مضمون کے اہم نکات
سوال:
کیا روزے کی حالت میں سر پر مہندی یا خوشبو لگائی جا سکتی ہے؟
جواب:
لگائی جا سکتی ہے، کوئی حرج نہیں۔
سوال:
جہاں روزہ دار بیٹھے ہوں، وہاں اگر بتی سلگانا کیسا ہے؟
جواب:
جائز ہے، کوئی حرج نہیں۔ اس کی خوشبو اور دھوئیں سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
سوال:
روزے میں ان ہیلر کا استعمال کیسا ہے؟
جواب:
روزے کی حالت میں ان ہیلر کا استعمال جائز ہے۔ ان ہیلر میں آکسیجن اور معمولی مقدار میں دوائی وغیرہ شامل ہوتی ہے۔ مجبوری کی حالت میں اس کے استعمال سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، کیونکہ اسے غذا کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا اور نہ اس کی نمی معدہ تک پہنچتی ہے، بلکہ حلق اور پھیپھڑوں میں جاتی ہے۔ یہ ٹیکے کے حکم میں ہے۔ مفتی اعظم سعودی عرب علامہ ابن باز رحمہ اللہ (فتاوی ابن باز: 15/264) اور شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ (مجموع فتاوی ورسائل ابن عثیمین: 19/209) اس کے جواز کے قائل ہیں۔ نیز کثیر علمائے عرب کا یہی فتویٰ ہے۔
(مجلہ بحوث اسلامیہ: 43/155)
سوال:
روزے کی حالت میں لپ اسٹک لگانا کیسا ہے؟
جواب:
جائز ہے۔
سوال:
روزے کی حالت میں خون دینا کیسا ہے؟
جواب:
مجبوری ہو تو دیا جا سکتا ہے، بچنا بہتر ہے، کیونکہ خون دینے کے بعد کمزوری اس قدر آ جاتی ہے کہ روزہ توڑنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
سوال:
روزہ کی حالت میں سینگی لگوانا کیسا ہے؟
جواب:
روزہ کی حالت میں سینگی لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ دلائل اس پر شاہد ہیں۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إن النبي صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم واحتجم وهو صائم
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی اور روزے کی حالت میں بھی سینگی لگوائی۔“
(صحيح البخاري: 1938)
ثابت بنانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سئل أنس بن مالك رضي الله عنه أكنتم تكرهون الحجامة للصائم قال لا إلا من أجل الضعف
”سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا آپ (عہد نبوی میں) روزہ دار کے لیے سینگی لگوانا مکروہ خیال کرتے تھے؟ فرمایا نہیں، البتہ کمزوری کی وجہ سے مکروہ سمجھتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 1940)
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قد ذهب بعض أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم إلى هذا الحديث ولم يروا بالحجامة للصائم بأسا وهو قول سفيان الثوري ومالك بن أنس والشافعي
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور دیگر اہل علم میں سے بعض اس حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے۔ امام سفیان ثوری، امام مالک بن انس اور امام شافعی رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔“
(سنن الترمذي، تحت الرقم: 777)
تنبیہ:
❀ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفطر الحاجم والمحجوم
”سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے نے روزہ افطار کر لیا۔“
اس صحیح حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ سینگی لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، جیسا کہ اوپری احادیث سے ثابت ہوتا ہے، لہذا اس حدیث کا صحیح اور حقیقی مفہوم یہ ہے کہ سینگی لگانے والا اور سینگی لگوانے والا قریب ہے کہ روزہ توڑ بیٹھے۔ سینگی لگانے والے کے حلق سے نیچے خون اتر جائے، یوں اس کا روزہ ٹوٹ سکتا ہے۔ سینگی لگوانے والا خون نکلنے سے اس قدر کمزوری میں چلا جائے کہ روزہ مکمل نہ کر سکے۔ لہذا احتیاط اس میں ہے کہ روزے کی حالت میں سینگی لگوانے سے اجتناب کیا جائے، اگر کوئی لگوا لے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر رات کو لگوا لے تو زیادہ بہتر ہے۔ اس بنا پر بعض اہل علم نے روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
❀ حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) فرماتے ہیں:
تأول بعضهم الحديث فقال معنى أفطر الحاجم والمحجوم أي تعرضا للإفطار أما المحجوم فللضعف الذي يلحقه من ذلك فيؤديه إلى أن يعجز عن الصوم وأما الحاجم فلأنه لا يؤمن أن يصل إلى جوفه من طعم الدم أو من بعض أجراحه إذا ضم شفتيه على قصب الملازم وهذا كما يقال للرجل يتعرض للمهالك قد هلك فلان وإن كان باقيا سالما وإنما يراد به أنه قد أشرف على الهلاك
”بعض اہل علم نے اس حدیث کی تاویل کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ حدیث ’سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے نے روزہ افطار کر لیا‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں روزہ توڑنے کے درپے ہو چکے ہیں۔ سینگی لگوانے والا اس کمزوری کی وجہ سے جو (خون نکلنے سے) اسے لاحق ہوتی ہے، ہو سکتا ہے کہ اس کمزوری کی وجہ سے وہ روزہ پورا کرنے سے عاجز آ جائے (اور اسے کچھ نہ کچھ کھانا پینا پڑے)۔ سینگی لگانے والا روزہ توڑنے کا درپے اس لحاظ سے ہے کہ جب وہ سینگی والے آلے پر اپنے ہونٹ رکھے گا تو خون کا ذائقہ یا زخم کا کچھ حصہ اس کے پیٹ میں چلا جانے کا اندیشہ ہے، جیسے جب کوئی شخص کسی ہلاکت والی جگہوں کا قصد کرے تو اسے کہا جاتا ہے کہ فلاں تو ہلاک ہو گیا، حالانکہ وہ بالکل صحیح سلامت باقی ہوتا ہے، دراصل مراد یہ ہے کہ وہ ہلاکت کی طرف مائل ہو چکا ہے۔“
(معالم السنن: 2/110)
کئی شارحین نے حدیث کا یہی معنی بیان کیا ہے۔
❀ اسحاق بن منصور کوسج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
قال عبد الرحمن بن مهدي من احتجم وهو صائم فعليه القضاء وهكذا قال أحمد وإسحاق
”امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے روزے کی حالت میں سینگی لگوائی، اس پر قضا ہے۔ یہی بات امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہما اللہ نے فرمائی ہے۔“
(سنن الترمذي، تحت الرقم: 774)
احادیث صحیح اور جمہور اہل علم کا موقف ہے کہ سینگی لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، یہی راجح ہے، لہذا امام عبدالرحمن بن مہدی، امام احمد اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کا فتویٰ مرجوح ہے۔
سوال:
الٹی آ جائے تو کیا روزہ باقی رہے گا؟
جواب:
الٹی سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
سوال:
رمضان میں نماز عشاء اکیلے ادا کرنے والا کیا وتر باجماعت ادا کر سکتا ہے؟
جواب:
جی ہاں، ادا کر سکتا ہے۔
سوال:
روزے کی حالت میں سرمہ لگانا کیسا ہے؟
جواب:
درست ہے، سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ روزے میں سرمہ لگانے کی کراہت یا ممانعت ثابت نہیں۔
❀ سلیمان بن مہران اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ما رأيت أحدا من أصحابنا يكره الكحل للصائم
”میں نے نہیں دیکھا کہ ہمارے اصحاب میں سے کسی نے روزے دار کے لیے سرمہ لگانا مکروہ سمجھا ہو۔“
(سنن أبي داود: 2379، وسنده حسن)
تنبیہ:
معبد بن ہوذہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليتقه الصائم
”روزہ دار سرمہ لگانے سے اجتناب کرے۔“
(سنن أبي داود: 2377)
روایت ضعیف و منکر ہے۔
➊ عبدالرحمن بن نعمان بن معبد ”ضعیف“ ہے۔
➋ نعمان بن معبد ”مجہول الحال“ ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے( الثقات: 7/530) میں ذکر کیا ہے۔
❀ اس روایت کو امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے منکر کہا ہے۔
(سنن أبي داود، تحت الحديث: 2377)
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے بھی ”منکر“ کہا ہے۔
(مسائل أبي داود: 1891)
سوال:
کیا نابالغ بچوں کو روزہ رکھوایا جا سکتا ہے؟
جواب:
بچوں پر روزہ اگرچہ بلوغت کے بعد فرض ہوتا ہے، مگر انہیں عادت ڈالنے کے لیے شروع سے ہی روزہ رکھوانا چاہیے۔
(بخاری: 1960، مسلم: 1136)
البتہ بچہ کمزور یا بیمار ہو تو نہیں رکھوانا چاہیے۔
سوال:
روزے کی حالت میں بچے کو دودھ پلانے کا حکم کیا ہے؟
جواب:
روزے کی حالت میں ماں بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔ یہ نواقص صوم میں سے نہیں ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”جسم میں داخل ہونے والی ہر چیز (جس پر دلیل قائم ہو) سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، جسم سے نکلنے والی (ہر چیز) سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔“
(الأوسط لابن المنذر: 81، وسنده حسن)
سوال:
روزے کی حالت میں احتلام ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ وہ انسان کے اختیار میں نہیں، نیز سویا ہوا انسان مرفوع القلم ہوتا ہے۔
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
إن العلماء أجمعوا أن الاحتلام بالنهار لا يفسد الصيام
”اہل علم کا اجماع ہے کہ دن میں احتلام ہو جائے تو روزہ فاسد نہیں ہوتا۔“
(الاستذكار: 3/291)