غیبت، جھوٹ، خون دینے، نفاس اور جمعہ کے روزے کے مسائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

کیا غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب:

غیبت حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اس سے روزے کی اجر و ثواب میں کمی واقع ہوتی ہے، مگر روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اس بارے میں تمام روایات ضعیف و غیر ثابت ہیں، بعض اہل علم کی شاذ رائے بھی ہے۔
❀ علامہ ابن مودود موصلی حنفی رحمہ اللہ (683ھ) فرماتے ہیں:
إن العلماء أجمعوا على أن الغيبة لا تفطر ولا اعتبار بالحديث في مقابلة الإجماع
”اہل علم کا اجماع ہے کہ غیبت سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اجماع کے مقابلہ میں (ضعیف) حدیث کا کوئی اعتبار نہیں۔“
(الاختيار لتعليل المختار: 1/133)

سوال:

کیا روزہ جھوٹ اور چغلی سے فاسد ہو جاتا ہے؟

جواب:

یہ دونوں گناہ کبیرہ ہیں، ان سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، البتہ اجر و ثواب میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

سوال:

روزے کی حالت میں خون دینا کیسا ہے؟

جواب:

مجبوری ہو تو جائز ہے۔

سوال:

روزے کی حالت میں وکس لگانا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

بچے کی ولادت کے کتنے دن بعد روزہ رکھا جائے؟

جواب:

نفاس کا خون آنا بند ہو جائے یا زیادہ سے زیادہ چالیس دن گزر جائیں تو عورت پاک ہے، اس پر نماز اور روزہ فرض ہے۔

سوال:

جمعہ کے دن نفلی روزہ رکھنا کیسا ہے؟

جواب:

مستحب یہ ہے کہ جمعہ کے دن کو روزہ کے ساتھ خاص نہ کیا جائے، البتہ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ ساتھ ملا لیا جائے۔ اگر کوئی صرف جمعہ کا روزہ رکھ لیتا ہے تو یہ مکروہ تنزیہی ہے۔ مطلب کہ بچنا بہتر ہے، رکھ لے تو گناہ گار نہیں۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن يوم الجمعة يوم عيد فلا تجعلوا يوم عيدكم يوم صيامكم إلا أن تصوموا قبله أو بعده
”جمعہ کا دن عید کا دن ہے، لہذا اپنے عید کے دن میں روزہ نہ رکھیں، الا یہ کہ اس سے پچھلے یا اگلے دن کا بھی رکھیں۔“
(مسند الإمام أحمد: 2/303، 2/532، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2161) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3610) نے صحیح قرار دیا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح الاسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔