دجال کی جنت اور جہنم :
عن حذيفة رضى الله عنه قال : إني سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إن مع الدجال إذا خرج ماء ونارا فأما الذى يرى الناس أنها النار فماء بارد ، وأما الذى يرى الناس أنه ماء بارد فنار تحرق فمن أدرك منكم فليقع فى الذى يرى أنها نار فإنه عذب بارد
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ دجال جب خارج ہو گا تو اس کے پاس پانی اور آگ ہو گی جسے لوگ آگ خیال کریں گے وہ دراصل ٹھنڈا پانی ہوگا اور جسے لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ دراصل جلانے والی آگ ہوگی۔ تم میں سے اگر کسی شخص کو اس (فتنے) سے پالا پڑے تو وہ اس کی آگ میں داخل ہو جائے کیونکہ وہ (دراصل) شیریں اور ٹھنڈا (پانی) ہے۔
بخاری : کتاب الفتن : باب ذكر عن بني اسرائیل (3450) مسلم (2934) ابو داود (3415) ابن ماجة (4122) ابن حبان (6799)
عن حذيفة رضى الله عنه قال : إن الناس كانوا يسألون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير وكنت أسأله عن الشر … قال : يخرج الدجال بعد ذلك معه نهر ونار من وقع فى ناره وجب أجره وحط وزره ومن وقع فى نهره وجب وزره وحط أجره
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے جبکہ میں شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر دجال نکلے گا اس کے ساتھ ایک نہر اور ایک آگ ہو گی۔ جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوا اس کے لئے اجر و ثواب واجب ہو گیا اور اس کے گناہ معاف کر دیئے گئے اور جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوا اس پر گناہ لاد دیئے گئے اور اس کا اجر مٹادیا گیا۔
احمد (9/5 – 498) مشكل الآثار (377/14) حاکم (479/4) ابن حبان (209/15) واصله في الصحيحين
وعن حذيفة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الدجال أعور العين اليسرى جفال الشعر معه جنة ونار فناره جنة وجنته نار
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال بائیں آنکھ سے کانا ہے ، گھنے بالوں والا ہے۔ اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک آگ (جہنم) ہوگی پس اس کی آگ تو (دراصل) جنت ہے اور اس کی جنت (فی الحقیقت) آگ ہے۔
مسلم : کتاب الفتن باب ذکر الدجال (2934)