گانا اور موسیقی کے شرعی احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

گانا اور موسیقی

کھیل کی ایک قسم ایسی ہے جو نفس کے لیے باعث سکون دل کے لیے خوش کن اور کانوں میں رس گھولنے والی ہے۔ اور وہ ہے گانا۔
گانے كے بارے ميں غامدي نظريات اور اس جيسے لوگوں كي ترديد كے ليے مولانا ارشاد الحق اثري كي كتاب” اسلام اور موسيقي“ ملاحظه كريں. كا موقف برحق هے.
اسلام نے اس کو مباح قرار دیا ہے بشرطیکہ وہ فحش بدکلامی یا گناہ پر ابھارنے والی باتوں پر مشتمل نہ ہو۔ اگر اس کے ساتھ ایسی موسیقی ہو جس سے جذبات برانگیختہ نہ ہوتے ہوں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
مصنف نے موسيقي كو جائز قرار دينے كے ليے خود ساخته اصول بيان كيے هيں. اسلامي تعليمات كے تحت جائزه ليا جائے تو يه تمام اصول باطل، بے بنياد اور شيطاني جذبات كو تقويت دينے والے هيں. مصنف كا يه كهنا هے كه گانا نفس كو سكون اور دل كو خوشي دينے والا كهيل هے. اسلام نے اسے مباح قرار ديا هے. هم يهاں گزارش كريں گے كه گانے كو اگر اس وجه سے جائز قرار ديا جائے كه اس سے دل كو سكون ملتا هے تو مصنف كهاں تك دوڑيں گے؟ اگر كوئي آدمي چوري كرنے ميں دلي سكون محسوس كرتا هے تو كيا مصنف اسے بهي جواز كا فتوي دينے كو تيار هيں؟ كوئي قتل كرنے، زنا كرنے، لڑائي جهگڑا كرانے ميں خوش رهتا اور دلي سكون محسوس كرتا هے تو فاضل مصنف ان كے بارے كيا ارشاد فرمائيں گے؟ كيا ان كو بهي كوئي حرج نهيں كا فتوي ديں گے؟ اسلام همارے رجحانات يا همارے شوق كے مطابق حكم صادر نهيں كرتا اور نه هي كسي چيز كو محض اس شرط كے ساته جائز قرار ديتا هے كه اس كے كرنے والے كو اگر قلبي سكون ملے تو اس كام كا كرنا جائز هے. اصل بات يه هے كه انساني روح كي غذا اور قلبي سكون صرف اور صرف الله كي ياد اور ذكر ميں هے. (سورة الرعد نمبر : 28)
اور گانا گانے جيسے قبيح فعل كو اسلام كي طرف منسوب كر كے اس كے مباح هونے كا فتوي دينا تو انتها درجه مذموم جسارت هے. گانا گانے كو مطلقا جائز كهنا علمي خيانت كا ارتكاب كيا هے. جن مواقع كو سامنے ركهتے هوئے جواز كي صورت نكالي جاتي هے. وه اپني نوعيت كے مخصوص مواقع هيں. انهي واقعات كي روشني ميں چند حدود و قيود بهي سامنے آتي هيں. يعني كسي موقع پر كم سن بچياں كچه گنگناتي هيں تو كسي موقع پر صرف خواتين كي خالص مجلس هے. جهاں مردوں كا دور دور تك تصور نهيں. جيسا كه صحيح بخاري رقم الحديث : 952،949، 987، 3539،2909 اور ديگر كتب احاديث كي صحيح روايات ميں مذكور هے. اور وه بچياں باقاعده مغنيات، گانے والياں، گلوكارائيں نهيں تهيں. جيسا كه سيده عائشه رضي الله عنها نے بيان كيا هے. ديكهئے : صحيح بخاري حديث : 952 ، صحيح مسلم حديث : 892 ، ابن ماجه حديث : 1898
يه جاننا بهي ضروري هے كه وه كون سے كلمات تهے جو دو بچياں گا رهي تهيں. گانے كو اس كي حدود سے اگر متجاوز كريں گے تو مردوزن كا اختلاط، بيهوده شاعري فحش اشارے اور بے حيائي كے حالات كا واقع هونا لازمي نظر آتا هے.
ان تمام تر مفاسد كے پيش نظر اسلام نے كهيں ايسا تصور بهي نهيں ديا كه بالغ خواتين اور مرد گانے كي محفليں سجاتے پهريں. صحيح بخاري اور ديگر كتب احاديث ميں مذكور هے كه وه گانے والي نابالغ بچياں تهيں اور شهداء بدر كي بهادري كے اشعار پڑه رهي تهيں. ايك بچي نے يوں كهه ديا كه همارے درميان همارے نبي صلى الله عليه وسلم موجود هيں جو كل مستقبل كے حالات جانتے هيں تو اس بچي كو نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے فرمايا يه بات مت كهو، جو پهلے كهه رهي تهي يعني شهداء كي بهادري بيان كر رهي تهي وهى بات كهو. صحيح البخاري كتاب النكاح باب ضرب الدف فى النكاح والوليمه حديث : 5147
مزيد وضاحت كے ليے اور گانے كو جائز قرار دينے والوں كے دلائل كا جائزه اور حقيقت مسئله جاننے كے ليے محقق دوراں، فضيلة الشيخ ارشاد الحق اثري كي فقه كي كتاب ”اسلام اور موسيقي“ كا مطالعه ضرور كيجيے. علامه يوسف قرضاوي كا يه كهنا بهي قابل مذمت هے كه اگر اس گانے كے ساته ايسي موسيقي هے جس سے جذبات برانگيخته نه هوتے هوں تو اس ميں بهي كوئي حرج نهيں. نه جانے يه كهاں سے اخذ شده اصول هے. مذكوره بالا احاديث كي روشني ميں زياده سے زياده يهي كها جا سكتا هے كه چهوٹي بچياں اگر كسي خوشي كے موقع پر دف بجانے كا اهتمام كر ليں تو كوئي حرج نهيں هے. ليكن گانے كا جواز ثابت كرتے كرتے موسيقي كو بهي جائز قرار دينے كي جرات تو بهر حال قابل مذمت، بے بنياد اور بيمار دل كي خام خيالي هے. نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كه : الله تعالٰي نے شراب، جوا اور طبلے سارنگياں يعني آلات موسيقي كا استعمال تمهارے ليے حرام قرار ديا هے. سنن ابي داؤد كتاب الاشربة باب فى الاوعية حديث : 3696
ايك اور حديث ميں هے كه نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : ميري امت ميں زميں ميں دهنسنا اور شكليں بدلنا جيسے عذاب آنے لگيں گے. ايك صحابي رضى الله عنه نے پوچها : آقا ! ايسا كب هوگا؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : جب گانا گانے والي گلوكارائيں، ڈهول، طبلے يعني ميوزيكل پروگرامز اور شراب نوشي عام هو جائے گي. سنن الترمذي كتاب الفتن باب علامة حلول المسخ والخسف حديث : 2212
موسيقي كو حلال قرار دينا نبي كريم صلى الله عليه وسلم كے فرمان كي كهلم كهلا مخالفت هے. اس ليے قارئين اس بات سے باخبر رهيں كه آلات موسيقي كسي صورت بهي جائز نهيں هيں. ان كا استعمال حرام هے، حرام هے، حرام هے. اور مصنف نے خود ساخته شرائط كے تحت موسيقي كو جائز قرار دے كر گلوكاراؤں اور ميوزك انڈسٹريز كو تقويت و آوارگي اور صنف مخالف كي آوازوں كو مزے لے لے كر سننے والوں كو بے حيائي كي راهوں ميں مشعل مهيا كرنے كي سعي ناتمام كي هے. موسيقي شيطاني عمل هے اور شيطان كي همه وقت كوشش انسانوں كو الله كے ذكر سے دور كرنا اور لهو ولعب ميں مشغول ركهنا هے. موسيقي اور گلوكاره كي آواز كا امتزاج بے حيائي كا پيش خيمه اور اخلاقي برائيوں كي داعيه هے. (ابوالحسن مبشر احمد رباني)
خوشی کے موقع پر اظہار مسرت کے لیے یہ چیزیں پسندیدہ ہیں مثلا : عید ، مہمان کی امد ، ولیمہ ، عقیقہ اور بچوں کی ولادت وغیرہ کے موقع پر چنانچہ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت کی انصار کے ایک شخص سے شادی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يا عائشة ما كان معهم من لهو فإن الأنصار يعجبهم اللهم
”ایک عورت کی انصار کے ایک شخص سے شادی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! ان کے ساتھ لہو تفریح طبع کا کوئی سامان نہیں ہے؟ کیونکہ انصار لہو کو پسند کرتے ہیں۔“
بخاری کتاب النکاح باب النسوۃ التی یھدین المراۃ ح : 5162
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک قرابت دار انصاریہ کی شادی کر دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا: دولہن کو تم نے روانہ کر دیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: اس کے ساتھ کسی ایسی لڑکی کو نہیں بھیجا جو گائے؟ عرض کیا نہیں۔ فرمایا:
إن الأنصار قوم فيهم غزل فلو بعثتم معها من يقول: آتيناكم آتيناكم فحيانا وحياكم
”انصار کو گانے کا شوق ہے اس لیے اگر تم اس کے ساتھ کسی ایسی لڑکی کو بھیج دیتے جو یہ گاتی تو اچھا ہوتا ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے۔ اللہ ہمیں بھی زندہ رکھے اور تمہیں بھی۔“
ابن ماجہ کتاب النکاح باب الغناء الدف ح : 1900
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے تو دو لڑکیاں ایام منی میں کچھ گا بجارہی تھیں اس حال میں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹ گئے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ سے کپڑا ہٹا لیا اور فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ! انہیں چھوڑ دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں۔
بخاری کتاب العیدین باب الحراب والدرق یوم العید ح : 949 ، مسلم کتاب صلاۃ العیدین باب الرخصۃ فی اللعب الذی لا معصیۃ فیہ ح : 892
امام غزالی رحمہ اللہ نے احیاء العلوم میں مذکورہ حدیث اور حبشیوں کے مسجد میں کھیل والی حدیث، نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اپنی سہیلیوں کے ساتھ گڑیوں کی حدیث بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ سب حدیثیں صحیحین کی ہیں اور اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ گانا اور کھیل حرام نہیں ہے اور احادیث یہ جواز پر دلالت کرتی ہیں :
پہلی بات یہ ہے کہ یہ ایک کھیل تھا اور حبشی لوگ رقص ولعب کے عادی ہوتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس فعل کا صدور مسجد میں ہوا۔
تیسری بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بنی رافدہ! اپنا کھیل جاری رکھو۔ جب کھیل کو جاری رکھنے کا حکم دیا گیا تھا تو وہ کس طرح حرام ہوگا؟
حقیقی بات یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکنے سے منع فرمایا اور اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ یہ عید کا دن ہے، یعنی وقت سرور ہے اور یہ اسباب سرور میں سے ہے۔
پانچویں بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشیوں کے کھیل کا مشاہدہ خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دیر تک کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں اور بچوں کو کھیل و کود دکھا کران کے دلوں کو خوش کرنا حسن اخلاق ہے۔ اور زہد و تقشف کی سختی اختیار کر کے اس سے رک جانے اور روکنے سے بہتر ہے۔
چھٹی بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابتداء میں یہ فرمایا: کہ کیا تم اسے دیکھنا پسند کرتی ہو؟
پردہ کا ضروری تقاضا یہ ہے کہ خواتین نابینا افراد کے سامنے بھی اپنی زینت ظاہر نہ کریں۔
ساتویں بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کو گانا گانے اور دف بجانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔
امام غزالی رحمہ اللہ نے کتاب السماع میں ان تمام باتوں کا ذکر کیا ہے۔
احیاء العلوم : 2/ 275-877
یہ کثرت صحابہ و تابعین سے روایت ہے کہ وہ گانا سنتے لیکن اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔
مصنف يوسف قرضاوي كا يه كهنا سراسر بے بنياد اور جهوٹ هے كه صحابه و تابعين گانا سنتے تهے اور اس ميں كوئي حرج محسوس نهيں كرتے تهے. يه صحابه كرام رضي الله عنهم اور تابعين عظام رحمهم الله پر بے هوده الزام هے. جبكه صحابه كرام رضي الله عنهم كا طرز عمل يه تها كه سيدنا عبدالله بن عمر رضى الله عنه نے ايك موقع پر گانے كي آواز سني تو فورا اپنے كانوں ميں انگلياں لے ليں. اور اس جگه سے كچه هٹ كر چلنے لگے اور نافع رحمه الله سے پوچها: كيا تمهيں گانے كي آواز سنائي دے رهي هے؟ انهوں نے كها نهيں. تو پهر سيدنا ابن عمر رضى الله عنه نے اپنے كانوں سے انگلياں نكاليں. سنن ابي داؤد : كتاب الادب باب كراهية الغناء والزمر حديث : 4924
ڈرنا چاهيے كه ان نفوس قدسيه پر اس طرح كا بيهوده الزام لگانا الله تعالي كے هاں شديد گرفت كا باعث هے. مصنف كا قول دليل سے بالكل خالي هے. نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : الله تعالىٰ نے شراب، جوا اور طبلے سارنگياں يعني ميوزك تمهارے ليے حرام قرار ديا هے. سنن ابي داؤد كتاب الاشربة باب فى الاوعية حديث : 3696 علامه الباني نے اس حديث كو صحيح كها هے
جس عمل كو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے حرام قرار ديا هو صحابه كرام رضي الله عنهم اس عمل كو كسي صورت جائز نهيں سمجه سكتے يه صحابه كرام رضي الله عنهم پر بهتان هے. (ابوالحسن مبشر احمد رباني)
رہیں اس سلسلہ کی احادیث تو وہ سب مجروح ہیں اور کوئی حدیث بھی ایسی نہیں ہے کہ علماء اور فقہائے حدیث نے اس پر کلام نہ کیا ہو۔ قاضی ابو بکر ابن العربی رحمہ اللہ کہتے ہیں : گانے کی حرمت سے متعلق کوئی حدیث بھی صحیح نہیں ہے۔
مصنف كا يه كهنا كه ساز و موسيقي كي حرمت كے دلائل كمزور اور مجروح هيں، محل نظر هے. حقيقت يه هے كه موسيقي كي حرمت اور مذمت ميں آيات قرآنيه كے ساته ساته صحيح احاديث نبويه بهي موجود هيں. ارشاد باري تعالىٰ هے :
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ
”اور لوگوں ميں جو انسان بيهودگي كا سامان خريدتا هے.“ (سورة لقمان : 6)
سيدنا ابن مسعود رضى الله عنه فرماتے هيں : الله كي قسم جس كے سوا كوئي معبود نهيں، اس آيت ميں لهو الحديث سے مراد گانا بجانا هے. تفسير ابن كثير 330/6 ، تحقيق سامي بن محمد سلامه تفسير الطبري : 127/20 ، مستدرك حاكم : 2/ 445 ، حديث : 3542

ايك روايت ميں يوں مذكور هے كه الله تعالي نے شراب، ڈهولك اور طنبوره آلات موسيقي حرام قرار ديے هيں. مسند احمد : 422/3 ، حديث : 15481
رهي بات گانا سننے كي تو اس كے بارے رسول الله صلى الله عليه وسلم كا عمل پيش كر كے واضح كرنا چاهيں گے كه جس چيز آواز كو آپ صلى الله عليه وسلم نے سننا پسند نهيں كيا اسے برا جانا، اس آواز كو سننا كسي بنياد پر هم جائز قرار ديتے هيں؟ ايك مرتبه نبي اكرم صلى الله عليه وسلم رستے سے گزر رهے تهے كه كسي جانب سے گيتوں كي آواز آنے لگي، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے كانوں ميں انگلياں كرليں. سنن ابي داؤد كتاب الادب باب كراهية الغناء والزمر حديث : 4924 ، علامه الباني نے اس حديث كو صحيح كها هے.
گانا عشق و مستي اور بے هودگي كا مركب هوتا هے. يه شيطاني عمل هے. اس ليے گانا گانے والے اور سننے والے برابر كے شريك هوتے هيں. كيونكه دونوں هي شيطان كو خوش كرنے كي كاوش كر رهے هوتے هيں. جبكه مومن كو زيب نهيں ديتا كه ايسے كام كے قريب بهي جائے جس سے شيطان راضي اور الله تبارك وتعالي كي ذات ناراض هو. (ابو الحسن مبشر احمد رباني)
اور ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس سلسلہ کی تمام روایتیں باطل اور موضوع ہیں۔
ان تمام روايات كي صحت اور گانے كے جواز كو كشيد كرنے والوں كي روايات كا مولانا اثري صاحب نے تفصيلي محاكمه كيا هے. (ابو الحسن مبشر احمد رباني)
اکثر گانے اور موسیقی کا استعمال عیش وعشرت کے موقع پر شراب کی محفلوں اور شب بیداری کی مجلسوں میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے علماء اسے حرام یا مکروہ کہتے ہیں۔
مصنف كا يه كهنا بالكل غلط اور بے بنياد هے، چونكه گانے اور موسيقي كا استعمال عيش وعشرت اور شراب كي محفلوں ميں هوتا هے اس ليے علماء اسے حرام قرار ديتے هيں. يهاں هم گزارش كريں گے كه گانا اور موسيقي شراب كي محفلوں كا حصه هونے كي وجه سے حرام نهيں هے. بلكه اس كي حرمت كے دلائل و براهين جو اسلام نے هميں ديے هيں ان كي بنياد پر حرام هے. نبي اكرم صلى الله عليه وسلم نے فرمايا: الله تعالي نے شراب، جوا اور طبلے سارنگياں يعني ميوزك تمهارے ليے حرام قرار ديا هے. سنن ابي داؤد كتاب الاشربة باب فى الاوعية حديث : 3696 علامه الباني نے اس حديث كو صحيح كها هے
اس حديث كے تحت يه بات واضح هے كه گانا اور موسيقي شراب كي طرح حرام هيں نه كه شراب كي وجه سے حرام هيں. موسيقي كے ساته شراب نوشي كي جائے يا نه كي جائے هر حال ميں يه ممنوع اور حرام هے. (ابو الحسن مبشر احمد رباني)
اور بعض علماء کہتے ہیں کہ گانا لھو الحدیث میں شامل ہے جس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے :
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
”اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو لھو الحدیث خریدتے ہیں تا کہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے بغیر علم کے بھٹکا دیں اور اس راستہ کا مذاق اڑائیں۔ ایسے لوگوں کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔“
سورۃ لقمان : 6
ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں : جو شخص لہو الحدیث کا مرتکب ہو اس کا وصف آیت نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کافر ہے جبکہ وہ اللہ کی راہ کو مذاق بنا لے تو بلا اختلاف کافر ہے۔
لهو الحديث كي جو تفسير يهاں بيان كي گئي هے محل نظر هے. در حقيقت ابن حزم رحمه الله گانے گيت، شاعري كے جواز كے قائل تهے جس كي بناء پر يه قول هے كه جو مصنف نے بيان كيا هے. جبكه جمله مفسرين نے اصحاب رسول رضي الله عنهم سے لهو الحديث كے تحت گانے اور اس كے معاون آلات كي حرمت بيان كي هے. تفصيل كے ليے تفاسير اور محقق دوراں فضيلته الشيخ ارشاد الحق اثري كي كتاب ”اسلام اور موسيقي“ كا مطالعه مفيد هے. (ابو الحسن مبشر احمد رباني)
اور اگر وہ کوئی کتاب خرید کر لوگوں کو گمراہ کرے اور اللہ کی راہ کا مذاق اڑائے تو بھی کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت کی ہے اور اس شخص کی ہرگز مذمت نہیں کی ہے جو لہو الحدیث کو گمراہ کرنے کی غرض سے نہیں بلکہ کھیلنے کی غرض سے خریدے اور اس سے خوش طبعی کا سامان کرے۔
ابن حزم رحمہ اللہ نے ان لوگوں کی تردید میں، جو کہتے ہیں کہ گانا جب حق نہیں ہے تو وہ لازماً گمراہی ہے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔
بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ح : 1 ، مسلم کتاب الامارۃ باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم انما الاعمال بالنیۃ : ح 1907
لہذا جس نے گانا اس نیت سے سنا کہ اس سے گناہ کے کام میں مدد ملے تو وہ فاسق ہے اور جس نے خوش طبعی کی نیت سے سنا تا کہ اطاعت الہی کے کاموں کو تقویت پہنچے اور نیکی کے کاموں سے دلچسپی پیدا ہو تو اس کا یہ فعل مبنی پر حق ہے۔
امام ابن حزم رحمه الله كا يه قول باطل هے. گانا اپني كسي بهي نوعيت ميں هو، بهر حال الله تعالىٰ كي اطاعت وياد سے غافل كرتا هے. يه كس طرح ممكن هے جو چيز الله اور اس كے رسول صلى الله عليه وسلم كو نا پسند هو وه چيز اطاعت الهي كے امور ميں تقويت كا سبب بنتي هو؟ انا لله وانا اليه راجعون الله تعالي تو قرآن سننے كا حكم ديتے هيں اور اسي كو سكون قلب اور خوش طبعي كا ذريعه قرار ديتے هيں. گانا دلوں كو ياد الهي سے دور كرتا هے، گانا سننے والوں كے دل مرده هو جاتے هيں. اس ليے تو موسيقي اور گيت سنگيت كے رسيا اور شوقين لوگ كبهي بهي قرآن كو خوش دلي سے نهيں سنتے. ايك طرف اذان كي آواز پر لبيك كهنے والے مساجد كا رخ كرتے هيں تو دوسري طرف گيت سننے والا اپنے شوق اور دهن ميں مصروف فحش گلوكاراؤں كے گيت سن رها هوتا هے. نه جانے ابن حزم رحمه الله وغيره نے كس بنا پر يه سمجه ليا كه گيت سننے سے اطاعت الهي كے كاموں كو تقويت ملتي هے. ابن حزم رحمه الله كا يه قول ان كے اپنے موقف كي بنا پر هے كيونكه وه گانے بجانے كو مباح قرار ديتے تهے. ليكن در حقيقت ان كا يه موقف شرعي دلائل كي روشني ميں باطل اور بے بنياد هے. (ابو الحسن مبشر احمد رباني)
اور جو شخص نہ اطاعت کی نیت سے سنے اور نہ معصیت کی نیت سے، تو وہ لغو کے حکم میں ہے جو معاف ہے۔ ایسے شخص کا معاملہ اس شخص کا سا ہے جو تفریحا باغ کی سیر کے لیے نکل پڑے یا اپنے دروازہ کے پاس تماش بین بن کر بیٹھ جائے۔
افسوس اور تعجب كي بات تو يه هے كه ابن حزم رحمه الله قياس كے قائل نه هونے كے باوجود قياس كر رهے هيں. ان كا يه قياس بالكل باطل هے كه جو انسان گانے كو نه تو اطاعت كي نيت سے سنے اور نه هي معصيت كي نيت سے، تو وه لغو كے حكم ميں هے جو كه معاف هے. انهوں نے اسے اس شخص پر قياس كيا هے جو باغ كي سير كے ليے نكل پڑے اور دروازے پر تماش بين بن كر بيٹه جائے. تعجب تو اس بات پر هے كه ايك حرام كام كو جائز كام پر قياس كر كے اسے بهي جائز كرنے كي كوشش كي جارهي هے. حالانكه يه قياس فى نفسه فاسد اور باطل هے. گيت هر صورت ميں نا جائز هے. (ابو الحسن مبشر احمد رباني)
تا ہم گانے کے معاملہ میں درج ذیل قیود کو لازما ملحوظ رکھنا چاہیے :
➊ گانے کا موضوع الفاظ و کلمات اسلام کی تہذیب اور اس کی تعلیم کے خلاف نہ ہو۔ مثال کے طور پر اگر گانے میں شراب کی تعریف کی گئی ہو یا اس کے پینے کی ترغیب موجود ہو تو ایسے گانے کو گانا بھی حرام ہوگا اور سننا بھی۔ وعلي هذا القياس.
➋ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ گانے کا موضوع اسلام کی ہدایت کے خلاف نہیں ہوتا لیکن گانے کا طریقہ ایسا ہوتا ہے جو اس کو دائرہ حلت سے نکال کر دائرہ حرمت میں لے آتا ہے۔ مثلاً ناز و ادا کے ساتھ گانا غیر اخلاقی انداز اختیار کرنا، نیز جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والے فتنہ پرور اور شہوت انگیز طور طریقے اختیار کرنا وغیرہ۔
➌ جس طرح دین ہر چیز میں غلو اور زیادتی کا مخالف ہے حتی کہ عبادت کے معاملہ میں بھی اسی طرح لہو و لعب کے معاملہ میں بھی وہ زیادتی کا سخت مخالف ہے۔ اس میں زیادہ وقت صرف کرنا صحیح نہیں، جبکہ وقت سرمایۂ حیات ہے۔
اس میں شک نہیں کہ جائز چیزوں میں اسراف کرنے سے واجبات کی ادائیگی کے لیے وقت کا بہت حرج ہو جاتا ہے اس لیے بجا طور پر کہا گیا ہے میں نے اسراف کو اس حال میں دیکھا کہ اس کے پاس حق ضائع ہو رہا تھا۔
➍ بعض گانے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ سننے والا خود اپنے نفس سے فتویٰ پوچھ سکتا ہے۔ اگر گانا ایسا ہو کہ جس سے اس کے جذبات برانگیختہ ہو رہے ہوں اور اس کو فتنہ پر ابھارا جا رہا ہو نیز روحانیت کے مقابلہ میں حیوانیت کا غلبہ ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں اس سے اجتناب کرنا چاہیے اور اس دروازہ کو بند کرنا چاہیے جس سے فتنہ کی ہوا اس کے دل دین اور اخلاق کی طرف چلے۔
➎ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ گانے کے ساتھ اگر کوئی حرام چیز شامل ہو جائے مثلاً شراب یا عیاشی اور بد اخلاقی کے قسم کی کوئی چیز تو ایسی صورت میں گانا حرام ہوگا۔ اس سلسلہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔
چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
ليشربن أناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها يعزف على رءوسهم بالمعازف والمغنيات يخسف الله بهم الأرض ويجعل منهم القردة والخنازير
”میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اور اس کا نام تبدیل کر دیں گے۔ ان کے سروں پر ساز بجائے جائیں گے۔ اور گانے والیاں گانے گائیں گی۔ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور خنزیر بنائے گا۔“
ابن ماجہ کتاب الفتن باب العقوبات ح : 4020 ، ورواہ ابو داؤد فی کتاب الاشربۃ باب فی ح : 3689 ، 3688 مختصراً
ضروری نہیں کہ یہ مسخ شکل وصورت کا ہی ہو، بلکہ یہ نفس اور روح کا بھی ہو سکتا ہے یعنی انسان کے قالب میں بندر کا نفس اور سور کی روح ہوگی۔
واضح رهے كه مؤلف نے گانے كو جو مباح قرار ديا هے وه ايسي شرائط كے ساته مشروط هے جو نهايت كڑي هيں همارے ملك ميں جو گانے مروج هيں يعني جو فلمي گانے ريڈيو وغيره كے ذريعه نشر كيے جاتے هيں وه نه مذكوره شرائط كے مطابق هيں اور نه ان كے جواز كا كوئي سوال پيدا هوتا هے كيونكه وه فحش اور بے حيائي كي اشاعت كا بهت بڑا ذريعه هيں اور اخلاق كے ليے حد درجه تباه كن هيں. علاوه ازيں بے شرمي كي انتها يه هے كه خوش گلو عورتيں گانا گا كر مردوں كو محظوظ اور مسحور كرتي هيں جبكه اسلام اخلاق و عصمت و عفت كے معامله ميں اس قدر حساس هے كه اسے عورتوں كا لوچ كے ساته بات كرنا بهي گوارا نهيں هے. چنانچه قرآن نے صراحت كے ساته ممانعت كي هے. اسي طرح اجنبي عورت كي آواز سے محظوظ هونے كو اسلام زنا سے تعبير كرتا هے لهذا اس قسم كے گانوں كي حرمت بالكل واضح هے. (مترجم)