دجال دنیا کا سب سے بڑا فتنہ !
عن عمران بن حصين رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ما بين خلق آدم إلى قيام الساعة أمر أكبر من الدجال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا کہ پیدائش آدم سے تا قیامت دجال سے بڑا کوئی معاملہ (فتنہ) نہیں ہے۔
مسلم : کتاب الفتن : باب في بقية من احاديث الدجال (2946) احمد (27/4 – 29) جامع الصغير (489/2)
ایک روایت میں ہے :
ما بين خلق آدم إلى أن تقوم الساعة فتنة أكبر من فتنة الدجال
پیدائش آدم سے وقوع قیامت تک فتنہ دجال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں۔
(احمد (29/4)
وعن حذيفة رضى الله عنه قال ذكر الدجال عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : لأنا لفتنة بعضكم أخوف عندي من فتنة الدجال ولن ينجو أحد مما قبلها إلا نجا منها وما صنعت فتنة منذ كانت الدنيا صغيرة ولا كبيرة إلا لفتنة الدجال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فتنہ دجال کی بنسبت تمہارے باہمی فتنہ فساد کا مجھے زیادہ خوف ہے (کہ تم ضرور باہمی فتنہ و فساد برپا کرو گے) گذشتہ لوگوں میں سے جو کوئی اس فتنے سے محفوظ رہا وہ در اصل محفوظ ہے اور آج تک دنیا میں جو کوئی چھوٹا یا بڑا فتنہ رونما ہوتا ہے وہ دجال کے فتنے کی وجہ سے ہے۔
احمد (482/5) البزار (3391) مجمع الزوائد (646/7) وصححه
عن أنس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما بعث نبي إلا أنذر أمته الأعور الكذاب ألا إنه أعور وإن ربكم ليس بأعور وإن بين عينيه مكتوب كافر
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو نبی بھی مبعوث ہوا اس نے اپنی امت کو کانے کذاب (دجال) سے ضرور ڈرایا ہے۔ خبردار ! وہ کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی آنکھوں کے درمیان کافر (ک۔ ف۔ر) لکھا ہوگا۔
بخاری : کتاب الفتن : باب ذكر الدجال (7131) مسلم (2933) ابو داؤد (4316) ترمذی (2245) شرح السنة (2082)
وعن عبد الله بن حوالة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من نجا من ثلاث فقد نجا ثلاث مرات ، موتي ، والدجال ، وقتل خليفة مصطبر بالحق معطيه
حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص تین (حادثات کے) مواقعوں پر محفوظ رہا وہ نجات پا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ بات دھرائی۔ پھر فرمایا :
(1) میری موت
(2) دجال
(3) اور دین حق پر قائم فیاض خلیفہ کا قتل۔
احمد (153/4) ابن ابي شيبة (649/8) دلائل النبوة (392/6) كتاب السنة لابن أبي عاصم (1177) وصححه الالبانی ، حاکم (108/3)
عن سمرة بن جندب رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والله لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم الأعور الدجال ممسوح العين اليسرى
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ تیس جھوٹے نکلیں گے اور سب سے آخر میں (ان کا سردار) کانا دجال نکلے گا جس کی بائیں آنکھ عیب دار ہوگی۔
احمد (22/5) السنن الكبرى : کتاب صلاة الخسوف (339/3) المعجم الكبير (227/7) مجمع الزوائد (448/2) الاصابة (26/4) فتح البارى (706/6) وقال الحافظ اسنادہ حسن
عن سفينة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : ألا إنه لم يكن نبي قبلي إلا حذر الدجال أمته … معه ملكان من الملائكة يشبهان نبيين من الأنبياء لو شئت سميتهما بأسمائهما وأسماء آبائهما واحد منهما عن يمينه والآخر عن شماله وذلك فتنة ، فيقول الدجال : ألست بربكم ؟ ألست أحيي وأميت ؟ فيقول له أحدهما : كذبت ، فلا يسمعه أحد من الناس إلا صاحبه فيقول له : صدقت ، فيسمعه الناس ، فيظنون إنما يصدق الدجال وذلك فتنة ثم يسير حتى يأتى المدينة فلا يؤذن له فيها فيقول : هذه قرية ذلك الرجل ثم يسير حتى يأتى الشام فيهلكه الله عزوجل عند عقبة أفيق
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا : خبر دار ! مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا جبکہ دائیں آنکھ پر گوشت ابھرا ہوگا اور دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔ جب وہ خروج کرے گا تو اس کے ساتھ دو وادیاں ہوں گی ایک جنت اور دوسری آگ ہو گی اس کی آگ تو جنت ہو گی مگر اس کی جنت آگ ہوگی ، اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے جو دو نبیوں کے روپ میں ہوں گے اگر میں چاہوں تو ان کے اور ان کے آباء کے نام بھی بتا سکتا ہوں۔ ایک اس دجال کے دائیں طرف اور دوسرا بائیں جانب ہوگا اور یہ آزمائش کے لئے ہوں گے۔ دجال کہے گا : لوگو ! کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ کیا میں تمہیں زندہ نہیں کرتا ، موت نہیں دیتا ؟ تو ایک فرشتہ کہے گا تو جھوٹ بولتا ہے مگر اس فرشتے کی بات دوسرے فرشتے کے سوا اور کوئی نہیں سنے گا اور اس کا ساتھی فرشتہ جواب میں کہے گا : ہاں ! تیری بات سچی ہے (کہ یہ جھوٹا ہے رب نہیں) لوگ اس فرشتے کی بات سنیں گے تو یہ سمجھیں گے کہ شاید یہ دجال کو سچا کہہ رہا ہے حالانکہ دوسرا فرشتہ پہلے فرشتے کی اس بات، کہ دجال جھوٹا ہے، کی تصدیق کر رہا تھا اور یہ آزمائش ہوگی۔ پھر دجال مدینے کی طرف بڑھے گا مگر اسے مدینے میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی تو وہ کہے گا : یہ فلاں آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی بستی ہے پھر وہ شام کی طرف چلا جائے گا اور اللہ تعالیٰ آفیق کی گھاٹی کے پاس (باب لد پر) اسے عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک کریں گے۔
الحاکم (281/5) المعجم الکبیر (6445)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال نکلنے والا ہے ، اس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اس پر سخت لوتھڑا ہوگا اور وہ کوڑھ اور برص کے مریض کو تندرست کر دے گا ، مردے کو زندہ کر دکھائے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ جس شخص نے اقرار کیا کہ تو میرا رب ہے وہ تو فتنے میں مبتلا ہوا اور جس شخص نے کہا کہ میرا رب اللہ ہے حتی کہ اس پر جان قربان کر گیا تو وہ دجال کے فتنے سے بچالیا گیا اور اب اس پر کوئی فتنہ ہے نہ کوئی عذاب ہے۔ جب تک اللہ کی مرضی ہوگی دجال زمین پر رہے گا پھر حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے جو مغرب کی طرف سے آئیں گے ، محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کریں گے اور انہی کے دین (اسلام) پر قائم ہوں گے وہ دجال کو قتل کریں گے اور پھر قیامت قائم ہوگی۔
أحمد (19/5) المعجم الكبير (6918) البزار (3389) مجمع الزوائد (648/7) وصححه