عن أبي مسعود الأنصاري قال جاء رجل بناقة مخطومة فقال هذه في سبيل الله فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لك بها يوم القيامة سبعمائة ناقة كلها مخطومة۔
”ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں: ایک آدمی ایک نکیل والی اونٹنی لایا اور کہا: ”یہ اللہ کے راستے میں ہے۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بدلے آپ کے لیے قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ہوں گی تمام نکیل والی ہوں گی۔ “
( صحیح بخاری ومسلم) (رواہ مسلم، کتاب الإمارة، باب فضل الصدقة فی سبیل اللہ وتضعیفہا، الرقم: 1892)
تشریح
سات سو اونٹنیاں بدلے میں دیے جانے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ قیامت کے دن تیرے لیے سات سو اونٹنیوں کا ثواب اور اجر ہے۔
یہ بھی احتمال ہے کہ قیامت کے دن اس شخص کو جنت میں حقیقتاً سات سو اونٹنیاں دی جائیں گی وہ باری باری ان پر تفریح کے لیے سواری کرے گا، امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا مفہوم زیادہ مناسب ہے۔ (شرح صحیح مسلم للنووی)