سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور  سیدنا عمر فاروقؓ کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

كتاب فضائل الصحابة رضی اللہ عنہم

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾
اور جو مہاجرین اور انصار میں سے وہ اولین لوگ جنہوں نے ہجرت کرنے اور ایمان لانے میں دوسروں پر سبقت کی، اور دوسرے وہ لوگ جو اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا، اور وہ سب اس سے راضی ہوئے، اور اللہ نے ان کے لیے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔“
(9-التوبة:100)
﴿لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ ۖ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ أُولَٰئِكَ حِزْبُ اللَّهِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
”اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے، گو وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی، یا ان کے کنبہ قبیلے کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور ان کی تائید اپنی نصرت خاص سے کی ہے، اور انہیں جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں، یہی لوگ ہی اللہ کی جماعت کے لوگ ہیں، آگاہ رہو بے شک اللہ کے گروہ والے ہی کامیاب لوگ ہیں۔“
(58-المجادلة:22)
﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا﴾
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر بڑے سخت ہیں، آپس میں رحم دل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں رہتے ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے، ان کی یہی صفت تورات میں ہے اور ان کی صفت انجیل میں ہے۔ مثل اس کھیتی کے جس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہو گیا، پھر اپنی جڑ پر سیدھا کھڑا ہو گیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں اور شائستہ اعمال والوں سے اللہ تعالیٰ نے بخشش کا اور بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔“
(48-الفتح:29)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بہتر لوگ میرے زمانہ کے (صحابہ رضی اللہ عنہم) ہیں، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔“
صحيح البخاری، کتاب الشهادات، باب لا يشهد على شهادة جور اذا أشهد، رقم: 2652۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو۔ میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی ایک اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے، وہ ان کے ایک مُد بلکہ نصف مد کے (درجہ کو بھی) نہیں پا سکتا۔“
صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة، باب تحريم سب الصحابة رضى الله عنهم، رقم: 2540۔

 سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے غار میں فرمایا تھا: ”ان دو کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب التفسير، رقم: 4663۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اپنے والد اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں کوئی تحریر لکھوں، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ کوئی آرزو کرنے والا آرزو نہ کرے، اور کوئی کہنے والا کہے کہ میں سب سے بہتر ہوں۔ حالانکہ اللہ اور سب اہل ایمان، ابوبکر کے سوا سب کا انکار کریں گے۔“
صحیح مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل ابی بکر رضی الله عنه، رقم: 2387۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اگر میں نے کسی کو دوست بنانا ہوتا تو ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ بلاشبہ تمہارا ساتھی (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ تعالیٰ کا دوست ہے۔“
صحیح مسلم، رقم: 2383۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب فرماتے ہیں: ہم رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ اچانک سیدنا ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نظر آگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں انبیاء اور رسولوں کے علاوہ باقی تمام اگلے پچھلے بوڑھے جنتیوں کے سردار ہیں، اے علی! ان دونوں کو اس کی خبر نہ دینا۔“
سنن ترمذی، کتاب المناقب، رقم: 3664ـ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کسی معاملہ میں آپ سے گفتگو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کسی بات کا حکم فرمایا، اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کو نہ پاؤں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر کے پاس چلی جانا۔“
صحیح بخاری، کتاب فضائل الصحابة، رقم: 3659 ـ صحیح مسلم، رقم: 2386۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تجھ کو آگ سے آزاد کر دیا ہے۔“ اس دن سے ان کا لقب عتیق پڑ گیا۔
سنن ترمذی، کتاب المناقب، رقم: 3679- البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔

◈ عمل بالقرآن:

مسطح بن اثاثہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رشتہ دار تھے اس لیے وہ ان کی کفالت کرتے تھے لیکن جب انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والے لوگوں کی ہاں میں ہاں ملائی تو انہوں نے ان کی کفالت سے ہاتھ کھینچ لیا۔ اس پر آیت نازل ہوئی:
﴿وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
اور تم میں دولت مند لوگ قرابتداروں، مسکینوں اور مہاجرین فی سبیل اللہ کو دینے کی قسم نہ کھا بیٹھیں اور عفو درگزر کریں، کیا تم لوگ یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری مغفرت کرے ۔ اور اللہ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
(24-النور:22)
اور اب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے مصارف کے کفیل ہو گئے اور کہا: ہاں! مجھے یہی پسند ہے کہ اللہ میری مغفرت کرے۔“
صحیح بخاری، کتاب الشهادات، باب تعديل النسآء بعضهن بعضا، رقم: 2661۔

◈ جانثاری:

ابتدائے اسلام میں ایک بار آپ نماز پڑھ رہے تھے، عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ کا گلا گھونٹنا چاہا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو دھکیل دیا اور کہا کہ ایک آدمی کو صرف اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے رب کی جانب سے دلائل لے کر آیا ہے۔
صحیح بخارى، كتاب المناقب، فضائل أبي بكر، رقم: 3678۔

◈ محبت رسولﷺ:

جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہجرت کے سفر میں اپنا رفیق بنانے کی بشارت سناتے ہیں۔ یہ سن کر وہ اس قدر خوش ہوتے ہیں کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ واقعہ کی تفصیل جاننے کے لیے صحیح بخاری کی درج ذیل حدیث پیش خدمت قارئین کرام ہے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب ہم سورج ڈھلنے (زوال) کے وقت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر بیٹھے تھے کہ کسی نے ان سے کہا: ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھانپے ہوئے ادھر تشریف لا رہے ہیں۔ اس وقت میں ہمارے ہاں تشریف لانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ نہ تھی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ پر میرے ماں باپ قربان! اللہ کی قسم! اس وقت آپ کی تشریف آوری کسی اہم مقصد ہی کے لیے ہے۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ اجازت ملنے پر اندر تشریف لائے، اور ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جو لوگ تمھارے پاس موجود ہیں انھیں باہر بھیج دو۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، وہ تو آپ کے گھر والے ہی ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے (مکہ مکرمہ سے) نکلنے کی اجازت مل چکی ہے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ اس سفر میں آپ کی رفاقت کا طلب گار ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ”ہاں۔“
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہجرت کے اس سفر کے متوقع سنگین خطرات اور مصیبتوں سے بے خبر نہ تھے۔ لیکن ان خطرات کا اندیشہ ان کے اپنے محبوب جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق سفر بننے کی رغبت، خواہش اور تمنا میں کچھ کمی پیدا نہ کر سکا اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رغبت پر موافقت کا اظہار فرمایا تو شدت فرح سے ان کی آنکھوں میں آنسو رواں ہو گئے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: امام ابن اسحاق نے اپنی روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ رو رہے ہیں اور اس سے پہلے مجھے اس بات کا احساس نہ تھا کہ خوشی کی وجہ سے بھی کوئی روتا ہے۔“
فتح الباری : 235/7 ، نیز دیکھیں: سیرت ابن ہشام : 93/2 .

◈ استعفاف :

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اگرچہ مفلس اور نادار تھے لیکن کسی کے سامنے دست سوال نہیں پھیلاتے تھے۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اونٹنی پر سوار ہوتے تھے اور ہاتھ سے لگام گر جاتی تھی تو اونٹنی کو بٹھا کر خود اپنے ہاتھ سے اس کو اٹھاتے تھے، لوگ کہتے کہ ”آپ نے ہم سے کیوں نہیں کہا، ہم اٹھا دیتے۔“ فرماتے: ”میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی سے کچھ نہ مانگ۔“
مسند احمد : 11/1.

◈ عیب پوشی:

ایک شخص ایک گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، ہم لوگ اس کو افسانہ بزم و انجمن بنا لیتے ہیں۔ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لوگوں کی برائیوں کو چھپاتے تھے اور نیکیوں کو نمایاں کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے عہد میں دنیا کے سیاہ چہرے پر عیب پوشی کی نورانی چادر پڑی ہوئی تھی۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”کہ اگر میں چور کو پکڑتا تو میری سب سے بڑی خواہش ہوتی کہ اللہ اُس کے جرم پر پردہ ڈال دے۔“
طبقات ابن سعد، تذکرہ زبیدہ بنت العلق.

◈ محبت اولاد :

اولاد اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اولاد سے نہایت محبت رکھتے تھے۔ ایک بار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بخار میں مبتلا ہوئیں، چنانچہ ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، حال پوچھا اور شفقت و محبت سے بوسہ دیا۔
سنن ابو داؤد، كتاب الأدب، رقم : 5222 ـ صحيح بخاری، رقم: 3918

◈ سلام کرنا:

«السلام علیکم» اگرچہ نہایت مختصر اور سادہ فقرہ ہے لیکن جلب محبت کے لیے عمل تسخیر کا حکم رکھتا ہے۔ اس بنا پر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کی سخت تاکید فرمائی ہے:
﴿وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا﴾
”اور جب تمھیں سلام کیا جائے تو اُس سے اچھا جواب دو، یا اس کو لوٹا دو۔“
(4-النساء:86)
اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر کسی کو سلام کرتے تھے، ایک بار سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اونٹ پر سوار جا رہے تھے جو لوگ راہ میں ملتے اور وہ ان کو سلام کرتے تو صرف «السلام علیکم» کہتے لیکن وہ جب «والسلام عليكم ورحمة الله» کہتے، اب وہ بھی اس کا اعادہ کرتے، وہ لوگ اور اضافے کے ساتھ «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» کہتے، بالآخر فرمایا کہ یہ لوگ ہم سے بہت بڑھ کر رہے۔“
الأدب المفرد للبخارى، باب فضل السلام، رقم: 987

◈ ذریعہ معاش:

مؤرخین یورپ کا زعم باطل ہے کہ اسلام کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معاش کا تمام تر دارو مدار صرف مال غنیمت پر رہ گیا تھا۔ لیکن در حقیقت یہ ایک عظیم تاریخی غلطی ہے۔
مہاجرین و انصار اسلام کے نظام ترکیب کے اصل عنصر تھے اور دونوں نے ابتدا ہی سے الگ الگ ذریعہ معاش اختیار کر لیا تھا۔ مہاجرین تجارت اور انصار کھیتی باڑی کرتے تھے۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب بیت المال سے وظیفہ لینا چاہا تو اس کی وجہ یہ بیان کی کہ ”میری قوم جانتی ہے کہ میرا پیشہ میرے اہل و عیال کے لیے کافی تھا لیکن اب میں مسلمانوں کے کام میں مشغول ہو گیا ہوں، اس لیے میرے اہل و عیال بیت المال سے وجہ معاش لیں گے۔“
صحیح بخاری، کتاب البيوع، رقم: 2070.
خلفاء کی حفاظت میں سب سے زیادہ گراں قدر قیمت چیز بیت المال تھا، دنیوی بادشاہ سلطنت کا مال اپنے اوپر بے دریغ صرف کرتے تھے، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس خزانہ الہی کی اس دیانت کے ساتھ حفاظت کی کہ اپنے مصارف سے زیادہ اس سے کبھی ایک حبّہ نہیں لیا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرائض خلافت کی مصروفیت کی بنا پر بیت المال سے وظیفہ لیا تو اس کے ساتھ تصریح فرمائی کہ اس کے بعد ان کی تجارت کی آمدنی بیت المال میں منتقل ہو جائے گی۔
فسيأكل آل أبى بكر من هذا المال ويحترف للمسلمين
اب آل ابو بکر اس مال سے وجہ معاش لے گی اور مسلمانوں کے لیے کام کرے گی۔“
صحیح بخاری، کتاب البيوع.
لیکن انتقال کے وقت وظیفہ کی رقم بھی واپس کر دی۔
طبری، ص : 1243 .

◈ زہد و تواضع:

سلاطین و امراء کے جاہ و جلال سے اگرچہ انسان دفعتہ مرعوب ہو جاتا ہے لیکن حقیقی اطاعت اور اصل محبت صرف زہد و تواضع سے پیدا ہو سکتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور خلافت میں اگرچہ دنیا نے ان کے سامنے اپنے خزانے اگل دیے، تاہم انھوں نے اپنی قدیم سادگی اور خاکساری کو ہمیشہ قائم رکھا اس لیے عرب کی غیور طبیعتوں کو ان کی اطاعت اور فرمانبرداری سے کبھی عار و استنکاف نہیں ہوا۔
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ خلافت سے قبل بکریاں دوہا کرتے تھے منصب خلافت سے ممتاز ہوئے تو ایک لڑکے نے کہا اب وہ ہماری بکریاں نہ دوهیں گے انھوں نے سنا تو بولے اللہ کی قسم ضرور دو ہوں گا، اللہ نے چاہا تو خلافت میری قدیم حالت میں تغیر نہ پیدا کرے گی چنانچہ امور خلافت کو بھی انجام دیتے تھے اور ان کی بکریاں بھی دوہتے تھے، بلکہ اگر ضرورت ہوتی تو ان کو چرا بھی لاتے تھے۔“
اسد الغابة، تذکرہ ابو بكر صديق ؓ
زہد و عبادت کا یہ حال تھا کہ اکثر راتیں قیام میں، اکثر دن روزوں میں گزارتے تھے۔ خشوع و خضوع کا یہ عالم تھا کہ نماز کی حالت میں چوب خشک نظر آتے تھے۔ رقت اتنی طاری ہوتی کہ روتے روتے ہچکی بندھ جاتی۔ عبرت پذیری کا یہ حال تھا کہ دنیا کا ذرہ ذرہ ان کے لیے دفتر عبرت تھا۔ کوئی سرسبز درخت دیکھتے تو فرماتے، کاش میں درخت ہوتا کہ آخرت کے خطروں سے محفوظ رہتا۔
چڑیوں کو چہچہاتے دیکھتے تو فرماتے، پرندو خوش نصیب ہو کہ دنیا میں چرتے چگتے اور درختوں کے سایہ میں بیٹھتے ہو اور قیامت کے محاسبہ کا کوئی خطرہ نہیں۔ کاش! ابوبکر تمھاری طرح ہوتا، بات بات پر آہ سرد کھینچتے تھے، یہاں تک کہ «اواہ» لقب ہو گیا تھا۔
طبقات ابن سعد ج. ق. اوّل تاريخ الخلفاء اور كنز العمال ج – 6 میں اس قسم کے بکثرت واقعات ہیں ۔ بحوالہ تاریخ الاسلام از ندوی : 166/1-168.

◈ مشورہ :

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یہ خصوصیت بتائی ہے:
﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ﴾
”اور ان کے تمام کام مشورے سے چلتے ہیں۔“
(42-الشورى:38)
اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور خلافت اس آیت کی عملی تفسیر تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سیاست کے مہمات مسائل کے علاوہ مقدمات کا فیصلہ بھی مشورہ کے بغیر نہیں کرتے تھے۔ سنن دارمی میں ہے:
كان أبو بكر إذا ورد عليه الخصم نظر فى كتاب الله ثم فى السنة ثم استشار المؤمنين
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی فریق مقدمہ لے کر آتا تو پہلے کتاب وسنت پر نظر ڈالتے پھر تمام مسلمانوں سے مشورہ لیتے۔“
كنز العمال : 134/3 بحواله طبقات ابن سعد.
انہوں نے مہاجرین و انصار کی ایک مجلس شوری قائم کی تھی جس میں سیدنا عمر، عثمان، علی، عبد الرحمن بن عوف، معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم لازمی طور پر شریک کیے جاتے تھے۔
فتوح البلدان ، ص : 276

 سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فضائل

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خطاب کے بیٹے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، شیطان تم سے گلی میں چلتے ہوئے ملے گا تو تمہاری گلی چھوڑ کر دوسری گلی میں چلنے لگے گا۔“
صحیح بخاری، کتاب فضائل الصحابه، رقم : 3659 ـ صحيح مسلم، أيضاً ، رقم: 2386 .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! ابو جہل یا عمر بن خطاب ان دونوں میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعہ اسلام کو غلبہ عطا فرما۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان دونوں میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے ہاں زیادہ محبوب تھے۔
سنن ترمذی ، کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی بکر و عمر رضی الله عنهما، رقم: 3679۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان اور دل پر حق جاری کر دیا ہے۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگوں کو کبھی کوئی ایسا معاملہ پیش نہیں آیا کہ انہوں نے اس میں اپنی رائے دی ہو، اور عمر نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہو، مگر اس بارہ میں قرآن عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق نازل ہوا۔
سنن ترمذی ، ايضاً ، رقم: 3682ـ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کسی نے نبی ہونا ہوتا، تو عمر بن خطاب ہوتے۔“
سنن ترمذى ، أيضاً ، رقم : 3686 – سلسلة الصحيحة، رقم: 327.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ مجھے دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا ہے، میں نے اس سے دودھ پیا اور جو بچا تھا وہ میں نے عمر بن خطاب کو دے دیا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم۔“
صحيح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ، باب مناقب عمر رضی الله عنه، رقم: 3681.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت میں ایک محل دیکھا میں نے پوچھا یہ کس کا ہے؟ تو جواب میں کہا گیا: عمر بن خطاب کا ہے۔“
صحيح البخارى، أيضاً، رقم: 3680.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیں کر رہے تھے، اس وقت ان کا جنازہ چار پائی پر رکھا ہوا تھا، اتنے میں ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آ کر میرے شانوں پر اپنی کہنیاں رکھ دیں، اور (عمر کو مخاطب کر کے) کہنے لگا: اللہ آپ پر رحم کرے۔ مجھے تو یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ (دفن) کرائے گا، میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کرتا تھا کہ ”میں، ابو بکر اور عمر تھے، میں نے ابو بکر اور عمر نے یہ کام کیا۔ میں ابوبکر اور عمر گئے۔“ اس لیے مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان ہی دونوں کے ساتھ رکھے گا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔
صحيح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، رقم: 3677.

◈ عمل بالقرآن:

آج ہر مسلمان قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے، عقائد، احکام، اخلاق، معاش اور معاد کے متعلق تمام آیتیں اس کی نگاہ سے گزرتی ہیں۔ لیکن چونکہ دل سے اثر پذیری کا مادہ مفقود ہو چکا ہے، اس لیے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حالت اس سے بالکل مختلف تھی ان پر قرآن کی ایک ایک آیت کا اثر پڑتا تھا اور اس شدت کے ساتھ پڑتا تھا کہ اس کے خوف سے ہمیشہ کانپتے رہتے تھے۔ ایک سفر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار ایک سوال کیا جواب نہ ملا تو آگے نکل گئے اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی آیت نہ نازل ہو جائے تھوڑی دیر کے بعد دربار نبوت سے پکار ہوئی وہ گھبرا گئے کہ آیت نازل ہوگئی حاضر خدمت ہوئے، تو آپ نے یہ آیت سنائی۔ ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا﴾ (الفتح:1)
صحیح بخاری، کتاب المغازی، غزوة الحديبية، رقم: 4177.

◈ شراب خوری سے اجتناب:

شراب عرب کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی لیکن متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم مثلاً سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ وغیرہ اپنی فطرت سلیمہ کی ہدایت سے زمانہ جاہلیت ہی میں اس سے محترز رہے لیکن جو صحابہ اس کے عادی تھے انھوں نے بھی شراب کی حرمت کے ساتھ ہی اس دیرینہ عادت کو اس طرح ترک کر دیا کہ گویا انھوں نے جام و ساغر کو منہ ہی نہیں لگایا تھا۔ شراب کی حرمت کا حکم بتدریج نازل ہوا لیکن حرمت خمر کے متعلق سب سے آخری آیت:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ﴾ ‎
”بے شک شیطان شراب اور جوا کی راہ سے تمھارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرنا چاہتا ہے، اور تمھیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دینا چاہتا ہے تو کیا تم لوگ (اب) باز آ جاؤ گے۔“
(5-المائدة:91)
نازل ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بے ساختہ پکار اٹھے: انتهينا ہم باز آئے۔
سنن ابوداؤد، كتاب الأشربة، باب في تحريم الخمر، رقم : 3670۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔

◈ ادب رسول ﷺ:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام کرتے تھے اس کا اظہار سینکڑوں طریقے سے ہوتا تھا۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دربار نبوت کے ادب و عظمت کے لحاظ سے خاص طور پر کپڑے زیب تن کر لیتے تھے۔ بغیر طہارت کے آپ کی خدمت میں حاضر ہونا اور آپ سے مصافحہ کرنا گوارا نہ کرتے، آپ کے سامنے بیٹھتے تو فرط ادب سے تصویر بن جاتے۔ ادب کے مارے آپ سے آگے چلنا پسند نہیں کرتے، ایک سفر میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک سرکش اونٹ پر سوار تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل نکل جاتا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا کہ کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نہ بڑھنے پائے۔“
صحیح بخاری، کتاب الحصبة، رقم: 2610 .

◈ اہل بیت اور رسول اللہ ﷺ کے اعزہ و اقارب کی عزت و محبت:

ایک بار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شفا بنت عبد اللہ العدویہ کو بلا بھیجا، وہ آئیں تو دیکھا کہ عاتکہ بنت اُسید پہلے سے موجود ہیں۔ کچھ دیر کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے دونوں کو ایک ایک چادر دی لیکن شفاء کی چادر کم درجہ کی تھی، اس لیے انھوں نے کہا کہ ”میں عاتکہ سے زیادہ قدیم الاسلام اور آپ کی چچا زاد بہن ہوں، آپ نے مجھے خاص اس غرض کے لیے بلایا تھا اور عاتکہ تو یوں ہی آگئی تھیں بولے ”میں نے یہ چادر تمھارے ہی دینے کے لیے رکھی تھی لیکن جب عاتکہ آگئیں تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کا لحاظ کرنا پڑا۔“
الإصابة، تذکرہ عاتكة بنت أسيد.

◈ شوق صحبت رسول ﷺ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض صحبت ایک ایسی دولت جاودانی تھا، جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر قسم کے دنیوی مال و متاع کو قربان کر دیتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ سے کس قدر دور مقام عالیہ میں رہتے تھے اس لیے روزانہ آپ کے فیض رفاقت سے متمتع نہیں ہو سکتے تھے، تاہم یہ معمول کر لیا تھا کہ ایک روز خود آتے تھے اور دوسرے روز اپنے اسلامی بھائی کو بھیجتے کہ آپ کی تعلیمات و ارشادات سے محروم نہ رہنے پائیں۔
صحیح بخاری، کتاب العلم باب التناوب في العلم، رقم: 89 .

◈ رضائے رسول ﷺ:

ایک بار کسی نے آپ سے آپ کے روزے کے متعلق سوال کیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حالت دیکھی تو کہا:
رضينا بالله ربا ، وبالإسلام دينا ، وبمحمد نبيا ، نعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله
”ہم نے اللہ کو اپنا پروردگار، اسلام کو اپنا دین، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا پیغمبر بنایا ہے، اور اللہ کے اور رسول کے غصہ سے پناہ مانگتے ہیں۔“
اس فقرہ کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ کا غصہ اتر گیا۔
سنن ابوداؤد، کتاب الصيام، باب في صوم الدهر تطوعا، رقم : 2425 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔

◈ ایثار :

فیاضی ایک اخلاقی وصف ہے لیکن ایثار فیاضی کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ اور وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اس قدر پائی جاتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو عطیہ دیتے تھے لیکن وہ یہ کہہ کر انکار کر دیتے تھے کہ یہ اس کو دیجیے جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔“
صحیح بخاری، کتاب الزكواة، باب من أعطاه الله شيئا من غير مسألة ……، رقم : 1473.

◈ عفو و درگزر:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی اس آیت کی حقیقی تفسیر ہے:
﴿وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ﴾
”اور غصہ کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کر دینے والے ہوتے ہیں۔“
(3-آل عمران:134)
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اگرچہ مذہبی معاملات میں نہایت سخت تھے لیکن ایک بار طائف کے دو شخصوں نے مسجد نبوی میں شور و غل کیا تو انھوں نے ان کو طلب کیا اور کہا کہ مسجد نبوی میں شور کرتے ہو اگر شہر کے رہنے والے ہوتے تو میں تم کو سزا دیتا۔
صحیح بخاری، کتاب الصلاة، باب رفع الصوت في المسجد، رقم: 470 .

◈ شکر الہی:

ایک شخص کا بیٹا مر جاتا ہے، دولت لٹ جاتی ہے، جائیداد تباہ ہو جاتی ہے تو وہ ابتدا میں بدحواس ہو جاتا ہے، لیکن مایوسی مجبور اً صبر کا خوگر بنا دیتی ہے کہ الياس احدى الراحتين لیکن جب باری تعالیٰ ایک لا ولد شخص کو بیٹا دیتا ہے ایک مفلس کو دولت مل جاتی ہے، ایک ذلیل شخص معزز ہو جاتا ہے تو دفعتہ اس قدر مغرور اور خود پسند ہو جاتا ہے کہ اس حالت میں اس کو رب تعالیٰ یاد نہیں آتا، اس لیے بعض اللہ والوں کا قول ہے کہ صبر آسان اور شکر مشکل ہے، لیکن اسلام کے تمام دور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے تھے وہ بھی جس میں وہ سخت مفلس اور محتاج تھے، اور وہ بھی جس میں وہ دولت مند اور متمول ہو گئے تھے۔ پہلے دور میں انھوں نے صبر کیا اور دوسرے دور میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے۔ ایک دفعہ عمر رضی اللہ عنہ نے نیا کپڑا پہنا تو فرمایا کہ میں اس اللہ کا شکر کرتا ہوں جس نے مجھ کو کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی شرمگاہ چھپاتا ہوں اور زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں۔“
الترغيب والترهيب : 158/2.

◈ راز داری :

رازداری ایک امانت ہے اور دنیا میں بہت کم لوگ ہیں جو اس امانت کا بار اٹھا سکتے ہیں لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا سینہ راز کا مدفن تھا جس سے وہ قیامت تک باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ان کی منگنی کرنی چاہی لیکن انھوں نے کہا ”میں اس سے معذور ہوں“ اب انھوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی وہ خاموش رہے، عمر رضی اللہ عنہ تو پہلی ناکامی کے بعد دوسری ناکامی کا بہت رنج ہوا اس کے چند روز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نکاح کا پیغام بھیجا، نکاح ہو گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اپنے رنج کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ کا ذکر مخفی طور پر کیا تھا، لیکن میں آپ کا راز فاش کرنا پسند نہیں کرتا تھا، اگر آپ نکاح نہ کرتے تو میں ضرور نکاح کر لیتا۔“
طبقات ابن سعد، تذكرة حفصه رضي الله عنها .

◈ غیرت:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اگرچہ فخر و غرور سے سخت نفور تھے تاہم انھوں نے نہایت غیور طبیعت پائی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس قدر غیور تھے کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے خواب میں جنت نظر آئی جس میں ایک محل کے گوشے میں ایک عورت وضو کر رہی تھی، میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ جواب ملا کہ عمر کا میں نے اس میں داخل ہونا چاہا، لیکن عمر کی غیرت کے خیال سے واپس آیا۔
صحیح بخاری، کتاب النکاح باب الغيرة، رقم : 5227 .

◈ بچوں کی پرورش:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بچوں کی پرورش میں اپنے عیش و آرام کو بھی فراموش کر دیتے تھے۔ حارث بن ہشام نے طاعون عمواس میں انتقال کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی بی بی فاطمہ بنت ولید سے نکاح کر لیا اور ان کے بیٹے عبد الرحمن بن حارث کو اپنی آغوش تربیت میں لے لیا اور اس لطف و محبت کے ساتھ ان کی تربیت فرمائی کہ خود عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی مربی نہیں دیکھا۔“
طبقات ابن سعد، تذكرة عبد الرحمن بن حارث.

◈ مساوات :

جب کہ تمام عرب و عجم نے سیادت و حکومت کے ذریعہ سے دنیا کو اپنا غلام بنا ڈالا تھا۔ اسلام نے صرف تقویٰ و طہارت کو انسان کا اصلی شرف قرار دیا اور قرآن مجید نے تمام دنیا کے خلاف یہ صدا بلند کی:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
”بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے معزز وہ ہیں جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہیں۔“
(49-الحجرات:13)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اگرچہ خلافت الہی نے اس شرف سے بھی ممتاز کیا جو روم و ایران کا سب سے بڑا ذریعہ تفوق و امتیاز تھا تاہم انھوں نے صرف مذہب و اخلاق ہی کو اپنا شرف خیال کیا سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ:
كرم المؤمن تقواه ودينه وحسبه ومروءته وخلقه
”مسلمان کا اصل سرمایہ شرف اس کا تقویٰ ہے، اس کا دین ہے، اس کا حسب ہے، اس کی مروت ہے اور اس کا خلق ہے۔“
مؤطا مالك ، كتاب الجهاد، باب الشهداء في سبيل الله .
اس خیال کا یہ نتیجہ تھا کہ سیاسی حیثیت سے خلیفہ وقت خود اپنے آپ کو تمام لوگوں کے برابر سمجھتا ہے اور ہر شخص کے ساتھ مساویانہ برتاؤ کرتا تھا۔
ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلافت میں مشغول تھے کہ اس حالت میں ایک آدمی آیا اور کہا کہ اے امیر المومنین! مجھ پر فلاں نے ظلم کیا ہے انھوں نے اس پر کوڑا اٹھایا اور کہا کہ جب میں مفصل مقدمات کے لیے بیٹھتا ہوں تو تم لوگ نہیں آتے اور جب خلافت کے دوسرے کاموں میں مشغول ہوتا ہوں تو داد رسی کے لیے آتے ہو وہ ناراض ہو کر چلا تو اسے بلایا اور اس کے سامنے اپنا کوڑا ڈال دیا اور کہا کہ ”مجھ سے قصاص لو“ اس نے کہا، نہیں، میں اللہ کے لیے معاف کرتا ہوں۔ بولے ”اگر اللہ کے لیے معاف کرتے ہو تو خیر ورنہ اگر میرے لیے درگزر کرتے ہو تو مجھے بتاؤ اس نے کہا، نہیں اللہ کے لیے۔“
اسد الغابه، تذکره عمر بن خطاب رضي الله عنه .

◈ زہد و تواضع:

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کسریٰ و قیصر کے خزانے کے کلید بردار تھے لیکن زہد و تواضع کا یہ حال تھا کہ ایک دن انھوں نے پینے کا پانی مانگا لوگ شہد کا شربت لائے پیالے کو ہاتھ پر رکھ کر تین بار فرمایا کہ ”اگر پی لوں تو اس کی مٹھاس چلی جائے گی اور تلخی (عذاب) باقی رہ جائے گی یہ کہہ کر ایک آدمی کو دے دیا اور وہ اس کو پی گیا۔“
ایک دن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے، انھوں نے سالن میں زیتون کا تیل ڈال کر سامنے رکھ دیا، بولے ”ایک برتن میں دو دو سالن تا دم مرگ نہ کھاؤں گا۔“
اسد الغابه، تذکره عمر بن خطاب ؓ

◈ رحم و شفقت:

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو ان کی قدیم شدت و جلالت کے تصور سے تمام صحابہ کانپ اٹھے اور کہنے لگے کہ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ہوئی تو ایک عام مجمع کیا اور منبر پر چڑھ کر فرمایا:
”مجھے معلوم ہوا ہے کہ لوگ میری سختیوں سے گھبراتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عمر ہم پر سختی کرتے تھے پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو اس وقت بھی عمر ہمارے ساتھ سختی سے پیش آئے جب کہ وہ خود خلیفہ ہوئے ہیں تو اللہ بہتر جانتا ہے کیا غضب ہوگا؟ لوگوں نے یہ بالکل سچ کہا ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خادم تھا اور آپ کی رحمت و شفقت کا درجہ کون حاصل کر سکتا ہے؟ اللہ نے آپ کو رؤف الرحیم کہا ہے جو خود اللہ کا نام ہے، پھر ابو بکر خلیفہ ہوئے اور ان کے رفق و ملاطفت کا بھی آپ لوگوں کو انکار نہیں ہے ان کا بھی ایک خادم اور مددگار تھا اس لیے ان کی نرمی کے ساتھ اپنی سختی کو ملا دیتا تھا، اور تیغ بے نیام ہو جاتا تھا وہ چاہتے تھے تو اس سے وار کرتے تھے ورنہ میان میں ڈال دیتے تھے لیکن اب جب کہ میں خود خلیفہ ہو گیا ہوں تو یقین کرو کہ وہ سختی دو گنا ہو گئی ہے لیکن صرف ان لوگوں کے لیے جو مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ رہے نیک اور دیانتدار لوگ تو میں ان کے لیے اس سے زیادہ نرم ہوں جس قدر وہ باہم نرم خو ہیں۔“
الرياض النضرة في مناقب العشرة : 4/2.

◈ شرک و بدعت کا استیصال:

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے تک شجرة الرضوان قائم تھا اور لوگ متبرک سمجھ کر اس کی زیارت کو آتے تھے، یہ دیکھ کر انہوں نے اس کو جڑ سے کٹوا دیا۔
ازالة الخلفاء : 91/2 .

◈ نماز کا اہتمام:

آپ نے نماز کی تمام جزئیات و خصوصیات کو قائم رکھنے کے لیے جو انتظامات کیے ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تمام عمال کے نام ایک فرمان لکھا جس میں نماز کے اوقات کی تفصیل فرمائی اور ان کی پابندی کی طرف توجہ دلائی اور اس فرمان کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں:
إن أهم أمركم عندي الصلاة فمن حفظها وحافظ عليها حفظ دينه ومن ضيعها فهو لما سواها أضيع
”میرے نزدیک تمہارا سب سے زیادہ اہم کام نماز ہے جس نے اس کی محافظت کی اس نے اپنے دین کی محافظت کی اور جس نے اس کو ضائع کر دیا وہ اس کے سوا اور چیزوں کو بھی ضائع کرے گا۔“
اخیر میں نماز عشاء کا وقت لکھا تو اس کے ساتھ یہ فقرے لکھے:
فمن نام فلا نامت عينه فمن نام فلا نامت عينه فمن نام فلا نامت عينه
”جو شخص بغیر عشاء کی نماز پڑھے ہوئے سو گیا تو اس کی آنکھ نہ سوئے نہ سوئے نہ سوئے۔“
مؤطا امام مالك، كتاب وقوت الصلواة.