اہل بیت سے محبت اور اہل سنت کا عقیدہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کتاب دفاع صحابہ رضی اللہ عنھم سے ماخوذ ہے۔

اہل بیت سے محبت

امام ابوبکر محمد بن حسین آجری رحمہ اللہ (360ھ) لکھتے ہیں :
قد أثبت من بيان خلافة أبى بكر وعمر وعثمان وعلي رضي الله عنهم ما إذا نظر فيها المؤمن سره، وزاده محبة للجميع، وإذا نظر فيها رافضي خبيث أو ناصبي ذليل مهين ، أسخن الله الكريم بذالك أعينهما فى الدنيا والآخرة؛ لأنهما خالفا الكتاب والسنة ، وما كان عليه الصحابة رضي الله عنهم واتبعا غير سبيل المؤمنين .
”میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بیان سے وہ وہ کچھ ثابت کر دیا ہے، کہ جسے دیکھتے ہی مومن باغ باغ ہو جائے گا اور ان تمام سے محبت میں اضافہ ہوگا اور خبیث رافضی اور رسوا و کمینہ ناصبی سیخ پا ہو جائے گا۔ اللہ کریم دنیا و آخرت میں ان دلائل و براہین سے ان کی آنکھوں کو سوجاتا رہے۔ کیوں کہ یہ کتاب وسنت، مسلک صحابہ اور منہج محدثین کے مخالف ومعاند ہیں۔“
(الشريعة : 1767/4)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نواصب وروافض کا دعوی ہے :
إن حب عثمان وعلي لا يجتمعان فى قلب مؤمن وكذبوا قد جمع الله عز وجل حبهما بحمد الله فى قلوبنا.
”ایک مومن کے دل میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ (دونوں) کی محبت سما نہیں سکتی، یہ ان کا جھوٹ ہے، الحمدللہ! اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل میں دونوں کی محبت کو جمع کر دیا ہے۔“
(الشريعة : 1226 ، 1227 ، معجم ابن الأعرابي : 95 سنده صحيح)
امام ابوشہاب حناط رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا يجتمع حب أبى بكر وعمر وعثمان وعلي رضي الله عنهم إلا فى قلوب أنقياء هذه الأمة .
”ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ (سب) کی محبت اس امت کے پارسا لوگوں کے دلوں میں ہی سماسکتی ہے۔“
(الشريعة : 1228 ، وسنده صحيح)
میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إن أقواما يقولون : لا يسعنا أن نستغفر لعثمان وعلي، وأنا أقول : غفر الله لعثمان وعلي وطلحة والزبير .
”ایک گروہ کہتا ہے: عثمان رضی اللہ عنہ وعلی رضی اللہ عنہ (یہ دونوں) کے حق میں استغفار کرنا ہمارے بس میں نہیں، جب کہ میں تو کہتا ہوں: اللہ عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کو معاف کرے۔“
(الشريعة : 1229، وسنده حسن)

اہل حدیث اور اہل بیت :

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیرخم کے موقع پر تین مرتبہ فرمایا :
أذكركم الله فى أهل بيتي .
”میں آپ کو اہل بیت کے بارے میں اللہ کا خوف دلاتا ہوں۔“
(صحیح مسلم : 2408)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ، فاطمہ رضی اللہ عنہا، حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو چادر میں لے کر یہ دعا کی :
اللهم أهل بيتي أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا .
”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، گندگی ان کے قریب نہ پھٹکنے دینا اور انہیں کمال درجہ کی طہارت نصیب فرما۔“
(مسند الإمام أحمد : 298/6 ، وسنده حسن)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آیت مباہلہ (سورۃ آل عمران آیت : 61) نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ، فاطمہ رضی اللہ عنہا، حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا :
اللهم هؤلاء أهلي .
”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔“
(صحیح مسلم : 2404)
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اللهم هؤلاء أهل بيتي، وأهل بيتي أحق .
”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت عزت و تکریم کے زیادہ حق دار ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 107/4 ، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (1976) نے صحیح کہا ہے، نیز امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔
(السنن الکبری :152/2)
امام حاکم رحمہ اللہ (147/3) نے امام بخاری رحمہ اللہ ومسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح، اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر قرار دیا ہے۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ، فاطمہ رضی اللہ عنہا، حسن رضی اللہ عنہ و حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق دعا کی :
اللهم ارض عنهم كما أنا عنهم راض .
”اے اللہ! میں ان سے راضی ہوں، تو ان سے بھی راضی ہو جا۔“
(المعجم الأوسط للطبراني : 5514 ، وسنده حسن)
خلیفہ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
والذي نفسي بيده، لقرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم أحب إلى أن أصل من قرابتي.
”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری کا خیال رکھنا مجھے اپنی عزیز داری سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔“
(صحيح البخاري : 3712)
نیز فرمایا :
أرقبوا محمدا صلى الله عليه وسلم فى أهل بيته .
”اہل بیت کے حوالے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کا خیال رکھیں۔“
(صحيح البخاري : 3713)
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
صلى أبو بكر رضى الله عنه العصر، ثم خرج يمشي، فرأى الحسن يلعب مع الصبيان، فحمله على عاتقه، وقال : بأبي شبيه بالنبي لا شبيه بعلي وعلي يضحك .
”سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز عصر ادا کی اور پیدل چل دیے، (رستے میں) سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا، تو انہیں کندھے پر اٹھالیا اور فرمایا : ان پر میرا باپ قربان! یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہیں، نہ کہ علی رضی اللہ عنہ کے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہنس دیے۔“
(صحيح البخاري : 3542)
علامہ امیر محمد بن اسماعیل صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ) لکھتے ہیں :
من أبدانهم وترك تعظيمهم فإن لهم على الامة حقا لا يجهله إلا من غطى الشقاء على نور بصيرته وكذلك المستحل من غير العتيرة آثم إلا لما كان حقهم ! وقد علم الله سبحانه أنه يكثر لهم الأعداء والحسد فخصهم .
”یعنی اہل بیت کو جسمانی تکلیف سے دوچار کرنے والا اور ان کی عزت و توقیر میں کوتاہی برتنے والا (لعنتی ہے)۔ کیوں کہ اہل بیت کا امت پر باقاعدہ حق ہے، جس سے وہی نا آشنا رہ سکتا ہے، جس کی بصیرت پر شقاوت و بدبختی چھا جائے۔ ویسے تو اہل بیت کے علاوہ دوسروں کی بے حرمتی کرنے والا بھی قابل مذمت ہے لیکن چوں کہ اہل بیت کے حقوق زیادہ ہیں اور اللہ کے علم میں تھا کہ ان کے دشمن اور حاسدین زیادہ ہوں گے، اس لیے انہیں بہ طور خاص ذکر کر دیا۔“
(التنوير شرح الجامع الصغير : 372/6)
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمص لسانه أو شفته، يعني الحسن بن على صلوات الله عليه، وإنه لن يعذب لسان أو شفتان مصهما رسول الله صلى الله عليه وسلم .
”میں عینی شاہد ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زبان یا ہونٹ چوس رہے تھے اور جس زبان یا ہونٹوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چوس لیں، انہیں کبھی عذاب نہیں چھوئے گا۔“
(مسند الإمام أحمد : 93/4 ، وسنده صحيح)
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ (196ھ) فرماتے ہیں :
لو كنت فيمن قتل الحسين بن علي، ثم غفر لي، ثم أدخلت الجنة ، استحييت أن أمر على النبى صلى الله عليه وسلم، فينظر فى وجهي .
”اگر (بالفرض والمحال) میں قاتلین حسین میں شریک ہوں اور میرا یہ جرم معاف کر دیا جائے، جنت میں بھی چلا جاؤں، تب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کرنے سے شرم محسوس کروں گا۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 212/3 ، ح : 2928 ، وسنده حسن)
امام عمران بن ملحان ابو رجاء عطاردی رحمہ اللہ (105ھ) فرماتے ہیں :
لا تسبوا عليا ولا أهل هذا البيت، فإن جارا لنا من بلهجيم قال : ألم تروا إلى هذا الفاسق الحسين بن على قتله الله، فرماه الله بكوكبين فى عينيه، فطمس الله بصره.
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کو برا مت کہیں، کیوں کہ ہمارے پڑوس میں قبیلہ حجیم کا ایک شخص رہتا تھا، اس نے کہا : کیا تم اس فاسق (ابن فاسق) حسین بن علی کو نہیں دیکھتے؟ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کر ڈالا۔ یہ کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں میں دو کیل مارے اور وہ ہمیشہ کے لیے آنکھوں سے ہاتھ دھو بیٹھا۔“
(فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل : 972 ، المعجم الكبير للطبراني : 2830 ، وسنده صحيح)
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حب أهل بيت نبيك، ولا تكن رافضيا، واعمل بالقرآن، ولا تكن حروريا، واعلم أن ما أتاك من حسنة فمن الله، وما أتاك من سيئة فمن نفسك، ولا تكن قدريا، وأطع الإمام، وإن كان عبدا حبشيا .
”اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیجئے، رافضی نہ ہو جانا۔ قرآن پر عمل کیجئے، خارجی نہ ہو۔ یاد رکھئے کہ آپ کی ہر نیکی اللہ کی طرف سے ہے اور ہر برائی آپ کی طرف سے ہے۔ منکر تقدیر نہ ہو اور حاکم وقت کی اطاعت کیجئے، بھلے وہ حبشی ہی کیوں نہ ہو!“
(السنة للخلال : 8 وسنده حسن)
نیز فرماتے ہیں :
لو كانت الشيعة من الطير لكانوا رحما ولو كانوا من البهائم لكانوا حمرا .
”اگر شیعہ پرندوں میں ہوتے تو گدھ ہوتے اور اگر جانوروں میں ہوتے، تو گدھے ہوتے۔“
(تاریخ ابن عساکر : 373/25 ، وسنده صحيح)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) لکھتے ہیں :
يتبرؤون من طريقة الروافض الذين يبغضون الصحابة ويسبونهم، وطريقة النواصب الذين يؤذون أهل البيت بقول أو عمل .
”اہل سنت (اہل حدیث) روافض سے بری ہیں، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں، ناصبیوں سے بھی اعلان براءت ہے، جو بزبان قال و حال اہل بیت کو تکلیف دیتے ہیں۔“
(العقيدة الواسطية ص : 192)
نیز فرماتے ہیں :
أما أهل السنة فيتولون جميع المؤمنين، ويتكلمون بعلم وعدل، ليسوا من أهل الجهل ولا من أهل الأهواء، ويتبرؤون من طريقة الروافض والنواصب جميعا، ويتولون السابقين والأولين كلهم، ويعرفون قدر الصحابة وفضلهم ومناقبهم، ويرعون حقوق أهل البيت التى شرعها الله لهم .
”اہل سنت تمام مؤمنوں سے محبت کرتے ہیں۔ علم و انصاف پر مبنی کلام کرتے ہیں، کسی جہالت اور نفس پرستی کا اظہار نہیں کرتے۔ روافض اور نواصب سے اعلان براءت کرتے ہیں، تمام سابقین و اولین سے محبت وعقیدت رکھتے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت و مراتب کی مکمل معرفت رکھتے ہیں، جو اللہ نے اہل بیت کے حقوق مقرر کیے ہیں کا خیال رکھتے ہیں۔“
(منهاج السنة النبوية : 71/2)
امام ابوبکر محمد بن حسین آجری رحمہ اللہ (360ھ) حدیث ثقلین کے تحت لکھتے ہیں :
يدل على أن خطبة النبى صلى الله عليه وسلم فى حجة الوداع بمنى، وأمر أمته بالتمسك بكتاب الله عز وجل وبسنته صلى الله عليه وسلم، وفي رجوعه من هذه الحجة بغدير خم فأمر أمته بكتاب الله والتمسك به وبمحبة أهل بيته، وبموالاة على بن أبى طالب رضي الله عنه، وتعريف الناس شرف على وفضله عنده، يدل العقلاء من المؤمنين على أنه واجب على كل مسلم أن يتمسك بكتاب الله عز وجل، وبسنة رسوله صلى الله عليه وسلم، وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، وبمحبتهم وبمحبة أهل بيته الطيبين، والتعلق بما كانوا عليه من الأخلاق الشريفة، والاقتداء بهم رضي الله عنهم، فمن كان هكذا، فهو على طريق مستقيم، ألا ترى أن العرباض بن سارية السلمي قال : وعظنا النبى صلى الله عليه وسلم ذات يوم موعظة بليغة، ذرفت منها العيون، ووجلت منها القلوب فقلنا : يا رسول الله، إن هذه لموعظة مودع، فما تعهد إلينا؟ قال : أوصيكم بتقوى الله، والسمع والطاعة، وإن عبدا حبشيا، فإنه من يعش منكم بعدي سيرى اختلافا كثيرا، فعليكم بسنتي، وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ، وإياكم ومحدثات الأمور، فإن كل محدثة بدعة، وكل بدعة ضلالة . والخلفاء الراشدون فهم : أبو بكر وعمر وعثمان وعلي رضي الله عنهم، فمن كان لهم محبا راضيا بخلافتهم، متبعا لهم، فهو متبع لكتاب الله عز وجل، ولسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ومن أحب أهل بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم الطيبين، وتولاهم وتعلق بأخلاقهم، وتأدب بأدبهم، فهو على المحجة الواضحة، والطريق المستقيم والأمر الرشيد، ويرجى له النجاة .
فإن قال قائل : فما تقول فيمن يزعم أنه محب لأبي بكر وعمر وعثمان، متخلف عن محبة على بن أبى طالب رضي الله عنهم، وعن محبة الحسن والحسين رضي الله عنهما، غير راض بخلافة على بن أبى طالب كرم الله وجهه؟ هل تنفعه محبة أبى بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم؟ قيل له : معاذ الله، هذه صفة منافق، ليست بصفة مؤمن. قال النبى صلى الله عليه وسلم لعلي بن أبى طالب رضى الله عنه : لا يحبك إلا مؤمن، ولا يبغضك إلا منافق. وقال عليه السلام : من آذى عليا فقد آذاني. وشهد النبى صلى الله عليه وسلم لعلي رضى الله عنه بالخلافة وشهد له بالجنة، وبأنه شهيد، وأن عليا رضى الله عنه محب لله عز وجل ولرسوله صلى الله عليه وسلم، وأن الله عز وجل ورسوله صلى الله عليه وسلم محبان لعلي رضي الله عنه. وجميع ما شهد له به رسول الله صلى الله عليه وسلم من الفضائل التى تقدم ذكرنا لها، وما أخبر النبى صلى الله عليه وسلم من محبته للحسن والحسين رضي الله عنهما، مما تقدم ذكرنا له، فمن لم يحب هؤلاء ويتولهم فعليه لعنة الله فى الدنيا والآخرة، وقد بريء منه أبو بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم. وكذا من زعم أنه يتولى على بن أبى طالب رضي الله عنه، ويحب أهل بيته، ويزعم أنه لا يرضى بخلافة أبى بكر وعمر ولا عثمان ولا يحبهم ويبرأ منهم، ويطعن عليهم، فنشهد بالله يقينا أن على بن أبى طالب والحسن والحسين رضي الله عنهم براء منه لا تنفعه محبتهم حتى يحب أبا بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم، كما قال على بن أبى طالب رضى الله عنه فيما وصفهم به، وذكر فضلهم، وتبرأ ممن لم يحبهم، فرضي الله عنه، وعن ذريته الطيبة .
هذا طريق العقلاء من المسلمين، ونعوذ بالله ممن يقذف أهل بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بالطعن على أبى بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم، لقد افترى على أهل البيت وقذفهم بما قد صانهم الله عز وجل عنه وهل عرفت أكثر فضائل أبى بكر وعمر وعثمان، إلا مما رواه على بن أبى طالب رضي الله عنهم أجمعين؟.

”یہ دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کا خطبہ منی میں ارشاد فرمایا اور امت کو کتاب وسنت مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا۔ حج سے واپسی پر غدیر خم کے مقام پر حکم دیا کہ کتاب اللہ کو تھامے رکھیں، اہل بیت سے محبت ومودت قائم رکھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عقیدت رکھیں، لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور مقام و مرتبہ سے روشناس کرایا اور عقل و بینش والے مسلمانوں کی راہنمائی کی کہ کتاب وسنت اور خلفائے راشدین مہدیین کے طریقے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔ ان سے محبت اور اہل بیت سے عقیدت کا دم بھریں، نیز ان کی عمدہ خصلتوں کی خوشہ چینی اور پیروی کریں۔ ایسا شخص صراط مستقیم پر گامزن ہے۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں غور کیجئے، بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا پر تاثیر وعظ کیا کہ ہماری آنکھیں چھم چھم بہنے لگیں، دلوں پر رقت طاری ہوگئی۔ ہم عرض گزار ہوئے: اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے، کیا وصیت فرماتے ہیں؟ فرمایا: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ امیر کی طاعت گزاری کا کہتا ہوں، اگرچہ وہ امیر حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ عنقریب میری وفات کے بعد شدید اختلافات کا منہ دیکھنا پڑے گا، ایسے میں میری سنت تھامے رکھنا اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا اور سنت کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا۔ دین میں نئے کام جاری کرنے سے بچیں، کیوں کہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت وگمراہی ہے۔
خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم ہیں۔ جو ان سے محبت وعقیدت رکھے، ان کی خلافت پر راضی ہو اور ان کی اقتدا کرے، وہ کتاب وسنت کی پیروی کر رہا ہے۔ جو پاک باز اہل بیت سے محبت ومودت کرے، ان کے خصائل حمیدہ کو اپنا شعار و دثار بنالے اور کما حقہ ادب بجالائے، ایسا شخص واضح دلیل پر قائم ہے، جادہ مستقیم کا راہی ہے اور نجات کی امید رکھے۔
اگر کوئی کہے کہ آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا فتویٰ صادر فرمائیں گے، جو کہتا ہو کہ میں ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے محبت کرتا ہوں اور علی اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم سے محبت نہیں رکھتا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت تسلیم نہیں کرتا؟ آیا اسے ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی محبت کوئی فائدہ دے گی؟
ایسے شخص کے بارے میں کہا جائے گا : معاذ اللہ! یہ منافق کی خصلت ہے، نہ کہ مومن کی۔ کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”آپ سے مومن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا۔“
(صحیح مسلم : 78)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس نے علی کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔“
(زوائد فضائل الصحابة للقطیعی : 1078، وسندہ حسن)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلافت، جنت اور شہادت کی خبر دی ہے، آپ اللہ و رسول کے محبّ اور اللہ و رسول آپ کے محب ہیں، وہ تمام فضائل جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے محبت کرنا وغیرہ۔ جو ان نفوس قدسیہ سے محبت وعقیدت نہیں رکھتا، وہ دنیا و آخرت میں لعنتی ہے، ایسے بد بخت سے ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بری ہیں۔ اسی طرح جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت عظام سے محبت کا دم بھرے اور کہے کہ میں ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت کو نہیں مانتا، نہ ہی ان سے محبت کرتا ہوں، ان سے براءت کا اعلان کرے اور ان پر طعن و تشنیع کے نشتر چلائے، ایسے شخص کے متعلق ہم اللہ کو گواہ بنا کر بر ملا کہتے ہیں کہ سیدنا علی اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم بھی اس سے بری ہوں گے۔ اسے ان کی محبت کچھ فائدہ نہ دے گی، تا آنکہ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے بھی محبت کرنے لگ جائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان پاک باز ہستیوں کی تعریف کی ہے، فضائل بیان کیے ہیں اور ہر اس شخص سے اعلان براءت کیا ہے، جو ان سے محبت نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کی آل سے راضی ہو۔ یہ عقلمند مسلمانوں کا راستہ ہے۔ ہم ایسے شخص سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں، جو اہل بیت پر تہمت لگائے کہ انہوں نے ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم پر طعن کیا ہے۔ اہل بیت پر جھوٹ تھونپے گئے ہیں اور انہیں ایسی ایسی باتوں سے متہم کیا گیا ہے، جن سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بچائے رکھا۔ کیا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے اکثر فضائل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایات میں نہیں ملتے؟“
(الشريعة : 2221/5)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) لکھتے ہیں :
إن ترك الترحم سكوت، والساكت لا ينسب إليه قول، ولكن من سكت عن ترحم مثل الشهيد أمير المؤمنين عثمان، فإن فيه شيئا من تشيع، فمن نطق فيه بغض وتنقص وهو شيعي جلد يؤدب، وإن ترقى إلى الشيخين بذم، فهو رافضي خبيث ، وكذا من تعرض للإمام على بذم، فهو ناصبي يعزر، فإن كفره، فهو خارجي مارق، بل سبيلنا أن نستغفر للكل ، ونحبهم ، ونكف عما شجر بينهم .
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حق میں دعائے رحمت نہ کرنا سکوت ہے، اور ساکت کی طرف کسی بات کی نسبت نہیں کی جاسکتی، لیکن جو جام شہادت نوش فرمانے والے امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں دعائے رحمت سے سکوت اختیار کرے، ایسے شخص سے شیعیت کی بدبو آتی ہے۔ جو آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبان درازی کرے اور شان میں تنقیص کرے، وہ شیعہ ہے اور تادیبی کوڑوں کا مستحق ہے۔ شیخین (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) پر طعن کی جرات و جسارت کرنے والا خبیث شیعہ ہے۔ اسی طرح جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں نازیبا حرکت کرے، وہ ناصبی ہے اور تعزیر کا مستحق ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی تکفیر کرنے والا خارجی ہے۔ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ ہم ان سب کے لیے استغفار کرتے ہیں، ان سے محبت و مودت رکھتے ہیں اور مشاجرات صحابہ میں زبان بندی کرتے ہیں۔“
(سير أعلام النبلاء : 370/7)
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) لکھتے ہیں :
علي رضي الله عنه، ما زالا مكرمين له غاية الإكرام بكل طريق، مقدمين له، بل ولسائر بني هاشم على غيرهم فى العطاء ، مقدمين له فى المرتبة والحرمة والمحبة والموالاة والثناء والتعظيم، كما يفعلان بنظرائه، ويفضلانه بما فضله الله عز وجل به على من ليس مثله، ولم يعرف عنهم كلمة سوء فى على قط، بل ولا فى أحد من بني هاشم .
”ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہر اعتبار سے کما حقہ اکرام کرتے تھے، آپ تو کجا، دیگر بنو ہاشم کو بھی نوازش میں پیش پیش رکھتے تھے۔ مقام و مرتبہ، عزت و توقیر، محبت اور مودت اور تعظیم میں مقدم کرتے تھے۔ اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ کے ہم نواؤں سے بھی یہی سلوک تھا، انہیں اللہ کی دی ہوئی فضلیت کے مطابق ان پر فضلیت دیتے تھے، جنہیں وہ فضلیت نصیب نہ ہوئی ہو۔ نیز ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا کسی ہاشمی کے بارے میں نازیبا کلمہ کہنا قطعا ثابت نہیں۔“
(منهاج السنة النبوية : 178/6)
نیز فرماتے ہیں، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728 ھ) فرمایا کرتے تھے :
إن كان نصبا حب صحب محمد
فليشهد الثقلان أني ناصبي

”اگر اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ناصبیت ہے، تو جن و انس گواہ رہیں کہ پھر میں ناصبی ہوں۔“
(مدارج السالكين لابن القيم : 87/2)
مؤرخ اسلام مفسر قرآن حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں :
ولا تنكر الوصاة بأهل البيت، والأمر بالإحسان إليهم، واحترامهم وإكرامهم، فإنهم من ذرية طاهرة، من أشرف بيت وجد على وجه الأرض، فخرا وحسبا ونسبا، ولا سيما إذا كانوا متبعين للسنة النبوية الصحيحة الواضحة الجلية، كما كان عليه سلفهم كالعباس وبنيه، وعلي وأهل بيته وذريته ، رضي الله عنهم أجمعين .
”اہل بیت کے بارے میں وصایا نبویہ اور ان سے حسن سلوک، رواداری اور عزت و اکرام کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ یہ پاکیزہ ہستیاں ہیں۔ فخر اور حسب و نسب کے اعتبار سے کرہ ارض پر سب سے باعزت گھرانا ہے، خاص کر جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث کی دل و جان سے پیروی کرنے والے ہوں، جیسا کہ پہلے سید زادے ہوا کرتے تھے۔ مثلاً سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، آل عباس، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت۔“
(تفسير ابن كثير : 201/7 ت سلامة)

ولایت علی رضی اللہ عنہ اور اہل سنت :

اہل سنت کا اتفاقی عقیدہ ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ چوتھے خلیفہ راشد اور امیر المومنین ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
من طعن فى خلافة أحد من هؤلاء؛ فهو أضل من حمار أهله .
”جو خلفائے راشدین میں کسی ایک کی خلافت پر طعن کرے، وہ گدھے سے زیادہ بے وقوف ہے۔“
(العقيدة الواسطية ص : 184)
نیز فرماتے ہیں :
أما على رضي الله عنه، فإن أهل السنة يحبونه ويتولونه، ويشهدون بأنه من الخلفاء الراشدين والائمة المهديين .
”جہاں تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی کا تعلق ہے، تو اہل سنت آپ رضی اللہ عنہ سے محبت و دوستی رکھتے ہیں اور دل و جان سے گواہی دیتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ خلفائے راشدین اور ہدایت یافتہ ائمہ میں سے ہیں۔“
(منهاج السنة النبوية : 18/6)
اہل سنت والجماعت اعتدال پسند ہیں، غلو تقصیر سے کوسوں دور ہیں۔ افراط و تفریط سے مبرا ہیں، ہر ایک کو اس کا پورا پورا حق دیتے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت عظام سے محبت و مودت عین ایمان سمجھتے ہیں۔ ان کی شان میں تنقیص کے تصور سے بھی کانپ اٹھتے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ کو چوتھا خلیفہ برحق تسلیم کرتے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے تقدس کا خیال رکھتے ہیں، حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی منقبت و فضیلت کے قائل ہیں۔ ان کی شہادت باسعادت کو برحق تسلیم کرتے ہیں۔ جو ان سے محبت رکھے اس سے محبت، جو ان سے عداوت رکھے، اس سے عداوت رکھتے ہیں اور اس کی شقاوت و بدبختی سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں۔
اہل حدیث تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مدار اسلام سمجھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک ان کی امانت، دیانت، عدالت، صداقت اور للہیت مسلم ہے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت ہم جزو ایمان سمجھتے ہیں، ہر ایک کو اس کا مقام و مرتبہ دیتے ہیں۔ کسی کے حق میں کمی نہیں لاتے۔ انہیں ہدف تنقید و ملامت بنانا برے لوگوں کا شیوہ ہے۔ ان کی تنقیص در حقیقت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص ہے۔
اہل حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ائمہ محدثین کے عقیدہ اور منہج سے سرمو منحرف نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین اختلافات و مشاجرات میں اہل سنت کے عقیدہ پر ہیں اور ان کے بارے میں اپنی زبانیں بند رکھتے ہیں، طرف داری سے گریزاں رہتے ہیں۔ ان کے حق میں معافی کے طلب گار رہتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر اللہ تعالیٰ کی رضوان ہے اور قطعی جنتی ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے گئے، تو ان سے راضی تھے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان کے مشاجرات کے بارے میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ فرما دیا تھا۔
ہمارے نزدیک صحابیت گراں قدر شرف ہے۔ صحابی وہ ہے کہ جس نے متاع ایمان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ زیبا کا دیدار کیا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ہو اور حالت ایمان میں وفات پائی ہو۔