دین فروشی، امت میں تفریق اور جھگڑا کرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

دنیا کے مال و متاع کی خاطر دین بیچنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بادروا بالأعمال فتنا كقطع الليل المظلم، يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا، ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا، يبيع دينه بعرض من الدنيا
”نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، عنقریب اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنوں کا ظہور ہوگا، آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا تو شام کو کافر، شام کو مومن ہوگا تو صبح کے وقت کافر، اور وہ دنیا کے مال و متاع کی خاطر اپنے دین کو بیچ ڈالے گا۔“
مسلم، کتاب الايمان 118/186، ترمذی، کتاب الفتن 2195۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی ممانعت

① عرفجہ بن شریح بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ستكون هنات وهنات، فمن أراد أن يفرق أمر هذه الأمة وهى جميع فاضربوه بالسيف
”عنقریب مصائب آنے والے ہیں اور شر پھیلنے والا ہے، پس جو شخص اس امت کے معاملے میں تفریق ڈالنا چاہے جبکہ وہ اکٹھے ہوں تو اسے تلوار سے قتل کر دو۔“
اور ایک روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنها ستكون بعدي هنات وهنات، فمن رأيتموه فارق الجماعة أو يريد تفريق أمة محمد كائنا من كان فاقتلوه، فإن يد الله على الجماعة، وإن الشيطان مع من فارق الجماعة يركض
”عنقریب میرے بعد مصائب آئیں گے، پس تم جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والے کو دیکھو یا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں تفریق کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور وہ خواہ کوئی بھی ہو تو اسے قتل کر دو، اس لیے کہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے، جبکہ جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والے کے ساتھ شیطان ہوتا ہے وہ علیحدہ ہے۔“
مسلم 1852/59، ابوداؤد، کتاب السنة 4762، نسائی، کتاب تحريم الدم 7 / 84۔
② سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيما رجل خرج يفرق بين أمتي فاضربوا عنقه
”جو آدمی میری امت میں تفریق ڈالنے کے لیے نکلے تو اس کی گردن مار دو (اسے قتل کر دو)۔“
نسائي، في تحريم الدم 85/7، باب قتل من فارق الجماعة۔

جھگڑا کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما ضل قوم بعد هدى كانوا عليه إلا أوتوا الجدل
”کوئی قوم ہدایت یافتہ ہونے کے بعد گمراہ نہیں ہوتی جب تک وہ (ناحق کو حق ثابت کرنے کے لیے) جھگڑالو نہ بن جائے۔“
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت تلاوت فرمائی:
﴿مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ ﴾
”وہ جھگڑے کے سوا آپ کے سامنے کوئی دلیل پیش نہ کر سکے، اس لیے کہ وہ ہیں ہی جھگڑالو قوم۔“
ترمذی، کتاب تفسیر القرآن 3253، ابن ماجه، المقدمه، حديث 48۔