خرید و فروخت کے جائز و ناجائز اصول صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

معاملات

اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اس طور سے فرمائی ہے کہ افراد ایک دوسرے کے ضرورت مند ہیں۔ کوئی شخص بھی خود مکتفی اور دوسروں سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ کسی کے پاس ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن سے وہ خود بے نیاز ہوتا ہے لیکن دیگر لوگ اس کے محتاج ہوتے ہیں اور جن چیزوں سے دوسرے لوگ بے نیاز ہوتے ہیں ان کا وہ ضرورت مند ہوتا ہے۔ ان تمدنی ضروریات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ وہ اموال تجارت اور منفعت بخش چیزوں کا بیع وشراء کے ذریعہ تبادلہ کریں تاکہ زندگی استوار ہو اور معاملات مفید اور نتیجہ بخش طریقہ پر انجام پاسکیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو عربوں میں بیع و شراء اور مبادلہ کی مختلف شکلیں رائج تھیں۔ ان میں سے جو شکلیں شرعی اصول سے ہم آہنگ تھیں، ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برقرار رکھا اور جو شکلیں ہم آہنگ نہ تھیں ان سے منع فرما دیا۔ یہ ممانعت چند اسباب کی بنا پر تھی۔ مثلاً معصیت کے کام میں تعاون، دھوکہ دہی، ناجائز نفع اندوزی، معاملہ کے کسی فریق کے ساتھ ظلم و زیادتی وغیرہ۔

حرام چیزوں کی بیع بھی حرام ہے

اشیائے ممنوعہ سے فائدہ اٹھانا معصیت کے قبیل سے ہے اس لیے اس کی خرید و فروخت اور تجارت کرنا بھی حرام ہے۔ مثلا خنزیر، شراب، خوردونوش کی حرام چیزیں، بت، صلیب، مجسمے وغیرہ۔ اگر ان چیزوں کی خریدو فروخت اور ان کی تجارت کو جائز قرار دیا جاتا تو معصیت کے ان کاموں کو فروغ حاصل ہوتا، لوگوں کو ان چیزوں کے قریب جانے کا موقع ملتا، ان کا حصول آسان ہو جاتا اور لوگوں کے اندر ان کی رغبت پیدا ہو جاتی۔ لیکن چونکہ ان کی خرید و فروخت اور ان کا حصول حرام کر دیا گیا ہے اس لیے وہ ان چیزوں سے گریز کر سکتے ہیں۔ اب نہ ان چیزوں کی طرف توجہ مبذول ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان کی یاد تازہ رہ سکتی ہے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام
”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت حرام کر دی ہے۔“
بخاری کتاب البيوع باب بيع الميتة والاصنام ح : 2236 ۔ مسلم كتاب المساقاة باب تحريم بيع الخمر والميتة ح : 1581
نیز فرمایا :
إن الله إذا حرم شيئا حرم ثمنه
”اللہ جب کسی چیز کو حرام کر دیتا ہے تو اس کی قیمت کو بھی حرام کر دیتا ہے۔“
مسند احمد : 1/293 ، 322 ابو داود کتاب البيوع باب في ثمن الخمر والميتة ح : 3488

دھوکہ کی بیع ممنوع ہے

ہر وہ معاملہ بیع جس میں مال کے مجہول ہونے یا دھوکہ کی صورت پیدا ہو جانے یا ایک فریق کے دوسرے فریق کو گھاٹا دینے کی بنا پر نزاع (اختلاف) کے لیے بازار گرم ہوتا ہو، سد ذریعہ کے طور پر ممنوع ہے مثلاً مچھلی کا صلب میں یا اونٹنی کے بطن میں جو بچہ ہو اس کا سودا کرنا یا اڑتے ہوئے پرندے یا پانی کے اندر کی مچھلیوں اور اس قسم کی ہر مجہول چیز کی خرید وفروخت۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پھلوں کو کھیتوں اور باغوں میں ان کے پختہ ہونے سے پہلے ہی فروخت کر دیا جاتا تھا۔ اور معاملہ طے ہو جانے کے بعد کبھی ایسا ہوتا کہ آفت سماوی کی وجہ سے پھل تباہ ہو جاتے اور ایسی صورت میں بائع اور مشتری کے درمیان نزاع (اختلاف) پیدا ہو جاتا۔ بائع کہتا میں سودا مکمل کر چکا ہوں، اور خریدار کہتا تو نے پھل کا سودا کیا ہے اور پھل ہی غائب ہیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے۔
بخاری کتاب البيوع باب بيع الثمار قبل ان يبدو صلاحها ح : 2193 ۔ مسلم كتاب البيوع باب النهي عن بيع الثمار قبل بدو صلاحها ح : 1534
الا یہ کہ معاملہ فوری طور سے پھل توڑنے کی شرط پر کیا جائے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشوں کی بیع کی بھی ممانعت فرمائی یہاں تک کہ وہ سفید ہو جائیں اور آفت کا خطرہ باقی نہ رہے۔
مسلم حوالہ سابق ح : 1535
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے یہ بھی سوچا کہ جب اللہ نے پھلوں کی پیداوار کو روک دیا ہو تو تمہارے لیے اپنے بھائی کا مال لینا کس طرح جائز ہوگا؟
بخاری کتاب البيوع باب اذا باع الثمار قبل ان يبدو صلاحها ح : 2198 ۔ مسلم کتاب المساقاة باب وضع الجوائح ح : 1555
ہر مجہول چیز کی بیع ممنوع نہیں ہے کیونکہ بعض چیزیں ایسی ہیں کہ ان کی حقیقی حالت کا پتہ ہی نہیں چل سکتا مثلاً اگر کوئی شخص مکان خریدتا ہے تو اس کی بنیاد اور دیواروں کے اندر کا حال اسے معلوم نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جو چیز ممنوع ہے وہ کسی چیز کا صریح مجہول ہونا ہے جس کے باعث نزاع یا باطل طریقہ پر لوگوں کا مال کھانے کی صورت پیدا ہوتی ہے۔
اگر کوئی چیز معمولی درجہ میں مجہول ہو تو اس کی بیع کرنا حرام نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ان چیزوں کی بیع جو زمین کے اندر ہوتی ہیں جیسے مولی، گاجر، پیاز وغیرہ اسی طرح لکڑی اور خربوزے کے کھیتوں کی بیع جو امام مالک رحمہ اللہ کے قول کے مطابق جائز ہے۔ امام موصوف ان تمام چیزوں کی خرید و فروخت کو جائز کہتے ہیں جو بہ تقاضائے ضرورت ہوں اور جن میں مجہول ہونے کا پہلو بہت معمولی ہو۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
بیع کے سلسلہ میں امام مالک کے اصول دوسرے فقہاء کے اصولوں کے مقابلہ میں بہتر ہیں، کیونکہ ان کا مسلک سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے مسلک سے ماخوذ ہے جو بیع کے مسائل میں سب سے بڑے فقیہ مانے جاتے تھے۔
القواعد ص : 118
اور امام احمد رحمہ اللہ کا مسلک بھی قریب قریب یہی ہے۔