دین میں میانہ روی سے کیا مراد ہے؟

Read in English
فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے عقیدہ سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد یاسر عرفات حفظہ اللہ نے کیا ہے۔

8- دین میں میانہ روی سے کیا مراد ہے؟

دین میں میانہ روی کا مطلب یہ ہے کہ انسان علم و عقیدے کے متعلقہ معاملات اور عملی عبادت کے متعلقہ معاملات میں غلو سے پرہیز کرتے ہوئے میانہ روی سے کام لے۔ اللہ کی اسماء و صفات کے بارے میں لوگوں کے تین گروہ ہیں جن میں سے دو گروہ افراط و تفریط کا شکار ہیں اور ایک نے میانہ روی سے کام لیا ہے۔ ایک گروہ نے اللہ تعالیٰ کو ہر نقص سے پاک ثابت کرنے کے لیے تمام ثابت شدہ اسماء و صفات کی نفی کر دی۔ دوسرے گروہ کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات مخلوق کے مشابہ ہیں، جبکہ تیسرے گروہ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات تو ثابت ہیں لیکن مخلوق کے مشابہ نہیں ہیں۔
ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:
① اللہ تعالیٰ کی تنزیہ میں غلو کرنے والے گروہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو تسلیم کیا جائے گا جو عقل کے مطابق ہوں اور عقل انھیں تسلیم کرے۔ اسی اصول کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کے لیے صفتِ ارادہ کو تو مانتے ہیں، لیکن صفتِ رحمت کو نہیں مانتے۔ ان کے نزدیک رحمت سے مراد احسان یا ارادہ احسان ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر انھوں نے اس وصف کا انکار کر دیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے خود ثابت کیا ہے، حالانکہ وہ ایسی چیز کی نفی کر رہے ہیں جس پر عقل زیادہ راہنمائی کرتی ہے۔ عقل ہی کی بنیاد پر تو وہ صفتِ ارادہ ثابت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی چیز کو خاص اور معین قرار دینا، مثلاً یہ کہا جائے کہ یہ آسمان ہے، یہ زمین ہے، یہ گھوڑا اور یہ اونٹ ہے، یہ مذکر ہے، یہ مؤنث ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے صفت ارادہ ثابت ہونے کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ چیز ایسے ہو جائے تو وہ ہو گئی۔ ہم کہتے ہیں کہ جناب! اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمتوں کا حصول اور ناراضی کا ختم ہونا یہ صفت رحمت پر صفت ارادہ کے ثابت ہونے سے زیادہ دلالت کرتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایک شبہہ کی بنا پر صفت رحمت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔
② دوسرا گروہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کو مخلوق کے مشابہ مانتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ… [الشوریٰ: 11] سے غافل ہیں۔
③ تیسرا گروہ وہ ہے جو میانہ روی کا قائل ہے۔ یہ اللہ کے ان تمام اسماء و صفات کو مانتے ہیں جو اللہ نے خود اپنی ذات کے لیے ثابت کیے ہیں یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں بیان فرمائے ہیں۔ ان کے متعلق ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مخلوق کے ساتھ ان میں کوئی مشابہت نہیں ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات اعلیٰ و ارفع ہے، اسی طرح اس کے اسماء و صفات بھی اعلیٰ ہیں، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے:
وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَى وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [النحل: 60]
”اور اللہ کے لیے سب سے اونچی مثال ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“
بدنی اعمال سے متعلقہ امور میں بھی لوگ غلو کرتے ہوئے اپنی جان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ کئی ایسے ہیں جو انتہائی سستی کا شکار ہیں اور بہت ضروری کاموں کو ترک کر دیتے ہیں، جبکہ بہترین طریقہ میانہ روی کا ہے اور اس کے لیے قانون اور ضابطہ یہ ہے کہ جو کام شریعت کے اصول کے مطابق ہو، اس کو میانہ روی کہیں گے اور جو شریعت کے دائرے سے خارج ہو وہ یا تو زیادتی پر مبنی ہوگا یا کمی ہوگی۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ”عقیدہ واسطیہ“ میں پانچ ایسے اصول ذکر کیے ہیں جن میں یہ ثابت کیا ہے کہ اہل سنت ہی وہ لوگ ہیں جو بدعتیوں کے مقابلے میں راہ راست پر ہیں۔ کاش سائل ان اصولوں کی طرف رجوع کر لے، کیونکہ وہ انتہائی مفید ہیں۔ (ابن عثیمین: نور علی الدرب: 5/2)