27- زمین و آسمان اور ان کی مخلوقات کتنے دنوں میں پیدا ہوئے؟
صحیح اور ثابت شدہ دلائل سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا مکمل سلسلہ چھ دنوں میں بنایا ہے، جیسا کہ اس بات کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں کی ہے:
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ [الأعراف: 54]
”بے شک تمھارا رب اللہ ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔“
اور فرمایا:
اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ [السجدة: 4]
”اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی ہر چیز کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔“
اور فرمایا:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ [ق: 38]
”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا۔“
اس طرح کی آیات قرآن مجید میں کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ ان چھ دنوں کی تفصیل یہ ہے: اتوار، سوموار، منگل، بدھ، جمعرات، جمعہ۔ ہفتہ کے دن کوئی چیز پیدا نہیں کی، کیونکہ یہ ساتواں دن ہے، اسی مناسبت سے اسے یوم السبت کہتے ہیں جس کا معنی جدا کرنا اور الگ کرنا ہوتا ہے۔ صحیح احادیث سے بھی یہی ثابت ہے کہ زمین و آسمان اور اس کی تمام مخلوقات چھ دنوں میں وجود میں آئی ہیں، مگر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
« خَلَقَ اللّٰهُ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ فِيْهَا يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوْهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّوْرَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيْهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيْسِ، وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، آخِرَ الْخَلْقِ فِيْ آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِيْمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ » (صحيح مسلم [2789/27])
”اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتہ کے دن اور پہاڑ اتوار کو، درخت سوموار کو اور مکروہ چیزیں منگل کو اور نور بدھ کو اور جانور جمعرات کو، اور آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد آخری گھڑی میں آخری مخلوق پیدا فرمائی۔“
امام احمد، نسائی اور مسلم نے کئی سندوں سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ اس میں مکمل دنوں کی تفصیل کا ذکر ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ کا خیال ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث کعب الاحبار سے مروی ہے جو موقوف ہے مرفوع نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک اسے مرفوع ذکر کرنا بعض راویوں کے وہم کی بنا پر ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ حدیث قرآنی آیات کے مقابلے میں پیش نہیں کی جا سکتی اور نہ صحیح احادیث کا مقابلہ کر سکتی ہے اور نہ اس سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔ جب یہ بات سمجھ میں آ جائے تو سارے اشکال ختم ہو جاتے ہیں۔ (اللجنة الدائمة: 20164)