سرکشی اور تکبر سے بچنے کی فضیلت
اللہ تعالیٰ کو ہر وہ کام جس میں اس کی معصیت ہو، اس کے احکامات کی خلاف ورزی ہو، نا پسند ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے احکامات کی بجا آوری ، عاجزی و انکساری کو محبوب رکھتا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں سرکشی، تکبر جو کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت کا سبب بنتا ہے ،سخت ناپسندیدہ ہے ۔ کیونکہ بڑائی اللہ تعالیٰ کا وصف ہے کہ وہ مالک الملک ہے۔ کائنات کی بادشاہت اس کے پاس ہے۔ اور اگر اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کی سرکشی پر اتر آئے ، اور اپنی بڑائی ظاہر کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے غضب سے محفوظ فرمائے ۔ آمین !
لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ متکبر اور دوسروں کے سامنے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ہے، جو اس خیال غلط میں مبتلا ہوتا ہے کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے جبھی تو اس نے اسے یہ نعمتیں دے رکھی ہیں، اس لیے کہ دنیا کی نعمتیں تو اللہ اپنے کافر بندوں کو بھی دیتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
﴿وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾
اور لوگوں سے اپنا چہرہ پھیر کر بات نہ کر، اور زمین میں اکڑ کر نہ چل ، بے شک اللہ ہر اس شخص کو پسند نہیں کرتا ہے جو اکڑ کر چلنے والا نخر کرنے والا ہوتا ہے۔
(31-لقمان:18)
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے بندوں کی صفتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ﴾
”وہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے ، اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں اور انجام کار بھلائی متقین ہی کے لیے ہے۔“
(28-القصص:83)
اور سورۃ النساء میں ارشاد ہوا:
﴿وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا﴾
”اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، اور اچھا سلوک کرو ماں باپ سے، اور قرابت داروں سے، اور یتیموں اور محتاجوں سے، اور قرابت والے ہمسایہ سے، اور اجنبی ہمسایہ سے، اور پاس بیٹھنے والے ( ہم جنس) سے، اور مسافر سے ، اور جو تمہاری ملک ہوں (کنیز ۔ غلام )، بیشک اللہ اسے دوست نہیں رکھتا جو اترانے والا ، بڑ مارنے والا ہو۔“
(4-النساء:36)
یہ تو تھیں چند آیات ربانیہ جن میں سرکشی و تکبر کی مذمت اور تواضع و انکساری کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اب چند ایک احادیث عاجزی و انکساری کی فضیلت اور سرکشی و تکبر کی مذمت میں ملاحظہ فرمائیں ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
” وما تواضع أحد لله إلا رفعه الله“
”اور جس شخص نے اللہ کے لیے عاجزی اختیار کی اللہ تعالیٰ اسے بلند فرمادے گا۔“
صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب استحباب العفر والتواضع، رقم : 2588
عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ”احتجت النار والجنة ، فقالت هذه: يدخلني الجبارون والمتكبرون، وقالت هذه: يدخلني الضعفاء والمساكين، فقال الله عزوجل لهذه: أنت عذابي أعذب بك من أشاء ، وقال لهذه: أنت رحمتي أرحم بك من أشاء ، ولكل واحدة منكما ملؤها“.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ کے درمیان جھگڑا ہوا ۔ جہنم نے کہا: میرے اندر سرکش اور متکبر انسان ہوں گے اور جنت نے کہا: میرے اندر کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے، پھر اللہ نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا، (اور دوزخ سے کہا ) تو میرا عذاب ہے، میں تیرے ذریعے سے جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا ، ( جنت سے کہا ) تو میری رحمت ہے، تیرے ذریعے سے میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا تم دونوں کا بھرنا میری ذمے داری ہے۔
صحیح مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها، باب النار يدخلها الجبارون، والجنة، رقم: 2846
حارثة بن وهب رضى الله عنه قال: سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول: ” ألا أخبرك بأهل الجنة؟ كل ضعيف متضعف ، لو أقسم على الله لأبره، ألا أخبركم بأهل النار؟ كل عتل جواظ مستكبر“.
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” کیا میں تمہیں جنتیوں کی خبر نہ دوں؟ ( پھر آپ نے خود ہی جواب دیا ) ہر کمزور، جو کمزور سمجھا جاتا ہے، اگر وہ اللہ پر قسم کھالے تو اللہ اسے پوری کر دیتا ہے۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کی خبر نہ دوں؟ ( پھر جواب دیا ) ہر تند خو سرکش، بخیل ( یا اترا کر چلنے والا ) اور متکبر شخص ۔“
صحيح بخاري، كتاب التفسير، باب قوله تعالي : (عتل بعد ذلك زنيم) رقم: 4918 ـ صحيح مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها، باب النار يدخلها الحبارون، والجنة يدخلها الضعفاء، رقم: 2853.
عن سلمة بن الأكوع رضى الله عنه أن رجلا أكل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم بشماله: فقال: ” كل بيمينك“. قال: ”لا أستطيع“. قال: ”لا استطعت“. ما منعه إلا الكبر ، قال: فما رفعها إلى فيه.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنے دائیں ہاتھ سے کھا۔“ اس نے کہا، میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نہ ہی طاقت رکھے۔ اسے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننے سے) صرف تکبر نے روکا، پھر وہ اپنا ہاتھ اپنے منہ کی طرف نہ اٹھا سکا۔“
صحیح مسلم، کتاب الاشربة ، باب آداب الطعام والشراب، رقم: 2021.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
” بينما رجل يتبختر يمشي فى برديه قد أعجبته نفسه ، فخسف الله به الأرض ، فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة“.
یوں ہوا کہ ایک شخص دو چادروں میں ملبوس تکبر سے چل رہا تھا اور اس کے نفس نے اسے خود پسندی اور تکبر میں مبتلا کر دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا ، اب وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔“
صحیح مسلم، کتاب اللباس، باب تحريم التبختر في المشى مع اعجابه بثيابه، رقم: 2088
قرعہ نامی ایک بندے نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پرانے کپڑے پہنے دیکھا تو وہ کہتا ہے کہ میں نے ان سے کہا: میں آپ کے لیے خراسان کا بنا ہوا نرم کپڑا نہ لے آؤں؟ (جسے آپ زیب تن فرمائیں ) اور جب میں آپ کو اس لباس میں دیکھوں گا تو میری آنکھوں کو سکون وٹھنڈک حاصل ہوگی ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ” مجھے وہ کپڑا دکھاؤ، (جب کپڑا لایا گیا تو) اسے چھو کر پوچھا: کیا یہ ریشمی ہے؟ میں نے کہا: نہیں یہ کاٹن کا ہے۔ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: ” مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں میں یہ پہن کر متکبر اور شیخی خورہ نہ بن جاؤں، اور اللہ تعالیٰ ہر متکبر اور شیخی خورے کو پسند نہیں کرتا ۔“
سیر اعلام النبلاء: 233/3 – 235
یعنی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس قدر متقی و عاجزی پسند تھے کہ اس ڈر سے اچھا کپڑا نہیں پہنتے کہ ایسا نہ ہو کہ میں قیمتی کپڑا پہن کر دوسروں کو حقیر جاننے لگوں، اور میرے دل میں تکبر ونخر پیدا ہو جائے ۔ لہذا انہوں نے انکار کر دیا۔
ابو وہب المروزی فرماتے ہیں : ” میں نے عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ سے تکبر کے بارے میں پوچھا ؟ تو انہوں نے جواب دیا: تکبر یہ ہے کہ تو لوگوں کو حقیر جانے ۔ پھر میں نے خود پسندی ، غرور کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ : ” خود پسندی یہ ہے کہ تیری یہ خواہش ہو کہ جو چیز تیرے پاس ہے کسی اور کے پاس ایسی شے نہ ہو، اور میں نمازی حضرات میں اس سے بری کوئی چیز نہیں جانتا۔“
سیر اعلام النبلاء: 407/8
خلاصہ کلام یہ ہے کہ : تکبر اللہ تعالیٰ کی چادر اور اس کا خاصہ ہے، لیکن اگر کوئی تکبر کا اظہار کرتا ہے، گویا وہ دانستگی یا نادانستگی میں اللہ تعالیٰ کے وصف میں شریک ہونے کی کوشش کرتا ہے ۔ اور شراکت اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں جبکہ اس کے مقابلے میں عاجزی و انکساری اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی و انکساری میں زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!