مشرکین عرب بتوں کا بھی حج کرتے تھے :
کسی باعظمت جگہ کی طرف سفر کرنا حج کے مترادف ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر امت کسی نہ کسی جگہ کا حج کرتی ہے۔ جیسے مشرکین عرب لات، عزی اور مناۃ وغیرہ کا حج کرتے تھے۔ چنانچہ ایک یہودی عالم امیہ بن ابی صلت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خوش خبری دیتے ہوئے کہتا ہے:
إنه قد أظل زمان نبي يبعث وهو من بيت يحجه العرب فقال أمية نحن معشر ثقيف فينا بيت يحجه العرب فقال الحبر إنه ليس منكم إنه من إخوانكم من قريش
”ایک نبی کے مبعوث ہونے کا وقت آ گیا ہے جو ایسے گھر میں پیدا ہوگا، جس کا لوگ حج کرتے ہیں۔ امیہ نے کہا: ہم بنو ثقیف ہیں، ہم میں ایسا گھر ہے جس کا لوگ حج کرنے آتے ہیں۔ یہودی عالم نے کہا کہ وہ تم میں سے نہیں بلکہ وہ تمہارے بھائیوں قریش میں سے ہو گا۔“
(دلائل النبوة لأبي نعيم: 355، من طريق الطبراني (7623) و فيه مجاشع بن عمرو و هو ضعيف كما في المجمع (232 / 8)
مندرجہ بالا عبارت میں امیہ بتا رہا ہے کہ عرب لات، عزی وغیرہ کا حج کیا کرتے تھے۔ علماء سلف کا ایک گروہ لات کے بارے میں لکھتا ہے:
إن هذا كان رجلا يلت السويق للحاج ويطعمهم إياه فلما مات عكفوا على قبره وصار وثنا يحج إليه ويصلى له ويدعى من دون الله
”وہ ایک آدمی تھا جو حاجیوں کو ستو پلایا کرتا تھا جب وہ فوت ہو گیا تو لوگ اس کی قبر پر مجاور بن کر بیٹھ گئے جو رفتہ رفتہ بت بن گئی جس کا لوگ حج کرتے، اس کے لیے نماز پڑھتے اور اسے اللہ کے سوا پکارتے۔“
تفسير الدر المنثور (7) 574، 575) واصله عند البخاري في التفسير (4859)
سلف امت کی ایک جماعت آیت افرايتم اللات کو تشدید ” ت“ پڑھتی ہے۔
لات اہل طائف کا بت تھا۔
عزی اہل مکہ کا مشکل کشا۔
اور اہل مدینہ مناۃ دیوی کی پوجا کرتے تھے۔
اس لیے غزوہ احد میں ابوسفیان نے بآواز بلند کہا تھا:
أعل هبل
”ہبل بلند ہو!“
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کہا کہ اس کا جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کیا جواب دیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جواب دو:“
الله أعلى وأجل
”اللہ ہی بلند و بالا ہے۔“
ابوسفیان نے یہ جواب سن کر کہا:
إن لنا العزى ولا عزى لكم
”ہمارا مددگار عزی ہے، تمہارا کوئی عزی نہیں!“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا: ”اس کا جواب کیوں نہیں دیتے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ہم کیا جواب دیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جواب دو:“
الله مولانا ولا مولى لكم
”ہمارا مددگار اللہ تعالیٰ ہے، تمہارا کوئی مددگار نہیں۔“
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة احد، حدیث: 4043)
پس ثابت ہوا کہ کسی بھی باعظمت و اہم مقام کی طرف عبادت کی نیت سے سفر کرنا حج کی جنس میں سے ہے اور مشرکینِ عرب بھی امتوں میں سے ایک امت تھے جو اپنے معبودانِ باطل لات، عزی اور مناۃ کی طرف حج کے لیے سفر کیا کرتے تھے۔ اس کے باوجود یہ لوگ بیت اللہ کا حج کرتے، طواف کرتے اور وقوفِ عرفات بھی کرتے تھے۔ یہ لوگ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور ساتھ ساتھ غیر اللہ کی عبادت بھی کرتے۔ وہ اپنے تلبیہ میں پکار پکار کر کہا کرتے:
لبيك لا شريك لك إلا شريكا هو لك تملكه وما ملك
غلام اور شریک میں فرق :
اللہ تعالیٰ ان کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے:
ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ ۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ
”وہ تمہیں خود تمہاری اپنی ہی ذات سے ایک مثال دیتا ہے کہ کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو؟“
(30-الروم:28)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنی مملوکہ چیز میں دوسرے کی شرکت گوارا نہیں کرتے تو میری مملوکہ مخلوق کو میرا شریک کیوں ٹھہراتے ہو؟ اللہ تعالیٰ کے سوا ملائکہ ہوں یا انبیاء علیہم السلام، صالحینِ امت ہوں یا کوئی دوسری مخلوق، سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ اللہ کی صفت تو یہ ہے:
لا إله إلا هو له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير
”نہیں کوئی معبود مگر وہی ایک، اسی کی بادشاہت اور اسی کی حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادرِ مطلق ہے۔“
انبیاء کرام اور ملائکہ کو اللہ کے شریک ٹھہرانے کو کفر سے تعبیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا الْمَلَائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًا ۗ أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿٨٠﴾
”وہ (پیغمبر) تم سے ہرگز یہ نہ کہے گا کہ فرشتوں کو یا پیغمبروں کو اپنا رب بنا لو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جبکہ تم مسلم ہو؟“
(3-آل عمران:80)
نصاری کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿٣١﴾
”انہوں نے اپنے علماء اور پیروں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو، حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، جس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔“
(9-التوبة:31)
عیسائیوں اور ہندو قوموں کے حج :
موجودہ دور کے مشرکین کا تعلق ہند سے ہو یا کسی دوسرے ملک سے، سب کے سب اپنے معبودانِ باطل کا حج کرنے جاتے ہیں جیسے ہندو سومناۃ وغیرہ کا اور اسی طرح نصاری قمامہ، بیت لحم اور القونہ کا حج کرتے ہیں۔
القونہ سیدنایہ میں واقع ہے۔
اصل میں القونہ ان تصاویر کو کہتے ہیں جو نصاری اپنے گرجوں میں رکھتے ہیں۔ ان تصاویر کی وہ بہت تعظیم و تکریم کرتے ہیں۔ نیز ان تصاویر کو اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان شفاعت کنندہ خیال کرتے ہیں۔
القونہ اصحاب الفیل کی باقیات سے ہے :
مفسرین و مؤرخین کا کہنا ہے کہ القونہ ابرہہ کی تصویر ہے جو یمن کا حکمران تھا۔ وہی ابرہہ تھا جو ہاتھیوں کی فوج لے کر بیت اللہ کو گرانے کی نیت سے مکہ پر حملہ آور ہوا تھا تاکہ کعبہ کو منہدم کرے اور عربوں کو اپنے زیرِ نگین کر لے۔
یہ اس وقت کا واقعہ ہے جبکہ حبشیوں نے یمن کو فتح کر لیا اور عربوں پر غالب آ گئے تھے۔ اس کے بعد سیف بن ذی یزن آیا جس نے شاہِ ایران سے مدد لے کر حبشیوں کو یمن سے نکال باہر کیا۔ یہ وہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خوشخبری دی تھی۔ جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، یہی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی نشانی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعتِ مطہرہ کی جیتی جاگتی علامت ہے اور صرف بیت اللہ ہی ایک ایسا گھر باقی ہے جس کی طرف منہ کر کے امتِ محمدیہ نماز پڑھتی ہے اور جس کا ہر سال حج کیا جاتا ہے۔
یہ واقعہ مشہور ہے کہ ابرہہ نے ملکِ یمن میں ایک خوبصورت کنیسہ تعمیر کیا۔ اس کا ارادہ یہ تھا کہ عربوں کے ذہن اس کی طرف مائل ہوں اور وہ اس کا حج کریں۔ لیکن ہوا یہ کہ ایک عرب اس میں داخل ہوا تو اس نے وہاں پاخانہ کر دیا، جس سے ابرہہ غصے سے لال پیلا ہو گیا اور اپنی فوج لے کر بیت اللہ کو گرانے کے لیے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ لیکن جب وہ منی اور عرفات کے درمیان وادیِ عرنہ میں خیمہ زن ہوا تو اللہ نے اس کا پورا لشکر تباہ کر دیا۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رب ذوالجلال فرماتا ہے:
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ ﴿١﴾ أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ ﴿٢﴾ وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ ﴿٣﴾ تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ ﴿٤﴾ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ ﴿٥﴾
”تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا؟ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے جو ان کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے۔ پھر ان کا ایسا حال کر دیا جیسے (جانوروں) کا کھایا ہوا بھوسا۔“
(105-الفيل:1-5)
مفسرین و مورخین کے ہاں یہ بات مسلم ہے کہ ابرھہ نے یمن میں جو کنیسہ تعمیر کیا تھا اس نے اس کا مقصد عربوں کو اس کے حج کی طرف مائل کرنا تھا۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ وہ اس کنیسہ میں وہی کام ہوتے دیکھنا چاہتا تھا جو نصاری اپنے کنائس میں کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ نصاری کے ہاں کنائس کی طرف سفر کرنا بالکل اسی طرح ہے جس طرح مسلمان حج کی نیت سے مکہ مکرمہ کا سفر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابرہہ اپنے تعمیر کردہ کلیسا کو بیت اللہ کے مشابہ قرار دیتا تھا اور اس کی طرف سفر کرنے کو حج قرار دیتا تھا۔ گویا جو شخص زمین کے کسی حصہ کو عبادت کے لیے منتخب کر کے اس کی طرف سفر کرتا ہے وہ اسی طرح ہے جیسے اس نے بیت اللہ کی طرف سفر کیا، کیونکہ اس نے یہ سفر عبادت کی نیت سے کیا ہے جو حج کے مترادف ہے۔