7- سلف صالحین سے کیا مراد ہے؟
عربی زبان میں اس کا معنی ہے گزرے ہوئے نیک لوگ۔ ہر پہلے آنے والا بعد میں آنے والے کے لحاظ سے سلف ہے، لیکن جب سلف مطلق طور پر بولا جاتا ہے تو اس سے مراد بہترین تین زمانوں کے لوگ ہیں جن کی گواہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، لہٰذا سلف سے مراد صحابہ، تابعین اور تبع تابعین ہیں۔ یہی سلف صالحین ہیں، ان کے بعد آنے والے جو ان کے منہج کو اختیار کریں وہ سلفی کہلاتے ہیں۔ اگرچہ ان کا زمانہ بعد میں ہے، کیونکہ سلفی سلف صالحین کے طریقے اور منہج کو اختیار کرنے والے کو کہا جاتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
« إِنَّ أُمَّتِيْ سَتَفْتَرِقُ عَلٰى ثَلَاثٍ وَّسَبْعِيْنَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِيْ النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً، وَّهِيَ الْجَمَاعَةُ » (سنن ابن ماجه، رقم الحديث [3992])
”میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے، ایک کے علاوہ باقی سب جہنم میں جائیں گے۔ اور وہی جماعت ہیں۔“
ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں:
« مَنْ كَانَ عَلٰى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِيْ » (سنن الترمذي، رقم الحديث [2641])
”جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہیں۔“
اس حدیث کی وجہ سے سلف کا خاص معنی متعین ہو جائے گا، لہٰذا صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے منہج اور طریقے پر چلنے والے ہی کو سلفی کہا جائے گا، اگرچہ وہ چودھویں صدی ہجری کا آدمی ہو۔ (ابن عثیمین: نور علی الدرب: 4/2)