شفاعت کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کسی چیز کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک ہماری طرف کرتے ہوئے فرمایا:
اشفعوا تؤجروا، ويقضي الله على لسان رسوله ما يشاء
”(ضرورت مندوں کی) سفارش کیا کرو (اس پر) تم اجر پاؤ گے اور اللہ اپنے نبی کی زبان سے وہی فیصلہ کرائے گا جو وہ چاہے گا“۔
صحیح البخاری، کتاب الزکاة.
② سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، سفارش کیا کرو اجر پاؤ گے۔ میں کوئی کام کرنا چاہتا ہوں، لیکن اسے مؤخر کر دیتا ہوں تاکہ تم سفارش کرو اور اجر پاؤ۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اشفعوا تؤجروا
”سفارش کرو اجر پاؤ“۔
ابو داؤد، کتاب الأدب 5134، روایت صحیح ہے۔
سچ بولنے کی فضیلت
① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وإن الرجل ليصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وإن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابا
”یقیناً صدق نیکی کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے، آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ لیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ گناہوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے جبکہ گناہ جہنم کی طرف لے جاتے ہیں، اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔“
بخاری، کتاب الأدب 6094، مسلم، کتاب البر والصلة والأدب 2607۔ ابو داؤد، کتاب الأدب 4989۔
لوگوں کی باتوں پر صبر کرنا
① سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا أحد أصبر على أذى سمعه من الله عز وجل، إنه ليشرك به ويجعل له الولد، ثم يعافيهم ويرزقهم
”تکلیف دہ بات سن کر صبر کرنے والا اللہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں، وہ (مشرک) کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے مگر وہ ان باتوں کے باوجود پھر بھی انہیں عافیت اور روزی عطا کرتا ہے“۔
بخاری، کتاب التوحید 7378، مسلم، کتاب صفة القيامة والجنة والنار 49/2804 ,50۔
② رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی عمر رسیدہ شخص بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المسلم الذى يخالط الناس ويصبر على أذاهم خير من الذى لا يخالط الناس ولا يصبر على أذاهم
”وہ مسلمان جو لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر کرتا ہے اس سے بہتر ہے جو لوگوں کے ساتھ نہ میل جول رکھتا ہے نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرتا ہے“۔
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 2507، ابن ماجه 4032، روایت صحیح ہے، صحابی کا نام سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہے۔
صلہ رحمی کے متعلق احکامات
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الرحم معلقة بالعرش تقول: من وصلني وصله الله، ومن قطعني قطعه الله
”صلہ رحمی عرش کے ساتھ متعلق ہے۔ وہ کہتی ہے جو مجھے ملائے اللہ اسے ملائے اور جو مجھے قطع کرے اللہ اسے قطع کرے۔“
بخاری، کتاب الأدب 5989، مسلم، کتاب البر والصلة والأدب 2555۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الرحم شجنة من الرحمن، فقال الله تعالى: من وصلك وصلته، ومن قطعك قطعته
”رحم رحمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو تجھے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرے گا میں اسے قطع کروں گا“۔
بخاری، کتاب الأدب 5988، مسند احمد، باقی مسند المکثرین 2/ 295، 383۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سره أن يبسط له فى رزقه وأن ينسأ له فى أثره فليصل رحمه
”جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں فراخی اور اس کی عمر دراز ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے تعلقات بحال رکھے“۔
بخاری، کتاب الأدب 5985، ترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 1979۔
④ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس الواصل بالمكافئ، ولكن الواصل الذى إذا قطعت رحمه وصلها
”صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو صلہ رحمی کے بدلے میں صلہ رحمی کرے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ داری توڑی جائے تو وہ اسے جوڑے۔“
بخاری، کتاب الأدب 5991، ابو داؤد، کتاب الزکاة 1697۔ ترمذی، کتاب البر والصلة 1908۔