قتل، خون کی حرمت اور خودکشی کی وعید قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

خون کی حرمت

اسلام نے انسانی زندگی کو مقدس اور انسانی جانوں کو محترم ٹھهرایا ہے۔ انسانی جان پر زیادتی کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ کفر و شرک کے بعد اسی کا درجہ ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا
”جس نے کسی جان کو قتل کیا، بغیر اس کے کہ اس نے کسی جان (انسان) کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔“
(سورہ المائدة : 32)
یہ اس لیے کہ پوری نوع انسانی ایک خاندان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور ایک شخص پر زیادتی در حقیقت نوع انسانی پر زیادتی ہے۔ یہ حرمت اس صورت میں اور شدید ہو جاتی ہے جبکہ مقتول مؤمن ہو۔
وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا
”اور جو کوئی کسی مؤمن کو عمداً (جان بوجھ کر) قتل کرے گا تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اس نے اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“
(سورہ النساء : 93)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
لزوال الدنيا أهون على الله من قتل رجل مسلم
”دنیا کا زوال اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل کے مقابلہ میں کمتر درجہ کا ہے۔“
ترمذي كتاب الديات باب ما جاء في تشديد قتل المؤمن ح : 1395 ۔ نسائی کتاب تحریم الدم باب تعظيم الدم ح : 3992
اور فرمایا :
لا يزال المؤمن فى فسحة من دينه مالم يصب دما حراما
”مؤمن دین کی گنجائشوں کے اندر رہتا ہے جب تک کہ قتل حرام کا مرتکب نہیں ہوتا۔“
بخاری کتاب الديات باب : (1) ح : 6962

نیز فرمایا :

كل ذنب عسى الله أن يغفره إلا الرجل يموت مشركا أو الرجل يقتل مؤمنا متعمدا
”ہر گناہ کے بارے میں اللہ سے مغفرت و بخشش کی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اسے معاف کر دے سوائے اس شخص کے جس کی موت شرک پر ہو یا وہ شخص جس نے مؤمن کو عمداً (جان بوجھ کر) قتل کیا ہو۔“
ابو داؤد کتاب الفتن باب فى تعظيم قتل المؤمن ح : 4270 ۔ صحيح ابن حبان موارد : 51 ۔ مستدرك حاكم : 351/4
مذکورہ آیات و احادیث کے پیش نظر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ قاتل کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔
بخاری کتاب التفسير سورة الفرقان ح : 4762 ۔ مسلم كتاب التفسير باب : (1) ح : 3023
غالبا ان کے نزدیک توبہ کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ افراد کے حقوق لوٹائے جائیں یا انہیں راضی کر لیا جائے۔ لیکن مقتول کے حق کو لوٹانے یا اس کو راضی کرنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے جبکہ وہ اس دنیا میں نہیں رہا؟
اور دیگر علماء کا کہنا ہے کہ کچی توبہ مقبول ہے اور وہ شرک کو بھی مٹا دیتی ہے۔ لہذا جو گناہ شرک سے کم درجہ کا ہو اور اس سے توبہ کر لی جائے تو وہ توبہ کیونکر قبول نہ ہوگی؟
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ‎68‏ يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا ‎69‏ إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
”(رحمن کے بندے وہ ہیں) جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الہ کو نہیں پکارتے اور نہ کسی نفس کو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے قتل کرتے ہیں، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اور جو کوئی یہ کام کرے گا وہ اپنے جرم کا بدلہ پائے گا۔ قیامت کے دن اس کو دو گنا عذاب دیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ذلت و رسوائی کے ساتھ پڑا رہے گا۔ بجز اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لا کر عمل صالح کیا، تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا مغفرت فرمانے والا رحم فرمانے والا ہے۔“
(سورہ الفرقان : 68 تا 70)

قاتل اور مقتول دونوں آگ میں ہوں گے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کے قتل و قتال کو ایک قسم کا کفر اور جاہلیت کا کام قرار دیا ہے۔ جیسے کہ اہل جاہلیت ایک اونٹنی یا ایک گھوڑے کو پانی پلانے کی خاطر جنگ اور خونریزی کرتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
سباب المسلم فسوق وقتاله كفر
”مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔“
بخاری کتاب الادب باب ماينهى من السباب واللعن ح : 6044 ۔ مسلم كتاب الایمان باب بیان قول النبي سباب المسلم فسوق ح : 64
لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض
”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔“
بخاری کتاب الديات باب (ومن احياها) ح : 6868 ، 6869 ۔ مسلم کتاب الایمان باب بیان معنى قول النبي لا ترجعوا بعدى كفاراً ح : 65
نیز فرمایا :
جب دو مسلمان ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں، تو وہ جہنم کے کنارے پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب ایک شخص دوسرے کو قتل کرتا ہے تو دونوں جہنم میں داخل ہوتے ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! قاتل کا معاملہ تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن مقتول کیونکر جہنم میں داخل ہوگا؟ فرمایا: وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
بخاري كتاب الديات باب ومن أحياها ح : 6875 ۔ مسلم كتاب الفتن باب اذا تواجه المسلمان بسیفیهما ح : 2888
اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو موجب قتل اور باعث جنگ ہو خواہ یہ صورت ہتھیار کے ذریعہ صرف اشارہ کرنے کی حد تک کیوں نہ ہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا يشر أحدكم إلى أخيه بالسلاح فإنه لا يدري لعل الشيطان ينزع فى يده فيقع فى حفرة من النار
”تم میں سے کوئی شخص ہتھیار سے اپنے بھائی کی طرف اشارہ بھی نہ کرے۔ کیا معلوم شیطان اس کے ہاتھ کو جھٹکا دے اور وہ جہنم کے گھڑے میں جا گرے۔“
بخاری کتاب الفتن باب قول النبي من حمل علينا السلاح ح : 7072 ۔ مسلم کتاب البر و الصلة باب النهي عن الاشارة بالسلاح ح : 2617
نیز فرمایا : جس نے اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کیا اس پر فرشتے لعنت بھیجتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس سے باز آجائے، خواہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔
مسلم كتاب البر والصلة باب النهي عن الاشارة بالسلاح ح : 2616
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرے۔
ابو داود كتاب الادب باب من يأخذ الشئ من مزاح ح : 5004
قتل کے گناہ کا مستحق صرف قاتل ہی نہیں ہوگا بلکہ وہ شخص بھی ہو گا جو قول یا فعل سے اس میں شریک ہو۔ وہ اپنی شرکت کے بقدر اللہ کے غضب کا مستحق ہوگا حتی کہ جو شخص قتل کے موقع پر موجود ہو وہ بھی گناہ میں شریک ہوگا۔ حدیث میں ہے :
کوئی شخص ایسی جگہ موجود نہ رہے جہاں کسی شخص کو قتل کیا جارہا ہو کیونکہ جو لوگ اس موقع پر موجود ہوں اور اس کو بچانے کی کوشش نہ کریں، ان پر بھی لعنت نازل ہوتی ہے۔
رواه الطبراني في الكبير : 11 / 260 كما في المجمع : 294/8 و اسناده ضعیف

معاہد اور ذمی کے خون کی حرمت

جن نصوص میں مسلمان کے قتل و قتال کی حرمت بیان کی گئی ہے وہ ایک اسلامی معاشرہ میں مسلمانوں کے لیے قانون اور ہدایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر مسلم کا خون حلال ہے۔
در حقیقت ہر انسان کی جان محترم ہے اور انسان ہونے کی حیثیت سے اس کا تحفظ ضروری ہے بشرطیکہ غیر مسلم مسلمانوں کے ساتھ برسر پیکار نہ ہوں۔ اور اگر وہ معاہد یا ذمی ہوں تو ان کی جان کا تحفظ بھی ضروری ہے اور کسی مسلمان کے لیے روا نہیں کہ وہ ان پر زیادہ تی کرے۔ چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة وإن ريحها توجد من مسيرة أربعين عاما
بخاری کتاب الجزیة باب إثم من قتل معاهداً ح : 3166
”جس نے کسی معاہد (جس سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہو) کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت تک سے پائی جائے گی۔“
دوسری روایت میں ہے :
من قتل رجلا من أهل الذمة لم يجد ريح الجنة
”جس نے کسی ذمی کو قتل کیا ، وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا۔“
نسائی کتاب القسامة باب تعظيم قتل المعاهد ح : 4753

خون کی حرمت کب زائل ہوتی ہے؟

ارشاد ربانی ہے :
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ
اور کسی نفس کو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔
(سورہ الأنعام : 151)
یہ حق درج ذیل جرائم میں سے کسی ایک جرم کے ارتکاب کی صورت میں قائم ہوتا ہے :
ظلماً قتل کرنے کی صورت میں : جس شخص کے بارے میں دلائل سے ثابت ہو جائے کہ وہ قتل کے جرم کا مرتکب ہوا ہے اس سے قصاص لینا واجب ہے یعنی جان کے بدلہ جان اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ
”تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔“
(سورہ البقرة : 179)
کھلے بندوں زنا کا ارتکاب : اس طور سے کہ چار صالح اشخاص اسے عینی طور پر اپنی آنکھوں سے زنا کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھ لیں اور اس کی گواہی دیں، بشرطیکہ وہ نکاح کے جائز طریقہ سے واقف ہو۔ اگر وہ خود حاکم کے سامنے چار مرتبہ اس کا اقرار کرے تو یہ اقرار کرنا، گواہی کے قائم مقام ہوگا۔
دین اسلام میں داخل ہونے کے بعد اس سے نکل جانا (مرتد ہو جانا) اور اس خروج کے ذریعہ علانیہ اسلامی جماعت کو چیلنج کرنا۔ اسلام کسی کو بھی دین میں داخل ہونے کے لیے مجبور نہیں کرتا، لیکن وہ اس بات کو بھی برداشت نہیں کرتا کہ کوئی دین کے ساتھ کھیلنے لگے۔
حدیث میں ہے :
لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والتارك لدينه المفارق للجماعة
بخاری کتاب الديات باب قول الله تعالى ان النفس بالنفس ح : 6878 ۔ مسلم کتاب القسامة باب ما يباح به دم المسلم ح : 1676
اور مسلمان کا خون حلال نہیں بجز تین صورتوں کے۔
➊ جان کے بدلہ جان۔
➋ شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا مرتکب۔
➌ اور دین کو ترک کر کے جماعت سے الگ ہونے والا۔
لیکن ان صورتوں میں اس حد کے نفاذ کی ذمہ داری صاحب امر (سربراہ، حکومت، حاکم وقت) کی ہے۔ افراد کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ خود اس حد کو نافذ کریں جس سے امن کو خطرہ لاحق ہو اور لاقانونیت پیدا ہو جائے نیز ہر شخص اپنے کو قاضی اور قانون کے نفاذ کا ذمہ دار نہ سمجھ لے۔ البتہ قتل عمد کی صورت میں جبکہ قصاص لینا واجب ہے، اسلام نے مقتول کے وارثوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ حاکم کی موجودگی میں اپنے ہاتھ سے قصاص لے سکتے ہیں تاکہ ان کے دل ٹھنڈے ہوں اور انتقام کی آگ بجھ جائے اور اس ارشاد الہی کی تعمیل ہو :
وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ ۖ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا
”جو شخص ظلماً قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے اختیار دیا ہے لہذا وہ قتل میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ اس کی مدد کی گئی ہے۔“
(سورہ الإسراء : 33/17)

خود کشی

قتل کے سلسلہ میں جو نصوص وارد ہوئی ہیں اُن کے پیش نظر اس جرم میں خود کشی بھی شامل ہے۔ لہذا جس نے خودکشی کی خواہ کسی بھی ذریعہ سے ہو اس نے ایک نفس کو قتل کر دیا جس کا ناحق قتل کرنا اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے۔
انسان اپنی زندگی کا آپ مالک و مختار نہیں ہے کیونکہ وہ زندگی کے ایک خلیہ اور ذرے کا بھی خالق نہیں ہے۔ زندگی تو اللہ کی امانت ہے۔ لہذا اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس معاملہ میں کسی زیادتی کا مرتکب ہو، چہ جائیکہ کہ وہ خود ہی اس کا خاتمہ کر دے۔
فرمان ربانی ہے :
وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
”اپنی جانوں کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔“
(سورہ النساء : 29)
اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان شدائد (مصیبتوں) کا مقابلہ مضبوط قوت ارادی کے ساتھ کرے۔ اسی لیے کسی مصیبت سے گھبرا کر یا کسی امید کے بر نہ آنے کی صورت میں زندگی سے فرار کی راہ اختیار کرنا، ہرگز جائز نہیں ہے۔ مؤمن جد و جہد کرنے کے لیے پیدا ہوا ہے بیٹھ رہنے کے لیے نہیں۔ اور اس کی تخلیق کشمکش کے لیے ہوئی ہے فرار کے لیے نہیں۔ اس کا ایمان اور اس کا اخلاق کارگاہِ حیات سے فرار اختیار کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ اس کے پاس ایسا ہتھیار ہے جو کبھی خراب نہیں ہوتا اور ایسا ذخیرہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ ہتھیار ایمان محکم اور وہ ذخیرہ اخلاق کی پختگی کا ہے۔
جو شخص اس جرم شنیع کا مرتکب ہو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعید سنائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم اور اس کے غضب کا مستحق ہوگا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں، ان میں ایک شخص تھا جو زخمی ہوگیا اور جزع فزع کرنے لگا۔ اسی حالت میں اُس نے چھری لی اور اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا جس سے اس قدر خون بہہ پڑا کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے اپنے نفس کے معاملہ میں جلد بازی کی لہذا میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔“
بخاری کتاب احاديث الانبياء باب ما ذكر عن بني اسرائيل ح : 3463 ۔ مسلم کتاب الايمان باب بیان غلظ تحریم قتل الانسان نفسه ح : 113
یہ مثال ہے ایسے شخص کی جو زخم کی تاب نہ لا کر خود کشی کر بیٹھا اور جنت کو اپنے اوپر حرام کر لیا تو غور کریں جو لوگ کاروبار میں تھوڑے بہت نقصان یا امتحان میں ناکام ہو جانے کی بنا پر خود کشی کر بیٹھتے ہیں، ان کا معاملہ کس قدر شدید ہوگا؟ کمزور ارادہ کے لوگوں کو یہ وعید سن لینی چاہیے جو حدیث نبوی میں بیان ہوئی ہے :
من تردى من جبل فقتل نفسه فهو فى نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن تحسى سما فقتل نفسه فسمه فى يده يتحساه فى نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن قتل نفسه بحديدة فحديدته فى يده يتوجأ بها فى نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا
”جس نے اپنے کو پہاڑ سے گرا کر خود کشی کر لی وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گرتا رہے گا۔ اور جس نے زہر کھا کر خود کشی کر لی وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے ہاتھ سے زہر کھاتا رہے گا۔ اور جس نے لوہے کی کسی چیز سے خود کشی کی وہ بھی جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لوہے کی اس چیز سے اپنے کو زخمی کرتا رہے گا۔“
بخاری کتاب الطب باب شرب السم الدواء ح : 5778 ۔ مسلم کتاب الایمان باب بیان غلظ تحريم قتل الانسان نفسه ح : 109