قربانی کا جانور خریدنے کے بعد عیب دار ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

جانور خریدنے کے بعد عیب واقع ہونا؟

اگر قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اس میں عیب واقع ہو جائے تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں اور اسے تبدیل کرنا لازم ہے، کیونکہ قربانی کے لیے شرعی عیوب سے پاک ہونا شرط ہے اور قربانی خریدتے وقت جانور کا عیوب سے سالم ہونا شرط نہیں بلکہ ذبح کرتے وقت ان عیوب سے سلامتی والا ہونا مشروط ہے اور مذکورہ عیوب میں مبتلا جانور کو ذبح کرنے کی ممانعت ہے۔
نیز جس روایت سے یہ مفہوم کشید کیا جاتا ہے کہ قربانی کا جانور خریدنے کے بعد عیب دار ہو جائے تو اس کی قربانی جائز ہے، وہ روایت ضعیف ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ابتعنا كبشا نضحي به، فأصاب الذئب من إليتيه وأذنه، فسألنا النبى صلى الله عليه وسلم فأمرنا أن نضحي به
”ہم نے قربانی کے لیے مینڈھا خریدا اور اس کی دونوں سرینیں اور دونوں کان بھیڑیا کھا گیا، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کی قربانی کے متعلق) پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ہم یہی مینڈھا ذبح کریں۔“
ضعیف جدا: سنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، باب من اشترى أضحية صحيحة فأصابها عنده شيء: 3146۔ مسند احمد، 78/3۔ جابر بن یزید بن حارث جہنی متروک، اور محمد بن قریہ بن کعب انصاری مجہول ہے اور اس کا ابو سعید خدری ہی سے سماع بھی ثابت نہیں۔