رنج و غم اور مصائب کی دعائیں
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾
”اگر تم لوگ رسول اللہ کی مدد نہیں کرو گے تو اللہ نے ان کی مدد اس وقت کی جب کافروں نے انہیں نکال دیا تھا، اور وہ دو میں سے ایک تھے ، جب دونوں غار میں تھے ، اور اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے، کہ غم نہ کیجئے بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے، تو اللہ نے انہیں اپنی طرف سے تسکین دی ، اور ایسے لشکر کے ذریعہ انہیں قوت پہنچائی جسے تم لوگوں نے نہیں دیکھا، اور کافروں کی بات نیچی کر دکھائی ، اور اللہ کی بات اوپر ہوئی ،اور اللہ زبردست ، بڑی حکمتوں والا ہے۔
(9-التوبة:40)
① سیدنا یعقوب علیہ السلام نے کہا:
﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾
”میں اپنا دردو غم اور حزن والم اللہ سے کہتا ہوں، اور اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم لوگ نہیں جانتے ہو۔“
(12-يوسف:86)
② سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدت غم کے موقع پر یہ کلمات ادا فرمایا کرتے تھے:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ , سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
”اللہ صاحب عظمت اور بردبار کے سوا کوئی معبود، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے ، اور عرش کریم کا رب ہے۔“
صحيح البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعاء عند الكرب، رقم: 6346 ـ صحيح مسلم، کتاب الذكر والدعاء، باب دعاء الكرب، رقم: 2730 .
③ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پریشان آدمی کی دعا یہ ہے:
دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ: اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں مجھے لمحہ بھر کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر ۔ میرے تمام حالات درست فرما دے۔ تیرے سوا کوئی الہ نہیں۔“
سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب ما يقول اذا أصبح ، رقم: 5090۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن الإسناد کہا ہے۔
④ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی قوم سے اندیشہ محسوس کرتے تو فرماتے:
اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ
”یا اللہ ! ہم کفار کے مقابلے میں تجھے آگے کرتے ہیں، اور ان کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔“
مسند احمد : 415/4 ـ سنن ابی داؤد، ابواب الوتر ، باب ما يقول الرجل اذا خاف قوماً ، رقم: 1537 البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔