قربانی کرنا افضل ہے یا قربانی کی رقم صدقہ کرنا؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

قربانی کی رقم صدقہ کرنا

کفار، یہود و نصاریٰ اور بعض نام نہاد مسلمان دانشور یہ شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں کہ مسلمان جتنا مال عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانیوں کی مد میں خرچ کرتے ہیں، اگر اتنا مال ہسپتالوں کی تعمیر، رفاہِ عامہ کے کاموں اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کیا جائے تو انسانی زندگی میں بہتری آسکتی، غربت کا خاتمہ ہو سکتا اور زندگی کی ضروری سہولتوں سے عام انسان بھی بہرہ ور ہو سکتا ہے۔ یہ زہریلا پراپیگنڈہ اتنے زور و شور سے کیا جاتا ہے کہ عام مسلمان ان کے بہکاوے میں آکر اسلام کی اس عظیم سنت کو ترک کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے، لیکن ذرا غور کیجیے اگر قربانی کی مد میں خرچ ہونے والا مال انسانی فلاح و بہبود کے لیے افضل اور موزوں تر ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سسکتی اور بدحال انسانیت کی خاطر قربانی کے بجائے فلاحِ انسانیت کے لیے رقم خرچ کرنا افضل قرار پاتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ قربانی کرنا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس عظیم سنت کو قائم و دائم رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرنا ہی افضل و اولیٰ ہے۔
① ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
والأضحية أفضل من الصدقة بقيمتها
”عید الاضحیٰ کے دن قربانی کرنا قربانی کی قیمت صدقہ کرنے سے افضل ہے۔“
امام احمد، ربیعہ اور ابوالزناد کا یہی موقف ہے۔
② قربانی کرنا اس لیے افضل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے قربانی کی ہے اور اگر انھیں معلوم ہوتا کہ قربانی کی قیمت صدقہ کرنا افضل ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم قربانی کی سنت چھوڑ کر یہ رقم صدقہ و خیرات کرتے۔
③ نیز قربانی کی رقم صدقہ کرنے کو قربانی پر ترجیح دینا اس لیے درست نہیں کیونکہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم سنت چھوٹتی ہے (جو کسی بھی اعتبار سے بہتر نہیں)۔
المغنی لابن قدامہ مع الشرح الکبیر: 11 / 96
نیز انسانی فلاح اور سسکتی اور مفلوک الحال انسانیت کی بہبود کے لیے اسلام کا بہترین نظام نظامِ زکوٰۃ ہے، جسے عملی جامہ پہنا کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں، لیکن اس نظام کی استواری کفار، یہود و نصاریٰ اور نام نہاد مسلم دانشوروں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ پھر دیکھیے انسانیت کی بھلائی کے لیے کفار کا اپنا کردار کیا ہے اور کیا کفار، یہود و نصاریٰ اپنے تہوار ترک کرنے اور ان پر خرچ ہونے والے مال کو صدقہ و خیرات کرنے اور انسانی بہبود پر صرف کرنے کے لیے تیار اور عمل پیرا ہیں؟ جب وہ منسوخ شریعتوں کے تہوار منانے اور ان پر خرچ ترک کرنے کے لیے آمادہ نہیں تو اسلام کی عظیم سنت (قربانی) ترک کرنا کیسے درست ہے۔ سو کفار کے اس زہریلے پراپیگنڈے کے مقابلے میں اہل اسلام کو پرزور طریقے سے اس سنت پر عمل پیرا رہنا چاہیے اور دین اسلام پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے، اس میں اہل اسلام کی خیر و بقا کا راز مضمر ہے۔