مضمون کے اہم نکات
ایک اہم مسئلہ جس سے شرک کا دروازہ کھولا گیا
میں بفضل اللہ عزوجل ان کے صحیح معنی کی تحقیق اور غلط سمجھے ہوئے معنی کی تردید کرتا ہوں، تاکہ مسلمان ٹھوکر نہ کھائیں، برادران بھی ذہن کو دوڑائیں اور حق کو قبول فرمانے میں تامل نہ کریں۔ اے رب العالمین! تو اپنی توحید کی طرف ہماری صحیح رہنمائی فرما اور ہم میں سے جو سیدھے رستے سے بھٹک گئے ہیں انھیں پھر اپنے در پر جھکا لے۔ آمین۔ کہتے ہیں قرآنِ کریم میں ہے: وہ جب اپنی جانوں پر ظلم کرتے، اگر تیرے پاس آتے، پھر اللہ سے استغفار کرتے اور رسول ان کے لیے استغفار کرتا تو یہ اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔ یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت جیسے آپ ﷺ کی حیات میں تھی ایسے ہی اب بھی ہے۔ آپ کے روضہ پر جا کر آپ سے کہنا چاہیے کہ آپ ہمارے لیے استغفار کریں وغیرہ۔
[وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ جَآءُوۡکَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰہَ وَ اسۡتَغۡفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا]
اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی فرماں برداری کی جائے اور اگریہ لوگ، جب انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، تیرے پاس آتے، پھر اللہ سے بخشش مانگتے اور رسول ان کے لیے بخشش مانگتا تو اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان پاتے۔ [النساء:64]
لیکن یہ مفہوم صحیح نہیں، کیونکہ
[1] اس آیت میں لفظ ،،جاؤوك،، ہے (یعنی) وہ تیرے پاس آتے، یہ لفظ صاف بتلا رہا ہے کہ یہ آیت آپ ﷺ کی حیات کے ساتھ مخصوص ہے، بعد از وفات آپ ﷺ کے پاس کسی کا جانا ممکن ہی نہیں، آپ اس وقت اعلیٰ علیین میں ہیں۔
[2] دوسرے یہ کہ خود آپ ﷺ کا صحیح فرمان موجود ہے: [إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله]
[مسلم، كتاب الوصية، باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته:1631]
ہر انسان کا عمل اس کی موت کے ساتھ منقطع ہو جاتا ہے۔ پس یہ آیت آپ کی حیات کے ساتھ مخصوص تھی۔
[3] آپ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم ہزاروں کی تعداد میں تھے، نئے لوگ اسلام قبول کرتے تھے لیکن آپ کہیں بھی یہ نہ پائیں گے کہ ان میں سے کوئی بھی روضہ رسول ﷺ پر آیا ہو اور آپ ﷺ سے استغفار طلب کیا، حالانکہ یہ آیت ان کے سامنے تھی، قرآن میں موجود و مکتوب تھی، جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس آیت کو وہ جملہ صاحبان آپ کی حیات کے ساتھ مختص مانتے تھے۔
[4] یہاں تک کہ جب بوقتِ خلافت فاروقی قحط سالی پڑتی ہے، اس وقت بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روضہ رسول ﷺ پر جاکر آپ سے طلب استغفار نہیں کرتے، بلکہ مسنون طریقے کے مطابق جنگل میں جا کر نمازِ استسقا ادا کرتے ہیں اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو آگے کر کے ان سے دعا کراتے ہیں، وہ مسلمانوں کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ پس ثابت ہو گیا کہ استغفارِ رسول ﷺ مخصوص تھا بحیاتِ رسول ﷺ۔
[5] ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی صاحب اس بات کا دعویٰ کرے کہ ہم آیاتِ قرآنیہ کا مطلب بنسبت صحابہ رضی اللہ عنہم کے زیادہ جانتے ہیں۔
[6] یا انھوں نے نہ اس آیت کو سمجھا نہ اس پر عمل کیا بلکہ غیر مقلد اور منکرِ رسول (ﷺ) ہونے کا فتویٰ صحابہ رضی اللہ عنہم پر بھی چسپاں کر دیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ آیت آپ ﷺ کی زندگی کے لیے تھی، ورنہ صحابہ رضی اللہ عنہم قبر شریف پر آتے، لیکن انھوں نے ایسا نہ کیا بلکہ رسول اللہ ﷺ کے چچا کو آگے کر کے ان سے استغفار کرایا اور خود بھی کیا اور مسلمانوں پر اس آیت کی تفسیر عملی طریقے سے بھی واضح کر دی۔ فالحمدللہ
[7] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جہاں اس آیت کی تفسیر اپنے عمل سے کر دکھائی اپنی زبان سے بھی کہہ سنائی۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے:[أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال:اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا]
[بخاری، کتاب الاستسقاء، باب سؤال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا: 1010 ]
یعنی بوقتِ قحط سالی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے طلبِ باراں کراتے اور اپنی دعا میں کہتے کہ الٰہی! پہلے ہم تجھ سے طلبِ باراں تیرے نبی ﷺ سے کراتے تھے (اب چونکہ آپ ﷺ وفات فرما چکے اس لیے) ہم اپنے نبی (ﷺ) کے چچا کے ذریعے تجھ سے طلبِ باراں کرتے ہیں، پس تو ہم پر بارش برسا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس موقع پر جو دعا کی تھی اس کے الفاظ بھی سن لیجیے:
(اللهم لم ينزل بلاء إلا بذنب ولم يكشف إلا بتوبة وهذه أيدينا إليك بالذنوب لواصيلنا إليك بالتوبة فاسقنا الغيث)
الٰہی! گناہوں کی وجہ سے بلائیں نازل کی جاتی ہیں اور سوائے توبہ کے وہ ہٹائی نہیں جاتیں، اس لیے یہ ہمارے گنہگار ہاتھ تیری رحمتوں اور بخششوں کے طلب کرنے کے لیے تیری طرف اٹھے ہوئے ہیں اور یہ ہیں ہماری خطاکار پیشانیاں جو توبہ طلبی کے لیے تیرے سامنے جھکی ہوئی ہیں، پس تو ہمارے گناہ معاف فرما اور ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا۔ [فتح الباری: 641/2]
چنانچہ بفضلِ تعالیٰ بارش ہوئی۔
[8] سنیے! بے شک آپ ﷺ کا وجودِ اقدس امت کے لیے باعثِ امن تھا، کفار سے خطاب کرتے ہوئے جناب باری ارحم الراحمین فرماتے ہیں:
[وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ]
جب تک آپ (ﷺ) ان میں ہیں اور جب تک ان میں وہ لوگ ہیں جو اللہ سے استغفار کرتے ہیں، اللہ انھیں عذاب نہیں دے گا۔ (الأنفال:33)
پس ان دونوں امن میں سے ایک امن اٹھ گیا، اب ایک باقی ہے، یہ آیت بھی گویا اس آیت کی تفسیر ہے اور صاف بتلا رہی ہے کہ حضور ﷺ کا استغفار کرنا آپ کی حیات تک تھا نہ کہ بعد از ممات بھی۔ اب آپ اعلیٰ علیین میں ہیں، اعمالِ امت سے بے خبر، استغفارِ امت سے سبکدوش ہیں۔
صلی اللہ علیٰ روحہ فی الارواح وعلی جسدہ فی الاجساد
[9] کسی کے لیے آپ ﷺ کا اپنے روضہ مطہرہ سے استغفار کرنے کا عقیدہ رکھنا تب ہی صحیح و اسلامی عقیدہ ہو سکتا ہے جب اس پر قرآن، صحیح احادیث اور ثابت اجماعِ امت سے خیر القرون کے سلف صالحین (یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ثقہ و صدوق تابعین و محدثین عظام) کے فہم پر واضح اور ٹھوس دلائل صحیح و حسن سندوں کے ساتھ موجود ہوں جبکہ بکثرت دلائل اس کے خلاف موجود ہیں، جو بتلا رہے ہیں کہ آپ ﷺ فوت ہو چکے ہیں اور آپ ﷺ کی روحِ اقدس و اطیب (جنت الفردوس) میں ہے (بخاری:1386) اور جسمِ اطہر و اقدس مدینہ والی قبر میں ہے۔ (بخاری:462)،( ترمذی: 3618،وإسناده حسن لذاته) نیز بخاری و مسلم کی احادیث میں مقامِ دفن کو بھی روضۃ من ریاض الجنہ کہا گیا ہے۔ (بخاری:1195)،(مسلم:1390، 1391) جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا جسدِ اطہر و اقدس بھی جنت میں ہے۔
حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [لأنه بعد موته و إن كان حيا فهي حياة أخروية لا تشبه الحياة الدنيا، والله أعلم] بے شک آپ ﷺ اپنی وفات کے بعد اگرچہ زندہ ہیں لیکن یہ اخروی زندگی ہے، دنیاوی زندگی کے مشابہ نہیں ہے۔ واللہ اعلم (فتح الباری:7 /349، تحت ح:4042)
معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ زندہ ہیں لیکن آپ کی یہ زندگی اخروی و برزخی ہے، دنیاوی نہیں کہ آپ ﷺ امت کے حالات سے واقف ہوں۔
چنانچہ صحیح احادیث میں آتا ہے کہ جب بعض امتیوں کو فرشتے حوضِ کوثر سے روکیں گے اور آپ ﷺ فرمائیں گے کہ یہ میرے امتی ہیں، انھیں آنے دو تو فرشتے کہیں گے: (إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك)
آپ (ﷺ) نہیں جانتے کہ آپ (ﷺ) کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا بدعتیں ایجاد کر لی تھیں؟
[بخاری، کتاب الرقاق، باب في الحوض:6583، 6584]،[مسلم، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبيناﷺ وصفاته: 2304]
فرمانِ باری تعالیٰ ہے: [یَوۡمَ یَجۡمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَا ذَاۤ اُجِبۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَا عِلۡمَ لَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ]
(یعنی قیامت والے دن) اللہ تبارک و تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمھیں تمھاری امتوں کی طرف سے کیا جواب دیا گیا؟ وہ سب کہیں گے کہ الٰہی! ہمیں اس کا کوئی علم نہیں، غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔ (المائدة:109)
اگر نبیوں کو اپنی امت کے اعمال کا علم ہوتا تو پھر نعوذ باللہ ان کا یہ جواب کہ ہمیں کوئی علم نہیں جھوٹا اور غلط ٹھہرتا ہے، انھیں تو برابر علم ہے، امت کے گنہگار ان کے پاس آتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ فلاں نے یہ کہا، فلاں نے یوں کہا، پھر کیسے کہتے ہیں کہ ہمیں علم نہیں؟ ثابت ہوا کہ یہ عقیدہ اور یہ قول غلط بلکہ اغلط ہے۔
[10] یہ بھی یاد رہے کہ دراصل یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے، شروع رکوع کی آیت: [أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ] سے یہ مضمون شروع ہے، تفسیر کبیر اور تفاسیر اہل سنت وغیرہ میں مرقوم ہے: (نَزَلَتْ فِي الْمُنَافِقِيْنَ) یعنی یہ آیتیں منافقوں کے بارے میں اتری ہیں اور
[11] خالص اس آیت کی بابت بھی صاف لفظ ہیں: (ألم أدبه من تقدم ذكره من المنافقين) یعنی مراد اس سے وہی منافق ہیں جن کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے۔ تو آپ حضرات سچے مسلمانوں کو منافقوں کے حکم میں کیوں گنتے ہیں؟
[12] اس سے ایک آیت پہلے بھی یہی لفظ ہیں، فرمان ہے: [ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ] (النساء:62) پھر وہ تیرے پاس آ کر اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ احسان توفیق کا ہی تھا، تو ان سے منہ پھیر لے اور انھیں وعظ و نصیحت کر اور ان کے دلوں میں گھپ جانے والی مؤثر بات ان سے کہہ۔ پس آیت: [وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ جَآءُوۡکَ] (النساء: 64) کو آپ ﷺ کی قبر شریف پر بھی چسپاں کرنے والو! کیا آپ ﷺ کے وعظ کو آپ ﷺ کے منہ پھیر لینے کو، آپ ﷺ کی مؤثر تلقین کو بھی یہیں تک پہنچاؤ گے، کیا کہو گے کہ اب بھی آپ ﷺ وعظ کرنے میں، منہ موڑنے میں اور مؤثر باتوں کی تلقین کرنے میں مصروف ہیں۔ (وَ هَلْ يَقُوْلُ هَذَا إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ)
[13] ہاں کیا میں یہ بھی کہہ دوں کہ اگر روضہ رسول ﷺ پر جا کر آپ ﷺ سے استغفار طلب کرنا لازمی ہے تو وہ کروڑوں مسلمان جنھوں نے مدینہ شریف دیکھا ہی نہیں ان کی نسبت ان مفتی صاحبان کا کیا فتویٰ ہے؟
[14] کسی گنہگار کا صرف اللہ تعالیٰ سے استغفار کر لینا کافی ہے، جیسے کہ قرآن کریم کی بیسیوں آیتوں میں ہے: [اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا] (نوح: 10) وغیرہ۔ ان منافقین کو جو آپ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر استغفار کرنے اور آپ ﷺ سے استغفار طلب کرنے کا حکم ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے آپ ﷺ کا بھی قصور کیا تھا، آپ کے سوا اوروں کی طرف اپنے جھگڑے چکانے کے لیے گئے تھے، آپ کےحکم اور فیصلے سے رضامند نہ تھے تو ان سے کہا گیا کہ اب اپنی اس روش کی مکافات کرو، آپ کے پاس جاؤ، توبہ کرو، معافی چاہو۔ چنانچہ تفسیر کبیر وغیرہ میں ہے کہ آپ ﷺ نے انھیں وعظ سنایا، فرمایا: (فَلْيَقُوْمُوْا وَ يَسْتَغْفِرُوْا اللهَ) یہ لوگ کھڑے ہو جائیں، اللہ سے استغفار کریں۔ مگر ان منافقوں نے اب بھی سرتابی کی اور نہ کھڑے ہوئے، پس ان کی اس روش نے رسول اللہ ﷺ کو مغموم کیا تھا۔ ان کی روش نے آپ ﷺ کا حق سلب کیا تھا، اس لیے انھیں حکم ہوا کہ خود آپ ﷺ سے عذر خواہی کریں اور آپ ﷺ کو خوش کریں، تاکہ آپ ﷺ خود ہی ان کے لیے استغفار کریں۔
[15] مسلمانوں میں سے کوئی اس بات کا قائل نہیں کہ انسان کا اللہ سے استغفار کرنا کافی نہیں، ہاں! ان منافقوں کے لیے ان کی سرتابی کے بدلے یہ خاص حکم اس حیثیت سے اور اس حیثیت سے کہ اس کا امکان ہی آپ کے وصال کے بعد نہ رہا، مخصوص ہے۔ اب اس سے دلیل پکڑنا ڈوبتے ہوئے کا تنکے کا سہارا لینے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔
[16] فرض کرو کہ اسے مان لیا جائے تو یہ خاص ہو گا ذاتِ رسول ﷺ کے ساتھ، لیکن حالت یہ ہے کہ آج کوئی کچا پکا ٹیلا، اونچی نیچی قبر بلکہ کاغذ، ابرک اور بانس بھی نہیں چھوڑے جاتے۔
[17] پھر یہ مخصوص ہو گا صرف طلبِ استغفار کے لیے لیکن یہاں تو اولاد، روزی، بارش، برکت اور شفا غرض کل کام طلب کیے جاتے ہیں۔
[18] پھر طلب دراصل اللہ سے تھی لیکن یہاں تو براہِ راست صاحبِ قبر سے طلب ہوتی ہے۔ ان وجوہ سے یہ دلیل مطابق دعویٰ اور قول مطابق فعل نہیں۔
[19] مسلمانو! قرآن کی ایک تفسیر اس چودھویں صدی کا کوئی شخص بیان کرے اور قرآن کی ایک تفسیر رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی، آپ ﷺ کے صحابی جن کے لیے آپ ﷺ دعا کریں کہ یا اللہ! اسے اپنی کتاب کا علم سکھا دے، جنھیں آپ ﷺ نے اپنے سینۂ پر نور سے لگا کر علم کتاب اللہ اور تفسیر کلام اللہ سکھائی، وہ بیان کریں، ایمان سے بتلاؤ کہ کس کا بیان معتبر ہوگا۔ اور کس کا بیان غیر معتبر ہو گا؟ چنانچہ ثقہ و صدوق محدث امام عبدالرحمٰن بن عمرو الاوزاعی (المتوفی 157ھ) فرماتے ہیں: [عليك بآثار من سلف و إن رفضك الناس و إياك و آراء الرجال و إن زخرفوا لك بالقول]
اسلاف (سلف صالحین) کے آثار کو لازم پکڑو، اگرچہ لوگ آپ کو چھوڑ دیں اور لوگوں کی (قرآن و سنت، اجماع اور سلف صالحین کے خلاف) آراء (و قیاس زنی) سے بچو، اگرچہ وہ اپنی بات کو ملمع سازی، مرچ مصالحہ لگا کر ہی کیوں نہ بیان کریں۔ [الشريعة للإمام الآجري، ص: 58 ح: 127 وإسناده صحيح]
ثقہ و متقن محدث امام محمد بن سیرین التابعی (المتوفی 110ھ) فرماتے ہیں: [كانوا يرون أنه على الطريق ما كان على الأثر]
اگلے علماء (یعنی صحابہ کرام اور کبار تابعین عظام) یہ سمجھتے تھے کہ جو شخص متبعِ آثار ہو (یعنی قرآن و سنت اور متفقہ آثارِ سلف صالحین پر قائم ہو) وہ شخص صراطِ مستقیم پر گامزن ہے۔ [سنن الدارمی: ح:142 وإسناده صحيح]
پس ایک تو آپ کے زمانے کے کوئی صاحب ہیں، وہ تو آپ سے کہتے ہیں کہ اب بھی روضہ رسول ﷺ پر جاکر طلبِ استغفار کرو اور ایک وہ بزرگ ہیں جن کا نام نامی اسم گرامی جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہے، ان کا فرمان سنیے، فرماتے ہیں: [كان فيهم أمانان نبي الله و الإستغفار، فذهب النبي صلی الله عليه وسلم و بقی الإستغفار]
اس امت میں دو امن تھے ایک تو نبی ﷺ دوسرا استغفار، پس نبی ﷺ تو تشریف لے گئے (وہ امن تو اٹھ گیا) اب ایک امن باقی ہے اور وہ استغفار ہے۔
[تفسير الطبری:6 /233، ح:16014 وإسناده حسن لذاته]،[سنن الکبریٰ للبيهقی:45/5، 46، ح:9037 وإسناده حسن لذاته]،[شعب الإيمان:2/ 182، ح:1491]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [كان فيكم أمانان مضت إحداهما و بقيت الأخرٰی]،[و ما کان اللٰہ لیعذبہمۡ و انۡت فیۡہمۡ ؕ و ما کان اللٰہ معذبہمۡ و ہمۡ یسۡتغۡفروۡن]
(پہلے) تم میں دو امان نامے تھے، ایک تو گزر چکا ہے یعنی (رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس) اور ایک باقی ہے یعنی توبہ و استغفار کرنا (پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی) اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا آپﷺ کی موجودگی میں اور نہیں اللہ عذاب دینے والا اس حال میں کہ وہ استغفار کرنے والے ہوں۔ [مستدرک حاکم: 1/ 542، النسخة الجديدة: 1/ 726 ح:1988 وإسناده صحيح]،[شعب الإيمان للبيهقی:1/ 442، ح:654 وإسناده صحيح]
ممکن ہے کہ بعض حضرات شاید اس سے زیادہ طویل بحث سے اکتا جائیں گے، اس لیے میں اس بحث کو بادلِ ناخواستہ ختم کرتے ہوئے فریقِ مخالف کے نام نہاد محقق و مناظر محترم عباس رضوی صاحب سے ایک ایسی دلیل پیش کرتا ہوں جس کے بعد فریقِ مخالف کو اس مسئلہ میں کوئی کلام باقی نہیں رہنا چاہیے۔ چنانچہ عباس رضوی صاحب:مصنف ابن ابی شیبہ اور تاریخ و تفسیر طبری سے ایک ضعیف روایت (من اجل سفیان وابی اسحاق وھما مدلسان وقد عنعنا) نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بظاہر موقوف ہے، لیکن حکماً مرفوع ہے، کیونکہ یہ اصول ہے کہ صحابی کی تفسیر مرفوع حدیث کے حکم میں ہوتی ہے۔ [آپ ﷺزندہ ہیں واللہ، ص:382،305]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے بارے میں امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [و قد اتفقا علی أن تفسیر الصحابي حديث مسند] اور تحقیق امام بخاری اور امام مسلم اس بات پر متفق ہیں کہ صحابی کی تفسیر مسند (مرفوع) حدیث کے حکم میں ہے۔ (المستدرک:1/ 542)
یعنی فریقِ مخالف کے مناظر و محقق عباس رضوی صاحب کے نزدیک بھی صحابی کی تفسیر مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم نے ان آیات کی تفسیر محض اپنے اجتہاد سے نہیں کی تھی بلکہ یہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔
پس معلوم ہوا کہ آپ سے طلبِ استغفار کرنا یہ آپ کی زندگی کے ساتھ مخصوص تھا، جب آپ نہ رہے تو وہ چیز ہی نہ رہی، اب انسان خود اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں۔
چنانچہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جنابِ باری کا وعدہ ہے: [لا أزال أغفر لهم ما استغفروني] جب تک میرے بندے مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انھیں بخشتا رہوں گا۔ [مسند احمد: ح: 11237]
ایک اور حدیث سنیے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: [العبد آمن من عذاب الله عز وجل ما استغفر الله عز وجل]
بندہ اللہ کے عذاب سے امن میں ہے جب تک وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے۔ [مسند احمد: ح:23953]
ان جوابات کے بعد غالباً آپ کی تسلی ہو گئی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سب کے دروازوں سے ہٹا کر اپنے در پر جھکالے۔ آمین!
[10] منت، نذر اور صدقہ عبادات ہیں۔ (احمد رضا خانی ترجمہ مع تفسیر البقرۃ: 270، 271، ف:574تا576) لیکن عادت کے مطابق گڑبڑ کے ساتھ۔ (الدھر:7، 8 ف:15 تا18)
[11] ایک اور تحریف ملاحظہ فرمائیں قرآن مجید میں ہے۔ (یعنی) تم پر حرام ہے مردار، خون، سور کا گوشت اور وہ جس کو ذبح کرتے وقت غیراللہ کا نام پکارا جائے۔ [النحل:115 اور، ف265] میں لکھا ہے یعنی اس کو بتوں کے نام ذبح کیا گیا ہو۔ آپ نے دھاندلی نوٹ فرمائی آیت میں غیراللہ کے الفاظ وارد ہوئے یعنی اللہ کے علاوہ اور کوئی بھی ہستی لیکن یہاں صرف بتوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے یہی تفسیر(الکوثر:2، ف3۔4) ان آیات سے ثابت ہوا ذبح مالی عبادت ہے اور عبادت غیر اللہ کی نہیں ہو سکتی، صرف بتوں کی بات نہیں۔ (دیکھیے:یہی تفسیر الاعراف: 59، 65، 73، 85)،(ھود:50، 61، 84)
اللہ تعالیٰ کے ساتھ تین وعدے:
یاد رہے کہ ہر کلمہ گو نے اللہ تعالیٰ سے تین وعدے کیے ہیں:
[1]وعدہ:
اللہ تعالیٰ ہمارا رب (یعنی داتا) ہے۔ (الاعراف:172تا174) لیکن اب امت مسلمہ کے کچھ لوگ بہت سے دوسرے بزرگوں کو بھی اپنا داتا مانتے ہیں۔
(یعنی) اس وعدے سے پھر چکے ہیں۔ (مزید دیکھیے الأنعام:161تا165)،(الكهف:37تا44) ہم اس مسئلہ پر توحید فی التصرف اور شرک فی التصرف کی بحث میں تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں۔
[2] وعدہ:
،،لا الہ الا اللہ،، کا یعنی اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں لیکن اب کچھ لوگ غیراللہ کی عبادت بھی کرتے نظر آتے ہیں یعنی اس وعدے سے بھی پھر گئے۔ غیراللہ کو پکارتے ہیں حالانکہ پکارنا عبادت ہے۔
[3] وعدہ:
[سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا] یعنی ہم نے سنا، ہم نے اطاعت کا وعدہ کیا۔ (البقرة:285) لیکن اب آسمانی وحی کی اطاعت سے منحرف نظر آتے ہیں، یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانی وحی کی پیروی کرنے کا حکم دیا، لوگوں نے تقلید اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کا حکم دیا، لوگوں نے شرک اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سنتِ رسول ﷺ کو اختیار کرنے کا حکم دیا، لوگوں نے سنت سے ہٹ کر بدعات اختیار کیں۔ غور و فکر اور اصلاح کی ضرورت ہے، ورنہ خطرہ ہی خطرہ۔ (الاعراف:102) اس سلسلہ میں ایک اور مثال بھی ضروری ہے، جو حسبِ ذیل ہے:
قطعی نصوصِ قرآن اور احناف کی دیدہ دلیری:
قرآن مجید میں ماں کا بچے کو دودھ پلانے کا ذکر تین مقامات پر ہے۔ (البقرة:233)،(لقمان:14)،(الأحقاف:15) ان آیاتِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ماں بچے کو زیادہ سے زیادہ دو سال دودھ پلائے اور حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے، قرآن مجید کی اس قطعی نص کے مقابلے میں ان کی گوہر افشانی ملاحظہ ہو۔
مولوی نعیم الدین مراد آبادی بریلوی (جس نے احمد رضا صاحب کے قرآنی ترجمہ کی تفسیر لکھی) (سورۃ الاحقاف:15 کی تفسیر حاشیہ:37) پر لکھتے ہیں کہ مسئلہ اسی آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اقل مدتِ حمل چھ ماہ، کیونکہ جب دودھ چھڑانے کی مدت دو سال ہوئی (البقرة:233) تو حمل کے لیے چھ ماہ باقی رہے۔ یہی قول ہے امام محمد رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس آیت سے رضاعت کی مدت اڑھائی سال ثابت ہوتی ہے۔
اسی طرح ایک اور صاحب فرماتے ہیں: امام ابوحنیفہ جو اکثر مدتِ رضاعت اڑھائی سال بتاتے ہیں ان کے پاس کوئی اور دلیل ہو گی، جمہور کے نزدیک دو سال ہی ہے۔ (تفسیر عثمانی:548)
یہ سب تقلید کی کارفرمائیاں ہیں، بہر حال ہمیں ان سب معاملات میں [سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا] کا رویہ اختیار کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان جو (سورۃ یونس:60) اور (سورۃ حم السجدۃ:30) میں ہیں ان کو قطعاً نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، ان مقامات پر ایسے لوگوں کے لیے سخت وعید ہے۔
