شرک سب سے بڑا گناہ صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

شرک سب سے بڑا گناہ

صحیحین میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أن تجعل لله ندا وهو خلقك قلت ثم أى قال أن تقتل ولدك خشية أن يطعم معك قلت ثم أى قال أن تزاني بحليلة جارك
”کہ تو اللہ کا شریک قرار دے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا بڑا گناہ ہے؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں حصہ بٹائے گی۔ میں نے عرض کیا کہ اس کے بعد بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔“
(صحيح بخاري كتاب التفسير : سورة البقره باب قوله تعالى إفلا تجعلوا الله انداداً و انتم عملمون) (حديث : صحیح مسلم کتاب الایمان : باب بيان كون الشرك (حديث : 86)
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتے ہوئے مندرجہ ذیل آیات نازل فرمائیں:
وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ‎﴿٦٨﴾‏
”جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہوں کا بدلہ پائے گا۔“
(25-الفرقان:68)
❀ ایک دوسرے مقام پر فرمایا:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ
”کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مد مقابل ٹھہراتے ہیں اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسی اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہئے حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں۔“
(2-البقرة:165)
اگر کوئی مخلوق سے بھی ایسی ہی محبت رکھتا ہے جیسی خالق سے رکھنی چاہئے یا بندے سے بھی اسی طرح ڈرتا ہے جیسے مالک حقیقی سے ڈرنا چاہئے یا انسانوں سے بھی امید کا دامن اسی طرح وابستہ کئے ہوئے ہے جیسے اللہ تعالیٰ سے ہونا چاہئے تو وہ مشرک ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے شرک سے منع فرمایا ہے حتیٰ کہ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
من حلف بغير الله فقد أشرك
”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔“
سنن ابی داؤد کتاب الايمان والنذور : باب في كراهية الحلف بالآباء (حدیث : 3251) سنن ترمذی۔ كتاب النذور والأيمان : باب ماجاء في كراهية الحلف بغير الله (حديث : 1535)
ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
ما شاء الله وشئت فقال أجعلتني لله ندا؟ بل ما شاء الله وحده وقال لا تقولوا ما شاء الله وشاء محمد ولكن قولوا ما شاء الله ثم شاء محمد
”جو اللہ تعالیٰ اور آپ چاہیں ۔ آپ نے فرمایا: کیا تو نے مجھے اللہ کا مد مقابل ٹھہرا دیا ہے؟ بلکہ صرف یہ کہہ جو اللہ تعالیٰ چاہے (وہی ہوگا) اور آپ نے فرمایا یہ نہ کہہ کہ جو اللہ تعالیٰ اور محمد چاہیں ۔ بلکہ کہا کرو۔ جو اللہ چاہے پھر جو محمد چاہیں۔“
مسند احمد (2141) عمل اليوم والليلة للنسائي (988، 987) الادب المفرد للبخاری (802) سے سنن ابی داؤد کتاب الادب : باب لا يقال خبثت نفسی (حدیث : 4980)