فرض نماز کے بعد مروجہ اجتماعی دعا کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔

فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا:

اور رہا مسئلہ پانچ وقتی فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کا تو یہ ثابت نہیں۔ یاد رہے کہ محترم محمد صادق صاحب سیالکوٹی کی نماز کے موضوع پر ایک کتاب ہے جس کا نام [صلوٰۃ الرسول] ہے، اس کتاب میں موضوع اور انتہائی ضعیف روایات بھی درج ہیں۔ پھر ایک کتاب [القول المقبول] مؤلفہ عبدالرؤف چپی، یہ کتاب [صلوٰۃ الرسول] پر تحقیق ہے اور اس کا تیسرا ایڈیشن 810 صفحات پر مشتمل ہے۔ پھر ان دونوں کتابوں کو سامنے رکھ کر ادارہ دارالسلام لاہور نے کتاب [نمازِ نبوی ﷺ] لکھی ہے جو 304 صفحات پر مشتمل ہے، یہاں ہم پانچ وقتی فرض نماز کے بعد دعا کے بارے میں [نمازِ نبوی ﷺ] میں سے حوالہ جات درج کرتے ہیں:

فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کے ثبوت میں کوئی مقبول حدیث نہیں ہے۔ نہایت تعجب کی بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ میں دس سال رہے۔ پانچوں وقت نمازیں پڑھائیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد نے آپ کی اقتدا میں نمازیں پڑھیں مگر ان میں سے کوئی ایک بھی اجتماعی دعا کا ذکر نہ کرے تو یہ اس کے بطلان کی واضح دلیل ہے۔ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری کہتے ہیں اگر کوئی انفرادی طور پر نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ لیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ امام ابن قیم، امام ابن حجر رحمہما اللہ اور بہت سے محققین علماء نے فرض نماز کے بعد مروجہ اجتماعی دعا کا انکار کیا ہے اور اسے بدعت کہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو پانی کے استعمال میں اور دعا کرنے میں حد سے تجاوز کریں گے۔

[أبو داود، أبواب الوتر، باب الدعاء: 1480۔ امام حاکم اور امام ذہبی نے اسے صحیح کہا ہے]

اجتماعی دعا کی دلیل میں بیان کی جانے والی تمام روایات ضعیف ہیں، تفصیل حسبِ ذیل ہے:

[1] سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو بندہ ہر نماز کے بعد اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر دعا کرے، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں کو نامراد نہیں لوٹاتا۔ (ابن السنی:138) اس کی سند میں ایک تو اسحاق بن خالد ہے جو منکر احادیث روایت کرتا ہے، دوسری بات یہ کہ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہ (اس کے ایک اور راوی) عبدالعزیز بن عبدالرحمن کی خصیف سے بیان کردہ روایات جھوٹی اور من گھڑت ہوتی ہیں۔ تیسری بات یہ کہ خصیف کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں اور آخری بات یہ کہ اس روایت میں اجتماعی دعا کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

[2] سیدنا یزید بن اسود عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ رسول اللہ ﷺ نے نمازِ فجر کا سلام پھیرا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی۔ (فتاویٰ نذیریہ)۔ اس حدیث کی سند حسن ہے مگر مولانا عبیداللہ رحمانی مرحوم لکھتے ہیں: کتبِ احادیث کے اندر اصل حدیث میں ((ورفع يديه فدعا)) (دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی) کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں بھی اجتماعی دعا کا ذکر نہیں ہے۔

[3] سیدنا عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما دعا کرتے تھے اور (آخر میں) اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے منہ پر پھیرتے تھے۔

[الأدب المفرد للبخاری، باب رفع الأيدى في الدعاء: 612]

اس کی سند بخاری کی شرط پر ہے، تاہم اس میں بھی جماعت کے بعد اجتماعی دعا کا ذکر نہیں۔ اس سلسلہ میں پیش کی جانے والی تقریباً تمام روایات نہ صرف سخت ضعیف ہیں بلکہ ان میں اجتماعی دعا کا ذکر تک نہیں ہے اور بعض احادیث کا موقع محل تو کچھ اور ہے مگر انھیں زبردستی زیرِ بحث اجتماعی دعا کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے [صلوٰۃ الرسول ﷺ] (مؤلفہ حکیم صادق سیالکوٹی) کا وہ نسخہ ملاحظہ فرمائیں جو شیخ عبدالرؤف بن عبدالحنان کی تخریج و تعلیق سے آراستہ ہے۔ (ع،ر)

کیا فرض نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا بدعت ہے؟:

اس سلسلہ میں درج ذیل امور قابلِ غور ہیں:

[1] ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا ایک مستقل عبادت ہے جو غیر مؤقت ہے یعنی کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے۔ البتہ جن مواقع پر اس کا اہتمام کرنا سنت سے ثابت ہے ان کو ترجیح دی جائے گی۔

[2] جو عبادت ہر وقت جائز ہو اگر آپ اپنی سہولت کے لیے اسے کسی خاص وقت میں روزانہ کرنا چاہتے ہیں تو اصولی طور پر یہ بھی جائز ہے۔ ارشادِ نبوی ہے: اللہ تعالیٰ کو وہ عمل زیادہ محبوب ہے جس پر ہمیشگی کی جائے، اگرچہ تھوڑا ہو۔

[مسلم، صلوٰة المسافرين، باب فضيلة العمل الدائم…… الخ:782]

لیکن کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ تمام جائز اوقات کو چھوڑ کر صرف ایک وقت کو عملاً فرض کا درجہ دے کر دوسرے مسلمانوں کو اس کا پابند بنائے کیونکہ جب شریعت نے اس وقت کو مسلمانوں پر مقرر نہیں کیا تو یہ کیوں کرے۔ مثلاً اگر مختلف افراد روزانہ مختلف اوقات میں قرآن پاک کی مختلف سورتیں پڑھتے ہیں تو یہ جائز عمل ہو گا لیکن اگر کوئی مولوی صاحب یہ دعوت دینی شروع کر دے کہ تمام اہلِ اسلام روزانہ نمازِ فجر کے بعد بیس مرتبہ سورۃ القمر پڑھا کریں اس کا یہ ثواب ہے پھر اس کے حلقہ اثر میں آنے والے تمام مسلمان واقعتاً سختی کے ساتھ اس کی پابندی کریں تو ان کا یہ عمل محتاجِ دلیل بن جائے گا، اگر شرعی دلیل میں اس کی صراحت آ جائے تو سنت ہو گا ورنہ بدعت۔

[3] جو عبادت ہر وقت جائز ہو اگر آپ اسے کسی خاص موقع پر کرنا چاہتے ہیں تو احتیاطاً یہ معلوم کر لیں کہ کہیں اس موقع کے لیے شریعت نے کوئی فرض تو مقرر نہیں کیا۔ کیونکہ اگر اس موقع کے لیے شریعت نے کوئی فرض عائد کیا ہے تو پھر فرض ترک کر کے جائز کام میں لگے رہنا قطعاً جائز نہیں ہے۔ مثلاً نماز باجماعت کھڑی ہو اور جس نے یہی نماز جماعت کے ساتھ پہلے نہیں پڑھی اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ جماعت میں شامل ہونے کی بجائے سنتیں یا نوافل پڑھتا رہے، کوئی ورد، وظیفہ، دعا یا تلاوت کرتا رہے، کیونکہ ان جائزنیکیوں کو مؤخر کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن موقع کے فرض کو بلاوجہ مؤخر کرنے کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔

[4] اگر اس خاص موقع کے لیے شریعت نے کوئی سنت مقرر کر رکھی ہے تو بھی جائز کام کو چھوڑ کر سنت کو ترجیح دی جائے گی، اگرچہ سنت فرض نہیں، اسے کیا جائے تو بہت زیادہ ثواب ہے اور اگر کسی وجہ سے کبھی چھوٹ جائے تو کوئی گناہ نہیں مگر ایک موقع کی سنت کو جب ہمیشہ ترک کیا جائے گا تو گناہ لازم آئے گا۔ کیونکہ سنت چھوڑنے کے لیے نہیں بلکہ اپنانے کے لیے ہوتی ہے، اسے اپنانا ہی حبِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے، جب کہ اسے چھوڑے رکھنا اس سے بے رغبتی کی دلیل ہے اور ارشادِ پاک ہے:جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں۔

[بخاری، النکاح، باب الترغیب فی النکاح : 5063]

اس کی مثال فرض نماز کے بعد ،،لا الہ الا اللہ،، کا اجتماعی ورد ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ،،لا الہ الا اللہ،، افضل الذکر (سب سے افضل ذکر) ہے لیکن اسے کسی بھی وقت کرنا جائز ہے اور چونکہ فرض نماز کے بعد والا وقت بھی اوقات میں سے ایک وقت ہے لہٰذا اگر کوئی شخص کسی فرض نماز کے بعد اپنے طور پر ،،لا الہ الا اللہ،، کہہ دیتا ہے تو بالکل جائز ہے۔ لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فرض نماز کے فوراً بعد نبی اکرم ﷺ کا معمول اور سنت کچھ اور ہے تو پھر ہر فرض نماز کے بعد ہمیشہ ،،لا الہ الا اللہ،، کا ورد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس موقع کی سنت کو ختم کر دیا جائے۔ ،،لا الہ الا اللہ،، کا ورد مؤخر ہو سکتا ہے لیکن نماز کے بعد والے مسنون اذکار اور دعاؤں کو ہمیشہ مؤخر کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے، ویسے بھی کورس کی شکل میں بلند آواز سے ،،لا الہ الا اللہ،، کے اجتماعی ورد کی پورے عہدِ نبوت میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

[5] اگر کسی موقع کی سنت کے ساتھ ایک اور سنت آ ملے تو دونوں سنتوں کو بجا لانا درست ہو گا، مثلاً کسی فرض نماز کی جماعت ہوئی، امام صاحب اور مقتدی حضرات مسنون اذکار اور دعاؤں میں مصروف ہو گئے، اچانک کسی نے کہا بیماروں کے لیے دعا کریں یا فلاں شخص بیمار ہے اس کے لیے دعا کر دیں وغیرہ تو کسی کے مطالبے پر دعا بھی سنت ہے، لہٰذا دعا کرنا جائز ہو گا۔

[6] یاد رکھیے! ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا نہ تو فرض نماز کا حصہ ہے اور نہ بعد والے مسنون اذکار کا حصہ ہے، اس لیے اس کا دائمی اہتمام کرنا درست نہیں ہے کیونکہ:

[7] فرض نماز ایک الگ عبادت ہے اور ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا ایک الگ الگ عبادت ہے۔ اور جب کسی شرعی دلیل کے بغیر:

(الف) دو الگ الگ عبادتوں کو ایک مخصوص ترتیب کے ساتھ ہمیشہ ایک ساتھ ادا کیا جائے کہ

(ب) دونوں ایک دوسرے کا حصہ معلوم ہوں حتیٰ کہ ایک کے بغیر دوسری کو نامکمل سمجھا جانے لگے نیز

(ج) ایک شرعی مسئلے کی طرح لوگوں کو اس کی دعوت، ترغیب اور تعلیم دی جائے۔

(د) اور جو شخص ان عبادات کو آپﷺ کے طریقے کے مطابق ادا نہ کرے اسے منکر اور گستاخ کے القابات سے نوازا جائے تو آپ راہِ سنت سے بھٹک جائیں گے کیونکہ جب مختلف عبادات کو اپنی مرضی سے یکجا کر کے ایک نیا طریقہ رائج کیا جائے گا تو وہ سنت نہیں رہتا، بدعت بن جاتا ہے۔

[8] بات اصول کی ہے جو کام نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں ضروری بھی ہو اور اسے کرنے کے لیے کوئی رکاوٹ بھی موجود نہ ہو پھر بھی پورے عہدِ نبوت میں اسے کوئی نہ کرے مگر ہم نہ صرف خود اسے ہمیشہ کریں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں تو وہ بلا شبہ بدعت ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عہدِ نبوت میں فرض نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کا اہتمام کرنے میں کوئی رکاوٹ تھی، یقیناً نہیں تھی پھر بھی اگر کسی فرض نماز کے بعد اس کا کبھی اہتمام نہیں کیا گیا تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کا اہتمام نہ کرنا سنت ہے کیونکہ ناممکن ہے کہ ایک چیز دین بھی ہو اور عہدِ نبوت میں کر سکنے کے باوجود اسے کوئی نہ کرے، یا اسے کیا گیا ہو مگر مقبول احادیث کے وسیع ذخیرے میں وہ کسی کو کہیں نظر نہ آئے۔

[9] انسان فطرتاً سہولت پسند ہے، اسے مسنون دعائیں یاد کرنا گراں گزرتا ہے اور چونکہ اس کی مصروفیات بھی بہت زیادہ ہیں، لہٰذا وہ فرض نمازوں کے بعد یکسوئی کے ساتھ پانچ چھ منٹ نہیں نکال سکتا، لہٰذا اس سنت سے پہلو بچانے کے لیے اس کا متبادل ایجاد کر لیا گیا (یعنی) مولوی صاحب نے سلام پھیرتے ہی ہاتھ اٹھائے، چند مسنون و غیر مسنون الفاظ پر مشتمل چھوٹے چھوٹے جملے بولے اور منہ پر ہاتھ پھیر کر تمام نمازیوں کو فارغ کر دیا۔ جس کے بعد وہ سب (مسنون اذکار پڑھے بغیر) اٹھ کھڑے ہوں۔ در حقیقت یہ دعا نہیں رسم ہے جو انتہائی نیک نیتی سے ہر فرض نماز کے بعد ادا کی جاتی ہے اور اس طرح غیر شعوری طور پر ایک سنت کو مٹانے کا گناہ کیا جا رہا ہے۔ افسوس کہ لوگوں کو بدعتوں پر عمل کرنے کے لیے تو بڑا وقت مل جاتا ہے مگر سنت کو اپنانے کے لیے وقت نہیں ملتا، جو شخص بدعت کی تردید کرے اسے سرے سے دعا ہی کا منکر بنا دیا جاتا ہے جب کہ سنت کا تارک اہل السنۃ والجماعۃ!

[10] فرض نمازوں کے بعد مسنون اذکار اور دعاؤں کو چھوڑ کر ان کے متبادل کے طور پر ،،لا الہ الا اللہ،، کے اجتماعی ورد اور ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا مانگنے کو اس لیے رواج دیا گیا ہے کہ یہ ہمارے مسلک کی علامت اور پہچان بن جائیں۔ کیا کسی مسلک کے تحفظ کے لیے شرعی مسائل و احکام کے ساتھ اس طرح کھیلنا جائز ہے؟ اسلام کا حکم کیا ہے؟ فرقہ واریت کو مٹایا جائے یا اسے فروغ دیا جائے؟

خلاصہ یہ ہے: کہ فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا فی نفسہ جائز ہے لیکن اس جائز کا ٹکراؤ ایک سنت سے ہو رہا ہے، لہٰذا اسے معمول نہیں بنانا چاہیے کیونکہ سنتِ رسول مقبول ﷺ ہی اس بات کا زیادہ حق رکھتی ہے کہ وہ ہر کلمہ گو مسلمان کا معمول بنایا جائے۔ اور یہ مسلمان کا مسلک اور پہچان بنے، لہٰذا ہمیں عموماً اُنھی اذکار اور دعاؤں پر اکتفا کرنا چاہیے، جن پر ہمارے پیارے نبی ﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمیشہ اکتفا کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے۔ آمین! (ع۔ر)

یاد رہے کہ امام کے سلام پھیرنے سے جماعت ختم ہو جاتی ہے مگر نمازیوں کا اجتماع ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر نمازی اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ کر عموماً ایک ہی قسم کے مسنون الفاظ پڑھ رہا ہوتا ہے۔ یہی نماز باجماعت کے بعد اجتماعی دعا کا مسنون تصور ہے اور اسی پر سلف صالحین کا عمل رہا ہے لیکن یہ بات کہ امام اور مقتدی حضرات لازماً ہاتھ اٹھائیں اور مخصوص مروجّہ انداز میں مختصر سی رسمِ دعا ادا کر کے نمازیوں کو فارغ کر دیں تو یہ کسی طرح درست نہیں ہے۔ (محمد عبدالجبار)