صوفیت میں رائج عقیده وحدة الوجود، توحید وجودی اور توحید الوجود کی وضاحت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو عمر عبدالعزیز النورستانی اور دیگر اہلحدیث علماء کے مرتب کردہ رسالہ "ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحید الوجودی اور اس کا شرعی حکم” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

الحمد لله والصلاة والسلام على سيد الانبياء والمرسلين و على أله و صحبه أجمعين أما بعد:

یہ ایک مختصر سا فتوی ہے جس میں بعض علماء کی طرف سے کیے گئے استفسار پر نگاہ ڈالی گئی۔ اگرچہ اس فتوی کا جواب دیگر علماء و مشائخ عظام نے بھی نہایت اچھے اور علمی انداز سے دیا ہے۔ جیسے شیخ القرآن السید عبد السلام اور شیخ عبد العزیز نورستانی اور شیخ محمد رفیق اثری لیکن ہم بھی یہ جواب لکھ رہے ہیں تاکہ ہم بھی دافعین حق کے زمرے میں شمار ہوں، اور [اٰمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ] کے مصداق ہوں جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمايا: قُلِ الْحَقَّ، وَلَوْ كَانَ مُرًّا][،،حق کہو،، خواہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو]

جواب دینے سے پہلے میں چند مہم مقدمات ذکر کرتا ہوں اور چونکہ وہ مقدمات انتہائی واضح طور پر ثابت ہیں، لہذا زیادہ دلائل اور مصادر و مراجع ذکر کرنے سے گریز کرتا ہوں۔ والله تعالى أسأل التوفيق

① پہلی بات:

دین مبین بالکل کامل مکمل ہے۔ لہذا مسلمان اسے مکمل کرنے میں سوائے کتاب وسنت کے کسی چیز کے محتاج نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

[اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا]

آج ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔ [المائده:3]

اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

[ما من شئى يقربكم الى الجنة ويبا عدكم من النار الاوقد امرتکم به و ما من شئى يقربكم من النار ويباعدكم من الجنة الا وقد نهيتكم عنه]

کوئی چیز ایسی نہیں جو تمہیں جنت کے قریب اور آگ سے دور کرتی ہو مگر میں نے تمہیں اس کے بارے میں حکم دے دیا ہے۔ اور کوئی چیز ایسی نہیں جو تمہیں آگ کے قریب اور جنت سے دور کرتی ہو مگر میں نے اس سے تمہیں منع کر دیا ہے۔

[رواه البغوى في شرح السنة:330/7]،[وهو فى المشكاة:452/2]،[الصحيحة للألباني:2866]

اسی طرح ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: [لقد تركنا محمد ﷺ و ما يحرك طائر جناحيه في السماء الا أذكرنا منه علماً]

اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد ﷺ نے ہمیں اس حال میں چھوڑا ہے کہ کوئی پرندہ جو آسمان میں اپنے پروں کو حرکت نہیں دیتا مگر اس کے بارے میں بھی آپ نے ہمیں آگاہ فرما دیا۔ [رواه احمد:153/5]،[الطبراني:100/2]

الحاصل دین کی تکمیل میں کوئی شک نہیں اب جو شخص یہ کہے گا کہ نبی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور نے دین کی تکمیل کی ہے تو اس شخص کے کفر میں شک نہیں۔

② دوسری بات:

محمد رسول اللہ ﷺ نے دین کے عقائد و اعمال کو انتہائی سلیس اور واضح انداز میں بیان کر دیا ہے۔ جیسا کہ ابن ماجہ وغیرہ کی روایت سے ظاہر ہے۔

③ تیسری بات:

محمد رسول اللہ ﷺ نے دین مبین کے کسی بھی حصہ کو نہیں چھپایا۔ فرمان باری تعالی ہے: [یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ]

اے پیغمبر جو ارشادات اللہ کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو تم اللہ کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا)۔ [المائده:67]

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں:

[ومن زعم ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كتم شيئا من كتاب الله، فقد أعظم على الله الفرية]

جو یہ سمجھتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے وحی الہی کا کچھ حصہ چھپا لیا ہے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ [رواه البخاري:4612]،[مسلم:177]

④ چوتھی بات:

کسی بھی انسان کے لیے کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ اللہ کی؟ پہچان اور خشیت میں محمد رسول اللہﷺ سے آگے بڑھ جائے۔

[إن أتقاكم وأعلمكم بالله أنا] [صحیح بخاری:20] اور ایک روایت میں یوں ارشاد ہے: [فوالله إني أعلمهم بالله وأشدهم له خشية] [صحیح بخاری:7301]

[یعنی اللہ کی قسم کہ میں تمام لوگوں سے زیادہ اللہ کی پہچان رکھتا ہوں]،[اور تمام لوگوں سے زیادہ اللہ کی خشیت دل میں رکھتا ہوں]۔

⑤ پانچویں بات:

ہمارے دین مبین میں عقائد اور ایمان کے مسائل انتہائی عام فہم ، عقل اور فطرت کے عین مطابق ہیں کوئی بھی ایسا عقیدہ نہیں ہے، جو عقل یا فطرت سلیمہ کے مخالف ہو۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

[لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَیِّ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی لَا انۡفِصَامَ لَہَا وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ]

ہدایت گمراہی کے مقابلے میں بالکل واضح ہو چکی ہے جو شخص طاغوت سے کفر کرے اور اللہ تعالی پر ایمان لائے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالی سننے والا، جاننے والا ہے۔ [البقره:256]

⑥ چھٹی بات:

عقیدہ اور ایمان کے مسائل سیکھنے میں امت مسلمہ کے تمام افراد یکساں ہیں چاہے عالم ہو یا ان پڑھ تمام پر ایمانیات کا سیکھنا واجب ہے۔ لہذا عقیدہ کی ایسی کوئی بات دین میں نہیں جو چند مخصوص لوگوں کے لیے ہو اور عام لوگوں کے لیے نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

[قلۡ یٰۤایہا الناس انیۡ رسوۡل اللٰہ الیۡکمۡ جمیۡعۨا]

اے نبی لوگوں کو کہہ دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ [سورۃ الاعراف:158]

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

[بعثت إلى كل أحمر وأسود]

مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔ [مسند احمد:2256]

اور فرمایا:

[لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا]

جب تک تم ایمان نہ لے لاؤ جنت میں نہیں جا سکتے۔ [رواه مسلم:54]

اللہ فرماتا ہے:

[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا]

اے ایمان والو! ایمان لے آؤ۔ [النساء:136]

کسی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام لوگوں کو ایک سا حکم دیا اور اس بات پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔

⑦ ساتویں بات:

یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ طریقہ تصوف امت مسلمہ میں 99ھ کی حدود میں پیدا کیا گیا۔ صحابہ کرام کے پاک زمانہ میں اس کا کہیں بھی وجود نہیں تھا بلکہ بعض علماء نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ نظریہ دین نصاری سے بعض اہل اسلام میں منتقل ہوا ہے۔

[دیکھیں: الفكر الصوفى للشيخ عبد الخالق الكويتي]

⑧ آٹھویں بات:

عقیده وحدة الوجود، توحید وجودی اور توحید الوجود ایک ہی مصداق و معنی کے مختلف الفاظ ہیں۔ [والعبرة للمقاصد لأللالفاظ] علامہ عبد الرحمن محمد سعید اپنی کتاب ،،الطريقة النقشبندية،، میں کہتے ہیں اور صوفیاء کا توحید وجودی سے مراد اللہ اور مخلوق کے وجود کو ایک سمجھنا ہے اور اس کی دلیل ان کا یہ قاعدہ ہے کہ شیخ پر یہ واجب ہے کہ اپنے مریدوں کو ابتداء شریعت کے ظاہری احکام کی تعلیم دے اور توحید مطلق کی باتوں سے گریز کرے کیونکہ جو پیر اپنے مریدوں پر یہ بات کھولتا ہے بسا اوقات وہ زندیق ہو کر دنیا اور آخرت میں برباد ہو جاتے ہیں۔ [البهجة السنية في اداب الطريقة الخالدية العلية النقشبندية، ص:34]

اب ہم یہاں چند حوالہ جات صوفیاء اور اہل حق علماء سے پیش کرتے ہیں جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ توحید وجودی اور وحدۃ الوجود میں فرق کرنا محض لفظی ہیرا پھیری کے سوا کچھ نہیں۔

① شیخ الاسلام ابن القیم مدارج السالکین میں فرماتے ہیں: توحید الوجود اور وحدۃ الوجود ایک ہی چیز ہے۔ ملخصاً

② شیخ احمد سر ہندی مکتوبات ص:287 میں لکھتے ہیں: سب سے پہلے توحید وجودی کا ایجاد کرنے والا ابن عربی ہے۔ (وهذا معناه)

③ نیز توحید الوجود کا معنى وحدة الوجود ہے اور وحدة الوجود صوفیاء کی اصطلاح کے مطابق یہ ہے کہ اللہ ایک امر کلی ہے اور کلی کا وجود نہیں ہوتا مگر اپنی جزئیات کے ضمن میں،، [مصرع التصوف ص: 22 للبقاعي]

اسی مصرع التصوف میں ص:64 پر ہے ،،القول بالوحدة المطلقة،، يعنى ،،هو وحدة الوجود،، اور ص:74 میں ہے۔ ،،وجود الحق عين وجود الخلق عند الصوفية،، یعنی صوفیا کے نزدیک اللہ کا وجود عین مخلوق کا وجود ہے۔

④ مفتی کفایت اللہ دیو بندی اپنی کتاب تعلیم الاسلام ص:554 میں لکھتے ہیں: یہاں تصوف کا ایک دقیق مسئلہ ہے اور وہ وحدۃ الوجود کا مسئلہ ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وجود سارا اللہ کا ہی ہے، اور اس کے ماسوا وجود ویسے وہم و خیال ہے۔ اور صوفیاء کا یہ قول کہ لا موجود الاهو صحیح ہے۔ (هذا معناه)

⑤ اس بات کی تائید صراحہ اس بات سے بھی ہوتی ہے جو کہ رشید احمد گنگوہی نے کہی ہے اور اس کا حاصل یہ ہے: ضامن علی جلال آبادی توحید میں غرق تھا۔ ایک اس کی مریدنی رنڈی اس کے سامنے آنے سے شرمائی جب بلایا گیا تو پیر صاحب نے پوچھا بی بی کیوں شرماتی ہو کرنے والا اور کرانے والا تو وہی ہے تو رنڈی آگ بگولہ ہو گئی اور کہنے لگی گناہ گار بہت سہی مگر ایسے پیر کے منہ پر پیشاب بھی نہیں کرتی۔ پیر صاحب شرمندہ ہو گئے۔ [تذكره الرشيد:242/2]

دیکھیں یہ کتنی صراحت ہے کہ والعیاذ باللہ کرنے والا اور کرانے والا وہی یعنی اللہ ہے۔ اس کے بعد بھی یہ لوگ قسماقسم تاویلات سے اپنے اصل عقیدے کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔ تعالى الله عما يقول الظالمون علواً كبيرا

⑥ امداد اللہ مہاجر مکی اپنی کتاب شمائم امدادیہ میں ص:38 میں لکھتے ہیں: ،،بندہ قبل وجود خود باطن خدا تھا اور خدا ظاہر بندہ،، اور ص:37 میں لکھا ہے: عبد اور معبود کے درمیان فرق کرنا بعینہ شرک ہے۔

⑦ اس بات کی تصریح ابن عربی نے فصوص الحکم میں بار بار کی ہے لکھتا ہے: [من عرف ما قررناه علم ان الحق المنزه هو الخلق المشبه]

یعنی جو ہماری ثابت کردہ بات کو سمجھ گیا وہ یقین کرے گا کہ جس معبود کی (تشبیہ با لخلق) سے پاکی بیان کی جاتی ہے وہ عین یہی مشابہت والی مخلوق ہے۔ [فصوص، ص:78]

اسی طرح ص:76 اور 77 میں لکھتا ہے: [وهوى حيث الوجود عين الموجودات] یعنی وہ وجود کے لحاظ سے عین موجودات ہے۔ اس کے بعد بھی آیا کسی تاویل کی گنجائش باقی ہے؟

⑧ شیخ الاسلام ابن قیم رحمہ اللہ نے ان کے عقیدے کی مزید تشریح و وضاحت کی ہے۔

وہ اپنی شہرہ آفاق تصنيف ،،القصيدة النونية ص:21،، میں فرماتے ہیں:

 

فأتى فريق ثم قال وجدته

هذا الوجود بعينه وعيان

ما ثم موجود سواه وأنما

غلط اللسان فقال موجودان

 

پھر ایک گروہ نے آ کر کہا میں نے اس کو اپنی آنکھوں سے پالیا ہے کہ وہ (انسان اور اللہ) ایک ہی وجود تھے۔ اس (اللہ) کے سوا اور کوئی وجود نہیں ہے زبان کو غلطی لگی جب اس نے کہا موجودات دو ہیں۔

⑨ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی جلد 2 اور دیگر بہت سی کتب میں اس بات کو با دلائل ثابت کیا ہے، کہ عقیدہ وحدۃ الوجود وجود مطلق کے اثبات کا نام ہے۔ اور اس کا مطلب خالق اور مخلوق کا ایک ہونا ہے۔ آپ کی بعض عبارات کا تذکرہ بعد میں آئے گا۔ ان شاءاللہ

⑩ شیخ ابراہیم الحمد اپنی کتاب ،،مصطلحات في كتب العقائد و دراسته تحليلية،، میں لکھتے ہیں:

[الاتحاد العام هو اعتقاد كون الموجود هو عين الله عز وجل بمعنى ان الخالق متحد بالمخلوقات جميعها وهذا هو معنى وحدة الوجود]

یعنی عقیدہ اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ خالق کا وجود مخلوقات کے ساتھ متحد ہے اور یہی وحدة الوجود کا معنی ہے۔

⑪ امام ابن ابی العز الحنفی فرماتے ہیں:[وهؤلاء ظنوا ان الوجود المخلوق هو الوجود الخالق كابن عربي وأمثاله]: [شرح العقيدة الطحاوية، ص:492] یعنی ان (صوفیاء) کا گمان ہے کہ وجود مخلوق عین وجود خالق ہے جیسا کہ ابن عربی اور اس کے ساتھیوں کا عقیدہ ہے۔

⑨ نویں بات:

اہل السنۃ والجماعة کے تمام محقین علمائے کرام کا یہ متفق علیہ فتوی ہے کہ عقیدہ وحدۃ الوجود اور توحید وجودی کفریہ اور شرکیہ عقیدہ ہے بلکہ یہ یہود اور نصاری کے کفر سے بھی بڑھ کر کفر ہے۔ والعیاذ باللہ

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرک تو اس لیے مشرک ہوا کہ اللہ رب العالمین کے ساتھ کسی بت یا قبر وغیرہ کو شریک ٹھرایا تو کیا وہ شخص مشرک نہیں ہو گا جو اللہ رب العلمین کے ساتھ تمام مخلوقات کو شریک ٹھہراتا ہے۔ بلکہ اللہ کو نقصان اور حدوث کی صفات کے ساتھ موصوف مانتا ہے۔

[تعالى الله عما يقول الظالمون علوا كبيرا]

علماء اہل السنہ کے چند فتاوی مندرجہ ذیل ہیں:

① امام ذہبی رحمتہ اللہ علیہ ابن عربی کے متعلق لکھتے ہیں:

[وعلق شيئا كثيراً في تصوف اهل الوحدة و من أردأ تواليفه كتاب الفصوص فان كان لاكفر فيه فما في الدنيا كفر نسال الله العفو والنجاة]

(ابن عربی) نے وحدۃ الوجود والوں کے تصوف کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور اس کی تصانیف میں سے سب سے گھٹیا تصنیف الفصوص ہے اگر اس میں کفر نہیں تو پھر دنیا میں کہیں کفر ہے ہی نہیں۔ [سيرا علام النبلاء:48/23]

② شیخ الاسلام ابن القيم عقيدة وحدة الوجود والوں پر افسوس کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

[يا امة قدصار من كفرانها جزء يسير جملة الكفران]

تعجب ہے اے اہلیان امت اس عقیدے کے کفر کا ایک حصہ بھی تمام کفروں کے ساتھ مساوی ہے۔ [النونية:23]

③ علامه بقاعی (رحمتہ اللہ علیہ وغفر لہ) نے امت کا اجماع نقل کیا ہے کہ جو وحدۃ الوجود کا معتقد ہے اور یہ کہتا ہے کہ اللہ اور مخلوق ایک ہیں تو وہ کافر ہے۔ [مصرع التصوف]

④ شیخ الاسلام بطل اہل السنة امام ابن تیمیه (الذي لم يخف في الله لومة لائم)فرماتے ہیں:

[وهولاء اعظم كفرا من جهة ان هولاء جعلوا عابد الاصنام عابداً لله لا عابدا لغيره وان الاصنام من الله بمنزلة اعضاء الانسان من الانسان و بمنزله قوى النفس من النفس وأن قولهم يتضمن الكفر بجميع الكتب والرسل]

یعنی: یہ (وحدة الوجود والے) بہت بڑے کفر کے مرتکب ہیں کیونکہ ان کے نزدیک بت پرست بھی اللہ کا عابد ہے۔ بتوں اور اللہ تعالیٰ کی نسبت ایسی ہے۔ جیسے انسان کے اعضاء کی حیثیت انسان سے ہے۔اور جیسے صفات نفسانی کی حیثیت نفس سے ہے۔ بلکہ ان کا یہ عقیدہ (صرف شریعہ محمدی سے نہیں) تمام نازل شدہ آسمانی کتابوں اور تمام رسولوں سے کفر ہے۔ [مجموع الفتاوى(ابن تيمية)129/2]

⑤ علامہ مناوی کہتے ہیں: ابن سبعین وحدة مطلقہ کا قائل تھا، جس کی وجہ سے بہت سے علماء نے اس پر طعن و تشنیع کی اور وہ اتحاد اور حلول کا بھی قائل تھا۔ جس کی وجہ سے بہت سے علماء نے اسے کافر کہا اللہ اس پر رحم نہ کرے۔ [جلاء العينين في محاكمة الاحمدين:82،81]

⑥ علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدی فرماتے ہیں:

[قاتل الله من عدهذه الطائفة من امة محمد ﷺ وهم برآء من جميع الانبيا عليهم السلام ولا اظن احداً يعرف قولهم و في قلبه مثقال ذرة من ايمان فيستريب في أمرهم ويعرف انهم مباينون للدين كل المباينة]

اللہ اس شخص کو ہلاک کرے جو اس فرقہ کو امت محمد ﷺ میں شمار کرتا ہے حالانکہ یہ لوگ (فرقہ) تمام انبیاء سے الگ تھلگ ہیں اور میرا یہ گمان نہیں کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو اور اسے ان کے عقیدہ کی حقیقت معلوم ہو تو وہ ان کے بارے میں شک کرے (بلکہ وہ) سمجھے گا کہ یہ تمام ادیان سے بالکل جدا ہیں۔ [توضح النونية ص:177]

⑦ علامہ بقاعی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

[ولا يسع احداً ان يقول انا واقف او ساكت لا اثبت ولا انفى لان ذالك يقتضى الكفر لأن الكافر من انكر ما علم من الدين بالضرورة ومن شك في كفر مثل هذا كفر و لهذا قال ابن المقرى في مختصر الروضه من شك في كفر اليهود والنصارى وطائفة ابن عربي فهو كافر]

کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ (ان کی تکفیر میں) توقف یا سکوت اختیار کرے کیونکہ ان کا (عقیدہ) کفر ہی کا تقاضا کرتا ہے۔ کیونکہ کافر وہ ہوتا ہے جو دین کی ضروریات کا انکار کرے اور جو ان جیسوں کے کفر میں شک کرتا ہے تو وہ خود بھی کفر کا مرتکب ہے۔ اسی وجہ سے ابن مقری نے کہا ہے جو شخص یہود و نصاری اور ابن عربی کے گروہ کے کفر میں شک کرے تو وہ خود کافر ہے۔ [ مصرع التصوف: 225]

علامہ بقاعی نے جید علماء کے اقوال بھی ابن عربی اور اس کے گروہ کی تکفیر میں نقل کیے ہیں۔ جسے ہم طوالت کی وجہ سے ترک کر دیتے ہیں۔

⑧ علامه دکتور شمس الدین سلفی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:

[هذا صريح في ان السماء والارض و ما فيهما من الاجسام العظام كالجبال والاجرام والبحار والاشجار والاحجار والانهار بل الدواب والكلاب وللقردة والخنازير وانية الخمور وغيرها هو الله بعينه – نعوذ بالله من هذا الكفر البواح والحاد الصراح]

(وحدة الوجود کا عقیدہ) اس بات کی صراحت ہے کہ زمین و آسمان اور اس میں جو کچھ بھی ہے بلکہ تمام جانور کتے، بندر، خنازیر اور شراب کے برتن وغیرہ یہ سب کچھ بعینہ اللہ ہے۔ ہم اللہ سے ایسے واضح کفر اور صریح الحاد سے پناہ مانگتے ہیں۔ [الماتريديه:191 تا 193]

ہم یہاں انہی فتاوی پر اکتفاء کرتے ہیں۔

میں کہتا ہوں:

اس عقیدے کی نشاۃ کی وجہ یا تو یہ ہے کہ بعض یہود و نصاری ظاہراً اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔ لیکن غرض فساد پھیلانا تھا انہوں نے مسلمانوں میں باطل نظریات کو پھیلایا۔ اور یا یہ وجہ ہے کہ ان صوفیوں نے قرآن اور سنت کو پس پشت ڈال دیا، اور قرآن و سنت و عقل صحیح سے ثابت ایک ہزار سے زائد دلائل کو بھول گئے، جن میں صراحت ہے کہ اللہ عرش پر مستوی ہے۔ اور تمام مخلوق سے جدا ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں ابن عربی جیسے کافر سے متاثر ہو گئے۔ تو (کتاب وسنت سے اعراض کی بدولت) اللہ نے ان سے ایمان چھین لیا اور وحدة الوجود و توحيد وجودی جیسے کفریہ عقائد میں ملوث ہو گئے۔ کیونکہ جو بھی ہدایت قرآن و سنت کے علاوہ کسی اور چیز میں طلب کرے گا وہ ضرور گمراہ ہوگا۔

لہذا جو بھی اللہ کی فوقیت کا انکار کرے گا یا تو عقیدہ حلول کا معتقد ہو گا، یا پھر وحدۃ الوجود اور توحید وجودی کا معتقد ہوگا۔ نسال اللہ السلامة

⑩ دسويں بات:

ابن عربی، ابن الفارض، ابن سبعین، اور ان کے اتباع کا عقیدہ کفریہ ہے اور یہ سب اسلام سے خارج ہیں۔ پس جو بھی ان کی طرح اعتقاد رکھے وہ بھی کافر ہے اور اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ یہاں چند علماء حق کے فتاوی نقل کیے جاتے ہیں۔

① امام ذہبی کا قول گزر چکا ہے۔ [فان كان لا كفر فيه فما في الدنيا كفر]  يعنى اگر اس میں کفر نہیں تو پھر دنیا میں کہیں بھی کفر نہیں۔ [سير أعلام النبلاء: ط الرسالة: ج 23 ص 48]

② امام عزالدین بن عبد السلام فرماتے ہیں: (ابن عربی کے بارے میں) شیخ سوء كذاب يقول بقدم العالم ولا يحرم فرجا: وہ بدترین اور کذاب شیخ ہے۔ عالم (کائنات) کے قدیم ہونے کا معتقد ہے اور کسی شرمگاہ کو حرام نہیں سمجھتا ہے۔ [سير أعلام النبلاء: ط الرسالة: ج 23 ص 49،48]

[3] امام ابن حیان فرماتے ہیں: [بالغ ابن المقرى في الروضة فحكم بكفر من شك في كفر طائفة ابن عربی] 

ابن المقری نے اپنی کتاب الروضہ میں فرمایا: جو ابن عربی اور اس کے گروہ کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ [شذرات الذهب في أخبار من ذهب:335/7]

④ ملا علی قاری نے امام ابن دقیق العید اور امام عزالدین بن عبد السلام کے اقوال نقل کیے کہ ابن عربی جھوٹا اور عالم (کائنات) کے قدیم ہونے کا قائل ہے۔ [الرد علی القائلین بوحدة الوجود]

⑤ امام ابوزرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [لاشك فى اشتمال الفصوص المشهورة على الكفر الصريح الذي لايشك فيه]

اس میں کوئی شک نہیں کہ فصوص الحکم کفر صریح پر مشتمل ہے۔ [جلاء العينين في محاكمة الأحمدين(ابن الألوسي) ص:87]

⑥ امام ابن حیان فرماتے ہیں:

[ومن ذهب من ملاحدتهم الى القول بالاتحاد والوحدة كا لحلاج و ابن عربی و ابن الفارض و ابن سبعين والعفيف التلمساني وتلاميذهم و كل من رضى بمذهبهم ……. ان من اعتقد احقية عقيدة ابن عربي كافر بالاجماع بلانزاع]

اور جو ملحدین وحدۃ الوجود کے قول کی طرف گئے ہیں مثلاً حلاج، ابن عربی، ابن فارض، ابن سبعین، عفیف تلسمانی اور ان کے تلامذہ اور ہر وہ شخص جو ان کے مذہب سے راضی ہے۔ اور ابن عربی کا عقیدہ حق گردانتا ہے وہ بالا جماع کافر ہے۔ [حوار مع الصوفية ص:50]

⑦ مفسر الوسی کے نواسے علامہ نعمان الوسی اپنی کتاب [جلاء العینین ص: 86] میں لکھتے ہیں: ابن عربی کے بارے میں لوگ تین اقسام پر ہیں:

پہلی قسم وہ لوگ ہیں جنہوں نے تصریح کی ہے کہا ابن عربی شریعت مخالف باتوں کی وجہ سے کافر ہے۔ اور انہوں نے اس کے بارے میں مختصر اور طویل کتابیں لکھیں ہیں جیسے علامہ سخاوی کی کتاب، اور علامہ سعد التفتازانی کی کتاب، محقق ملا علی القاری کی کتاب، اور بعض نے مستقل کتابیں نہیں لکھیں لیکن اپنی کتابوں کے ضمن میں اس کا ذکر کیا جیسا [حافظ ابن حجر لسان المیزان میں لکھتے ہیں: وحط عليه و نسب الى سوء الاعتقاد] پھر ملا علی القاری، ابن دقیق العید، عزالدین اور ابوزرعہ ابن العراقی: علامہ ابو زرعہ نے مزید کہا: لا شك فى اشتمال الفصوص المشهورة على الكفر الصريح الذى لا يشك فيه كذالك فتوحاته المكية فان صح صدور ذالك عنه واستمر عليه الى وفاته فهو كافر مخلد في النار بلاشك]

یعنی اگر وفات تک وہ اس عقیدہ پر مرا تو وہ کافر مخلد فی النار ہے۔ اور اسی بات کہ تصریح شیخ الاسلام سراج الدین البلقینی نے بھی کی ہے کہ ابن عربی کافر ہے۔

اور یہی بات رضی الدین ابو بکر المعروف بابن الخیاط اور قاضی شہاب الدین اور بہت سے علماء نے کی ہے۔

پھر علامہ آلوسی نے امام ابو حیان کی عبارت نقل کی ہے۔ جس میں ابن عربی اور اس کے اتباع کا نام لے لے کر تکفیر کی ہے پھر فرمایا ہے:

[وإنما سردت أسماء هؤلاء نصحاً لدين الله تعالى ذلك وشفقة على ضعفاء المسلمين، وليحذوا منهم اشد من الفلاسفة الذين كذبوا الله ورسله ويقولون بقدم العالم وينكرون البحث وقد أولع جهلة من ينتمي للتصوف بتعظيم هؤلاء وادعائهم أنهم صفوة الله تعالى وأولياءه]

اللہ تعالیٰ اس بات کو بخوبی جانتا ہے، کہ میں نے ترتیب کے ساتھ یہ نام محض اللہ کے دین کی خیر خواہی اور کمزور مسلمانوں پر شفقت کرتے ہوئے ذکر کیے ہیں۔ تا که مسلمان ان فلاسفہ سے زیادہ ان سے بچیں اور محتاط رہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ اور عالم کے قدیم ہونے کے قائل ہیں اور موت کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہیں۔ اور جاہل لوگ جو اپنے آپ کو تصوف کی طرف منسوب کرتے ہیں، وہ ایسے لوگوں کی تعظیم کے دلدادہ ہیں اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ [البحر المحيط في التفسير ط الفكر(أبو حيان الأندلسي)210/4]

⑧ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

[ثم اعلم أن من اعتقد حقية عقيدة ابن عربي فكافر ‌بالإجماع ‌من ‌غير ‌نزاع وإنما الكلام فيما إذا أول كلامه بما يقتضي حسن مرامه وقد عرفت من تأويلات من تصدي لتحقيق هذا المقام أنه ليس هناك ما يصح أو يصلح عنه دفع الملام. بقي من شك وتوهم أن هناك بعض التأويل إلا أنه عاجز عن ذلك القيل. فقد نص العلامة ابن المقرى كما سبق أن من شك في كفر اليهود والنصارى وطائفة ابن عربي فهو كافر وهو أمر ظاهر وحكم باهر. وأما من توقف فليس بمعذور في أمره، بل توقفه سبب كفره]

پھر اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ جس کسی نے ابن عربی کے عقیدے کے درست ہونے کا عقیدہ رکھا تو ایسا آدمی بغیر کسی اختلاف کے بالاجماع کافر ہے۔ اختلاف اور کلام صرف اسی وقت ہے جب وہ اپنے کلام کی ایسی تاویل کرتا ہو جو اس کے مقصد کے اچھا ہونے کا تقاضا کرتی ہو۔ علامہ ابن المقری نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ جس نے یہود و نصاری اور ابن عربی کے طائفہ کے کفر میں شک کیا تو وہ کافر ہے، یہ ایک ظاہری معاملہ اور واضح حکم ہے۔ رہی بات اس شخص کی جس نے توقف کیا تو وہ اپنی اس بات میں معذور نہ ہو گا بلکہ اس کا توقف کرنا اس کے کفر کا سبب ہے۔

[وقال في آخر الرسالة: فالواجب على الحكام في دار الإسلام: أن يحرقوا من كان على هذه المعتقدات الفاسدة والتأويلات الكاسدة، فإنهم أنجس ممن ادعى أن علياً هو الله، وقد أحرقه على رضي الله عنه ويجب إحراق كتبهم المؤلفة ويتعين على كل أحد أن يبين فساد شقاقهم فإن سكوت العلماء واختلاف الآراء صار سبباً لهذه الفتنة وسائر الفتنة وسائر أنواع البلاء، فنسأل الله تعالى حسن الخاتمة اللاحقة المطابقة للسعادة السابقة. آمين]

وہ (ابن المقری) رسالے کے آخر میں کہتے ہیں: دارالاسلام کے حکمرانوں پر واجب ہے کہ جو بھی یہ فاسد نظریات اور باطل تاویلات رکھتا ہو اس کو جلا دیں کیونکہ یہ ان لوگوں سے بھی زیادہ نجس ہیں جنہوں نے سیدنا علی کے اللہ ہونے کا دعوی کیا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو جلا دیا تھا۔ اسی طرح ان کی لکھی ہوئی کتابوں کو بھی جلانا واجب ہے۔ اور ہر آدمی پر واجب ہے کہ وہ ان کی مخالفت کے فساد کو واضح کرے کیونکہ علماء کا سکوت اور آراء کا اختلاف بہت سے دیگر فتنوں کا سبب بن گیا ہے۔ ہم اللہ تعالٰی سے اچھے خاتمے کا سوال کرتے ہیں۔ آمین [جلاء العينين في محاكمة الأحمدين(ابن الألوسي) ص:88]

⑨ اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن قیم نے بھی بہت کچھ اس موضوع میں لکھا ہے۔ جس کے کچھ حوالے گزر چکے ہیں۔

⑩ ابن کثیر نے [البداية والنهاية:167/13] میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ فصوص الحکم میں کفریہ باتیں ہیں۔

علمائے امت کے فتاوی دیکھنے کے لیے بقاعی کی کتاب [تنبيه البغي الى تكفير ابن عربی،ص:137تا167]

⑪ گیارھویں بات:

یہ مہم مسئلہ ہے کہ جو شخص اختیاری حالت میں کلمہ کفر پر تلفظ کرے یا اسے اپنی کتابوں میں لکھے، اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دے تو وہ بلا شک و شبہ کافر ہے۔ اور اس کی باتوں کی تاویل ناجائز ہے۔

تاویل تو اس شخص کے کلام میں کی جائے گی جس کی عصمت صریح اور واضح براہین شرعیہ سے ثابت ہو۔ رہا جس کے بارے میں کفر اور خطاء کا احتمال ہو اس کے کلام میں تاویل جائز نہیں۔

مذاہب اربعہ و غیر اربعہ کے چند علماء کی تصریحات

یہاں ہم مذاہب اربعہ و غیر اربعہ کے چند علماء کی تصریحات نقل کر دیتے ہیں تا کہ مسئلہ کی وضاحت ہو جائے۔

① امام الحرمین لکھتے ہیں:

[قال الاصوليون لونطق بكلمة الردة وزعم انه اضمر توريه كفر ظاهرا وباطنا]

یعنی جو بھی کلمہ ارتداد منہ سے نکالتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے دل میں توریہ ہے (یعنی دل میں کفر وارتداد مراد نہیں) یہ کافر ہوگا۔ ظاہر و باطنا۔ [تنبيه البغي: ص 26]

② علامہ غزالی نے یہی بات نقل کر کے تائید کرتے ہوئے کہا ہے:

[لحصول التهاون منه]اس (کلمہ کفر کہنے والے) کی جانب سے دین کے معاملے میں لاپرواہی اور بے باکی پیدا ہونے کی وجہ سے۔ [تنبيه البغي: ص23]

③ علامہ علاء الدین علی بن اسماعیل القونوی فرماتے ہیں:ہم اس شخص کے کلام میں تاویل کرتے ہیں جس کی عصمت (نصوص شرعیہ سے ثابت ہو (جیسے انبیاء) تاکہ اس کی دونوں باتوں میں تطبیق ہو جائے کیونکہ ان سے خطاء (عقیدے کے باب میں) نہیں ہوتی۔ جس کی عصمت ثابت نہیں اور اس پر خطاء، گناہ اور کفر میں واقع ہونا جائز ہو تو ہم اس کی ظاہری کلام پر فیصلہ کریں گے۔ ولا يقبل منه ما اول [كلامه عليه مما لا يحتمله او مما يخالف الظاهر و هذا هو الحق]

[تنبيه البغي: ص 65]

④ غزالی نے مزید کہا: [في اول كتاب العلم من احياء العلوم] ان الكلام ان كان ظاهراً في الكفر بالاتحاد فقتل واحد ممن يقول به افضل من احياء عشرة انفس]

⑤ ملا علی قاری رحمہ اللہ شرح الفقہ الاکبر میں(ص:231) لکھتے ہیں:

[قلت فالعبارات الميميه للفارضية في قصيدته الخمرية وكذا في اشعار ای فظيه والقاسمية كلمات كفرية لمن حملها على المعاني الظاهرية كاهل الاتحاد والاباحة (پھر لكها) من قال كلمة الكفر هاذ لاكفر]

یعنی ابن فارض نے جو قصیدہ میمیہ لکھا اس کو اگر ظاہری معانی پر حمل کریں تو وہ سب کلمات کفریہ ہیں اور جو شخص کفر کا کلمہ مذاق میں بھی کہے تو وہ کافر ہے۔

میں کہتا ہوں:

ابن عربی کی کتابوں میں صراحتاً کفر موجود ہے۔ جیسے العبد رب اور فرعون کی نجات کا اعتقاد رکھنا اور جہنم کی آگ کو (نعیم) عیش کی جگہ کہنا جیسا کہ بقاعی نے نقل کی ہیں۔ اور اس کی کتابیں کسی عبرانی یا سریانی زبان میں نہیں کہ اسے کوئی نہ سمجھے بلکہ واضح عربی زبان میں ہیں۔ لہذا ان میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں۔

اب ہم ڈاکٹر اسرار کی طرف آتے ہیں۔ جو کہتا ہے کہ میں ابن عربی جیسا عقیدہ رکھتا ہوں اور وحدۃ الوجود کو توحید وجودی کا نام دیتا ہے۔ اور اللہ رب العالمین کی تشبیہ لکڑی میں لگی ہوئی چنگاری کے ساتھ دیتا ہے۔ اور سمندر کی امواج کے ساتھ بھی اللہ کی مثال بیان کرتا ہے۔ تو ہم سب سے پہلے اسے نصیحت کرتے ہیں، کہ اللہ رب العالمین کی اس عظیم بے ادبی سے اللہ کی طرف اعلانیہ تو بہ کرے۔ اور اسے یہ نصیحت کرتے ہیں کہ اس فتنہ کو جگانے کی کوشش نہ کرے جسے ماضی قریب میں اللہ نے علماء کی کوششوں کی وجہ سے بجھا دیا تھا۔ اگر وہ پھر بھی مصر ہے تو ہمارا یہی فتوی ہے (ولا نحاف في الله لومة لائم) کہ جو بھی عقیدہ وحدۃ الوجود کا حامل ہو وہ کافر و مرتد ہے۔ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں، نہ اس پر نماز جنازہ جائز ہے۔ اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے مقبرے میں دفن کرنا جائز ہے۔ اور اس کی بیوی پر طلاق سمجھی جائے گی، اور اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نا جائز ہے۔

یہی ہمارا عقیدہ ہے اور اللہ رب العالمین کے سامنے اسی عقیدہ کے ساتھ جائیں گے۔ ان شاء اللہ اگر عقیدہ وحدة الوجود کفر نہیں تو دنیا میں کفر ہے ہی نہیں۔

مزید یہ کہ ڈاکٹر اسرار اور بہت سے اسلام مخالف نظریات کا حامل ہے۔ جیسے اقتصادیات میں مساوات کا قائل ہے، اور خلافت کے حصول کا فریضہ اس کے نزدیک دھرنا دینا ہے۔ جس کی اسلام میں کوئی گنجائش و مثال نہیں۔

اسی طرح لوگوں سے اپنی تنظیم میں داخل ہونے کے لیے بیعت لینا حالانکہ بیعت غیر نبی کے لیے لینا بدعت ہے، جیسا کہ اس مسئلہ کی تفصیل ہم نے [فتاوی الدین الخالص: ج 9] میں کی ہے۔

اسی طرح اکثر طور پر نظریہ ارتقاء کی باتیں بھی کرتا ہے جو کہ ڈارون کا نظریہ ہے۔

فليحذر المسلمون من شره ولينصحو الأنفسهم

وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى اله و صحبه اجمعين

شق ثانی کے بارے میں:

ابن بطوطہ نے شیخ الاسلام کے بارے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل باطل اور بے اصل ہے۔ کیونکہ

① اولا: کسی کے عقیدہ کے بارے میں ہر انسان کی اپنی بات اور عبارت کا ہونا لازم ہے۔

ہم دیکھتے ہیں تو شیخ الاسلام نے اس طرح کا دعوی کرنے والے لوگوں کو کافر کہا ہے۔

فرماتے ہیں: [من قال …… نزوله کنزولی، او استواءہ كاستوائي فهو خبيث مبطل بل كافر] [مجموع الفتاوى:482/11]

مزید فرماتے ہیں:

[ونزول الله ليس مثل نزول احبساد العباد] [مجموع الفتاوى:478/5]

مزید:

[لا يكيف نزول الله] [مجموع الفتاوى:460/5]

مزید کہتے ہیں:

[القول في النزول كالقول في سائر الصفات] [مجموع الفتاوى:195/5]

کیا ان تصریحات کے باوجود جو کہ شیخ الاسلام کی اپنی تصریحات ہیں۔ ہم ابن بطوطہ کے قول کو تسلیم کریں گے۔ کلا و حاشا!

② ثانيا: جن لوگوں نے ان کا خطبہ اس وقت سنا اور اگر واقعی شیخ الاسلام نے یہ بات کہی تو کیا ان میں سے کسی ایک نے بھی ان پر رد نہیں کیا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

③ ثالثا: شیخ الاسلام کے بیسیوں عظیم علماء تلامذہ ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی شیخ الاسلام کا یہ عقیدہ نقل نہیں کیا بلکہ ان سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ تمام صفات کو کسی تشبیہ و تمثیل کے بغیر مانتے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے اس مسئلہ کی تفصیل پانچویں اور چھٹی جلد میں کی ہے۔

④ رابعاً: ابن بطوطہ جب دمشق میں داخل ہوا تو یہ ۹ رمضان 726ھ کا سنہ تھا۔ حالانکہ شیخ اس وقت جیل میں محبوس تھے، اور جیل سے ان کی لاش ہی نکلی اور جیل میں ابن بطوطہ کے دمشق

آنے سے ایک مہینہ قبل 6شعبان 726ھ کو داخل ہوئے تھے۔

لہذا یہ بات یا تو ابن بطوطہ کی افتراءات میں سے ہے۔

اب ہم ان سے چند استفسارات کرتے ہیں۔

① رسول اللہﷺ نے دین کو پورا بیان کیا یا نہیں؟

اگر پورا بیان کیا ہے اور خاص طور پر عقیدہ کے باب میں، تو کیا کبھی آپ نے اس نجس عقیدے کی طرف دعوت دی ہے؟

② کیا ممکن ہے کہ ایک عقیدہ جو نہ نبی علیہ السلام نے بیان کیا نہ سلف صالحین نے یہاں تک کہ ابن عربی جیسے دجال نے روم میں رہ کر یہود و نصاری سے متاثر ہو کر اپنی طرف سے گھڑ کر ہم سے منوانے کی کوشش کی۔ کیا وہ صحیح ہو سکتا ہے؟

③ تمام محدثین اور فقہاء اکرام نے اس عقیدہ سے اعراض کیوں کیا؟

④ کیا تمام ادیان سے ممتاز دین اسلام میں بھی العیاذباللہ عیسائیت کے عقیدہ تثلیث کی طرح ایسی باتیں موجود ہیں جس کو دو تین فیصد لوگ ہی سمجھ سکیں؟ کلا و حاشا!

⑤ کیا ہم ایسے شخص سے عقائد لیں گے جو بندہ اور اللہ کو ایک گردانتا ہے۔ اور فرعون کے مومن ہونے کا قائل ہے؟

⑥ کیا اسلام جیسے واضح دین میں بھی کبھی ایسا عقیدہ پایا جا سکتا ہے جس کو سمجھنے کے لیے عقلی، فطری اور کتاب وسنت کو بالائے طاق رکھنا پڑتا ہو، اور اوہام کے تابع ہو کر ماننا پڑتا ہو؟

⑦ صحابہ اور سلف صالحین اور امت کے تمام علماء کو حقائق سے بےخبر اور اہل ظواہر سے تعبیر کیا جائے کیا یہی تمہارا عقیدہ ہے؟

میں کہتا ہوں کہ اس عقیدے کے کفر میں کسی مسلمان کو شک ہو ہی نہیں سکتا۔

لیکن تعجب اور افسوس ہے ان لوگوں پر جو کہ اپنے آپ کو علم کی طرف منسوب کرتے ہیں، لیکن ان لوگوں کے کفر میں شک کرتے ہیں۔

[فَمَا لَکُمۡ فِی الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِئَتَیۡنِ وَ اللّٰہُ اَرۡکَسَہُمۡ بِمَا کَسَبُوۡا ؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَہۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰہُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ سَبِیۡلًا] [النساء:88]

فضيلة الشيخ ابو محمد امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ