حکمرانوں کا لوگوں سے چھپ جانے کی ممانعت
① سیدنا ابو مریم ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میں نے کہا: ابو فلاں! اللہ نے آپ پر کس قدر احسان و انعام کیا ہے (عرب یہ کلمہ بولتے ہیں)۔ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ولاه الله شيئا من أمور المسلمين فاحتجب دون حاجتهم وخلتهم وفقرهم، احتجب الله دون حاجته وخلته وفقره يوم القيامة
”اللہ جس شخص کو مسلمانوں کے معاملات کا سربراہ بنا دے اور وہ ان کی ضرورتوں، پریشانیوں اور مسائل کی پروا نہ کرے بلکہ ان سے صرفِ نظر کر کے چھپا رہے تو قیامت کے دن اللہ بھی اس کی ضرورت و پریشانی اور مصیبت سے چھپا رہے گا، اس کی کوئی پروا نہیں کرے گا۔“
راوی بیان کرتے ہیں، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ضروریات کا پتہ لگانے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک آدمی مامور کر دیا۔
ابوداؤد، كتاب الخراج والامارة والفئ 2948۔ البيهقي في الكبرى، فيما يلزم الامام من أمر 174/10 حدیث 20258۔
امارت طلب کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے عامل (گورنر) کیوں مقرر نہیں کر دیتے؟ راوی بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے پر اپنا ہاتھ مارا پھر فرمایا:
يا أبا ذر إنك ضعيف، وإنها أمانة، وإنها يوم القيامة خزي وندامة إلا من أخذها بحقها وأدى الذى عليه فيها
”ابوذر! تم کمزور آدمی ہو، یہ ایک امانت ہے اور جو شخص اسے صحیح طور پر قبول نہ کرے نہ اس کی ذمہ داری ادا کرے تو یہی چیز روزِ قیامت اس کے لیے رسوائی اور ندامت کا باعث ہوگی۔“
مسلم، كتاب الامارة 16 / 1825۔
غداری کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الغادر ينصب له لواء يوم القيامة فيقال: هذه غدرة فلان
”قیامت کے دن غدار کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کی غداری کا نشان ہے۔“
بخاری، کتاب الادب 6178، مسلم، كتاب الجهاد والسير 1735/10۔
② سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لكل غادر لواء عند استه يوم القيامة يرفع له بقدر غدره، ألا ولا غادر أعظم غدرا من أمير عامة
”قیامت کے دن ہر غدار کی سرین کے پاس ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور وہ اس کی غداری کے مطابق ہی بلند کیا جائے گا، اور سن لو! امارتِ عامہ کی غداری سے بڑھ کر کوئی غدار نہیں۔“
مسلم، كتاب الجهاد والسير 1738/16۔
کوئی عہدہ طلب کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے کوئی عہدہ عطا فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا أبا ذر إني أراك ضعيفا، وإني أحب لك ما أحب لنفسي، لا تأمرن على اثنين ولا تولين مال يتيم
”ابوذر! میں تمہیں ضعیف تصور کرتا ہوں، میں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں وہی تمہارے لیے پسند کرتا ہوں، کسی دو پر بھی امیر نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کی سرپرستی قبول کرنا۔“
مسلم، كتاب الامارة 1826/17، ابو داؤد، کتاب الوصايا 2868۔