جاہلیت، بادشاہ کی قربت، نفس کی ذلت اور جماعت سے علیحدگی کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

جاہلیت کی سی باتیں کرنے کی ممانعت

① سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من فارق الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه إلا أن يرجع، ومن ادعى بدعوى جاهلية فإنه من جثا جهنم
”جو شخص بالشت برابر جماعت سے الگ ہو جائے تو اس نے اسلام کی رسی کا پھندا اپنی گردن سے نکال ڈالا الا یہ کہ وہ واپس آ جائے، اور جو شخص زمانہ جاہلیت کی طرح آوازیں نکالے (نوحہ وغیرہ کرے) تو وہ جہنم کے ڈھیر میں سے ہے۔“
کسی آدمی نے عرض کیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے؟ فرمایا:
وإن صام وإن صلى، فادعوا بدعوى الله الذى سماكم المسلمين المؤمنين
”اگرچہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے، پس اللہ کے دعوے (نام) کے ساتھ پکارو جس نے تمہارا نام مسلمان، مومن رکھا۔“
ترمذی، کتاب الامثال 2863۔

بادشاہ کی قربت کی ممانعت

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سكن البادية جفا، ومن اتبع الصيد غفل، ومن لزم السلطان افتتن، وما ازداد عبد من السلطان دنوا إلا زاد من الله بعدا
”جو جنگل میں رہا وہ سنگ دل و بے مروت ہو گیا، جس نے شکار کا پیچھا کیا وہ غافل ہو گیا، جو بادشاہ کے ساتھ رہا وہ فتنوں سے دوچار ہوا، اور بندہ جس قدر بادشاہ کے قریب ہوتا جائے گا اس قدر اللہ سے دور ہوتا جائے گا۔“
ابوداؤد، کتاب الصيد 2859، ترمذی، کتاب الفتن 2256۔ مسند احمد، و من مسند هاشم 446/2، حديث 8436۔

نفس کی بے عزتی کرنے کی ممانعت

① سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه
”مومن کی یہ شان نہیں کہ وہ خود اپنی بے عزتی کرے۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، وہ اپنی بے عزتی کیسے کرتا ہے؟ فرمایا:
يتعرض من البلاء لما لا يطيق
”وہ اپنے آپ کو ایسی آزمائش میں ڈالتا ہے جس کی اس میں طاقت نہیں ہوتی۔“
ترمذی، کتاب الفتن 2254، ابن ماجه، کتاب الفتن 4016۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللهم إني أعوذ بك من الفقر والقلة والذلة، وأعوذ بك من أن أظلم أو أظلم
”اے اللہ! میں فقر و قلت اور ذلت سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور میں ظلم کرنے اور اپنے اوپر ظلم ہونے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“
ابوداؤد، کتاب الصلوة 1544، نسائي، الاستعاذه 8 / 229۔ صحیح ابن حبان، كتاب الرقائق، باب في الاستعاذه 409.

جماعت سے علیحدہ ہو جانے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجتمع أمتي – أو قال: أمة محمد – على ضلالة، ويد الله مع الجماعة، ومن شذ شذ إلى النار
”میری امت – یا فرمایا: امت محمد – ضلالت و گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوگی اور اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے اور جو شخص (جماعت سے) الگ ہوگا وہ جہنم کی طرف الگ ہوگا۔“
ترمذی، کتاب الفتن 2167، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ بك من الشقاق والنفاق وسوء الأخلاق
”اے اللہ! میں لڑائی جھگڑے، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“
ابوداؤد، کتاب الصلوة 1546۔