عبادت کی اقسام: قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عبادت کی اقسام:

عبادت چار قسم کی ہے:

[1] جسمانی عبادت

[2] مالی عبادت

[3] قلبی عبادت

[4] زبانی عبادت

[1] جسمانی عبادت:

وہ عبادت جو جسم سے ادا کی جائے جسمانی عبادت ہے۔ مثلاً نماز ، روزہ ، جہاد، قیام، رکوع ، سجدہ، طواف، حج کے لیے سفر ، سعی، رجم، حجر اسود کو چومنا، کعبہ کی طرف جاتے اور پلٹتے ادب کو ملحوظ خاطر رکھنا، رفع حاجت کے وقت کعبہ کا خیال رکھنا، کعبہ کو سالانہ غسل دینا، مسجدوں کے متعلق جملہ امور یعنی تعمیر ، روشنی، صفائی، اعتکاف اور مسجدوں سے دل لگانا وغیرہ سب چیزیں جسمانی عبادت میں شامل ہیں۔ ہر قسم کی جسمانی عبادت صرف اللہ تعالی کے لائق ہے اور یہ جسمانی عبادتیں اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہیں۔

نماز کے لیے دیکھیے: [الأنعام:163،162]

قیام کے لیے: [البقرة:238]

رکوع اور سجدہ کے لیے: [الحج:77]

طواف اور اعتکاف کے لیے دیکھیے: [البقرۃ:125] لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ سارے کام فوت شدہ بزرگوں کی قبروں یا زندہ بزرگوں کے ساتھ کرتے دیکھے جا سکتے ہیں، یہ لوگ شرک فی العبادت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

[2] مالی عبادت:

جیسے حج کاخرچ، زکوۃ، صدقہ، قربانی، نذر، فطرانہ، جہاد میں خرچ کرنا، قربانی یعنی اللہ کی راہ میں ہر قسم کا مال خرچ کرنا مالی عبادات میں شامل ہے۔ ہر قسم کی (فی سبیل اللہ) مالی عبادت اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ [الانعام:163،162]،[البقرة:190،177 ، 195 تا 203] ذبح و قربانی وغیرہ اللہ ہی کے لیے خاص ہے: اے نبی! اپنے رب کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی دیا کرو۔ [الکوثر:2] نذر و نیاز، منت، چڑھاوا غیر اللہ کے نام حرام ہے۔ یہ مشرکوں کا کام ہے۔ نذر اللہ کے لیے ہے: اے پروردگار! جو (بچہ کہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں، اس لیے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی۔ [آل عمران:35] رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا، چاہیے کہ اللہ کی اطاعت کرے اور جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ [بخاری، کتاب الأيمان والنذور، باب النذر فيما …. الخ:6700،6696]

غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے والا لعنتی ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: [ولعن الله من ذبح لغير الله] اور جو شخص غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے۔ [مسلم، كتاب الأضاحي، باب تحريم الذبح لغير الله…. الخ:1978]

لیکن افسوس ہے کہ آج کے کچھ کلمہ گو غیر اللہ کے نام پر کیا کیا چڑھاوے چڑھا رہے ہیں۔ لاہور میں علی ہجویری کی قبر پر اور دوسرے لا تعداد آستانوں پر کیا ہو رہا ہے اور جو چار قسم کی عبادتیں قرآن اور صحیح حدیث سے ثابت ہیں اور جو اللہ کا حق ہیں وہی ان قبروں پر کر رہے ہیں، یہ جلّی(یعنی) ظاہری شرک ہے۔

[3] قلبی عبادت:

جیسے خوف الہی، توکل، ڈر، امید، رغبت، خشوع و خضوع (یعنی) جن چیزوں کا دل سے تعلق ہے، یہ قلبی عبادت میں شامل ہیں۔ قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر یہ بات ہے اور قرآن مجید میں ہے کہ سب انبیائے کرام (علیہم السلام) اپنی امتوں سے یہی کہتے رہے کہ اللہ تعالی سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ [الشعراء:110،108] اور جب ہم گہری نظر سے قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ سب آیات قرآنی کے لیے اللہ تعالیٰ کا خوف بمنزلہ چکی کے ہے، اس کی لٹھ پر ہی تمام آیات گھومتی ہیں اور جو لوگ اللہ کو بغیر دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے آخرت میں بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ [الملک:12] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے اور یہ لوگ تجھ کو اللہ کے سوا دوسروں کا ڈر بتلاتے ہیں اور بات یہ ہے کہ جن کو اللہ گمراہ کر دے اس کا کوئی ہادی نہیں۔ [الزمر:36] اور کیا آپ کو دو جھگڑنے والوں کی خبر بھی پہنچی جب وہ عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر آئے جب وہ داؤد (علیہ السلام) کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرایا۔ کہا ڈرو نہیں، دو جھگڑنے والے ہیں، ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان انصاف کا فیصلہ کیجیے اور بات کو دور نہ ڈالیے اور ہمیں سیدھی راہ پر چلا یے۔ [ص:22،21]

ڈرنے کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایک تو وہ دروازے کے بجائے دیوار چڑھ کر اندر آئے، دوسرا انھوں نے اتنا بڑا اقدام کرتے ہوئے بادشاہ وقت سے خوف محسوس نہیں کیا۔ ظاہری اسباب کے مطابق خوف والی چیز سے خوف کھانا انسان کا ایک طبعی تقاضا ہے۔ یہ منصب و کمال نبوت کے خلاف ہے نہ توحید کے منافی توحید کے منافی غیر اللہ کا وہ خوف ہے جو ماورائے اسباب ہو۔ یہی مضمون [طہ: 64 تا 68] میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی بیان ہوا ہے۔ اللہ پر توکل (یعنی) اللہ پر بھروسا کرنا اور اس کو اپنا کارساز سمجھنے کو ایمان اور اسلام کا لازمی نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ [یونس:84]،[ھود:123] اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو حکم دیا کہ اللہ تعالی کو اپنا وکیل (یعنی) کارساز بنالو، وہ مشرق اور مغرب کا مالک ہے۔ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ پس اس کو کارساز بنالو، کیونکہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ [المزمل:9] اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کو وکیل (یعنی) کار ساز سمجھنا معبود سمجھنے کے مترادف قرار دیا گیا۔ رضا، صبر، فضل، خوف، امید، بھروسا،

توکل کے لیے مزید حوالہ جات: [البقرة:272،218،107]،[ آل عمران:173،160،159،123]

[4] زبانی عبادت:

یاد رہے کہ جس قوم نے بھی شرک کیا اس نے ضرور شرک فی العبادت کیا۔ مثلاً

قوم نوح: [الأعراف:59]

قوم هود: [الأعراف:70،65]

قوم صالح: [الأعراف:73]

قوم شعيب: [الأعراف:85]

اور عیسائی و یہودی (جس کا تفصیل کے ساتھ پہلے ذکر ہو چکا ہے) کسی نبی نے بھی لوگوں کو اپنی بندگی کا سبق نہیں پڑھایا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا حکم دیا کیونکہ غیراللہ کی بندگی کا حکم کرنا کفر ہے۔ [آل عمران:80،79] لہذا توحید فی العبادت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھنا از حد ضروری ہے، تاکہ توحید فی العبادت پر عقیدہ اور عمل ہو اور شرک فی العبادت کو بھی قرآن اور حدیث کی روشنی میں سمجھنا از بس ضروری ہے، تا کہ شرک فی العبادت سے بچا جا سکے۔ زبانی عبادت یا لسانی عبادت اس میں دعا، ذکر تسبیح، حمد، شکر، استعانت (یعنی) مدد مانگنا، استعاذہ (یعنی) پناہ مانگنا وغیرہ شامل ہیں۔ اور یہ چیزیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اس میں وہ تمام اذکار شامل ہیں جن کے کرنے کا حکم قرآن و حدیث میں آیا ہے۔ مثلاً: نماز، روزہ، حج، زکوۃ ، قربانی وغیرہ کے موقع پر جملہ اذکار و تسبیح و تحمید، اس میں وہ اذکار شامل ہیں جن میں سبحان اللہ اور الحمد اللہ کے الفاظ آئے ہیں۔ اور انھیں مختلف مواقع پر پڑھنے کا حکم ہے، اللہ کی نعمتوں کا ذکر کرتے وقت اس کا شکر ادا کرنا بھی عبادت میں شامل ہے۔ [النحل:114]،[البقرة:172،53] اور استعانت سے مراد بغیر اسباب کے مدد صرف اللہ تعالی ہی سے مانگی جا سکتی ہے اور یہ عبادت کا جزو ہے۔ [الفاتحہ:4] اس کی تفصیل ابھی دعا کی بحث میں آرہی ہے۔ استعاذہ (یعنی) پناہ مانگنا بغیر سبب کے، استعاذہ (یعنی) پناہ صرف اللہ ہی سے مانگی جا سکتی ہے۔ (الفلق)