انسان کے تخلیقی مراحل: کیا حمل کی مکمل تفصیل جاننا ممکن ہے؟

Read in English
فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے عقیدہ سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد یاسر عرفات حفظہ اللہ نے کیا ہے۔

26- انسان کے تخلیقی مراحل

سوال:

حمل کے مراحل مادہ منویہ سے روح پھونکنے تک اور اس کے بعد کے حالات کی تفصیل جاننا ممکن ہے؟

جواب:

خواہ کتنا ہی ماہر ڈاکٹر ہو اور اسے بہت زیادہ علم اور تجربہ اور مہارت حاصل ہو، چند احوال کے علاوہ مکمل طور پر وہ حمل کے حالات کو معلوم نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ سارا معاملہ اللہ علیم و خبیر کے حکم سے ہوتا ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ [الرعد: 9,8]
”اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھائے ہوئے ہے اور جو کچھ رحم کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازے سے ہے۔ وہ غیب اور حاضر کو جاننے والا، بہت بڑا، نہایت بلند ہے۔“
اور فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ [لقمان: 34]
”بے شک اللہ، اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے۔“ (اللجنة الدائمة: 612)