چند مسنون اذکار صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

چند مسنون اذکار

”لا حول ولا قوة“ جنت کا خزانہ ہے

عن أبى موسى رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عبد الله ابن قيس: ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة؟ فقلت: بلى يا رسول الله، قال: لا حول ولا قوة إلا بالله
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! (سیدنا ابو موسیٰ کا نام) کیا میں تجھے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کی خبر نہ دوں؟ تو میں نے کہا: کیوں نہیں، اے رسول اللہ! آپ نے ارشاد فرمایا: ”یہ خزانہ لا حول ولا قوة إلا بالله ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الدعوات، باب قول لاحول ولاقوة الا بالله ، رقم: 6409 ۔ صحیح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب استحباب خفض الصوت بالذكر، رقم : 2704 .

تسبیح، تحمید، تکبیر اور تہلیل کی فضیلت

عن سعد بن أبى وقاص رضى الله عنه قال: كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أيعجز أحدكم أن يكسب كل يوم ألف حسنة؟ فسأله سائل من جلسائه: كيف يكسب أحدنا ألف حسنة؟ قال: يسبح مائة تسبيحة فيكتب له ألف حسنة، أو تحط عنه ألف خطيئة
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم سے کوئی آدمی روزانہ ہزار نیکیاں کما سکتا ہے؟“ تو آپ کے ہم نشینوں میں ایک سائل نے پوچھا: وہ ایک ہزار نیکیاں کیسے کمائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سو دفعہ سبحان الله پڑھے، تو اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اور ہزار غلطیاں معاف کر دی جاتی ہیں۔“
صحیح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب فضل التهليل والتسبيح والدعاء، رقم: 2698.
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لأن أقول: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر، أحب إلى مما طلعت عليه الشمس
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر کہنا، ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔“
صحيح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب فضل التهليل والتسبيح والدعاء، رقم: 2695.
عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قال لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، فى يوم مائة مرة كانت له عدل عشر رقاب: وكتبت له مائة حسنة، ومحيت عنه مائة سيئة، وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك حتى يمسي، ولم يأت أحد بأفضل مما جاء به إلا رجل عمل أكثر منه ، من قال: سبحان الله وبحمده، فى يوم مائة مرة، حطت خطاياه، وإن كانت مثل زبد البحر
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ کلمات کہے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی۔ اور یہ کلمات اس کے لیے اس دن شام تک شیطان سے بچاؤ کا ذریعہ ہوں گے۔ اور (قیامت والے دن) کوئی شخص اس سے زیادہ فضیلت والا عمل لے کر حاضر نہیں ہوگا، سوائے اس شخص کے جس نے اس سے زیادہ یہ عمل کیا ہوگا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایک دن میں سو مرتبہ یہ کلمات پڑھے: سبحان الله وبحمده، تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔“
صحيح بخاري، كتاب الدعوات، باب فضل التهليل، رقم: 6403، وباب فضل التسبيح، رقم: 6405 ـ صحيح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب فضل التهليل والتسبيح والدعاء، رقم: 2691.
عن أبى ذر رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أخبرك بأحب الكلام إلى الله؟ قلت: يا رسول الله! أخبرني بأحب الكلام إلى الله، فقال: إن أحب الكلام إلى الله: سبحان الله وبحمده
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تجھے ایسا کلام نہ بتلاؤں جو اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟“ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ضرور بتائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ کو سب سے زیادہ محبوب کلام سبحان الله وبحمده ہے۔“
صحیح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب فضل سبحان الله وبحمده، رقم: 2731.
عن أبى هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كلمتان خفيفتان على اللسان، ثقيلتان فى الميزان، حبيبتان إلى الرحمن: سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری اور رحمن کو بہت پیارے: سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم (اللہ پاک ہے اپنی تعریفوں اور خوبیوں کے ساتھ۔ اللہ پاک ہے، جو عظمتوں والا ہے)۔“
صحيح بخاري، كتاب الإيمان والنذور، باب إذا قال: والله لا أتكلم اليوم، رقم: 6682 وكتاب الدعوات، باب فضل التسبيح، رقم: 6406 – صحيح مسلم كتاب الذكر والدعاء، باب فضل التهليل والتسبيح والدعاء، رقم: 2694.
عن أم يسيرة رضي الله عنها وكانت من المهاجرات، قالت: قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: عليكن بالتسبيح والتهليل والتقديس واعقدن بالأنامل فإنهن مسئولات مستنطقات، ولا تغفلن فتنسين الرحمة
یسیرہ رضی اللہ عنہا مہاجرہ صحابیہ ہیں، کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: سبحان الله، لا اله الا الله اور سبحان الملك القدوس کہنا اپنے اوپر لازم کر لو اور انگلیوں پر گنا کرو، کیونکہ (قیامت کے دن) وہ سوال کی جائیں اور بلوائیں جائیں گی۔ یہ تسبیحات پڑھنے سے غافل نہ ہونا، ورنہ رحمت سے محروم رہ جاؤ گے۔“
سنن الترمذي، كتاب الدعوات، باب في فضل التسبيح والتهليل والتقديس، رقم: 3583. صحیح ابوداؤد، رقم: 1345.