غیر مسلموں سے دوستی، تعاون اور حسن سلوک کی شرعی حدود

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

مسلمین سے موالات (دوستی) کے تعلقات اور اس کا مطلب

ممکن ہے بعض ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو کہ غیر مسلمین کے ساتھ نیکی، دوستی اور حسن معاشرت کے تعلقات کس طرح پیدا کیے جا سکتے ہیں؟ جبکہ قرآن خود کفار کے ساتھ دوستی کا تعلق پیدا کرنے اور انہیں اپنا حلیف اور دوست بنانے کی ممانعت کرتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ 51‏ فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ
”اے ایمان والو ! یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو تم میں سے ان کو اپنا دوست بنائے گا تو اس کا شمار بھی ان ہی میں سے ہو گا۔ اللہ ظالموں کو راہ یاب نہیں کرتا۔ تم دیکھتے ہو کہ جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے وہ ہی ان میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔“
(المائدة : 51-52)
اس کا جواب یہ ہے کہ ان آیتوں کا حکم علی الاطلاق نہیں ہے کہ ہر یہودی، نصرانی یا کافر پر اس کا اطلاق ہو ورنہ یہ بات ان آیتوں اور نصوص کے متناقض ہوگی جن میں خیر و بھلائی پسند لوگوں کے ساتھ خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں دوستانہ تعلقات کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ پھر اہل کتاب کے ساتھ مصاہرت ( سسرالی) کا رشتہ اور کتابیہ کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ زوجیت کا تعلق قرآن کے نزدیک باعث مودت و رحمت ہے۔ اور نصاریٰ کے بارے میں قرآن کا بیان ہے کہ تم انہیں اپنا قریبی دوست پاؤ گے۔
جن آیتوں میں موالات سے منع کیا گیا ہے ان کا تعلق دراصل ایسے لوگوں سے ہے جو اسلام کے دشمن اور مسلمانوں سے برسرِ جنگ ہوں۔ ان کی مدد اور پشت پناہی کرنا انہیں راز دار بنانا اور ملی مفاد کے خلاف انہیں اپنا حلیف بنا کر ان کی قربت حاصل کرنا، کسی مسلمان کے لیے ہرگز جائز نہیں ہے۔ اس کی صراحت دوسری آیتوں میں کی گئی ہے : مثلاً سورۃ آل عمران میں فرمایا گیا ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ ‎118‏ هَا أَنتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ
”اے ایمان والو! اہل ایمان کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔ وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ جو بات تمہارے لیے باعث زحمت ہو وہ ان کو محبوب ہے۔ ان کا بغض ان کے منہ سے ظاہر ہو چکا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے۔ ہم نے اپنے احکام واضح کر دیئے ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔ یہ تم ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے۔“
(آل عمران : 118-119)
اس آیت میں ایسے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے جو مسلمانوں سے نفرت و عداوت کو دل میں چھپاتے ہیں، لیکن ان کی گفتگو سے اس کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ
جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان کو تم ان لوگوں سے محبت کرتے ہوئے کبھی نہ پاؤ گے جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ان کے بھائی ہوں یا اہل خاندان۔“
(سورہ المجادلة : 22)
اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کا مطلب محض کفر کرنا نہیں ہے، بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ ۙ أَن تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم ان سے دوستی کا اظہار کرتے ہو حالانکہ جو حق تمہارے پاس آچکا ہے اس سے وہ انکار کر چکے ہیں۔ وہ رسول کو اور تم کو اس بنا پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو۔“
(سورہ الممتحنة : 1)
یہ آیت مشرکین مکہ کے ساتھ موالات (دوستانہ تعلقات) کے سلسلہ میں نازل ہوئی تھی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کی تھی اور مسلمانوں کو ناحق ان کے گھروں سے نکال دیا تھا، محض اس بنا پر کہ مسلمان کہتے تھے: ”ہمارا رب اللہ ہے۔“ اپنے لوگوں کے ساتھ موالات کے تعلقات کسی حال میں جائز نہ تھے۔ اس کے باوجود قرآن نے ان لوگوں سے دوستی کی امید منقطع کرنے کے لیے نہیں کہا اور نہ ان سے قطعی طور پر مایوسی کا اعلان کیا، بلکہ مسلمانوں سے کہا کہ وہ حالات کی تبدیلی اور دلوں کی صفائی کے لیے پُر امید رہیں، چنانچہ اسی سورہ میں چند آیتوں کے بعد فرمایا ہے:
عَسَى اللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةً ۚ وَاللَّهُ قَدِيرٌ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
”عجب نہیں کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے تمہاری دشمنی ہے۔ اللہ بڑی قدر والا ہے۔ اور وہ غفور و رحیم ہے۔“
(سورہ الممتحنة : 7)
قرآن کی اس تنبیہ کے نتیجہ میں دشمنی کی حدت کم ہو جاتی ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے :
أبغض عدوك هونا ما عسى أن يكون حبيبك يوماما
”اپنے دشمن سے بغض کس قدر کم رکھو ہوسکتا ہے کہ وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے۔“
ترمذی کتاب البر والصلة باب ما جاء في الاقتصاد في الحب والبغض ح : 1997 ، شعب الايمان : 5/ 260 ح : 6593
البتہ دشمنوں سے موالات کی حرمت اس صورت میں مؤکد ہو جاتی ہے جبکہ وہ ایسے قوی ہوں کہ ان سے لوگ توقعات رکھتے ہوں اور ڈرتے بھی ہوں۔ منافق اور دل کے مریض ایسے لوگوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے اور ان کے کام آتے ہیں، اس امید پر کہ کل کو یہ بات ان کے حق میں سود مند ثابت ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰ أَن تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ ۚ فَعَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا أَسَرُّوا فِي أَنفُسِهِمْ نَادِمِينَ
”تم دیکھتے ہو کہ جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے وہ ہی ان لوگوں (یہود و نصاری) میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں۔ مگر بہت ممکن ہے کہ اللہ تمہیں فتح بخشے یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے تو یہ جو کچھ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اس پر نادم ہوں گے۔“
(سورہ المائدة : 52)
دوسرے مقام پر فرمایا :
بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ‎138‏ الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا
”منافقوں کو یہ خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ وہ جو اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے ہاں عزت کے خواہاں ہیں ؟ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے۔“
(سورہ النساء : 138-139)
مسلمان حکام ہوں یا رعایا فنی امور میں جو دین سے متعلق نہیں ہیں مثلاً : طب، صنعت، زراعت وغیرہ میں غیر مسلموں سے تعاون حاصل کر سکتے ہیں، اگر چہ ان کے حق میں بہتر یہی ہے کہ وہ ان تمام امور میں خود کفیل ہوں۔
سیرت نبوی میں ہمیں یہ واقعہ ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشرک عبد اللہ بن اریقط کی ہجرت کے موقع پر رہبری کے لیے خدمات حاصل کی تھیں۔
سيرة ابن هشام : 2/112 ، مستدرك حاكم : 8/3 ، وهو عند البخاري في كتاب مناقب الانصار باب هجرة النبي واصحابه الى المدينة ح : 3905 ولكن ليس فيه تبيين اسمه
علماء کہتے ہیں : رہبری سے زیادہ خطر ناک بات اور کیا ہوسکتی ہے؟ خاص طور سے مدینہ کی ہجرت کا معاملہ تو بڑا ہی پر خطر تھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں بھی ایک کافر کی خدمات حاصل کرلیں تو اس سے واضح ہوا کہ کسی کے کافر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس پر کسی معاملہ میں بھی بھروسہ نہ کیا جائے۔ جو علماء اس کے قائل ہیں ان میں سے اکثر کی رائے یہ ہے کہ مسلمانوں کا امام جنگی معاملات میں غیر مسلموں اور خاص طور سے اہل کتاب کا تعاون حاصل کر سکتا ہے۔ اور ایسی صورت میں مسلمانوں کی طرح ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں مقرر کر سکتا ہے۔
امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض یہودیوں سے جنگ کے موقع پر تعاون حاصل کیا تھا اور ان کے لیے مال غنیمت میں حصہ مقرر کیا تھا۔ اور صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک ہوئے حالانکہ اس وقت وہ مشرک تھے۔
البتہ یہ ضروری ہے کہ جس کا تعاون حاصل کیا جائے اس کے بارے میں مسلمانوں کی رائے اچھی ہو۔ اگر مسلمانوں کو اس پر بھروسہ نہ ہو تو ایسے شخص کا تعاون حاصل کرنا جائز نہ ہوگا کیونکہ جب ہم کسی ایسے مسلمان کا تعاون حاصل کرنے سے احتراز کرتے ہیں جو لوگوں کو خوفزدہ کرتا ہو یا افواہیں پھیلاتا ہو، تو کافر سے بدرجہ اولیٰ احتراز کرنا چاہیے۔
المغنی ج : 8 ص : 41
مسلمان کا غیر مسلم کو ہدیہ دینا، اس کا ہدیہ قبول کرنا اور اس کے بدلہ میں ہدیہ دینا جائز ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلم بادشاہوں کے ہدیے قبول فرمائے تھے۔
مسند احمد بن حنبل 1/92 ، 145 ، جامع ترمذی كتاب السير باب ما جاء في قبول هدايا المشركين رقم الحديث : 1576 ، مسند بزار رقم الحديث : 778 ، وله شواهد عند البخاري في كتاب الهبة باب قبول الهدية من المشركين رقم الحديث : 2215 ، 2616 ، مسند احمد : 1/96 ، 145 ، ترمذی كتاب السير باب ما جاء في قبول هدايا المشركين ح : 1576 ، وله حديث شاهد عند البخارى فى كتاب الهبة باب قبول الهدية من المشركين ح : 2615 ، 2616 وغيره
حدیث کے حفاظ کہتے ہیں : ایسی حدیثیں بہ کثرت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کفار کا ہدیہ قبول فرماتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنها فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : نجاشی نے مجھے ایک کپڑے کا جوڑا اور ریشم بھیجا ہے۔“
مسند احمد : 404/6 ، صحيح ابن حبان : 286/7 واسناده ضعيف
اسلام انسان کا انسان ہونے کی حیثیت سے احترام کرتا ہے۔ اور اگر چہ وہ اہل کتاب میں سے ہو نیز معاہد یا ذمی بھی ہو، تو ایسا شخص اسلام کی نظر میں کہیں زیادہ لائق احترام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہو گئے۔ عرض کیا گیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ یہودی کا جنازہ ہے۔ فرمایا : کیا وہ انسان نہیں ہے؟
بخاری کتاب الجنائز باب من قام للجنازة يهودى ح : 1312 ۔ مسلم کتاب الجنائز باب القيام للجنازة ح : 961
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی نظر میں ہر انسان لائق احترام ہے اور ہر ایک کا بحیثیت انسان ایک مقام ہے۔

اسلام کی رحمت عامہ جانوروں کو بھی شامل ہے

غیر مسلموں کے ساتھ بدسلوکی اور اذیت دہی کس طرح جائز ہو سکتی ہے جبکہ اسلام ہر ذی روح پر رحم کرنے کی ہدایت کرتا ہے یہاں تک کہ بے زبان جانور کے ساتھ بھی سنگدلانہ برتاؤ نا پسندیدہ عمل ہے۔
اسلام نے تیرہ سو سال پہلے جانوروں کے ساتھ نرمی برتنے کی تعلیم دی تھی۔ اس کے نزدیک جانوروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، ایمان کی ایک شاخ ہے اور ان کو اذیت پہنچانا اور سنگدلی برتنا، یہ عمل آدمی کو دوزخ کا مستحق بناتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایک واقعہ سنایا کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا جو پیاس کی شدت سے بے دم ہو رہا تھا، وہ شخص یہ دیکھ کر خود کنویں میں اتر گیا اور اپنے موزے میں پانی بھر کر لایا اور اس کتے کو پلا دیا یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے اس کی اس خدمت گزاری کی قدر کی اور اس کی مغفرت فرمائی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارے لیے جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں بھی اجر ہے؟ فرمایا :
في كل كبد رطبة أجر
”ہر تر جگر (جاندار) کے ساتھ حسن سلوک کرنا باعث اجر ہے۔“
بخاری کتاب المساقاة باب فضل سقى الماء ح : 2363 ۔ مسلم كتاب السلام باب فضل سقى البهائم المحترمة ح : 2244
اس روشن نیک پہلو کے ساتھ جو مغفرت اور رضائے الہی کے حصول کا ذریعہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے پہلو کی بھی نشاندہی فرمائی ہے جو اللہ کے غضب اور اس کے عذاب کا موجب ہے۔ فرمایا :
دخلت امرأة النار فى هرة حبستها فلا هي أطعمتها ولا هي تركتها تأكل من خشاش الأرض
”ایک عورت کو اس وجہ سے آگ میں داخل کر دیا گیا کہ اس نے ایک بلی کو بند کر رکھا تھا۔ نہ اسے کچھ کھلاتی تھی اور نہ کھلا چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھائے۔“
بخاري كتاب المساقاة باب فضل سقى الماء ح : 2365 ۔ مسلم کتاب السلام باب تحريم قتل الهرة ح : 2242
حیوان کی حیوانیت کا احترام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ فرماتے تھے کہ گدھے کے چہرہ پر داغ دینا بھی گوارا نہیں فرمایا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھے کو دیکھا جس کے چہرہ پر داغ دیا گیا تھا تو بڑی ناگواری کا اظہار کیا اور فرمایا :
والله لا آسمه إلا فى أقصى شيء من الوجه
”واللہ میں تو چہرہ کو چھوڑ کر بہت دور داغ دیتا ہوں۔“
مسلم كتاب الآداب باب النهي عن ضرب الحيوان في وجهه ح : 2118
ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک گدھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا جس کے چہرہ پر داغ دیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا :
أما بلغكم أني لعنت من وسم البهيمة فى وجهها أوضربها فى وجهها
”کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانور کے چہرہ پر داغ دے یا اس کے چہرہ پر مارے۔“
ابو داود كتاب الجهاد باب النهي عن الوسم في الوجه ح : 2564 وهو عند مسلم في صحیحه : 2117 مختصراً
اس سے پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے تیر اندازی سیکھنے کے لیے مرغی کو ہدف بنایا ہوا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا :
ان النبى صلى الله عليه وسلم لعن من اتخذ شيئا فيه الروح عرضا
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے، جو کسی ذی روح کو (نشانہ بازی کے لیے) ہدف بنالے۔“
بخاري كتاب الذبائح باب ما يكره من المثلة والمصبورة ح : 5515 ، مسلم کتاب الصيد باب النهي عن صبر البهائم ح : 1958 واللفظ له
اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
نهى النبى عن التحريش بين البهائم
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو مقابلہ بازی میں لڑانے سے منع فرمایا ہے۔“
ابو داود کتاب الجهاد باب في التحريش بين البهائم ح : 2562 ، ترمذی کتاب الجهاد باب ما جاء في كراهية التحريش بين البهائم ح : 1708 واسناده ضعیف
أن النبى صلى الله عليه وسلم نهى عن اخصاء البهائم نهيا شديدا
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو خصی کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت فرمائی ہے۔“
مجمع الزوائد : 2655 بحواله البزار : 1690 بيهقي في السنن الكبرى : 24/10 وللحديث شواهد
اہل جاہلیت جانوروں کے کان چیرا کرتے تھے۔ قرآن نے اس کی بھی مذمت کی اور اسے شیطانی وساوس سے تعبیر کیا۔
ذبیحہ کی بحث میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ اسلام اس بات کا کس قدر خواہاں ہے کہ ذبح کرنے کا زیادہ سے زیادہ راحت رساں طریقہ اختیار کر کے ذبیحہ کو آرام پہنچایا جائے چنانچہ اس سلسلہ میں اسلام نے تیز چھری کو استعمال کرنے اس کو جانور کی نظر سے چھپانے اور دوسرے جانوروں کے سامنے اس کو ذبح نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جانور پر اسلام کی اس درجہ عنایت و مہربانی جو تصور سے بالاتر ہے ایک ایسی روشن حقیقت ہے کہ دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔