شکار کے شرعی احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

شکار :

عرب اور دیگر اقوام کے بہت سے لوگ شکار پر گزارہ کرتے تھے اس لیے قرآن وسنت نے شکار کا ذکر بڑے اہتمام سے کیا ہے۔ اور فقہاء نے مستقل ابواب مخصوص کر کے حلال و حرام اور واجب و مستحب شکار کی تفصیل بیان کر دی ہے۔ یہ تفصیل اس لیے ضروری ہوئی کہ بہت سے جانور اور پرندے جن کا گوشت پاکیزہ ہے انسان کے اختیار اور قابو میں نہیں ہوتے کیونکہ وہ انسان سے غیر مانوس ہوتے ہیں، اس لیے اسلام نے مانوس حیوانات کے حلق اور لبہ کو ذبح کرنے کی جو شرط رکھی ہے وہ ان غیر مانوس حیوانات کے لیے نہیں رکھی، بلکہ ان کو ذبح کرنے کا آسان طریقہ تجویز کیا۔ یہ انسان کے حق میں تخفیف اور وسعت و کشادگی کا پہلو ہے۔ اسلام نے انسان کی فطری ضرورتوں کا پورا پورا لحاظ کیا ہے اور شکار کے بارے میں جو شرائط عائد کی ہیں ان کا منشاء یہ ہے کہ انسان اسلام کے عقیدہ اور اس کے نظام کے آگے جھک جائے اور جس طرح ایک مسلمان کو ہر معاملہ میں اسلام کا رنگ اختیار کرنا چاہیے، اس معاملہ میں بھی وہ اسلام کا (پورا) رنگ اختیار کرے۔
ان شرائط میں سے بعض وہ ہیں جن کا تعلق شکار کرنے والے سے ہے بعض کا شکار سے اور بعض کا شکار کے فعل سے۔
یہ باتیں برّی شکار سے متعلق ہیں، کیونکہ دریائی شکار کے بارے میں اس سے پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی قید کے سب کو حلال قرار دیا ہے۔
أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ
”دریائی شکار اور اس کا کھانا تمہارے لیے جائز کر دیا گیا ہے۔“
سورۃ المائدہ : 96

وہ شرائط جو شکاری سے متعلق ہیں :

خشکی کا شکار کرنے والے کے لیے وہی شرائط ہیں جو ذبح کرنے والے کے لیے ہیں یعنی اس کا مسلمان یا اہل کتاب یا جو اہل کتاب کے حکم میں ہیں ان میں سے ہونا، جیسے مجوسی یا صابی۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ فضول شکار نہ کیا جائے، یعنی شکار کھانے کی غرض سے کیا جائے یا کسی اور قسم کا فائدہ اٹھانے کی غرض سے۔ اور اس طرح خواہ مخواہ جان تلف کرنے کی کسی طرح بھی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ حدیث میں آیا ہے :
من قتل عصفورا عبثا عج إلى الله يوم القيامة يقول: يا رب إن فلانا قتلني عبثا ولم يقتلني منفعة
”جس نے کسی چڑیا کو بے مقصد مار ڈالا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے فریاد کرے گی کہ اے میرے رب ! فلاں شخص نے مجھے خواہ مخواہ مار ڈالا تھا۔ یہ کام کسی فائدہ کے لیے نہیں کیا تھا۔“
نسائی کتاب الضحایا باب من قتل عصفوراً بغیر حقھا ح 4451
دوسری حدیث میں ہے :
ما من إنسان يقتل عصفورا فما فوقها بغير حقها إلا سأله الله عنها يوم القيامة – قيل يا رسول الله وما حقها؟ قال أن يذبحها فيأكلها ولا يقطع رأسها فيرمي به
جو شخص کسی چڑیا یا اس سے بھی کمتر کسی جاندار کو ناحق مار ڈالتا ہے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے ضرور باز پرس کرے گا۔ کسی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا : ”اس کو ذبح کر کے کھانا اور یہ نہ ہو کہ اس کا سرکاٹ کر پھینک دے۔“
نسائی حوالہ سابق ح 4450 – (اسنادہ ضعیف)
علاوہ ازیں ضروری ہے کہ شکار کرنے والا حج یا عمرہ کے احرام میں (محرم) نہ ہو کیونکہ مسلمان جب احرام میں ہوتا ہے تو مکمل امن وسلامتی کی حالت میں ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا
اور خشکی کا شکار جب تک کہ تم حالت احرام میں ہو تم پر حرام کیا گیا ہے۔“
سورۃ المائدہ : 96

جس کا شکار کیا جائے اس سے متعلق شرائط :

ان شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جس جانور کا شکار کیا جائے اس کے حلق یا لبہ کو ذبح کرنے پر انسان قادر نہ ہو۔ اگر اس پر قدرت رکھتا ہو تو پھر لازماً اسی طرح ذبح کرنا ہوگا کیونکہ ذبح کرنے کا اصل طریقہ یہی ہے۔
اسی طرح اگر تیر چلا کر یا سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ شکار کیا ہو اور وہ اس حالت میں مل جائے کہ اس میں قرار پذیر زندگی ہو تو معمول کے مطابق حلق سے ذبح کرنا ضروری ہوگا، لیکن اگر ایسی حالت میں مل جائے کہ اس میں قرار پذیر زندگی نہ ہو تو بہتر ہوگا کہ اسے ذبح کر لیا جائے لیکن اگر اسے اپنے حال پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو اُس کے کھانے پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔
صحیحین کی حدیث ہے :
وإذا أرسلت كلبك فاذكر اسم الله عليه فإن أمسك عليك فأدركته حيا فاذبحه
”جب تم اپنے کتے کو چھوڑو تو اس پر اللہ کا نام لو۔ پھر اگر وہ شکار کو تمہارے لیے روک رکھے اور تم اسے زندہ پالو تو ذبح کرو۔“
بخاری کتاب الذبائح باب صید المعراض، ح 5476 , 5484 – مسلم کتاب الصید باب الصید بالکلاب المعلمۃ والرمیح 1929/6 – واللفظ لہ

شکار کے ذرائع :

وہ چیزیں جن سے شکار کیا جائے ، دو طرح کے ہیں :
(1) جارح آلہ جیسے تیز تلوار نیزہ جیسا کہ قرآن کی آیت سے مترشح ہے :
تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ
”جو تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں آجائے۔“
سورۃ المائدہ : 94
(ب) شکاری جانور جسے شکار کی تربیت دی گئی ہو جیسے کتا، چیتا، باز اور شکرہ۔
قرآن میں ہے :
قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ
”کہو! تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو یعنی جن کو اللہ کے دیئے ہوئے علم کی بنا پر تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو۔“
سورۃ المائدہ : 4

شکار کرنے کے لیے زخمی کرنے والا ہتھیار اور بندوق کے شکار کا حکم :

شکار کے آلہ سے متعلق دو شرطیں ہیں :
ایک یہ کہ آلہ جسم کے اندر نفوذ (داخل) کر جائے کہ یہ نفوذ اور جرح (زخم) شکار کی موت کا باعث بن جائے۔ آلہ کے بوجھ تلے دب کر موت واقع نہ ہوئی ہو۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :
انى ارمي بالمعراض الصيد فأصيبه قال إذا رميت بالمعراض فخرق فكل وما أصاب بعرضه فلا تأكل
میں بغیر (بھالے کے) پھل کے تیر سے شکار کرتا ہوں اور وہ نشانہ پر لگ جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم تیر چلاؤ اور شکار کے جسم میں نوک کی طرف سے ٹھس جائے تو اسے کھاؤ۔ اور عرض کی طرف سے جا کر لگے تو مت کھاؤ۔“
بخارى كتاب الذبائح : باب ما اصاب المعراض بعرضه ح 5477 , 7397 ، مسلم کتاب الصيد باب الصيد بالكلاب المعلمة والرمي ح 1929/1 – واللفظ له
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اعتبار ہتھیار کے نفوذ کر جانے کا ہوگا اگر چہ شکار کا قتل کسی بوجھل چیز سے ہوا ہو۔ اس بنا پر بندوق اور ریوالور کی گولی سے کیا ہوا شکار حلال ہے کیونکہ یہ گولی جسم میں تیز نیزہ اور تلوار سے بھی زیادہ تیزی سے نفوذ کر جاتی ہے۔ رہی امام احمد رحمہ اللہ کی روایت کردہ حدیث کہ :
لا تأكل من المندقة إلا ما ذكيت
”بندقہ سے کیا ہوا شکار نہ کھاؤ الا یہ کہ تم نے اسے ذبح کر لیا ہو۔“
مسند احمد (4/380) (اسناده ضعیف)
اور بخاری نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ بندقہ کا شکار موقوذہ (چوٹ کھا کر مرا ہوا جانور) ہے تو اس بندقہ سے مراد مٹی کا ڈھیلا ہے جس کو پھینک کر شکار کیا جائے۔ یہ بندقه موجودہ بندوق سے بالکل مختلف چیز ہے۔
بخاری، کتاب الذبائح باب صيد المعراض قبل ح 5476 – تعليقاً في ترجمة الباب و وصله البيهقي في السنن الكبرى (249/9)
بندقہ سے مشابہت رکھنے والی چیز کنکری ہے جس کو پھینکنے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت کی ہے اور فرمایا ہے :
إنها لا تصيد صيدا ولا تتنكأ عدوا لكنها تكسر السن وتفقأ العين
”کنکری سے نہ شکار ہوتا ہے اور نہ دشمن زخمی ہوتا ہے بلکہ دانت ٹوٹ جاتا ہے اور آنکھ پھوٹ جاتی ہے۔“
بخاری کتاب الذبائح باب الخذف والبندقة ح 5479 ، مسلم كتاب الصيد باب اباحة ما يستطعان على الاصطيار ح 1954
دوسرے یہ کہ آلہ پھینکتے یا ہتھیار چلاتے وقت اللہ کا نام لیا جائے جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سید نا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو اس کی ہدایت فرمائی تھی اور اس بات میں ان سے روایت کردہ حدیثیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔
بخاري كتاب الذبائح : باب صيد المعراض ح 5476 , 5484 ، مسلم كتاب الصيد باب الصيد بالكلاب المعلمة ح 1929

کتوں کے ذریعہ شکار :

جب شکار کتے یا باز وغیرہ کے ذریعہ کیا جائے تو اس صورت میں درج ذیل شرائط کو ملحوظ رکھنا ہوگا :
◈ ایک یہ کہ جانور کو شکار کی تربیت دی گئی ہو۔
◈ دوسرے یہ کہ سدھایا ہوا جانور اپنے مالک کے لیے شکار کرے۔ اور قرآن کی تعبیر کے مطابق اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے مالک کے لیے روکے رکھے۔
◈ تیسرے یہ کہ اس کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا جائے۔
ان شرائط کی بنیاد درج ذیل آیت ہے۔
یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْؕ-قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُۙ-وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِ حِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ٘-فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ۪-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ
”تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا کیا چیزیں حلال کر دی گئی ہیں ؟ کہو تمہارے لیے تمام پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو یعنی جن کو اللہ کے دیئے ہوئے علم کی بنا پر تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو وہ جس شکار کو تمہارے لیے روک رکھیں اس کو کھاؤ البتہ اس پر اللہ کا نام لو۔“
سورۃ المائدہ : 4
شکاری جانور کو کس حد تک سدھایا جانا چاہیئے یہ ایک معروف بات ہے۔ اس کے مفہوم میں درج ذیل باتیں شامل ہیں :
◈ اس کا مالک اس پر اپنا حکم چلا سکے۔
◈ اس کے بلانے پر وہ آجائے۔
◈ شکار کرنے پر وہ آمادہ کرے تو وہ اس کی تعمیل کرے۔
◈ اور ڈانٹنے پر متنبہ ہو جائے۔
ان میں سے بعض باتوں کے شرط ہونے کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سدھانے کا مطلب عرف سے سمجھ میں آسکتا ہے۔
مالک کے لیے روک رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ شکار میں سے خود نہ کھائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
إذا ارسلت الكلب فأكل من الصيد فلا تأكل، فإنما أمسك على نفسه فإذا ارسلته فقتل ولم يأكل فكل فإنما أمسكه على صاحبه
”جب تم کتے کو شکار کے لیے چھوڑ دو اور وہ شکار میں سے کچھ کھالے تو تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ اس نے شکار کو اپنے لیے روکا ہے۔ اور اگر تمہارے چھوڑ دینے کے بعد وہ شکار کرے اور خود اس میں سے کچھ نہ کھائے تو تم اسے کھاؤ کیونکہ ایسی صورت میں اس نے اپنے مالک کے لیے شکار کو روک رکھا ہے۔“
قال الشيخ الالباني لم اره عند احمد في المسند بهذا اللفظ ولا عند أحد من اصحاب الكتب الستة وقد جاء الحديث في عدة مواطن من المسند بالفاظ مختلفة – (4/256-258 ، 377-388) ليس فيها هذا اللفظ و معناه عند البخاری و مسلم وغيرهما – غاية المرام ص (51) انظر البخاري كتاب الذبائح : باب صيد المعراض، ح 5476 ، مسلم كتاب الصيد : باب الصيد بالكلاب المعلمة ح 1929
بعض فقہاء نے درندوں میں فرق کیا ہے۔ ایک وہ جو چوپایوں میں سے ہوں مثلاً : کتے۔ اور دوسرے وہ جو پرندوں میں سے ہوں مثلاً : شکرہ۔ ان کے نزدیک پرندہ کا کھایا ہوا شکار جائز ہے لیکن کتے کا کھایا ہوا شکار جائز نہیں۔
شکاری جانور کو سدھانے اور اپنے مالک کے لیے شکار کو روک رکھنے کی شرطیں در حقیقت انسان کے مرتبہ کی بلندی کے پیش نظر اور اسے درندوں کے پس خوردہ سے پاک رکھنے کی غرض سے ہیں۔ کیونکہ جب کتا سدھایا ہوا ہو اور وہ اپنے مالک کے لیے شکار کو روک رکھے تو اس کی حیثیت محض ایک آلہ کی ہو جاتی ہے جسے شکاری استعمال کرتا ہے۔ جیسے تیر اور نیزہ۔
شکار کے لیے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لینا ایسا ہی ہے جیسے تیر چلاتے نیزہ گھونپتے یا تلوار سے ضرب لگاتے وقت اللہ کا نام لینا۔ قرآن کی آیت :
وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ (اس پر اللہ کا نام لو) میں اس کا حکم موجود ہے۔ اور اس سلسلہ میں صحیح اور متفق علیہ حدیثیں وارد ہوئی ہیں، جیسے مذکورہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث۔
اس شرط کے صحیح ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جس کتے کو شکار کے لیے چھوڑ ا گیا اس کے ساتھ اگر کوئی دوسرا کتا شریک ہو جائے تو ان کا شکار جائز نہیں ہوگا۔ کیونکہ جب سید نا عدی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :
إني أرسل كلبي اجد معه كلبا لا أدري أيهما أخذه؟ قال النبى صلى الله عليه وسلم: فلا تأكل فإنما سميت على كلبك ولم تسم على غيره
”“میں اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑ دیتا ہوں پھر اس کے ساتھ دوسرا کتا بھی موجود ہوتا ہے معلوم نہیں ہوتا کہ کس کتے نے شکار کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مت کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا تھا دوسرے کتے پر نہیں لیا تھا۔“
بخاری کتاب الذبائح باب صيد المعراض، ح 5476 – مسلم کتاب الصيد باب الصيد بالكلاب ح 1929
پھر اگر تیر چلاتے وقت یا کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھول چوک کی صورت میں کوئی مواخذہ نہیں ہے اور اس کا تدارک کھاتے وقت اللہ کا نام لے کر کیا جائے جیسا کہ ذبیح کے باب میں گذر چکا۔

تیر چلانے کے بعد اگر شکار مردہ حالت میں مل جائے :

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شکاری تیر چلاتا ہے اور شکار کو لگ جاتا ہے لیکن وہ بروقت دستیاب نہیں ہوتا بلکہ ایک دن یا چند دن بعد مردہ حالت میں دستیاب ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ شکار کیا ہوا جانور حلال ہے بشرطیکہ وہ پانی میں نہ گر پڑا ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے :
إذا رميت سهمك فإن وجدته قد قتل فكل إلا أن تجده قد وقع فى ماء فإنك لا تدري الماء قتله أم سهمك
”تم تیر چلانے کے بعد شکار کو مردہ حالت میں پالو تو کھاؤ لیکن اگر پانی میں گرا ہوا پاؤ تو نہ کھاؤ کیونکہ تمہیں یہ نہیں معلوم کہ وہ پانی کی وجہ سے مر گیا ہے یا تمہارا تیر لگ کر۔“
بخارى كتاب الذبائح باب الصيد اذا غاب عنه يومين او ثلاثة ح 5484 ، 5485 مسلم كتاب الصيد: باب الصيد بالكلاب ، ح 1929/6
کسی دوسرے تیر کا نشان اس پر موجود نہ ہو جس سے شبہ ہو کہ شکار کسی اور تیر کے لگ جانے سے مرگیا ہے۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قلت يارسول الله! ارمي الصيد فاجدفيه سهمن من الغد فقال: إذا علمت ان سهمك قتله ولم تر فيه أثر سبع فكل
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں تیر چلاتا ہوں اور دوسرے دن شکار کو پاتا ہوں جس میں میرا تیر لگا ہوا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تمہیں معلوم ہو کہ تمہارے ہی تیر نے اسے قتل کیا ہے اور کسی درندے کے کھانے کا کوئی نشان موجود نہ ہو تو اسے کھالو۔“
ترمذی کتاب الصيد : باب ما جاء في الرجل يرمى الصيد فيغيب عنه ح 1468 ، نسائی کتاب الصيد باب في الذي يرمى الصيد فيغيب عنه ح 4307
شکار میں تعفن (بدبو) نہ پیدا ہوا ہو کیونکہ طبع سلیم کے نزدیک متعفن چیز نا پاک ہے اور اسے ایسی چیز سے نفرت ہے نیز اس میں مضرت کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
إذا رميت سهمك فغاب ثلاثة أيام وأدركته فكله مالم ينتن
”جب تم تیر چلاؤ اور شکار تین دن کے بعد مل جائے ، تو اسے کھاؤ بشر طیکہ اس میں تعفن نہ پیدا ہوا ہو۔“
مسلم كتاب الصيد باب اذا غاب عنه الصيد ثم وجده ح 1931