بزدلی، قرآن مجید لے کر دشمن ملک کا سفر اور میدانِ جہاد سے فرار کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

بزدلی اور نا مردی کی ممانعت

① امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”مومن کی شرافت و عزت اس کا تقویٰ ہے، اس کا دین اس کا حسب ہے، اس کی مروت اس کا اخلاق ہے جبکہ جرات و نامردی یہ طبعی چیزیں ہیں، اللہ جیسے چاہتا ہے انہیں ودیعت فرماتا ہے۔ چنانچہ بزدل و نامرد شخص اپنے والدین سے بھی راہِ فرار اختیار کرتا ہے جبکہ بہادر شخص لڑتا ہے اور اپنی واپسی کی بھی پروا نہیں کرتا، اور قتل ہونا موت کی ایک شکل ہے، اور شہید وہ ہے جس نے اپنی جان کو اللہ سے ثواب کی امید پر وقف کر رکھا ہو“۔
الموطا 2/ 463، حديث 35۔

قرآن مجید لے کر دشمن ملک کا سفر کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید لے کر دشمن ملک کا سفر کرنے سے منع فرمایا ہے (کہ وہ کہیں قرآن مجید کی بے حرمتی نہ کریں)۔
بخاری، كتاب الجهاد والسیر 2990۔ مسلم، كتاب الامارة 1869/92۔ موطاء كتاب الجهاد 2/ 446۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تسافروا بالقرآن فإني لا آمن أن يناله العدو
”قرآن مجید لے کر سفر نہ کیا کرو اس لیے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ دشمن اسے اپنے قبضے میں نہ لے لے“۔
موطا، كتاب الجهاد 446/2، مسلم، الإمارة 1491/3۔

میدان جہاد سے فرار ہونے کی ممانعت

① سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من جاء يعبد الله لا يشرك به شيئا ويقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويجتنب الكبائر كان له الجنة
”جو شخص اس حال میں آئے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتا ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ دیتا ہو اور وہ کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو تو اس کے لیے جنت ہے“۔
پس انہوں نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق سوال کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الإشراك بالله ، وقتل النفس المسلمة ، والفرار من الزحف
”اللہ کے ساتھ شریک بنانا، مسلمان کو ناحق قتل کرنا اور میدانِ جہاد سے فرار اختیار کرنا“۔
نسائی، التحريم 81/7 مسند احمد 482/5۔