بدعتی سے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے زار ہیں
پس ہر وہ بدعتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مخالفت کرتا ہے اور شریعت کی بعض ہدایات کی تکذیب کرتا ہے اور ایسے امور کو جن کی انبیاء نے اجازت نہیں دی، دین میں داخل کرتا ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بیزار ہیں۔ قرآن کریم اس کی یوں وضاحت کرتا ہے کہ:
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ
”اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بے زار و بری الذمہ ہوں۔“
(26-الشعراء:216)
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ
”جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ در گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں۔“
(6-الانعام:159)
دین کی بنیاد صرف کتاب و سنت
● حلال وہ جسے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم حلال قرار دیں۔
● حرام وہ جسے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم حرام کہیں۔
● دین وہ جسے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مقرر کریں۔
رب کریم مشرکین کی مذمت کرتا ہے کہ انہوں نے حلال کو حرام قرار دیا اور وہ دین اختیار کیا جس کی اس نے اجازت نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ
”کیا یہ لوگ اللہ کے کچھ شریک ایسے رکھتے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا؟“
(42-الشورى:21)
قرآن کی سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مسائل بیان کیے ہیں جو تمام انبیاء کے متفق علیہ تھے جیسے:
● اللہ پر ایمان لانا
● ملائکہ پر ایمان لانا
●کتب سماویہ پر ایمان لانا
●تمام انبیاء پر ایمان لانا
●قیامت پر ایمان لانا
●اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔ جن کے بعد کوئی نبی نہیں، جن کی امت کو خیر امت کا لقب ملا جن کا کام دعوت الی اللہ ہے۔
رب کریم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل ترین کتاب دی۔ بہترین شریعت سے نوازا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے دین مکمل فرمایا، اتمام نعمت کی دولت سے نوازا اور بلحاظ دین کے اسلام پر رضامندی کا تمغہ عطا فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراط مستقیم ہی کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس صفت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ:
نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٥٢﴾ صِرَاطِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ ﴿٥٣﴾
”یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو۔ اس اللہ کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے۔ خبردار رہو! تمام معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔“
(42-الشورى:52)
اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ہم اسی کے صراط مستقیم پر چلیں اور دیگر نئے نئے راستوں کو ترک کر دیں۔