد، كاسد]
اس آیت سے بعض لوگوں نے صالحین کی قبروں پر عمارت اور مسجد بنانے اور اس میں نماز پڑھنے کا جواز پیش کرتے ہیں، جیسا کہ شہاب خفاجی نے بیضاوی کے حاشیے میں ذکر کیا ہے، لیکن یہ بات باطل، بے بنیاد، فاسد اور مردود ہے۔
[روح المعانی: 225/8]
فائدہ نمبر ②
علامہ امیر صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ) فرماتے ہیں:
[قال البيضاوي : لما كانت اليهود والنصارى يسجدون لقبور أنبيائهم، تعظيما لشأنهم، ويجعلونها قبلة يتوجهون في الصلاة نحوها، اتخذوها أوثانا لهم، ومنع المسلمين من ذٰلك، قال: وأما من اتخذ مسجدا في جوار صالح، وقصد التبرك بالقرب منه لا لتعظيم له، ولا لتوجه نحوه، فلا يدخل في ذٰلك الوعيد . قلت: قوله: لا لتعظيم له، يقال: اتخاذ المساجد بقربه، وقصد التبرك به تعظيم له، ثم أحاديث النهي مطلقة، ولا دليل على التعليل بما ذكر]
علامہ بیضاوی کہتے ہیں: یہود و نصاریٰ چونکہ اپنے انبیاء کرام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا کر ان کی تعظیم کیا کرتے تھے اور نماز وغیرہ میں ان کی طرف رُخ کیا کرتے تھے، یوں انہوں نے قبروں کو معبد خانہ بنا رکھا تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو اس کام سے منع فرما دیا۔ اب اگر کوئی شخص کسی نیک آدمی کی قبر کے پڑوس میں مسجد بنا لیتا ہے اور اس کا مقصد نیک آدمی سے تبرک حاصل کرنا ہے، نہ کہ اس کی تعظیم کرنا، نہ ہی وہ اس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتا ہے، تو وہ اس وعید میں داخل نہیں ہے۔ میں (صنعانی رحمہ اللہ) کہتا ہوں: بیضاوی اگر یہ کہتا ہے کہ یہ کام تعظیم کے لیے نہ ہو، تو جائز ہے، تو اسے یہ جواب دیا جائے گا کہ قبر کے قریب مسجد بنانا اور اس سے تبرک حاصل کرنا تعظیم ہی تو ہے۔ نیز قبر پر مسجد بنانے سے ممانعت والی احادیث مطلق ہیں اور بیضاوی کی ذکر کردہ تاویل پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
[سُبُل السلام: 229/1]
فائدہ نمبر ③
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مسجدیں قبروں کے اوپر نہیں، ایک طرف بنائی جاتی ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ جو مسجد قبر کے پاس بنائی جائے، وہ قبر کے اوپر ہی ہے، مثلاً کہا جاتا ہے:
[بنى السلطان على مدينة كذا، أو على قرية كذا سورا]
فلاں بادشاہ نے فلاں شہر یا بستی پر فصیل بنائی ہے۔
حالانکہ فصیل شہر یا بستی کے اوپر نہیں بنائی جاتی، بلکہ اس کے اردگرد واقع ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ]
جب وہ آگ کے پاس بیٹھے تھے۔ (البروج: 6)
◈ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
مَعْنَىٰ ﴿عَلَيْهَا﴾ أَيْ عِنْدَهَا وَعَلَىٰ بِمَعْنَىٰ عِنْدَ .
﴿عَلَيْهَا﴾ کا معنیٰ عِنْدَهَا ہے، لفظ ’عَلَی‘ یہاں ’عِنْدَ‘ کے معنیٰ میں ہے۔
[تفسير القرطبي: 294/19]
عربی زبان میں اس کا استعمال بکثرت ہے۔