رسول اللہ ﷺ مختارِ کل نہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔

رسول اللہﷺ اپنے یا کسی کے نفع و نقصان کے مالک نہیں:

ارشاد باری تعالی ہے:

[مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ ؕ وَ یَذَرُہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ]،[ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرۡسٰہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ ۚ لَا یُجَلِّیۡہَا لِوَقۡتِہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕ ثَقُلَتۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا تَاۡتِیۡکُمۡ اِلَّا بَغۡتَۃً ؕ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنۡہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ اللّٰہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ]،[ قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ نَفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ کُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ لَاسۡتَکۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَیۡرِۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوۡٓءُ ۚ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ]،[ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ جَعَلَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا لِیَسۡکُنَ اِلَیۡہَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰہَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِیۡفًا فَمَرَّتۡ بِہٖ ۚ فَلَمَّاۤ اَثۡقَلَتۡ دَّعَوَا اللّٰہَ رَبَّہُمَا لَئِنۡ اٰتَیۡتَنَا صَالِحًا لَّنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ]،[ فَلَمَّاۤ اٰتٰہُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرَکَآءَ فِیۡمَاۤ اٰتٰہُمَا ۚ فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ]،[ اَیُشۡرِکُوۡنَ مَا لَا یَخۡلُقُ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ]

[جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ انھیں ان کی سرکشی میں چھوڑ دیتا ہے، بھٹکتے پھرتے ہیں]،[وہ تجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں اس کا قیام کب ہوگا؟ کہہ دے اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے، اسے اس کے وقت پر اس کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا، وہ آسمانوں اور زمین میں بھاری واقع ہوئی ہے، تم پر اچانک ہی آئے گی۔ تجھ سے پوچھتے ہیں جیسے تو اس کے بارے میں خوب تحقیق کرنے والا ہے۔ کہہ دے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے]،[کہہ دے میں اپنی جان کے لیے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں]،[وہی ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، تاکہ وہ اس کی طرف (جاکر) سکون حاصل کرے، پھر جب اس نے اس (عورت) کو ڈھانکا تو اس نے ہلکا سا حمل اٹھا لیا،پس اسے لے کر چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے دعا کی، جو ان کا رب ہے کہ بے شک اگر تو نے ہمیں تندرست بچہ عطا کیا تو ہم ضرور ہی شکر کرنے والوں سے ہوں گے]،[پھر جب اس نے انھیں تندرست بچہ عطا کیا تو دونوں نے اس کے لیے اس میں شریک بنا لیے جو اس نے انھیں عطا کیا تھا، پس اللہ اس سے بہت بلند ہے جو وہ شریک بناتے ہیں]،[کیا وہ انھیں شریک بناتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں] [الأعراف:186تا191]

ان آیات سے جو باتیں واضح ہوتی ہیں، درج ذیل ہیں:

ہدایت اور گمراہی اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، رسول کائناتﷺ بھی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے۔ (مزید القصص:56)

قیامت کے وقوع کا علم اللہ تعالی کے سوا کسی کو نہیں۔

رسول کائناتﷺ نہ اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ کسی کے نفع و نقصان کےمالک ہیں۔ (مزید یونس:45تا49)،(الجن:10تا22)

رسول اللہﷺ غیب دان نہیں، اگر ایسا ہوتا تو کتنے ہی فائدے ہیں جن کو پیشگی علم کی وجہ سے آپ سمیٹ لیتے اور کتنے ہی نقصانات ہیں جن سے قبل از وقت آگاہ ہونے کی بنا پر آپ بچ جاتے۔ یہاں لفظ ،،لو،، سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کائناتﷺ باوجود افضل المرسلین ہونے کے علم الغیب نہیں رکھتے تھے۔ واقعہ افک ہمارے سامنے ہے، اس میں رسول کائناتﷺ کتنے دنوں تک مضطرب اور پریشان رہے۔ آخر قرآن میں اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کی براءت نازل فرمائی، تو آپ حقیقت حال سے آگاہ ہوئے۔ اس ایک واقعہ ہی سے آپ کو مختار کل اور غیب دان کہنے والے خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء کو جو اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں سے بڑا بنایا ہے تو ان میں بڑائی یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالی کی راہ بتاتے ہیں۔ اور اس بات میں کچھ ان کی بڑائی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عالم میں تصرف کی قدرت دے دی ہو۔ کہ موت و حیات ان کے اختیار میں ہو، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیب دانی دے دی ہو۔ کہ جس کے احوال جب چاہیں معلوم کر لیں اور اللہ کے سوا کوئی اولاد نہیں دے سکتا۔

ان آیات سے شرک کی جڑ کٹ گئی۔ جب رسول کا ئناتﷺ کو جو تمام عالم کے سردار ہیں اپنی جان کے نفع و نقصان کا اختیار نہ ہو، نہ غیب کی بات معلوم ہو تو کسی اور نبی یا ولی یا بزرگ یا فقیر یا جن یا فرشتے کو کیا قدرت ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچائے یا کوئی غیب کی بات بتائے، البتہ اللہ تعالیٰ جو غیب کی بات رسول کائناتﷺ کو بتا دیتا وہ آپﷺ کو معلوم ہو جاتی۔ اور آپﷺ لوگوں کو اس کی خبر دے دیتے۔ ان آیات سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہیے جو رسول اللہﷺ کو مختار کل قرار دیتے ہیں، آپﷺ کو تو اتنا بھی اختیار نہ تھا کہ کسی کو راہ راست پر لگا دیتے۔ (القصص:56) جیسا کہ اس آیت کی تفسیر مراد آبادی میں لکھا ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی اور ابوطالب نے رسول اللہﷺ کا کلمہ نہ پڑھا، اور فوت ہو گیا۔ ان لوگوں کے عقائد پر حیرانی ہوتی ہے کہ وہ رسول اللهﷺ کو ایک طرف مختار کل مانتے ہیں اور دوسری طرف آپ کو شفیع (شفاعت کرنے والا) مانتے ہیں، حالانکہ جو مختار کل ہو اس کو شفاعت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی اور جو شفیع یعنی شفاعت کرنے والا ہو وہ مختار کل کیسے ہو سکتا ہے؟

عجب ہے ان کا تضاد پن اور دو رخی!!

خاتم الانبیاء، سید المرسلین، امام اعظم محمد رسول اللهﷺ جب غزوہ احد میں زخمی ہوئے تو آپﷺ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے:

[كيف يفلح قوم شجوا نبيهم وكسروا رباعيته وهو يدعوهم إلى الله، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ]، [آل عمران:138]

وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کے سر میں زخم لگایا اور اس کا رباعی کا دانت توڑ دیا، اور وہ انہیں اللہ کی طرف بلا رہا تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اس معاملے میں آپ کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں (کہ وہ اللہ ان کی طرف توجہ فرمائے یا ان کو عذاب دے کہ وہ ظالم ہیں) [مسلم، كتاب الجهاد، باب غزوة أحد:1791]

[وَ لَا تَقُوۡلَنَّ لِشَایۡءٍ اِنِّیۡ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا]،[ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ۫ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ وَ قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّہۡدِیَنِ رَبِّیۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ ہٰذَا رَشَدًا]

[اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز نہ کہہ کہ میں یہ کام کل ضرور کرنے والا ہوں]،[ مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کو یاد کر جب تو بھول جائے اور کہہ امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے قریب تر بھلائی کی ہدایت دے گا] [الكهف:24،23]

مفسرین کہتے ہیں: کہ یہودیوں نے نبیﷺ سے تین باتیں پوچھی تھیں کہ روح کی حقیقت کیا ہے؟ اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کون تھے؟ کہتے ہیں کہ یہی سوالات سورۃ الکہف کے نزول کا سبب بنے۔ نبیﷺ نے فرمایا: میں تمھیں کل جواب دوں گا، لیکن اس کے بعد 15 دن تک جبرائیل وحی لے کر نہیں آئے۔

جنگ تبوک پر جانے کے لیے جب کچھ مفلس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہﷺ سے سواریاں مانگیں تو آپ نے فرمایا: میرے پاس کوئی سواری نہیں کہ تمھیں دے سکوں۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روتے ہوئے واپس چلے گئے اور جنگ پر نہ جاسکے کیونکہ تبوک مدینہ منورہ سے بہت دور تھا، تو یہ آیت نازل ہوئی:

[اِذَا مَاۤ اَتَوۡکَ لِتَحۡمِلَہُمۡ قُلۡتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُکُمۡ عَلَیۡہِ ۪ تَوَلَّوۡا وَّ اَعۡیُنُہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوۡا مَا یُنۡفِقُوۡنَ]

جب وہ تیرے پاس آئے کہ تو انھیں سواری دے تو تو نے (اے نبی!) کہا میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ تمھیں اس پر سوار کر دوں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہیں تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔ [التوبة:92]

اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے، اس نے سب مخلوق کو پیدا کیا۔ (البقرة:29) اللہ تعالیٰ ہی سارے جہاں کا مالک ہے (اس میں اس کا کوئی شریک نہیں)۔ (بنی اسرائیل:111) ہر چیز کا نفع و نقصان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں۔ (الاعراف:188)،(یونس:107،49) رسولﷺ نہ اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ کسی کے۔ (القصص:56)،(الجن:18تا 22) کوئی نبی کسی کے نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ (المائدة :72تا77)،(ھود:45،31، 30تا123) رزق اور اس میں تنگی اور کشادگی فقط اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ (ھود:6) اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی اولاد نہیں دے سکتا۔ (الشوری:50،49) بیمار کو اللہ تعالٰی کے سوا کوئی شفا نہیں دے سکتا۔ (الشعراء:78تا82) قیامت کے دن شفاعت اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ہوگی اور جو ٹھیک بات کرے گا اس کو شفاعت کی اجازت ہوگی:

[رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا الرَّحۡمٰنِ لَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡہُ خِطَابًا]،[ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الرُّوۡحُ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا لَّا یَتَکَلَّمُوۡنَ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَہُ الرَّحۡمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا]

[(اس رب کی طرف سے) جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا رب ہے، بے حد رحم والا، وہ اس سے کوئی بات کرنے کی قدرت نہیں رکھیں گے]،[جس دن روح اور فرشتے صف بنا کر کھڑے ہوں گے، وہ کلام نہیں کریں گے، مگر وہی جسے رحمان اجازت دے گا اور وہ درست بات کہے گا] [النبا:38،37]

یہ اجازت اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو اور اپنے پیغمبروں کو عطا فرمائے گا اور وہ جو بات کریں گے حق و صواب ہی ہوگی۔ یا یہ مفہوم ہے کہ اجازت صرف اس کے بارے میں دی جائے گی جس نے درست بات کہی ہو یعنی کلمہ توحید کا اقراری رہا ہو۔

تمام نعمتیں اللہ تعالی کی طرف سے ہیں (ان کی گنتی نہیں ہو سکتی)۔ (النحل:18) کائنات کی ہر چیز کا مالک اور بادشاہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ (الحشر:23) کائنات میں حکومت اور فرماں روائی کے تمام اختیارات صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں۔ (یوسف:40) نظم کائنات اور امور کائنات کا مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ (الرعد:2) زمین اور آسمان کے تمام خزانوں مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ (الانعام:50) قیامت کے روز جزا یا سزا کا اختیار صرف اللہ تعالی ہی کو ہو گا۔ (التحریم:10) ہدایت صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص:56) زندگی کا اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ (المائدة:17)

لوگوں نے اپنی طرف سے جو نام رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔ مثلا غوث الاعظم، داتا گنج بخش، غریب نواز، مشکل کشا، دستگیر، اولاد دینے والے، ڈوبتی کشتی کو کنارےلگانے والا:

[اِنۡ ہِیَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَہۡوَی الۡاَنۡفُسُ ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمُ الۡہُدٰی]

یہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی سند بھی نہیں اتاری، وہ محض وہم اور اپنی خواہش کی پیروی کرتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کے ہاں سے ہدایت آچکی ہے۔ [النجم:23]

گناہ معاف کرنے یا نہ کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ (التوبہ:80) دین و دنیا کی تمام بھلائیاں صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، جس سےچاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ (آل عمران:26) دلوں کو پھیرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ (الانفال:24) نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کی توفیق دینے والا صرف اللہ تعالی ہے۔ (ھود:88)

معجزات انبیائے کرام کے اختیار میں نہ تھے:

[وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ قَصَصۡنَا عَلَیۡکَ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَیۡکَ ؕ وَ مَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ قُضِیَ بِالۡحَقِّ وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ]

اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے کئی رسول بھیجے، ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا حال ہم نے تجھے سنایا اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا حال ہم نے تجھے نہیں سنایا۔ اور کسی رسول کا اختیار نہ تھا کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی لے آئے، پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا اور اس موقع پر اہل باطل خسارے میں رہے۔ [المؤمن:78]

معجزہ وہ خرق عادت واقعہ ہے جو پیغمبر کی صداقت پر دلالت کرے۔ کفار پیغمبروں سے مطالبے کرتے رہے کہ ہمیں فلاں فلاں چیز دکھاؤ، جیسے خود ہمارے پیغمبر کائناتﷺ سے کفار مکہ نے کئی چیزوں کا مطالبہ کیا جس کی تفصیل [بنی اسرائیل:90تا93] میں موجود ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا: کسی پیغمبر کے اختیار میں یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی قوموں کے مطالبے پر ان کو کوئی معجزه صادر کر کے دکھلا دے، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں تھا بعض نبیوں کو تو ابتدا ہی سے معجزے دے دیے گئے تھے، بعض قوموں کو ان کے مطالبے پر معجزہ دکھلایا گیا اور بعض کو مطالبے کے باوجود نہیں دکھلایا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوتا تھا، کسی نبی کے ہاتھ میں یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ جب چاہتا معجزہ دکھلا دیتا۔ اس سے ان لوگوں کی واضح تردید ہو جاتی ہے جو بعض اولیاء کی طرف یہ باتیں منسوب کرتے ہیں کہ وہ جب چاہتے اور جس طرح چاہتے خرق عادت امور (کرامات) کا اظہار کر دیتے تھے۔ جیسے شیخ عبد القادر جیلانی کے لیے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ سب من گھڑت قصے کہانیاں ہیں۔ جب اللہ نے پیغمبروں کو یہ اختیار نہیں دیا، جن کو اپنی صداقت کے ثبوت کے لیے اس کی ضرورت بھی تھی تو کسی ولی کو یہ اختیار کیوں کر مل سکتا ہے؟ بالخصوص جب کہ ولی کو اس کی ضرورت بھی نہیں ہے، کیونکہ نبی کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے، اس لیے معجزہ ان کی ضرورت تھی لیکن اللہ کی حکمت و مشیت اس کی مقتضی نہ تھی، اس لیے یہ قوت کسی نبی کو نہیں دی گئی۔ ولی کی ولایت پر ایمان رکھنا ضروری نہیں ہے، اس لیے انھیں کرامات کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالی انھیں یہ اختیار بلا ضرورت کیوں عطا کر سکتا ہے؟ سب اعمال اللہ ہی کی طرف جاتے ہیں۔ [البقرة:210]،[ آل عمران:109]،[الانفال:44]

انبیائے کرام کے پاس تصرف کا اختیار نہیں ہے۔

سیدنا نوح علیہ نے یہاں تک کہہ دیا:

[فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانۡتَصِرۡ] انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں تو میرا بدلا لے۔ [القمر:10]

معلوم ہوا کہ اگر نوح علیہ السلام کو مافوق الاسباب قوتیں میسر ہوتیں تو مغلوبیت کا ذکر نہ کرتے۔

اسی طرح ھود علیہ السلام کے لیے: (سورة ھود:50تا60)

ابراہیم علیہ السلام کے لیے: (الانبیاء:61تا73)

لوط علیہ السلام کے لیے: (الشعراء:160تا175)،(ھود:74تا83)

شعیب علیہ السلام کے لیے: (ھود:84تا95)

ایوب علیہ السلام کے لیے: (ص:41تا44)

موسیٰ علیہ السلام کے لیے: (الاعراف:103تا162)،(طہ:45)،(الشعراء:10تا68)،(القصص:33)

ہارون علیہ السلام کے لیے: (طه:45)

یونس علیہ السلام کے لیے: (الصافات:139تا148)

جس میں اللہ تعالی نے فرمایا: کہ اگر وہ یعنی سیدنا یونس علیہ السلام مجھے نہ پکارتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتے، ان سورتوں کا مطالعہ کریں۔