امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے فضائل و مناقب

Read in English
فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کتاب دفاع صحابہ رضی اللہ عنھم سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

امہات المومنین

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گیارہ بیویاں تھیں۔
(صحیح بخاری : 268)
قرآن مجید نے ان کی حرمت بیان کی، انہیں مومنوں کی مائیں قرار دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں زندہ تھیں۔
(صحیح بخاری : 284 ، صحیح مسلم : 309)
وہ عائشہ، حفصہ، سودہ، ام حبیبہ، ام سلمہ، میمونہ، زینب بنت جحش، جویریہ اور صفیہ رضی اللہ عنہن ہیں۔ دو وفات پا چکی تھیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پہلے ہی وفات پا چکی تھیں، اسی طرح زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی مدینہ میں وفات پا گئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں کم عرصہ رہیں، واللہ اعلم! ازواج مطہرات کا احترام و اکرام نہ صرف ضروری ہے، بلکہ جزو ایمان ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ
”نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔“
(الأحزاب : 6)
اس آیت کی تفسیر میں علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں :
شرف الله تعالى أزواج نبيه صلى الله عليه وسلم بأن جعلهن أمهات المؤمنين، أى فى وجوب التعظيم والمبرة والإجلال وحرمة النكاح على الرجال، وحجبهن رضي الله تعالى عنهن بخلاف الأمهات .
”اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو یہ شرف بخشا ہے کہ انہیں مومنوں کی مائیں قرار دیا ہے، یعنی ان کی تعظیم کرنا، ان سے حسن سلوک کرنا، ان کی عزت و توقیر کرنا، دوسرے مردوں کے ساتھ نکاح کی حرمت اور اپنی اصلی ماؤں کے برخلاف ان (ماؤں) سے پردہ کرنا واجب قرار دیا ہے۔“
(تفسير القرطبي : 123/14)
اس آیت کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں :
أى فى الحرمة والاحترام، والإكرام والتوقير والإعظام، ولكن لا تجوز الخلوة بهن، ولا ينتشر التحريم إلى بناتهن وأخواتهن بالإجماع .
”یعنی حرمت، احترام، اکرام، توقیر اور عزت افزائی میں (یہ تمہاری مائیں ہیں) لیکن ان سے خلوت میں ملاقات جائز نہیں۔ ازواج مطہرات کی بیٹیوں اور بہنوں پر یہ حرمت لاگو نہیں ہوتی، اس پر اجماع ہے۔“
(تفسير ابن كثير : 381/6)
حافظ بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں :
إن أزواج النبى صلى الله عليه وسلم صرن أمهات المؤمنين، ولم تصر بناتهن أخواتهم، ولا أخواتهن خالاتهم .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مؤمنوں کی مائیں بنی ہیں، ان کی بیٹیاں مومنوں کی بہنیں نہیں بنیں، نہ ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بہنیں مؤمنوں کی خالائیں بنی ہیں۔“
(السنن الكبرى ، تحت الرقم : 13427)
فرمان باری تعالیٰ ہے :
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ .
”نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔“
(الأحزاب : 32)
اس آیت کی تفسیر میں حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) فرماتے ہیں :
”اس آیت کا عموم دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کی فضلیت پہلی اور بعد والی تمام عورتوں پر ہے۔ اس پر اجماع ہے کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیا سے افضل ہیں، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو بھی دنیا کی تمام عورتوں پر ویسے ہی فضیلت حاصل ہے، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیا پر۔ یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں گی۔“
(التوضيح لشرح الجامع الصحيح : 134/26)
نیز فرمایا :
إِنَّمَا يُرِيْدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا .
”اہل بیت! اللہ چاہتا ہے کہ آپ سے گناہ دور کر دے اور آپ کو خوب پاک صاف کر دے۔“
(الأحزاب : 33)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
نزلت فى نساء النبى صلى الله عليه وسلم خاصة .
”یہ آیت خاص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“
(تفسیر ابن كثير : 410/6 ، بتحقيق سلامة ، وسنده حسن)
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
من شاء باهلته أنها نزلت فى أزواج النبى صلى الله عليه وسلم .
”میں اس پر مباہلے کو تیار ہوں کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے بارے میں نازل ہوئی۔“
(تفسیر ابن كثير : 411/6 ، وسنده حسن)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں :
هذا نص فى دخول أزواج النبى صلى الله عليه وسلم فى أهل البيت هاهنا؛ لأنهن سبب نزول هذه الآية .
”یہ آیت نص ہے کہ ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم اہل بیت میں شامل ہیں، کیونکہ ازواج مطہرات ہی اس آیت کے نزول کا سبب ہیں۔“
(تفسير ابن كثير : 410/6 ، بتحقيق سلامة)

➊ ام المومنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا :

آپ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کو عورتوں میں سبقت اسلام کا شرف حاصل ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں :
مما اختصت به سبقها نساء هذه الأمة إلى الإيمان فسنت ذلك لكل من آمنت بعدها فيكون لها مثل أجرهن لما ثبت أن من سن سنة حسنة وقد شاركها فى ذلك أبو بكر الصديق بالنسبة إلى الرجال ولا يعرف قدر ما لكل منهما من الثواب بسبب ذلك إلا الله عز وجل .
”سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی خصوصیت میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نے اس امت کی تمام عورتوں سے ایمان لانے میں سبقت کی، آپ رضی اللہ عنہا کا یہ عمل بعد میں ایمان لانے والی عورتوں کے لیے سنت بن گیا، یوں آپ رضی اللہ عنہا کو ان تمام عورتوں کے برابر اجر بھی ملتا ہے، کیونکہ حدیث میں ثابت ہے کہ جس نے کوئی اچھا عمل جاری کیا۔ اس اجر میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی شریک ہیں، کیونکہ وہ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔ دونوں کو کتنا ثواب ملتا ہے؟ اس کی مقدار اللہ ہی جانتا ہے۔“
(فتح الباري : 137/7)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے، گھر تشریف لائے، تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھارس بندھائی۔
(صحيح البخاري : 3 ، صحيح مسلم : 160)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
لم يتزوج النبى صلى الله عليه وسلم على خديجة حتى ماتت .
”سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری شادی نہیں کی۔“
(صحیح مسلم : 2436)
یہ روایت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت پر واضح دلیل ہے، آپ رضی اللہ عنہا کی وفاشعاری اس قدر تھی کہ آپ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بیوی کی ضرورت محسوس نہ کی۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
خير نسائها مريم ابنة عمران، وخير نسائها خديجة .
”عورتوں میں سب سے بہترین مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا اور خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔“
(صحيح البخاري : 3432 ، صحیح مسلم : 2430)
راوی حدیث ابوکریب رحمہ اللہ کہتے ہیں :
أشار وكيع إلى السماء والأرض .
”وکیع رحمہ اللہ نے آسمان اور زمین کی طرف اشارہ کیا۔“
(صحیح مسلم : 2430)
وکیع رحمہ اللہ کی مراد یہ تھی کہ مریم رضی اللہ عنہا اور خدیجہ رضی اللہ عنہا دنیا جہان کی بہترین عورتیں ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
ما غرت على أحد من نساء النبى صلى الله عليه وسلم، ما غرت على خديجة، وما رأيتها، ولكن كان النبى صلى الله عليه وسلم يكثر ذكرها، وربما ذبح الشاة ثم يقطعها أعضاء، ثم يبعثها فى صدائق خديجة ، فربما قلت له : كأنه لم يكن فى الدنيا امرأة إلا خديجة، فيقول : إنها كانت، وكانت، وكان لي منها ولد .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی پر میں نے اتنی غیرت نہیں کھائی، جتنی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر کھائی، حالانکہ میں نے انہیں دیکھا تک نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بہت زیادہ تذکرہ کیا کرتے تھے۔ جب کبھی کوئی بکری ذبح کرتے، تو اس کے کچھ حصے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھیجتے۔ کئی بار تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ دیتی کہ (مجھے تو) لگتا ہے کہ آپ کی دنیا میں صرف ایک ہی بیوی ہے اور وہ ہے خدیجہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : خدیجہ تو خدیجہ تھیں، اللہ نے مجھے ان سے اولاد دی ہے۔“
(صحيح البخاري : 3818 ، صحیح مسلم : 2435)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا :
اقرأ عليها السلام من ربها ومني وبشرها ببيت فى الجنة من قصب لا صخب فيه، ولا نصب .
”خدیجہ رضی اللہ عنہا کو رب تعالیٰ کی طرف سے سلام پیش کیجئے گا اور میری طرف سے بھی۔ نیز انہیں جنت میں موتیوں سے بنے محل کی خوشخبری سنا دیں، جس میں نہ شور شرابہ ہوگا اور نہ تکلیف و تھکاوٹ۔“
(صحيح البخاري : 3820 ، صحیح مسلم : 2432)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
خط رسول الله صلى الله عليه وسلم فى الأرض أربع خطوط ثم قال : هل تدرون ما هذا؟ قالوا : الله ورسوله أعلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أفضل نساء أهل الجنة خديجة بنت خويلد وفاطمة بنت محمد ومريم بنت عمران وآسية بنت مزاحم امرأة فرعون .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا، جانتے ہو یہ کیا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے زیادہ فضیلت کی حامل خواتین خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا، فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا، مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 293/1 ، فضائل الصحابة للنسائي : 259 ، مسند أبي يعلى : 2722 ، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (7010) اور امام حاکم رحمہ اللہ (3،594/2/ 185) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔

➋ ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا :

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
”خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد مکی دور کی بات ہے، عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے رسول! شادی کرنا چاہیں گے؟ فرمایا: کس سے؟ کہنے لگیں: کنواری سے کرنی ہے، تو آپ کی مرضی، شوہر دیدہ سے کرنی ہے، تو آپ کی مرضی۔ فرمایا: کنواری کون ہے؟ کہنے لگیں: یہ اس کی بیٹی ہے، جس سے آپ کو سب سے زیادہ لگاؤ ہے۔ میری مراد: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا! فرمایا: اور شوہر دیدہ؟ کہا: سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا، اچھی بھلی مؤمنہ اور با شرع خاتون ہیں۔ فرمایا: جائیں، دونوں سے میرا ذکر کریں۔ خولہ رضی اللہ عنہا گئیں اور پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر داخل ہوئیں۔ میری ماں ام رومان رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور کہنے لگیں: آپ کی تو اللہ نے سن لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ میری امی جان فرمانے لگیں: میرا خیال ہے، آپ ذرا رکیے، ابوبکر رضی اللہ عنہ آتے ہی ہوں گے۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔ خولہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: آپ پر تو اللہ کی رحمت ہو گئی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ لینے کے لیے بھیجا ہے۔ ابو جی فرمانے لگے: وہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھتیجی ہیں، نکاح کیسے ہو سکتا ہے؟ خولہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ کہہ کر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے واپس بھیج دیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ساری بات من و عن کہہ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں جا کر کہیے کہ ہم ایک دوسرے کے اسلامی بھائی ہیں، لہذا عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوسکتا ہے۔ خولہ رضی اللہ عنہا نے ابو جی کو ساری بات بتادی، تو ابو جی فرمانے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیے کہ تشریف لے آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ابو جی نے میرا نکاح کر دیا۔ اس وقت میری عمر تقریبا چھ برس تھی۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 23/23، مسند أحمد : 210/6 ، وسنده حسن)
امام حاکم رحمہ اللہ (3/73) نے اسے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباری : 7 / 225) نے اس کی سند کو ”حسن“ کہا ہے۔
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے آخر عمر میں اپنی باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی تھی۔
(صحيح البخاري : 2593)

➌ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا :

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کے بے شمار فضائل و مناقب ہیں۔
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قلت : أى الناس أحب إليك؟ قال : عائشة قلت : من الرجال؟ قال : أبوها .
”میں نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کیا : آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا : عائشہ، عرض کیا : مردوں میں؟ فرمایا: ان کا باپ۔“
(صحيح البخاري : 4358 ، صحیح مسلم : 2384)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں :
”پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت طیب ہی سے ہو سکتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے کہ میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن اسلام کا بھائی چارہ افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے افضل مرد و عورت سے محبت کی، جو ان سے بغض رکھتا ہے، وہ لازما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بغض رکھتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کرنا فطری معاملہ تھا، آپ دیکھتے نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے اس دن بھیجتے، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے، مطلوب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا ہوتی تھی۔“
(سِير أعلام النبلاء : 142/2)
سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں :
فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الطعام .
”عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت دوسری عورتوں پر وہ ہے، جو ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے۔“
(صحيح البخاري : 3769 ، صحیح مسلم : 2431)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
والله ما نزل على الوحي وأنا فى لحاف امرأة منكن غيرها.
”اللہ کی قسم! آپ میں سے کسی زوجہ کے بستر پر وحی نازل نہیں ہوئی، سوائے عائشہ رضی اللہ عنہا کے۔“
(صحیح البخاری : 3775)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا:
أريتك فى المنام مرتين، أرى أنك فى سرقة من حرير، ويقول: هذه امرأتك، فاكشف عنها، فإذا هي أنت، فأقول: إن يك هذا من عند الله يمضه.
”میں نے آپ کو دو مرتبہ خواب میں دیکھا ہے، دیکھا کہ آپ ریشمی کپڑے کے ایک ٹکڑے میں ہیں اور ایک بندہ مجھے کہتا ہے: یہ آپ کی بیوی ہیں، ان سے کپڑا ہٹائیے۔ (میں نے کپڑا ہٹایا) تو دیکھا کہ وہ آپ تھیں، تو میں نے کہا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے، تو وہ اسے پورا کر دے گا۔“
(صحیح البخاری : 3895 ، صحیح مسلم : 2438)
دوران سفر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا، تلاش کے لیے رکنا پڑا، پانی نہیں تھا، آیت تیمم نازل ہوئی، تو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا :
جزاك الله خيرا، فوالله ما نزل بك أمر قط، إلا جعل الله لك منه مخرجا، وجعل للمسلمين فيه بركة.
”اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، اللہ کی قسم! آپ کی وجہ سے جب بھی کوئی پریشانی بنی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سے نجات ضرور دی ہے اور اس میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔“
(صحیح البخاری: 3773)
جب سورت احزاب (28 ، 29) نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا پسند کریں یا دنیوی مال و متاع کے ساتھ علیحدگی اختیار کر لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے پوچھی:
يا عائشة، إني أريد أن أعرض عليك أمرا أحب أن لا تعجلي فيه حتى تستشيري أبويك، قالت: وما هو يا رسول الله؟ فتلا عليها الآية، قالت: أفيك يا رسول الله، أستشير أبوي؟ بل أختار الله ورسوله، والدار الآخرة.
”عائشہ! میں آپ پر ایک معاملہ پیش کرنا چاہتا ہوں، میری خواہش ہے کہ آپ اس کا جواب دینے میں جلدی مت کیجیے گا، بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر لیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عرض گزار ہوئیں: اللہ کے رسول! وہ کیا معاملہ ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت تلاوت کی۔ سیدہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ، اس کے رسول اور جنت کو ترجیح دیتی ہوں۔“
(صحیح مسلم : 1478)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
توفي النبى صلى الله عليه وسلم فى بيتي، وفي نوبتي، وبين سحري ونحري، وجمع الله بين ريقي وريقه.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر اور میری باری میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری گردن اور سینے کے درمیان تھا اور اللہ تعالیٰ نے (آخری لمحات میں) میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک کو جمع کر دیا۔“
(صحیح البخاری : 3100)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی انھی خوارج سے مخاطب ہوئے:
أما قولكم قاتل ولم يسب، ولم يغنم، أفتسبون أمكم عائشة، تستحلون منها ما تستحلون من غيرها وهى أمكم؟ فإن قلتم: إنا نستحل منها ما نستحل من غيرها فقد كفرتم، وإن قلتم: ليست بأمنا فقد كفرتم : النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ فأنتم بين ضلالتين، فأتوا منها بمخرج.
”تمہارا یہ اعتراض کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قتال کیا، لیکن مد مقابل کو قیدی نہیں بنایا، ان کا مال نہیں لوٹا، تو اس سلسلے میں میں پوچھتا ہوں کہ اپنی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو قید کرنا پسند کریں گے؟ ان کے بارے میں بھی ان امور کو حلال جانو گے، جو ان کے علاوہ دوسروں (لونڈیوں) کے لیے حلال جانتے ہو؟ حالانکہ وہ آپ کی ماں ہیں۔ اگر آپ یہ کہو : ان کے ساتھ وہ سب کچھ حلال ہے، جو لونڈیوں کے لیے حلال ہوتا ہے، تو آپ نے کفر کیا اور اگر یہ کہو کہ وہ ہماری ماں نہیں ہیں، تو بھی آپ کافر، اللہ کا ارشاد ہے : النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ”نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔“ آپ دو گمراہیوں کے درمیان پھنسے ہو، اس سے نکلنے کا راستہ آپ ہی بتائیں۔“
(الأحزاب : 6 مسند الإمام أحمد: 342/1 ، سنن أبي داود: 4037 مختصرًا ، خصائص علي للنسائي: 190، واللفظ له ، المعرفة والتاريخ للفسوي: 522/1 ، المعجم الكبير للطبراني: 312/10 ، المستدرك للحاكم: 150/2 ، وسنده حسن)
امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ قرار دیا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر منافقین نے تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی براءت نازل فرمائی۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا :
أنزل الله براءتك من فوق سبع سماوات.
”اللہ نے آپ کی براءت سات آسمانوں کے اوپر سے نازل کی ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 276/12 ، 349 ، الرد على الجهمية للدارمي ، ص 57 ، المستدرك على الصحيحين للحاكم : 8/4 وسنده حسن)
اس روایت کو امام حاکم رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
ایک روایت کے الفاظ ہیں :
نزل عذرك من السماء.
”آپ کی براءت آسمانوں (کے اوپر) سے اُتری ہے۔“
(صحیح البخاری : 4753)
امام مسروق رحمہ اللہ کے بارے میں ہے :
كان إذا حدث عن عائشة، قال: حدثتني الصديقة ابنة الصديق، البريئة المبرأة كذا وكذا.
”آپ رحمہ اللہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے تو فرماتے: مجھے صدیقہ بنت صدیق اور پاک دامن، جنہیں الزام سے بری کر دیا گیا، نے اس اس طرح حدیث بیان کی۔“
(طبقات ابن سعد : 51/8 ، تاريخ ابن أبي خيثمة : 4120 ، واللفظ له ، وسنده صحيح)
امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كانت عائشة، أفقه الناس وأعلم الناس وأحسن الناس رأيا فى العامة.
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سب سے بڑی فقیہ، سب سے بڑی عالمہ اور عام لوگوں کے متعلق اچھی رائے رکھنے والی تھیں۔“
(المستدرك على الصحيحين للحاكم : 6748 ، وسنده حسن)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر چھ سال تھی اور رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہا عالمہ اور فقیہ تھیں۔ بہت سے صحابہ اور تابعین نے آپ رضی اللہ عنہا سے کسب فیض کیا۔ صحابیات میں سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے کا شرف بھی آپ رضی اللہ عنہا نے حاصل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہا کی وفات ستاون ہجری میں ہوئی۔ بقیع میں دفن ہوئیں۔

➍ ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا :

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر آپ کا ارادہ ہو، تو حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کرا دوں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس پر غور کروں گا۔ پھر کئی راتیں گزر گئیں، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ابھی میں نکاح نہ کرنا ہی مناسب خیال کرتا ہوں۔ پھر میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا: اگر آپ میری بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنا چاہیں، تو میں کر دیتا ہوں۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔ مجھے ان پر عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ غصہ آیا، مگر چند راتیں ہی گزری تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام نکاح بھیجا، تو میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا۔ پھر مجھے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ملے اور انہوں نے کہا: شاید آپ مجھ سے ناراض ہیں، کیونکہ آپ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تھا اور میں نے خاموشی اختیار کر لی اور کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ میں نے کہا: جی ہاں، مجھے دکھ تو ہوا تھا۔ تو انہوں نے فرمایا: دراصل مجھے آپ کی پیش کش قبول کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی، لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ارادہ ترک کر دیتے، تو میں انہیں ضرور قبول کر لیتا۔“
(صحیح البخاری: 4005)

➎ ام المومنین سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا :

سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کا لقب ام المساکین تھا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا بہت کم مدت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں رہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی فوت ہو گئیں۔

➏ ام المومنین سیدہ ام سلمہ، ہند بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا :

آپ رضی اللہ عنہا قریش کے قبیلہ مخزوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ حبشہ اور مدینہ ہجرت کی۔ اپنی کنیت سے مشہور ہوئیں۔ آپ کے سابق شوہر سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام نکاح بھیجا۔ آپ کے عقد میں آئیں اور مومنوں کی ماں بن گئیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے جبریل علیہ السلام کو دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں دیکھا۔
(صحیح البخاری : 3634)
سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
جب آیت : إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (الأحزاب: 33) نازل ہوئی، تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلا کر ان پر چادر اوڑھ دی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پیچھے کھڑے تھے، تو انہیں بھی چادر میں داخل کر کے دعا فرمائی :
اللهم هؤلاء أهل بيتي فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا.
”اللہ! یہ (بھی) میرے اہل بیت ہیں، تو ان سے پلیدی دور رکھ اور انہیں پاک کر دے۔“
ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ فرمایا: ”آپ تو ان میں شامل ہیں ہی! بلکہ آپ تو میرے بہترین اہل بیت ہیں۔“
(سنن الترمذي : 3205 ، 3787 ، صحيح له شواهد)

➐ ام المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا :

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كانت زينب بنت جحش تقول: إن الله أنكحني فى السماء.
”ام المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔“
(صحیح البخاری : 7421)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
نزلت آية الحجاب فى زينب بنت جحش، وأطعم عليها يومئذ خبزا ولحما، وكانت تفخر على نساء النبى صلى الله عليه وسلم، وكانت تقول: إن الله أنكحني فى السماء.
”پردے والی آیت سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے متعلق نازل ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن (ولیمہ میں) گوشت اور روٹی کی دعوت کی۔ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا دوسری بیویوں پر فخر کرتے ہوئے کہا کرتی تھیں: اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح آسمان پر کیا ہے۔“
(صحیح البخاری : 7421)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات سے فرمایا :
أسرعكن لحاقا بي أطولكن يدا، قالت: فكن يتطاولن أيتهن أطول يدا، قالت: فكانت أطولنا يدا زينب، لأنها كانت تعمل بيدها وتصدق.
”آپ میں سے سب سے پہلے میرے ساتھ ملاقات اس کی ہوگی، جو آپ میں سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ازواج مطہرات اپنے ہاتھوں کو ماپنے لگیں کہ کس کے ہاتھ سب سے لمبے ہیں؟ تو سب سے لمبے ہاتھ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے تھے، کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں سے کام کرتی تھیں اور (بکثرت) صدقہ کرتی تھیں۔“
(صحیح البخاری : 1420 ، صحیح مسلم : 2452 ، واللفظ له)
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو خوشخبری سنا دی ہے کہ وہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہوں گی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے متعلق بیان فرماتی ہیں :
هي التى كانت تساميني منهن فى المنزلة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولم أر امرأة قط خيرا فى الدين من زينب، وأتقى لله وأصدق حديثا، وأوصل للرحم، وأعظم صدقة، وأشد ابتذالا لنفسها فى العمل الذى تصدق به، وتقرب به إلى الله تعالى.
”ازواج مطہرات میں یہی تھیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں مقام و منزلت میں میرا مقابلہ کرتی تھیں۔ میں نے زینب سے زیادہ دیندار، اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والی، سچ بولنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، بکثرت صدقہ خیرات کرنے والی، صدقہ کرنے کے لیے خود کو کام کاج میں مصروف رکھنے والی اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب اختیار کرنے والی کوئی عورت نہیں دیکھی۔“
(صحیح مسلم : 2442)

➑ ام المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کی مکاتبت ادا کی اور شادی کر لی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کے قیدی حاصل کیے، تو سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئیں، سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے ان سے اپنی مکاتبت (یعنی آزادی کی قیمت مقرر) کر لی، وہ بہت خوبصورت خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا، آپ اس کے دل میں بس جاتیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی مکاتبت پر مدد لینے آئیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! میں نے انہیں حجرے کے دروازے پر دیکھا، تو ناپسند کیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں وہ خوبی (حسن) دیکھیں گے، جو میں دیکھ رہی ہوں۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں حارث بن ابوضرار کی بیٹی جویریہ ہوں، جو اپنی قوم کے سردار ہیں، مجھ پر جو پریشانی آئی ہے، وہ آپ سے پوشیدہ نہیں، میں ثابت بن قیس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی ہوں اور میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی مکاتبت پر مدد لینے آئی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا آپ اس سے بہتر کی خواہش رکھتی ہیں؟ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! وہ (بہتر) کیا ہے؟ فرمایا: میں آپ کی کتابت کی رقم ادا کر دوں گا اور آپ سے شادی کر لوں گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ کام کر دیا۔ لوگوں میں یہ خبر پھیل گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی ہے، لوگ کہنے لگے: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال (بن گئے) ہیں، چنانچہ انہوں نے بنو مصطلق کے سب قیدی آزاد کر دیے، جو ان کے قبضہ میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی نے بنو مصطلق کے سو گھرانوں کو آزاد کرا دیا، ہم نہیں جانتے کہ کوئی عورت اپنی قوم کے لیے ان سے زیادہ بابرکت ٹھہری ہو۔“
(مسند الإمام أحمد : 277/6 ، سنن أبي داود : 3931 ، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (705) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4054 ، 4055) نے صحیح کہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (الدرایۃ : 2/294 ، ح : 1061) نے اس کی سند صحیح کہا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كانت جويرية اسمها برة فحول رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمها جويرية، وكان يكره أن يقال: خرج من عند برة.
”سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل کر کے ان کا نام جویریہ رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اچھا نہ لگتا تھا کہ کہا جائے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم برہ کے یہاں سے نکلے ہیں۔“
(صحیح مسلم : 2140)

➒ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا :

آپ رضی اللہ عنہا کا نام رملہ یا ہند تھا، ام حبیبہ کنیت سے مشہور ہوئیں۔ آپ کی والدہ کا نام صفیہ بنت ابی العاص تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا امیر شام سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اموی بیوی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کو اہل بیت میں ہونے کا شرف نصیب ہوا۔
سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا :
عندي أحسن العرب وأجمله، أم حبيبة بنت أبى سفيان، أزوجكها، قال: نعم.
”میرے پاس عرب کی حسین و جمیل ام حبیبہ بنت ابی سفیان ہے، میں آپ کی اس سے شادی کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی، کر دیں۔“
(صحیح مسلم: 2501)

➓ ام المومنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا :

آپ رضی اللہ عنہا عاقلہ، فاضلہ، حسب و جمال اور دیندار تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا لونڈی تھیں اور سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو خرید لیا اور آزاد کر کے نکاح کر لیا، آپ کی آزادی کو ہی حق مہر بنایا۔ آپ رضی اللہ عنہا کی وفات خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ میں ہوئی۔
آپ کی فضیلت و منقبت میں بے شمار احادیث ہیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
وقعت فى سهم دحية جارية جميلة، فاشتراها رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبعة أرؤس، ثم دفعها إلى أم سليم تصنعها له وتهيئها … وقال الناس: لا ندري أتزوجها، أم اتخذها أم ولد؟ قالوا: إن حجبها فهي امرأته، وإن لم يحجبها فهي أم ولد، فلما أراد أن يركب حجبها، فقعدت على عجز البعير، فعرفوا أنه قد تزوجها.
”دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں نہایت خوبصورت لونڈی آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے سات لونڈیوں کے عوض خرید لیا اور انہیں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، تاکہ ان کا بناؤ سنگھار کریں۔ لوگ کہنے لگے: معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی ہے یا انہیں ام ولد بنایا ہے؟ لوگوں نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردے کا اہتمام کریں، تو وہ بیوی ہیں اور اگر پردے کا اہتمام نہ کریں، تو وہ ام ولد ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہونے لگے، تو انہیں پردہ کروایا اور وہ اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ لوگوں نے جان لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیوی بنایا ہے۔“
(صحیح مسلم : 1365)

⓫ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے حرم مکہ میں نکاح کیا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم ميمونة وهو محرم.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے حرم مکہ میں نکاح کیا۔“
(صحیح مسلم: 1410)