بھینس کی قربانی کا حکم حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

بھینس کی قربانی کا حکم

مذکورہ بالا بحث میں ہم نے بالتفصیل وضاحت کی ہے کہ کتاب و سنت اور فقہاء و مفسرین کے اقوال کی رو سے صرف چار اقسام کے چوپاؤں (اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری) کی قربانی جائز ہے، اس کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی مشروع نہیں۔ لیکن احناف کے نزدیک بھینس کی قربانی جائز ہے اور ان کا یہ جواز کسی آیت و حدیث سے ماخوذ نہیں، بلکہ بھینس کی قربانی کے جواز کی دلیل ہدایہ شریف کی یہ عبارت ہے:
ويدخل فى البقر الجاموس لأنه من جنسه
”اور بھینس گائے (کے حکم) میں داخل ہے، کیونکہ بھینس، گائے کی جنس سے ہے۔“ لیکن یہ استدلال کئی وجوہ سے باطل ہے۔
① صاحبِ ہدایہ کی عبارت ہی دلیل ہے کہ بھینس اور گائے کی اجناس مختلف ہیں، کیونکہ جو چیز حکماً کسی اور جنس میں داخل ہو، اس کی جنس اس چیز سے یقیناً مختلف ہوتی ہے۔
② احناف کی اپنی عبارات اس بات کی گواہ ہیں کہ بھینس گائے کی جنس نہیں، بلکہ بھینس اور گائے کی جنسیں مختلف ہیں، اس کے دلائل حسبِ ذیل ہیں:
① فقہ حنفی کی مایہ ناز کتاب در المختار میں مذکور ہے کہ:
ولا يعم البقر الجاموس
”گائے بھینس کو عام نہیں (یعنی جنس گائے میں بھینس شامل نہیں ہے)۔“
در المختار 80/4
حاشیہ رد المختار کا مصنف اس عبارت کی شرح میں لکھتا ہے:
ولا يعم البقر الجاموس
” گائے بھینس کو شامل نہیں.“
أى فلو حلف لا يأكل لحم بقر ولا يحنت بأكل الجاموس کعكسه لأن الناس يفرقون بينهما، قيل يحنت لأن البقر أعم، و الصحيح الأول كما فى النهر عن التاتار خانية
”یعنی اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ گائے کا گوشت نہیں کھائے گا تو بھینس کا گوشت کھانے سے اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی، اسی طرح کوئی بھینس کا گوشت نہ کھانے کی قسم کھائے تو گائے کا گوشت کھانے سے اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی، کیونکہ لوگ گائے اور بھینس کی اجناس میں فرق کرتے ہیں۔“
ایک (ضعیف) قول ہے کہ اس عمل سے اس کی قسم ٹوٹ جائے گی، کیونکہ گائے عام ہے جس میں بھینس شامل ہے، لیکن پہلا قول راجح ہے، جیسا کہ ”النهر “میں فتاویٰ تاتار خانیہ سے منقول ہے۔
حاشیہ رد المختار: 80/4
② ہدایہ کی معروف شرح فتح القدیر میں منقول ہے:
والبقر لا يتناول الجاموس للعرف
”عرفِ عام میں بھینس گائے کی جنس میں شامل نہیں ہے۔“
فتح القدیر 276/11
جب خود احناف بھینس کو گائے کی جنس تسلیم نہیں کرتے تو ایسے مختلف الجنس چوپائے کو قربانی کے ان چوپاؤں میں کیسے شامل کیا جا سکتا ہے جن کے بارے میں کتاب و سنت میں واضح نص بیان ہوئی ہے۔

حافظ عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ کا فتویٰ:

سوال: کیا بھینس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟ دونوں صورتوں میں کتاب و سنت کے دلائل سے وضاحت فرما دیں؟
جواب: جو لوگ بھینس کی قربانی کے جواز کے قائل ہیں، ان کے ہاں دلیل بس یہی ہے کہ لفظ بقر اس (بھینس) کو بھی شامل ہے یا پھر اس کو بقر پر قیاس کرتے ہیں اور معلوم ہے کہ گائے کی قربانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، عمل اور تقریر سے ثابت ہے، لہٰذا گائے کی قربانی کی جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تینوں طریقوں سے ثابت ہے۔ واللہ اعلم۔
احکام و مسائل از عبد المنان نورپوری: 440/1

مفتی مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ کا فتویٰ:

فضیلۃ الشیخ مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ بیان فرماتے ہیں:
”ائمہ اسلام کے ہاں جاموس (بھینس) کا جنس بقر سے ہونا مختلف فیہ ہے، یعنی مبنی بر احتیاط اور راجح موقف یہی ہے کہ بھینس کی قربانی نہ کی جائے، بلکہ مسنون قربانی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری سے کی جائے، جب یہ جانور موجود ہیں تو ان کے ہوتے ہوئے مشتبہ امور سے اجتناب ہی کرنا چاہیے اور دیگر بحث و مباحثے سے بچنا ہی اولیٰ و بہتر ہے۔“
احکام و مسائل از مبشر احمد ربانی ص: 511