6- تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک ہی عقیدہ تھا
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل سنت کا ایک ہی عقیدہ ہے۔ شروع سے ان میں عقیدے کے متعلق کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقیدہ کتاب و سنت سے لیتے ہیں، اپنی طرف سے کوئی نئی رائے ایجاد نہیں کرتے، یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر وہ اپنے ایک ہی عقیدہ اور منہج پر بالاتفاق قائم اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل پیرا ہیں:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا [آل عمران: 103]
”اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہو جاؤ۔“
عقیدے کے مسائل میں سے ایک مسئلہ اللہ تعالیٰ کے دیدار کے متعلق ہے جو مومنوں کو قیامت کے روز نصیب ہوگا۔ اس پر سب کا اتفاق ہے اور یہ ایسا مسئلہ ہے جو کتاب و سنت کے متواتر دلائل سے ثابت ہے۔
رہا معراج کی رات اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مسئلہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے کہ نہیں تو یہ ایک خاص مسئلہ ہے اور اس کا تعلق بھی دنیا کے ساتھ ہے، قیامت کے ساتھ نہیں۔ اس میں بھی جمہور صحابہ کا موقف یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے اور یہی بات درست ہے، لیکن اس سے رؤیت قلبی مراد ہے، کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
« نُوْرٌ أَنّٰى أَرَاهُ » (صحیح مسلم [178/291]) ”اللہ تعالیٰ نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“
مذکورہ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھوں سے دیکھنے کی نفی کی ہے اور اس کا سبب یہ بیان فرمایا ہے کہ نور کا پردہ درمیان میں رکاوٹ ہے اور یہ اس لیے بھی ہے کہ صحابہ کا اتفاق ہے کہ اس دنیا میں کوئی اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتا، جیسا کہ حدیث میں ہے:
« وَاعْلَمُوْا أَنَّ أَحَدًا مِّنْكُمْ لَا يَرٰى رَبَّهٗ حَتّٰى يَمُوْتَ » (صحیح مسلم [169/95])
”خوب سمجھ لو موت سے پہلے کوئی بھی اپنے رب کو نہیں دیکھ سکتا۔“
(اللجنة الدائمة: 71008)