مضمون کے اہم نکات
دست بوسی کی شرعی حیثیت
دست بوسی مشروع ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
[كانت إذا دخلت عليه؛ قام إليها، فأخذ بيدها، وقبلها، وأجلسها في مجلسه، وكان إذا دخل عليها؛ قامت إليه، فأخذت بيده، فقبلته، وأجلسته في مجلسها]
فاطمہ رضی اللہ عنہا جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آتیں، تو آپ ﷺ ان کی طرف کھڑے ہوتے، ان کے ہاتھ کو پکڑتے، اسے بوسہ دیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ اسی طرح جب نبی کریم ﷺ ان کے ہاں تشریف لے جاتے، تو سیدہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی طرف کھڑی ہوتیں، آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑتیں، اسے بوسہ دیتیں اور آپ ﷺ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔
[سنن أبي داؤد: 5217، السنن الكبرى للنسائي: 8311 ، 9192، سنن الترمذي: 3872، وسنده حسنٌ]
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح غریب“ کہا ہے اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (6953) نے اسے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
فائدہ مہمہ:
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی صحابی سے نبی کریم ﷺ کے مبارک ہاتھ کو چومنا ثابت نہیں، اس بارے میں وارد ساری کی ساری روایات ”ضعیف“ ہیں۔
البتہ سلف صالحین سے اہل علم وفضل کے ہاتھ چومنا ثابت ہے۔
عاصم بن بہدلہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[ما قدمت علىٰ أبي وائل قط من سفر؛ إلا قبل كفي]
میں جب بھی سفر سے واپس ابو وائل (شقیق بن سلمہ تابعی رحمہ اللہ) کے پاس پہنچا، تو انہوں نے میرا ہاتھ چوما۔
[القبل والمعانقة والمصافحة لابن الأعرابي: 5، وسنده حسن]
حسین بن علی بن ولید جعفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ربما فعله لي سفيان، يعني ابن عيينة، يعني يقبل يده]
بسا اوقات امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ میرا ہاتھ چوما کرتے تھے۔
[القبل والمعانقة والمصافحة لابن الأعرابي: 7، وسنده صحيح]
امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ، محدث ابو مسہر رحمہ اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
[إذا خرج إلى المسجد؛ اصطف الناس له يمنة ويسرة، يسلمون عليه، ويقبلون يده]
جب آپ رحمہ اللہ مسجد کی طرف نکلتے، تو لوگ دائیں بائیں قطار بنا کر کھڑے ہوتے، آپ کو سلام کرتے اور آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیتے۔
[تقدمة الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 291]
اہل علم وفضل، والدین، نیک بزرگوں اور اساتذہ کرام کی عزت وتکریم کرتے ہوئے ان کا ہاتھ چومنا شرعاً مشروع اور جائز ہے، بشرطیکہ ان میں عجب و تکبر پیدا ہونے کا خدشہ نہ ہو، ایسی صورت میں اجتناب ضروری ہو جائے گا۔
حصولِ تبرک کے لیے دست بوسی:
اگر کوئی شخص اولیا اور صالحین کے ہاتھ حصولِ تبرک کے لیے چومتا ہے، تو یہ اقدام غیر شرعی، ناجائز ہونے کے ساتھ ساتھ قبیح بدعت اور منکر فعل ہے۔ اس کے بدعت ہونے کی دو وجہیں ہیں؛ پہلی یہ کہ تبرک آثارِ نبویہ کے ساتھ خاص ہے، اس تعظیم میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری یہ کہ خیر القرون میں کسی ثقہ مسلمان سے کسی کے ہاتھ تبرکاً چومنا ثابت نہیں۔ سلف صالحین کی پیروی میں دین اپنانا چاہیے، کیونکہ وہ شریعت کے تقاضوں سے بخوبی واقف تھے اور انہیں پورا کرنے والے تھے۔
دست بوسی کے بارے میں چند روایات کی تحقیق:
ہاتھ چومنے کے متعلق چند روایات کی تحقیق پیشِ خدمت ہے:
[1] حدیث ابن عمر: [سنن أبي داؤد: 2647]
سند سخت ضعیف ہے۔
یزید بن ابی زیاد ضعیف، سیء الحفظ اور مدلس ہے۔
[2] حدیث أسامة بن شریک: [المعجم الصغير للطبراني: 2041، الرخصة في تقبيل اليد لابن المقري: 2، القبل والمعانقة والمصافحة لابن الأعرابي:3]
سند ضعیف ہے۔
ابو سعید حارثی ضعیف ہے۔ اس کی متابعت عمر بن یزید بن رفاعہ ابو ہشام رفاعی ضعیف نے کی ہے، لہذا یہ متابعت مفید نہیں۔
[3] حدیث زاهر بن حزام: [المعجم الكبير للطبراني: 274/5، معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني: 3084، القبل والمصافحة لابن الأعرابي: 16]
سند ضعیف ہے۔
سالم بن ابی الجعد کثیر الارسال ہے۔ اس کا زاہر سے سماع ثابت نہیں ہو سکا۔
[4] حدیث الحسن البصری: [القبل والمصافحة لابن الأعرابي:24]
جھوٹی روایت ہے۔
① حسن بصری کا عنعنہ ہے۔ ② عمرو بن عبید متروک ہے۔ ③ سفیان بن عیینہ کا عنعنہ ہے۔
سند میں اور بھی خرابیاں ہیں۔
[5] حدیث کعب بن مالک: [الرخصة في تقبيل اليد لابن المقري: 1]
جھوٹی روایت ہے۔
اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فروہ متروک ہے۔
[6] حدیث زید العبدی: [الأدب المُفرد للبخاري: 587، الرُّخصة في تقبيل اليد لابن المُقري: 6، مُسند أبي يعلى: 685، المُعجم الكبير للطبراني: 345/20-346]
سند ضعیف ہے۔
ہود بن عبد اللہ بن سعد عصری مجہول الحال ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ”الثقات: 516/5“ میں ذکر کیا ہے۔
◈ حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ نے ”مجہول الحال“ قرار دیا ہے۔
[بيان الوهم والإيهام: 1248]
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لا يكاد يعرف]
یہ معروف نہیں ہے۔ (ميزان الاعتدال: 310/4)
[7] حدیث جابر بن عبد الله: [تقبيل اليد لابن المُقري: 11]
روایت سخت ضعیف ہے۔
① اعمش کا عنعنہ ہے۔ ② عبید اللہ بن سعید بن مسلم کوفی ضعیف ہے۔ ③ صالح بن مبارک کے حالات نہیں مل سکے۔
آثارِ صحابہ:
① عبد الرحمن بن رزین سے مروی ہے کہ میں نے صحابیِ رسول، سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کو سلام کیا، تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ باہر نکال کر فرمایا:
[بايعت بهاتين نبي الله صلى الله عليه وسلم، فأخرج كفا له ضخمة، كأنها كف بعير، فقمنا إليها فقبلناها]
میں نے ان دونوں ہاتھوں سے نبی کریم ﷺ سے بیعت کی ہے۔ انہوں نے اپنی ہتھیلی کو باہر نکالا جو اونٹ کی ہتھیلی کی مانند موٹی تھی۔ ہم نے کھڑے ہو کر ان کی ہتھیلی کو بوسہ دیا۔
[الأدب المفرد للبخاري: 973]
سند ضعیف ہے۔
عبد الرحمن بن رزین ”مجہول الحال“ ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ”الثقات: 82/5“ میں ذکر کیا ہے۔
◈ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ”مجہول“ قرار دیا ہے۔ (سنن الدارقطني: 198/1)
② یونس بن میسرہ سے مروی ہے کہ ایک روز سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس ہمارا آنا ہوا۔ ان کے پاس سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ تشریف لائے:
[فلما نظر إليه؛ مد يده، فأخذ يده، فمسح بها وجهه وصدره، لأنه بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم]
سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر اپنا ہاتھ ان کی طرف دراز کیا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے اور سینے پر مل لیا، کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی ہوئی تھی۔
[حلية الأولياء لأبي نعيم: 306/9]
جھوٹی روایت ہے۔
اسے بیان کرنے والے عمرو بن واقد قرشی ابو حفص اور موسیٰ بن عیسیٰ بن نذر دونوں متروک ہیں۔
③ ثابت بنانی رحمہ اللہ سے مروی ہے:
[إنه قال لأنس: أمسست النبي صلى الله عليه وسلم بيدك؟ قال: نعم، فقبلها]
انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو اپنے ہاتھ سے چھوا تھا؟ فرمایا: جی ہاں! اس پر انہوں نے ان کا ہاتھ چوم لیا۔
[الأدب المفرد للبخاري: 974]
سند ضعیف ہے۔
① علی بن زید بن جدعان ”ضعیف“ ہے۔ ② سفیان بن عیینہ ”مدلس“ ہیں، سماع کی تصریح نہیں مل سکی۔
④ یحییٰ بن حارث ذماری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میری واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے
ملاقات ہوئی، تو میں نے ان سے کہا:
[أمسست النبي صلى الله عليه وسلم بيدك؟]
کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو چھوا ہے؟
انہوں نے فرمایا: جی ہاں! تو میں نے ان کا ہاتھ چوم لیا۔
[المُعجم الكبير للطبراني: 22/ 94]
سند ضعیف ہے۔ ابو عبد الملک القاری نامعلوم ہے۔
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لم أعرفه] میں اسے نہیں جانتا۔ (مجمع الزوائد: 42/8)
پیٹ کا بوسہ:
عمیر بن اسحاق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[كنت مع الحسن بن علي، فلقينا أبو هريرة، فقال: أرني؛ أقبل منك، حيث رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل، قال: فقال بقميصه، قال: فقبل سرته]
میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھا۔ ہماری ملاقات سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے اپنے جسم کی وہ جگہ دکھائیے، جہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو بوسہ دیتے دیکھا ہے، تاکہ میں بھی وہیں پر آپ کو بوسہ دوں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیص اٹھائی، تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف پر بوسہ دیا۔
[مُسند الإمام أحمد: 10398، السنن الكبرى للبيهقي: 3247، وسنده حسنٌ]
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6965) اور امام حاکم رحمہ اللہ (168/3) نے ”صحیح“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا حسن رضی اللہ عنہ کو یہ بوسہ دینا، نبی کریم ﷺ کی پیروی میں تھا کہ جہاں آپ ﷺ نے بوسہ دیا، میں بھی وہاں بوسہ دوں، چنانچہ انہوں نے اس جگہ بوسہ دے دیا۔