اسلام میں مجسموں کی حرمت، اس کی حکمتیں اور شخصیات کی یادگار کا صحیح طریقہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

اسلام میں مجسموں کی حُرمت :

کسی دینی گھر میں مجسمہ کا وجود اسلام نے حرام ٹھہرایا ہے یعنی وہ مجسم تصویریں جو بے وقعت نہ ہوں۔ اس قسم کے مجسموں کی گھر میں موجودگی ملائکہ کی دوری کا باعث ہے حالانکہ وہ اللہ کی خوشنودی کا مظہر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
إن الملئكة لا تدخل بيتافيه تماثيل
”جس گھر میں مجسمے ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“
بخاری کتاب بدء الخلق باب اذا قال احدكم آمين… ح : 3225 ۔ مسلم کتاب اللباس : باب تحريم تصوير صورة الحيوان ح : 2106/87 – رواہ احمد (3/ 90) والترمذي في کتاب الادب : باب ماجاء ان الملائكة لا تدخل بيتا… ح : 2805 – عن ابي سعيد الخدري على الورد بهذا اللفظ – والله اعلم

تنبیہ :

مذكوره حديث يا جو بهي احاديث اس كتاب ميں بيان هوں گي يه جسم والي يا غير جسم والي تمام تصويروں كو شامل هيں، ليكن مصنف نے انهيں صرف جسم والي تصويروں پر قياس كيا هے. يه ايك عجيب نظريه هے. جبكه ميرے خيال كے مطابق وه جانتا هے كه ان احاديث كے وارد هونے كا سبب غير جسم والي تصويريں هيں. جيسا كه جبريل عليه السلام اس گهر ميں داخل نه هوئے تهے جس پر تصويروں والا پرده لٹكا هوا تها. عنقريب اس كي تخريج (رقم نمبر 12) ميں هوگي. اس پر دوسري احاديث بهي دلالت كرتي هيں، جيسا كه اس كے بعد سيده عائشه رضي الله عنها والي حديث هے.
علماء کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تصویر آویزاں کرنے والا کفار کی مشابہت کرتا ہے۔ کفار اپنے گھروں میں تصویریں لگاتے اور ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ یہ بات چونکہ فرشتوں کو نا پسند ہے اس لیے وہ ایسے گھر کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس میں داخل نہیں ہوتے۔
اسلام نے مجسمہ سازی کو حرام کر دیا ہے خواہ مجسمے غیر مسلمین کے لیے کیوں نہ بنائے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
إن من أشد الناس عذابا يوم القيامة الذين يصورون هذه الصور
”قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اُن لوگوں کو ہوگا جو اس قسم کی تصویریں بناتے ہیں۔“
بخاری کتاب الادب باب ما يجوز من الغضب… ح : 6109 – مسلم کتاب اللباس : باب تحريم تصوير صورة الحيوان ح : 2107
ایک اور روایت میں ہے :
الذين يضاهءون بخلق الله
”جو اللہ کی تخلیق کی مشابہت کرتے ہیں۔“
بخاری کتاب اللباس باب ماوطى من التصاوير ح : 5954 – مسلم ، ح : 2107/92
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگاہ کیا ہے :
من صور صورة كلف يوم القيامة أن ينفخ فيها الروح وليس بنافح فيها أبدا
”جس کسی نے تصویر بنائی اسے قیامت کے دن اُس میں رُوح پھونکنے کے لیے کہا جائے گا اور وہ کبھی اُس میں روح پھونک نہ سکے گا۔“
بخاری کتاب اللباس باب من صور صورة كلف ح : 5963 – مسلم ، ح : 2110

تنبیہ :

حديث بيان كرنے كے سبب يه معلوم هوا كه جن تصويروں كا اس ميں ذكر كيا گيا هے يه جسم ركهنے والي تصويروں كے علاوه هيں. پهلي روايت ميں اس جانب اشاره كيا هے. انهيں جسم ركهنے والي تصويروں پر قياس كرنا درست نهيں. والله المستعان
ان تصاوير كي نوعيت كا بيان جو پرده پر تهيں وه اس روايت ميں آتا هے جو هشام بن عروه نے اپنے باپ سے اور انهوں نے سيده عائشه رضي الله عنها سے بيان كي هے كه رسول الله صلى الله عليه وسلم سفر سے تشريف لائے تو ميں نے اپنے دروازے پر غاليچے كا پرده لٹكا ركها تها جس ميں پروں والے گهوڑے كي تصويريں تهيں. آپ صلى الله عليه وسلم نے مجهے اسے اتارنے كا حكم ديا تو ميں نے اسے پهاڑ ديا.
اسے مسلم (6/ 158) اور نسائی (301/2) اور احمد (6/ 281، 208) نے بیان کیا ہے۔
يه روايت دلالت كرتي هے كه صرف وهى تصويريں حرام قرار نهيں دي گئيں جن كي خصوصي تقديس و تعظيم كي جاتي هے كيونكه پروں والا گهوڑا كوئي مقدس چيز نهيں، مگر آپ نے ديكها نهيں كه نبي صلى الله عليه وسلم نے سيده عائشه رضي الله عنها كو مذكوره گهوڑے كے بنے هوئے كهلونوں سے كهيلنے كي اجازت دي تهي. عنقريب حديث نمبر 128 ميں ذكر هوگا.
ميں كهتا هوں يه حديث غير مجسم تصويروں كو بهي شامل هے، كيونكه يه مطلق هے اور اس كے راوي سيدنا ابن عباس رضى الله عنه نے آپ صلى الله عليه وسلم سے يهي سمجها. اگر يه مجسم تصويروں كے ساته هي خاص هوتي تو آپ صلى الله عليه وسلم سائل پر اتني سختي نه فرماتے بلكه اس كے ليے غير مجسم تصويريں، جو ذي روح چيزوں كي هيں بهي جائز قرار ديتے جيسا كه يه بالكل عياں هے.
اور صحابي كا فهم حجت هوتا هے خصوصا جبكه وه حديث كا راوي بهي هو. اور علم اصول كے قواعد بهي اس كي پر زور تائيد كرتے هيں اور دوسري نصوص بهي اس كي هم نوا هيں. جيسا كه پهلے گزر چكا هے. يهي وجه هے كه امام نووي رحمه الله نے اس مذهب كو غلط قرار ديا هے جس ميں ان تصويروں كي اجازت دي گئي هے جن كا سايه نهيں، يعني غير مجسم هيں. مزيد گفتگو حديث 134 كے تحت بيان كروں گا. (ناصر الدين الباني رحمه الله)
یعنی اس میں حقیقی روح ڈالنے کی ذمہ داری ڈالی جائے گی اور یہ ذمہ داری ڈالنے کا مطلب اس کو بے بس کرنا اور سرزنش کرنا ہے۔

مجسموں كو حرام قرار دينے كي مصلحت :

(الف) مجسموں کو حرام قرار دینے کی مصلحتیں کئی ایک ہیں۔ من جملہ ان میں سے ایک مصلحت توحید کا تحفظ اور بت پرستوں کے طرز عمل کی مشابہت سے اجتناب کرنا ہے کیونکہ بت پرست اپنے ہاتھ سے تصویر اور بت بناتے ہیں، پھر اس کو مقدس قرار دے کر اس کے سامنے خشوع کے انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اسلام توحید کے معاملہ میں بڑا حساس ہے اور اس کا اس معاملہ میں حساس اور محتاط ہونا بالکل بجا ہے کیونکہ جن امتوں نے اپنے پیش روؤں اور نیک لوگوں کی تصویریں یادگار کے طور پر بنائیں وہ ایک مدت گزر جانے پر ان شخصیتوں کو مقدس قرار دے بیٹھے اور انہیں معبود بنا کر ان کی پرستش شروع کر دی، ان سے ڈرنے اور امیدیں وابستہ کرنے لگے اور حصول برکت کے لیے ان کے دربار میں حاضر ہونے لگے، چنانچہ ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر بزرگوں کے پجاری یہی کچھ کرتے رہے۔
بخاری کتاب التفسیر : باب تفسير سورة نوح ح : 4920
اسلام کا اس معاملہ میں حساس ہونا کوئی قابل تعجب اور اچنبھے کی بات نہیں ہے، کیونکہ وہ ایک ایسا دین ہے جو بگاڑ کے جملہ ذرائع کا سد باب کرنا چاہتا ہے اور ان تمام رخنوں کو بند کرنا چاہتا ہے جن سے شرک جلی یا شرک خفی، دل و دماغ میں نفوذ کر جاتا ہے یا جس سے بُت پرستوں اور مذہب میں غلو کرنے والوں کے ساتھ مشابہت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اسلام کا اس معاملہ میں سخت ہونا اس وجہ سے بھی بالکل بجا ہے کہ یہ شریعت کسی ایک دور کے لوگوں کے لیے نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کے لیے ہے خواہ وہ دنیا کے کسی گوشہ میں بستے ہوں۔ اور کسی خاص وقت کے لیے نہیں، بلکہ قیامت تک کے لیے ہے۔
(ب) تصویر کی حرمت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مجسمہ ساز یا مصور اس زعم باطل میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ گویا وہ عدم سے اس مجسمہ یا تصویر کو وجود میں لایا ہے یا مٹی سے ایک جاندار مخلوق بنائی ہے۔ اس کی تصدیق واقعات سے ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک واقعہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے طویل عرصہ تک مسلسل محنت کے بعد ایک مجسمہ تراشا۔ جب مجسمہ پوری طرح تیار ہو گیا تو اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اس کے خدو خال اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر ناز کرنے اور اترانے لگا یہاں تک کہ فخر و غرور کے نشہ میں اس کو مخاطب کر کے بول اُٹھا : بات کر! بات کر!
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
إن الذين يصنعون هذه الصور يعذبون يوم القيامة يقال لهم أحيوا ما خلقتم
”جو لوگ اس قسم کی تصویریں بناتے ہیں ان کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو کچھ تخلیق کیا ہے ان میں جان ڈالو۔“
بخاری کتاب اللباس : باب عذاب المصورين يوم القيامة ح : 5951 – مسلم کتاب اللباس باب تحريم تصوير صورة الحيوان ح : 2108
حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
ومن أظلم ممن ذهب يخلق كخلقي فليخلقوا ذرة فليخلقوا شعيرة
”اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو میری تخلیق کی طرح تخلیق کرنے لگے! یہ لوگ ایک ذرہ یا جو کا ایک دانہ ہی پیدا کر دکھائیں۔“
بخاری کتاب اللباس باب نقض الصور ح : 5953 – مسلم ح : 2111
(ج) جو لوگ اس فن کو اختیار کر کے اپنے مقصد کی طرف چل پڑتے ہیں پھر وہ کسی حد پر رُکتے نہیں۔ وہ عورتوں کی عریاں اور نیم عریاں تصویریں بنانے لگتے ہیں۔ اور بت پرستی کے مظاہر نیز دیگر مذاہب کے شعائر مثلاً صلیب، بت وغیرہ بنانے سے بھی نہیں چوکتے۔ حالانکہ اس قسم کی تصویریں بنانا ایک مسلمان کے لیے کسی طرح روا نہیں۔
(د) مزید برآں یہ بھی حقیقت ہے کہ مجسمہ عیش پرستی کے مظاہر میں سے ہے۔ اربابِ عیش وعشرت کا ہمیشہ یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنے محلات کو مجسموں سے آباد کرتے ہیں اور کمروں کو تصویروں سے مزین کرتے ہیں، نیز مختلف دھاتوں کے مجسمے بنوا کر فنکاری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے جس دین نے عیش پرستی کے جملہ مظاہر و اقسام کے خلاف جنگ کی ہے اس کا مسلمانوں کے گھروں میں مجسموں کے وجود کو برداشت نہ کرنا اور ان کو حرام قرار دینا بعید از قیاس نہیں ہے۔

اسلام میں شخصیتوں کی یادگار کا طریقہ :

ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ جن بڑی شخصیتوں نے تاریخ کے شاندار اوراق پر اپنے کارنامے ثبت کیے ہیں ان کے احسانات کا بدلہ اُمت ان کے مادی مجسمے کھڑے کر کے ادا نہ کرے کہ یہ ان کے فضل و شرافت کی یاد آنے والی نسلوں کو دلاتے رہیں؟ قوموں کے ذہن سے اکثر یادیں محو ہوتی رہتی ہیں اور لیل و نہار کا چکر انہیں بھلاوے میں ڈال دیتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام شخصیتوں کی تعظیم کے معاملہ میں غلو کو نا پسند کرتا ہے خواہ ان کا مرتبہ کتنا ہی بلند ہو اور خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
لا تطروني كما أطرت النصارى عيسى بن مريم فإنما أنا عبده قولوا عبد الله ورسوله
”میری تعریف میں غلو نہ کرو جس طرح نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم کی غلو آمیز تعریف کی، میں تو محض اس کا بندہ ہوں۔ لہذا تم کہو : اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔“
بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قول الله تعالى (واذكر في الكتاب مريم ….) ح : 3445 ، 6830
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے احتراماً کھڑے ہونا چاہتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کر دیا اور فرمایا :
لا تقوموا كما تقوم الأعاجم يعظم بعضها بعضا
”عجمیوں کی طرح کھڑے نہ ہو جایا کرو، وہ ایک دوسرے کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔“
ابوداود کتاب الادب باب الرجل يقوم للرجل يعظمه بذلك ح : 5230 – (واسناده ضعیف)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو متنبہ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غلو نہ کریں۔ فرمایا :
لا تجعلوا قبري عيدا
”میری قبر کو جشن گاہ نہ بنانا۔“
ابوداود کتاب المناسک باب زيارة القبور ح : 2042
اور خود اپنے رب سے اس طرح دعا فرمائی :
اللهم لا تجعل قبرى وثنا يعبد
”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنا کہ اس کی پرستش کی جانے لگے۔“
موطا امام مالک (1/ 172) کتاب قصر الصلوة في السفر باب جامع الصلوة ح : 85 مرسلاً – رواه احمد (2/ 246) وغيره من حديث أبي هريرة رضي الله عنه
کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس طرح مخاطب ہوئے : ”اے اللہ کے رسول! اے ہماری بہترین شخصیت! اے ہماری بہترین شخصیت کے صاحبزادے! اے ہمارے سردار اور اے ہمارے سردار کے صاحبزادے!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا :
يا أيها الناس قولوا بقولكم أو بعض قولكم، ولا يستهوينكم الشيطان، أنا محمد عبد الله ورسوله، ما أحب أن ترفعوني فوق منزلتي التى أنزلني الله عز وجل
”لوگو! جس طرح تم مجھے خطاب کرتے رہے ہو اسی طرح کرو۔ شیطان تمہیں فریب میں مبتلا نہ کرے۔ میں محمد اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول ہوں۔ میں نہیں پسند کرتا کہ جو مقام مجھے اللہ نے عطا فرمایا ہے اس سے بلند مقام تم میرے لیے تجویز کرو۔“
مسند احمد (3/ 153) – نسائي في الكبرى (6/ 71) ح : 10078 ، 10077 – وفي عمل اليوم والليلة (ح : 249، 248) – مسند عبد بن حمید (1309 ، 1337)
انسان کی تعظیم کے سلسلہ میں اسلام کا موقف یہ نہیں ہے کہ شخصیتوں کے مجسمے بت کی طرح نصب کیے جائیں اور ان پر ہزار روپیہ خرچ کیا جائے تاکہ لوگ ان کی طرف تعظیم اور احترام کے ساتھ اشارہ کریں۔ عظمت کے جھوٹے دعویدار اور باطل تاریخ سازی کرنے والے اس ہتھکنڈے سے کام لے کر قوموں کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں اپنے حقیقی زعماء سے آشنا ہونے نہیں دیتے۔
حقیقی دوام جس کے مؤمن منتظر ہوتے ہیں وہ اللہ کے پاس ہے جو تمام پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جس سے بھول چوک سرزد نہیں ہوتی۔ اور کتنی عظیم شخصیتوں کے نام اس کے نزدیک دوام کے رجسٹر میں لکھے گئے لیکن مخلوق کے نزدیک وہ غیر معروف رہے۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو نیک، متقی اور گمنام ہوں۔ جب وہ کسی مجلس میں موجود ہوں تو انہیں پہچانا نہ جا سکے اور جب غائب ہوں تو اُن کو کوئی تلاش کرنے والا نہ ہو۔ اگر لوگوں کے پاس دوام مطلوب ہی ہے تو یہ مجسمے کھڑے کر دینے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔
اس کا واحد طریقہ جو اسلام کے نزدیک پسندیدہ بھی ہے، یہ ہے کہ ان شخصیتوں کی یاد دل و دماغ میں راسخ ہو اور زبانوں پر جاری ہو جائے۔ انہوں نے جو نیک کام کیے اور جو نیک آثار چھوڑے ان کے پیش نظر آنے والی نسلوں میں ان کے لیے سچائی کی زبانیں بلند ہوتی رہیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین، قائدینِ اسلام اور ائمہ عظام کی یادگاریں مادی تصاویر کے ذریعہ قائم نہیں کی گئیں اور نہ اُن کے لیے پتھر کے مجسمے تراشے گئے، بلکہ خلف اپنے سلف اور اولاد اپنے آباء سے اُن کے کارنامے اور مناقب سینہ بہ سینہ منتقل کرتی رہی، زبانوں پر اُن کا ذکرِ خیر ہوتا رہا، محفلیں ان کے تذکروں سے مہک اٹھیں اور دل و دماغ ان کے کارناموں سے مسحور ہو گئے۔ کتنی عظیم یادگاریں تصویر اور مجسمہ کے بغیر ہی قائم ہو گئیں!
ايسے جانبازوں اور سر بكف تاريخ كے روشن چهرے پر كارنامے ثبت كرنے والے اور اخلاص كا بيچ بونے والے، ان كي يادگار ان كي چهوڑي هوئيں كتابيں، ان كي سوانح پر لكهي گئي كتابيں بهي بهترين يادگار هوتي هيں، ان كے قائم كرده علمي مراكز بهي ان كي يادگار كے منه بولتے هيں، جس كي مثاليں احاطه تحرير و بيان سے باهر هيں.