نورِ محمدی اور مومن کا دل رب کا گھر والی روایات کی تحقیق

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔

عقائد اہل السنۃ والجماعۃ

سوال: کیا رسول اللہﷺ کا نور سب سے پہلے پیدا کیا گیا؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ اے جابر! اللہ نے تمام اشیاء سے پہلے اپنے نور سے تیرے نبی کا نور پیدا کیا پھر اس کے چار حصے کیے، ایک سے قلم، دوسرے سے لوحِ محفوظ، تیسرے سے عرش اور چوتھے سے کل کائنات پیدا کی؟ (ریاض السالکین)
جواب: یہ روایت بلا سند ہے، موضوع یعنی من گھڑت ہے۔ ایسی روایت کو رسول اللہ ﷺ کا فرمان کہنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر کوئی ایسی بات میری طرف منسوب کی، جو میں نے نہ کہی ہو، وہ اپنا مقام جہنم میں بنا لے۔ [بخاری، کتاب العلم، باب إثم من كذب على النبي ﷺ:106، 107]،[مقدمة صحيح مسلم، باب تغليظ الكذب على رسول اللهﷺ:1تا4]اس کے مقابلے میں صحیح حدیث ترمذی میں ہے: بے شک اللہ نے سب سے پہلے قلم پیدا کیا۔

[ترمذی، كتاب القدر، باب (إعظام أمر الإيمان بالقدر): 2155]

سوال: حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:مومن کا دل رب کا گھر ہے،،کیا یہ صحیح نہیں؟

جواب: (قلب المؤمن بيت الرب)یہ روایت بے اصل، جھوٹی اور باطل ہے۔ امام ابن تیمیہ، علامہ سخاوی اور ملا علی قاری نے اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیا۔ جبکہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اولادِ آدم کا دل رحمن کی دو انگلیوں میں ہے، وہ جس طرف چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔

[مسلم، كتاب القدر، باب تصريف الله تعالى القلوب كيف شاء: 2654]

(یعنی) سب قلوب اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں اور یہ جھوٹی روایت کہتی ہے کہ ہر قلب اللہ تعالیٰ کو محیط ہے۔ (معاذ اللہ!)