دانت ٹوٹے یا دم کٹے جانور کی قربانی کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

دانت کا ٹوٹنا یا زخمی ہونا

جانور کا دانت ٹوٹا یا دانت زخمی ہونا ایسا عیب نہیں جو قربانی سے مانع ہو، بلکہ ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔
عبید بن فیروز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا:
فإني أكره أن يكون فى السن نقص، قال: ما كرهت فدعه، ولا تحرمه على أحد
”میں قربانی کے دانت میں نقص کو مکروہ سمجھتا ہوں، اس پر سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جو جانور تمہیں ناپسند ہیں انہیں رہنے دو (یعنی تم ان کی قربانی نہ کرو) لیکن کسی اور کے لیے انہیں حرام قرار نہ دو۔“
صحیح: سنن أبي داود: 2802
لہذا جانوروں میں ایسے عیوب جن سے شریعت منع نہیں کرتی قربانی سے مانع نہیں ہیں اور قربانی سے فقط وہی عیوب مانع ہیں جو شریعتِ مطہرہ سے ثابت ہیں، چنانچہ عیوبِ قربانی میں خود ساختہ تاویلات و تشریحات اور عقلی موشگافیوں سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ ذاتی پسند و ناپسند سے کوئی شرعی حکم ثابت نہیں ہوتا.

قربانی کے جانور کا دم کٹا ہونا

قربانی کے جانور کی دم کا کٹا یا زخمی ہونا شرعی عیب نہیں ہے اور ایسے جانور کی قربانی ناجائز نہیں، نیز جس روایت میں دم کٹے جانور کی قربانی سے منع کیا گیا ہے، وہ روایت ضعیف ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نستشرف العين والأذن ولا نضحي بمقابلة ولا مدابرة ولا بتراء ولا خرقاء
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھیں اور ہم ایسے جانور جس کا کان آگے سے کٹ کر لٹکا ہو، پیچھے سے کان کٹ کر لٹکا ہو، دم کٹے اور ایسا جانور جس کے کان میں گول سوراخ ہو کی قربانی نہ کریں۔“
ضعیف: سنن نسائی، كتاب الضحايا، المقابلة وهى ما قطع طرف أذنها: 4377
”زکریا بن ابی زائدہ کی تدلیس ہے اور زکریا بن ابی زائدہ کا ابو اسحاق سبیعی سے سماع اختلاط کے بعد ثابت ہے ان دو علتوں کی وجہ سے یہ روایت ضعیف نیز ثقات کی مخالفت کی وجہ سے یہ روایت منکر ہے، کیونکہ باقی راوی بتراء (دم کٹے جانور کی قربانی کے عدم جواز ) کے بجائے شرقاء (ایسے جانور جس کے کان طول یا عرض میں کٹے ہوں ) کا لفظ ہے۔ “
نیز ایک دوسری روایت جس سے قربانی کے جانور کا دم کٹا ہونا معیوب ثابت ہوتا ہے وہ بھی ضعیف ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
اشتريت أضحية فجاء الذئب فأكل من ذنبها، أو أكل ذنبها فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ضح بها
”میں نے قربانی کا جانور (دنبہ) خریدا اور بھیڑیا آکر اس کی دم (چکی) کھا گیا، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کی قربانی کے بارے میں) سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی جانور ذبح کر لو۔“
ضعیف جدا: مسند أحمد: 78/3-11760۔ جابر بن یزید بن حارث جہنی متروک (انتہائی ضعیف ) راوی ہے اور محمد بن قرظہ بن کعب انصاری مجہول راوی ہے نیز اس کا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سماع بھی ثابت نہیں ۔